کشمکش ۔ مبارک انجم

دل کیا کچھ لکھوں

دماغ نے کہا رھنے دو..

ضدی سوال آیا کیوں؟

مجھے لکھنا ھے بس  دل مچلا،

دماغ نے سمجھایا .. رھنے دو یہ ہمارے بس کا کام نھیں؛

دل پر ضد سوار تھی کہ بچہ سا تو ہے. کیوں نھیں ھے ہمارے بس کا کہ اتنے لوگ لکھ رھے ھیں،  تو ہم  کیوں نہیں لکھ سکتے؟ دماغ نے دلیل دی . جو لکھ رھے ھیں وہ  پڑھے لکھے  اور قابل لوگ ھیں.  اس پہ دل نے جرح کی…تم بھی تو ہر وقت پڑھتے رھتے ھو، ہر وقت نظریں کتاب پر جمائے رہتے ہو، تو تم سے قابل اور کون ہو گا ؟

دماغ نے دوستانہ پینترا بدلا اور معصوم دل کو بہلانا چاہا. یار چھوٹو،  تم تو میرا اپنا دل ہو نا..تمھیں تو دنیا میں سب سے لائق فائق  میں ہی نظر آوں گا نا جبکہ حقیقت میں ایسا نھیں . دل کچھ غیر مطمئن سا تھا سو کہنے لگا کہ پڑھتے تو تم رہتے پو جانے کیا پڑھتے  ہو یا بس ڈھونگ ہی کرتے ہو؟

دماغ بے بسی سے گویا ہوا۔ یار! میں قابل لوگوں کے مکالمے پڑھتا ہوں .میں ان سے  سیکھ رھا ھوں. پھر بھلا ان کے مقابل کیسے لکھ سکتا ھوں؟

مگر دل مصر رہا کہ اب تک کچھ تو لکھنا سیکھ ہی چکے ہو گے .ٹھک سے جواب آیا، پڑھے لکھے لوگوں میں  ”کچھ” لکھ لینا کافی نھیں ہوتا.. تحریر کا معیاری ہونا اہم ھے. دل نے جو اب کچھ الجھ سا گیا تھا  اگلا سوال داغا . تحریر میں  میعار کیسے آتا ھے؟  دماغِ بزرگ نے شفقت سے دل کے سر پر تھپکی دی اور زیر لب مسکراتے ہوئے نادان دل کو سمجھایا۔  “پیارے اسکے لئے بھت سارا پڑھنا پڑتا ھے . یہ بڑی بڑی ڈگریاں لینی پڑتی ھیں( دماغ نے اپنے دونوں ہاتھ  طرفین میں کھول کر ڈگری کا سائز واضح  کیا)، بہت محنت طلب کام ہے یہ۔

دل نے ٹھنک کر فرمائش کی . تو ڈگری لے لونا. یار وہ اب ممکن نھیں رہا. بہت دیر ہو چکی، جواب آیا۔ دل نے ہمت نہ ہاری۔ اچھا کوئی تو ہوگا جو بنا ڈگری کے بھی لکھتا ہوگا؟ دماغ بولا کہ ہاں ہو سکتا ہے، ہوتے ہیں کچھ غیر معمولی لوگ۔ دل نے مثال طلب کی تو دماغ  نے ترنت جواب دیا ”ارسطو”  لیکن وہ بہت پہلے گزر چکا۔ دل نے سوال کیا کہ  اب ایسے لوگ کیوں نھیں ھیں؟ دماغ افسردگی سے بولا، اس لئے کہ اب علم و عقل کا میعار ”ڈگری” ٹھہرادیا گیا ہے . جتنی بڑی ڈگری  اتنا بڑا عالم. تو پہلے ایسا کیوں نھیں تھا؟ دل کے سوالات تھے کہ بڑھتے ہی چلے جاتے تھے لیکن  آج تو دماغِ بزرگ بھی فرصت سے جواب دینے پر آمادہ تھا۔ بولا، پہلے ایسا اسلئے تھا کہ انسانی عقل و شعور ، مشاھدات اور کامن سینس  کے تابع تھا. اسے سند کے لیے کسی اداری کی ضرورت نہ تھی۔ دل نے جرح کی؛ اس کا مطلب  تو یہ ہوا  کہ سند لے کر کوئی بھی باشعور بن جاتا ھے؟ نہیں  سند اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی انسان نے  ادارے کے مقرر کردہ امتحانات پاس کیے ھیں .  کیسے کیے؟ اس کے کے لیے درست یا غلط، کون سی راہ چنی وہ الگ بات ھے . ہاں یہ ضرور ھے کہ پڑھے لکھے بغیر سند کم ہی لوگ لے پاتے ہیں  .

دل نے نتیجے پر چھلانگ لگا دی، گویا سند حاصل کرنے والا اچھا لکھاری ہوتا ہے! دماغ نے ٹوکا، نہیں ہر گز نہیں. لکھنا دراصل خداداد صلاحیت، علم و آگہی،  حساس دل، مضبوط  قوت فیصلہ ،بہترین مشاھدہ، عمدہ یادداشت کے ساتھ  اپنے خیالات کو الفاظ سے تجسیم کرنے کا نام ہے . یہ چنیدہ  لوگ ہوتے ہیں.

اب دل پژمردہ لہجے میں بڑبڑایا، اسکا مطلب یہ ھوا کہ میری خواھش کبھی نھیں پوری ھو سکتی؟دماغ کو یکدم جوش آیا، دل کی پژمردگی  اس س سے سہی نہ گئی . خم ٹھونک کر کھڑا ہوا اور تقریر کرنے کے انداز میں پکارا؛ نہیں ایسا نھیں ھے. اگر تم  پوری استقامت اور شدت سے مجھے طاقت دینے کا وعدہ کرو تو میں پڑھتا اور علم حاصل کرتا رہوں گا . دیکھنا ایک دن آئے گا جب ہم لکھنے کے قابل ضرور ھو جائینگے .

دل نے سر خوشی کے عالم مین دماغ کو تاکید کی کہ میں لاعلم ہوں کہ تم کس سے متاثر ھو لیکن  تمہاری وجہ سے میں جن ہستیوں سے متاثر ہوا ہوں ازراہ کرم انکا ساتھ کبھی مت چھوڑنا. انکو پڑھتے اور محسوس کرتے رھنا. کیونکہ وہ باکمال لوگ ھیں.

دماغ نے حسب عادت دل کی فرمائش پر عقل کے گھوڑے دوڑائے اور پھر مسکرا کر بولا، “جو تمہیں چھو جائے اس سے تعلق توڑنا ممکن ہی کب ہے.  میں بھی تو اسی کا  ہوں، جس کے تم ھو”۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *