شام ,امن سے جنگ تک/سلمٰی اعوان۔۔۔۔قسط4

دمشق جسے رومن شہنشاہ جولین Julian نے مشرق کی آنکھ کہا۔ تین ہزار قبل مسیح کا یہ شہر جو دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ کبھی یونانیوں،کبھی رومیوں،کبھی بازنطینیوں کا مرکز نگاہ۔ دریائے برادہBarada کا عرب دنیا کو ایک خوبصورت تحفہ، سلطنت امیہ کی راجدھانی ، مسلمان خلفاء کی عیسائیوں ، یہودیوں اور مسلمانوں سے بھرے پرے مخلوط معاشرے میں رواداری اوربلند ظرفی کی خوشبو دیتاایک شہر بے مثال۔
اس کے بدن پر کتنی تہذیبوں کے نقش کھدے ہوئے ہیں ۔ ان دیواروں میں بنے دروازے ، مینار، مدرسے، اس کے تنگ گلی کوچے، ان میں قدامت کا حُسن سنبھالے عالیشان مکان ہیں۔ ایک جانب تعمیراتی حُسن، دوسری جانب ان کے مکینوں کی دریا دلی اور وقار کی کہانیاں اِن درودیواروں پر بکھری ہوئی ہیں۔ یہاں کی خان سرائیں، مسجدیں ، مقبرے ، اشبیلہ فوارے ، گرجا گھر سب ایک تحیر کی دنیا کھولتے ہیں۔اس کی فسوں خیزیاں آپ کو اپنے سحر میں جکڑ کر رکھ لیتی ہیں اور آپ اپنی بصارتوں کے اسیر ہوجاتے ہیں۔
ٹیکسی ڈرائیور نے جب ٹیکسی روک کر مجھے سٹریٹ التوارا Al-Thawraجو ایک طرح ماڈرن انتظامی کواٹرز کو پرانے دمشق سے الگ کرتی ہے پر عین مدحت پاشا سکوائر کے سامنے اُتارا اور کہا۔
’’دیوار کے ساتھ ساتھ آپ کو اندر جانا ہے۔یہ دمشق سٹیڈل Citadialکا علاقہ ہے۔‘‘
میں نے رک کر اپنے دائیں بائیں اور سامنے دیکھا۔بلندوبالا اور قابل توجہ موٹائی لئے قلعہ نما دیوار میری نگاہ کے ساتھ ساتھ پھیلتی چلی گئی تھی۔دمشق قلعہ کی یہ دیواریں اپنے اندر عظمتوں کی صدیوں پرانی داستانیں لئیے ہوئے ہیں۔
میری سوچیں تھیں کہ اڑانیں بھر رہی تھیں اور میں تھی کہ اُن کے ساتھ ساتھ محوپرواز تھی کہ مجھے محسوس ہوا ٹیکسی ڈرائیور لڑکا مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے۔ متوجہ ہوئی۔ اس نے گائیڈ کا پوچھا تھا۔
میں مسکرائی۔
’’ نہیں میرے بچے پرانے دمشق کی یہ تصویر مجھے اکیلے اور اپنی مرضی سے دیکھنی ہے۔ ہاں اگرتمہارا کوئی رابطہ نمبر ہے تو وہ دے دو۔‘‘


لڑ کے نے اپنا کارڈ مجھے دیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ وہ ماہر ڈرائیور ہونے کے ساتھ اچھا گائیڈ بھی ہے۔ دمشق کے مضافات یا حلب اور حمص کا پروگرام ہو تو اس کی خدمات حاضر ہیں۔
اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں نے کارڈ پر س میں سنبھالا اورکہا۔
’’یہ تو تمہیں بتانے کی ضرورت ہی نہیں۔تھوڑے سے وقت میں ہی مجھے اندازہ ہوگیا ہے۔ہاں دونوں جگہیں دیکھنے کا پروگرام تو ہے۔ فون کروں گی انشاء اللہ۔‘‘
دراصل نسرین کو رات جب میں نے اپنی آوارہ گردی کی داستان سنائی اُس نے بے اختیار ہی کہا تھا۔
’’جو جگہیں یہ قافلے والے دکھا دیں وہ تو چلو ان کے ساتھ ہوئیں ۔مگر بقیہ میں سے کچھ اہم کے لئیے تم مجھے بھی اپنے ساتھ نتّھی کرلینا۔‘‘
خوشی بھی ہوئی اورمطمئن بھی کہ چلو ایک اکیلا اور دو گیارہ۔کوئی ساتھ دے۔ بھلا اس سے اچھی بات کیا؟
لڑکے کو خدا حافظ کہہ کر میں قریب ہی اُس بے حد جیالے، دلیر، جی دار صلاح الدین ایوبی کے مجسمے کے پاس آگئی۔ میری کیا ساری دنیا کے مسلمانوں کی بے حد پسندیدہ اور محبو ب شخصیت صلاح الدین ایوبی اپنی ساری زندگی کی طرح اِس گھوڑے کی بھی ننگی پیٹھ پر بیٹھا باگ ہاتھ میں تھامے جیسے اُسے اڑائے لئے جا رہا ہو۔ظاہر ہے اُسے دیکھ کر مجھے رکنا ہی تھا۔اُسے یاد کرنا تھا۔ اُ س سے باتیں کرنا تھیں۔
تکریت (عراق) میں پیدا ہونے والا صلیبی جنگوں کا یہ ہیرو تاریخ میں فاتح ہی نہیں اپنے کردار کی ان گنت خوبیوں سے بھی باعث افتخار ہے۔اس کے مجسمے کو دیکھتی ، اس کے ساتھیوں کو تکتی، ان کے خدوخال پر غور کرتی اور اُسے خراج تحسین پیش کر تی رہی۔ پھر آگے بڑھی۔
میرے دائیں ہاتھ زرد رنگ کی بلند وبالا تاریخی دیوار اور اس میں بنے سات دروازے ایک تاریخ رکھتے ہیں۔
چوکور پتھروں کی گلیوں میں سے گزرتے ،اس کے متعدد رُخ کہ ایک جانب سورج کی کرنوں میں نہاتی اپنے زردی رنگ میں ڈوبی اپنی دیواروں میں جابجا تیر اندازی کے لئے بنائے ہوئے سوراخوں ، اپنی کہنگی میں عظمت کا ایک رچاؤ اور گھمبیر تا لئے یہ فصیل کیسی کیسی کہانیوں کی امین تھی۔
دراصل میرے بچپن کی کتاب کھل گئی تھی۔دمشق کے متعلق کہانیاں جن کی فسوں خیزی مجھے دنوں اپنے اندر جذب رکھتی تھیں۔اب مجھے ایک کے بعد ایک یاد آرہی تھیں۔کیسے وقت اور زمانے تھے۔سیدھے سادھے۔شہروں کو فصیلوں کے حصار میں قید کرلیتے تھے۔اپنے لوگوں کو محفوظ کردیتے تھے۔
بسم اللہ تو رومنوں نے ہی کی تھی۔تب یہ کسی حد تک مستطیل تھی۔بڑے بڑے پرپتلے پتھروں سے بنی ہوئی۔انہوں نے دمشق کو قلعہ بند کردیا تھا۔آنا جانا تو دروازوں سے ہوتا تھا اور دروازے بھی پورے سات۔
یہ سات کا ہندسہ بھی بڑی اساطیری سی روایات کا حامل ہے۔ایک بادشاہ کی سات بیٹیاں تھیں یا سات بیٹے تھے۔قدیم روایات اور مذہبی عقائد نے بھی سات کا ہندسہ خوش بختی کی علامت ٹھہرا دیا۔آسمان بھی سات،زمین بھی سات، کائنات کی تخلیق بھی سات دنوں میں۔یہودیوں کا سبتSabbatبھی ہفتے کے ساتویں دن کہ خدا چھ دن مار کام کرکرکے تھک جاتا ہے۔ساتوں دن اس کے آرام کا دن۔دماغ میں سات سوراخ۔


مرکزی سڑک ،گلیاں اور میدان بازنطینی حکمرانوں نے اِسے خوبصورت شہر بنانے میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔عمر فاروقؓ کے زمانے میں یہ فتح ہوا۔وہی تاریخ اسلام کے جیالے خالد بن ولید  اورابو عبیدہ ابن جراح اسی دیوار کے دو دروازوں باب شرقی اور باب الجابیہ Al Jabiah سے شہر میں داخل ہوئے۔
عباسی خلفاء کی سیاست اپنی جگہ مگر امیوں سے دشمنی اور پرخاش نے اِس شام جیسے ملک اور خصوصی طور پر دمشق کو نہ صرف نظرانداز کیا بلکہ اسے بہت متاثر بھی کیا۔یہ دیوار بھی متاثر ہوئی۔ہاں البتہ نورالدین اور صلاح الدین کے زمانے اِس کے لئیے بہتر رہے۔انہوں نے اسے دفاعی اہمیت دی۔
قلعے کو بیضوی قلعہ نما صورت دینے کا اعزاز سلطان نور الدین کے حصے میں بھی آتا ہے۔ پہلے اس کے گرد پانی کی خند ق تھی۔ صلیبی جنگوں میں یہ سلاطین کی فوجی چھاؤنی بنتی۔ قلعہ نما طرز پر بنائی گئی یہ زمین کے ساتھ ساتھ چلتی اُس تصور کی نفی کرتی ہے کہ قلعے ہمیشہ اونچی جگہوں یا پہاڑوں پر تعمیر ہوتے ہیں۔ دروازوں کے نام باب الفراج Faraj، باب صغیر، باب کیسان، باب السلام، باب تمہBob Touma ، باب شرقی،باب الجابیہ، باب غربی ہیں۔سلجوقیوں نے بھی 1078میں اِس میں نئے دروازے ،مینارگھر اور حمام بنائے۔ہاں البتہ عثمانیوں کے لئیے اس کی چنداں اہمیت نہ تھی۔
ٍٍ چھوٹے چھوٹے موڑ کٹتے اور نئے منظر دروازے کھولتے جاتے ہیں۔ اور میں ہابڑوں کی طرح انہیں آنکھوں کے راستے پینے میں مصروف۔ میں نے سوچا مجھے محتاط ہو کر چلنا چاہیے۔ اِس نظر بازی میں کہیں ٹھڈا کھا کر زمین بوس نہ ہو جاؤں ۔ بیچارے بچے کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔
اِن کہانیوں کی تفصیلات میں گُم ابھی میں دائیں بائیں اس کے قدیم حُسن کو دیکھتی تھوڑا سا ہی آگے بڑھی تھی کہ دلّی دروازے جیسے دیوہیکل گلیارے کے ساتھ فٹ پاتھ پر کتابیں بکھیرے کھڑے لڑکے کے پاس رک کر کتابوں کو دیکھنے لگی کہ ناگہاں بھاگ دوڑ، سیٹیوں کی آوازیں ، شوروغل نے حیرت زدہ کرتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھنے پر مجبور کیا۔
سامنے قدیم مگر شکستہ عمارتوں کی چھتوں پر لکن میٹی یا چور سپاہی کا کھیل جاری تھا۔ فائرنگ کا بڑا کھلا ڈلا تبادلہ ہو رہا تھا۔ لوگ دائیں بائیں پنا ہ گاہوں کی تلاش میں تھے۔ پہلے میں نے وہیں بیٹھے رہنے سے چمٹنا چاہا۔ مگر وہاں پولیس کے کچھ لوگ آگئے تھے۔ماحول میں عجیب سی دہشت اور سنسنی پھیل گئی تھی۔مجھے محسوس ہوا تھا کہ جہاں بیٹھی ہوں وہ جگہ تو سیدھی نشانے پر ہے۔
’’چلو اگر دیس میں بچت ہوگئی تو اب یہاں مرنے کے لئے آگئی ہوں۔‘‘
اُٹھ کر بھاگی۔ مگر فوراً ہی پلٹ آئی کہ لوگ گلیارے کے اندر پناہ گزین ہو رہے تھے۔میں بھی ڈری سہمی سی ان کے ساتھ وہیں گُھس گئی۔ اور یہیں اُس بے حد پیارے سے لڑکے سے ملاقات ہوئی جس کا نام احمد فاضل تھا۔ جو انگریزی بہت اچھی بول سکتا تھا۔ بینک میں ملازمت کا ابھی آغاز ہی کیا تھا۔ اِس واقعے بارے بتایا کہ چوری ڈکیتی کا کوئی کیس ہوگا۔ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ کوئی فکر کی بات نہیں۔
انسان فی الواقع خسارے میں ہے۔ اس وقت کیسے اُس چھوٹے سے واقعے نے ماحول کو ہراساں اور خوف زدہ کر دیا تھا۔


آج لکھتے ہوئے سوچ رہی ہوں۔تب یہ کہاں معلوم تھا کہ یہاں چند ہی سالوں بعد قیامتیں ٹوٹنے والی ہیں۔یہ خوبصورت تہذیب و تمدن کا گہوارہ پر امن سا ملک اور اس کے خوبصورت مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے باسی اپنوں کی حماقتوں اور بیرونی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں،اُن کے پروردہ غنڈوں ،کہیں القاعدہ،کہیں داعش اور کہیں اپنی ہی فوجوں کے ہاتھوں پور پور زخمی ہونے والے ہیں۔
تھوڑی دیر بعد ہی جیسے فلم کے کسی سین کی طرح سب کچھ غائب ہوگیا۔ لوگ باگ اپنے اپنے راستوں پر ہو لئے۔ تاہم میرا احمد فاضل سے گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔
میری اندر خانے کی کچھ باتیں جاننے کی خواہش پر احمد فاضل مجھے ایسی جگہ لے آیا جہاں درختوں کی چھاؤں تھی۔ پتھریلی زمین پر ہم پھسکڑا مار کر بیٹھ گئے۔ اپنے ذہن کی کھلبلی مچانے والے سوالوں کی گٹھڑی میں نے کھول لی تھی۔ پڑھے لکھے لڑکے سے تفصیلی باتیں کرنے سے جانی تھی۔
رشوت اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم جیسی قبیح برائیاں بشار کے کردار پر اگر بدنما دھبوں کی طرح نمایاں ہیں۔تو وہیں ترقیاتی کاموں کی فہرست بھی ہے۔ اقتصادی ترقی اس کی کاوشوں اور دلچسپی کی مرہون ہے۔ انفراسٹرکچر کی طرف خصوصی توجہ، دمشق شہر کے لئے گر ڈ سٹیشن اور پانی جیسے مسائل بہرحال بہت بہتر ہوئے ہیں۔
حکومت پر تنقید نہیں ہو سکتی۔ اقرباپروری بہت زیادہ ہے۔ رشتہ دار اور عزیز اونچی کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔
احتجاج منع ہے۔ چند سال پہلے ایک واقعہ ہوا۔ لوگ آزادی اظہار چاہتے تھے۔ مزید سہولتوں کے متمنی تھے۔ پچاس لوگوں پر مشتمل ایک جلوس نکلا۔ دمشق میں ہونے والے اولین مظاہروں میں سے غالباً شاید پہلا۔ مظاہرین اور ان کی ایجنڈے بابت لوگوں میں آگاہی تو تھی مگر شاید ساتھ دینے کی جرات نہ تھی۔ یہ لوگ الجلا سٹریٹ سے چلے تھے۔ مدھم سروں میں اپنے جذبات کو گیتوں میں ڈھالتے ۔
بولوں میں کیا تھا یہی کہ دیکھواپنے لوگوں کے سروں پر ہاتھ رکھو۔ انہیں سکھ سے زندگی گزارنے کی نوید دو۔ یہ ڈھکا چھپا بشار کے لئے پیغام تھا۔
اگران لوگوں کے ساتھ گفت وشنید ہوتی۔ ان کی با ت سنی جاتی تو یقیناًاس کے بہت مثبت اثرات سامنے آتے۔ مگر ایسی کوئی کاوش کی ہی نہ گئی۔ ان کا راستہ روکا گیا جب وہ لیبیا ایمبیسی کے قریب تھے۔ مار دھاڑ تشّددکا سلسلہ شروع ہوگیا۔انجام کار احتجاجی جیل پہنچ گئے۔
2008 کی اُس دوپہر احمد فاضل سے یہ سب سنتے ہوئے میں نے ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ واقعہ آنے والے وقتوں میں درعا جیسے واقعے کا پیش خیمہ بن جائے گا۔ یہ سول وار کی ابتدا کا باعث بنے گا ۔
ملکی سیاست پر باتوں کا سلسلہ پھیلتے پھیلتے نزار قبانی تک چلا گیا۔ میر ی اُس سے محبت اور لگن دیکھ کر اس نے پیش کش کی وہ مجھے اپنے دوست جس نے نزار قبانی پر پی ایچ ڈی کی ہے  سے ملانے لے جا سکتا ہے اگر میرے پاس وقت ہو تو۔اس کا گھر یہیں پرانے دمشق میں ہی ہے۔
جی چاہتا تھا لڑکے کی بلائیں لوں ۔ لو بھئی یہ تو موجیں ہو گئیں۔
’’میرے بچے میں تو تمہاری حد رجہ شکر گزار ہوں گی۔‘‘
اُ س نے اسی وقت فون ملایا۔ میر ی خوش قسمتی کہ فوراً رابطہ ہوگیا۔ تھوڑی دیر دونوں میں بات ہوتی رہی۔ پھر موبائل بندکرتے ہوئے وہ میر ی طرف متوجہ ہوا اور بولا۔
’’زکریا محمد کبرت Kibrit اس وقت یونیورسٹی میں ہے۔ تھوڑی دیر تک گھر پہنچے گا۔ اگر آپ پسند کریں تو یہ وقت ان کے اہل خانہ کے ساتھ گزارسکتی ہیں۔
’’ہائے کیسا بھاگوان دن ہے۔کیسی خوبصورت پیشکش سے ابتدا ہوئی ہے۔ خدا بہت مہربان ہے اور یہ عنایت اس کا خاص الخاص تحفہ ہے کہ کسی مقامی گھر جانا اور وہاں کی تہذیبی زندگی کی جھلکیاں دیکھنا بھی تو لکھنے لکھانے کے لئے اہم ہے۔‘‘
قدموں میں تیزی ، دل میں خوشی ومسرت کا جل ترنگ اور نگاہوں میں دائیں بائیں اور ماحول کو دیکھنے اور جذب کرنے کی آتش شوق کا آلاؤ۔چمکتی دھوپ بھرے آسمان کو دیکھتے ہوئے میں نے اوپر والے کا شکر یہ ادا کیا۔
اپنی خوش نصیبی پر بے طرح رشک آیا تھا۔کیا میں نے اپنے بچپن کی کہانیوں کو پڑھتے ہوئے کبھی یہ سوچا تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ میں اِن گلی کوچوں میں گھوموں پھروں گی۔ہائے ربّا تیری کتنی شکرگزاری ہے۔
تاہم جب میں راستے کے پر سحر منظروں پر اچٹتی سی نگاہ ڈالتے ہوئے آگے بڑھتی تھی مجھے محسوس ہوتا تھا کہ میرے دل کا حال بند پنجرے میں قید کسی نئے نویلے پرندے کے پھڑپھڑانے جیسا ہی تھا کہ رومن کالموں اور امیّہ مسجد کے پاس سے گزرتے بس ایک طائرانہ سی نظر ان پر ڈالتے ہوئے آگے بڑھ جانا کیسا روح فرسا سا تھا۔دل پاگل تو وہیں بیٹھنے اور ڈیرے ڈالنے کا خواہش مند تھا۔ پیاسی آنکھیں بھی اِن کمال کے منظروں سے سیر ہونے کے لئے بیتاب تھیں ۔ میں نے دونوں کی دلداری کی۔
’’بس آج کا دن میری جان۔ کل یہیں تو اڈہ جمے گا۔ جتنا جی چاہے گا رجنا۔‘‘
سوق حمیدیہ چھتا ہوا تھا۔ یہ پرانا تاریخی بازار جو 1925ء میں اپنے ساتھی مدحت پاشا بازار کے ساتھ فرانسیسیوں کی گولہ باری کا نشانہ بنا تھا۔ یہ کشادگی لئے ہوئے تھا۔ خوبصورت قیمتی سازوسامان سے بھری پُری لشکارے مارتی دکانوں سے بھی سجا ہوا تھا۔ مگر استنبول کے کیپلی کارسی اور قاہر ہ کے خانہ خلیلی بازار کی طرح آرٹ کا شاہکار ہرگز نہیں تھا۔ لیکن اِس بازار کے دامن سے پھوٹتی ہر گلی اپنے گھروں کی عمارات کے حُسن سے سحر زدہ کرتی تھی۔
تاہم آئس کریم کی ایک کشادہ اور خوبصورت سی دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے میں نے احمد فاضل کا ہاتھ پکڑ لیا۔
’’میرے بچے آؤ میرے ساتھ آئس کریم کھاؤ۔‘‘
وہ تھوڑا سا ہچکچایا ۔مگر میری بے تکلفی نے اُسے نارمل کردیا۔ بل کے لئے میں نے احمد فاضل کی ہر کوشش ناکام بنادی۔
اب زکریا کے گھر کی طرف چلے۔ احمد فاضل دو بار غلط گلیوں میں گھس گیا۔ اس کے سرعت سے پلٹنے اور میرے سُستی سے قدم اٹھانے میں میری نظر بازی ہی کے چکر تھے۔
پھر یوں ہوا کہ وہ ایسی گلی میں داخل ہوا جس کی دکانوں کے چہرے مہرے چوبی کندہ کاری کے شاہکاروں سے سجے ہوئے تھے۔ اندر آرٹ کے نمونے نظروں کو ساکت کرتے تھے۔ دکاندار ایسی بولیاں بولتے تھے کہ جن کے بارے پتہ چلا تھا کہ یہ لاطینی میں ہنستے ہوئے کچھ کہہ رہا ہے۔ وہ فارسی بول رہا ہے ۔ چلو فارسی تولب و لہجے سے اپنے ہونے کابتاتی تھی۔بلا سے سمجھ آئے یا نہ است ،ہست،بود، رفتن آمدن سے تو مانوس سی آشنائی تھی نا۔ کچھ کچھ سمجھ آگئی تھی۔ وہ قبطی میں بات کر رہا ہے۔بتانے پر پتہ چلا تھا۔
ہائے ماں یاد آئی تھی۔ اُس کی مترنم آواز میں قاری غلام رسول کی یوسف زلیخا کے کچھ بول یاد آئے تھے۔
’’ او قبطی بولی بولن تے سمجھ نہ آوے کائی۔‘‘


یہاں پچی کاری کے شاہکار، کہیں سنہری، کہیں نیلے، کہیں قرمزی رنگوں والے آرمینائی اور قبطی کاریگروں کے ماہرانہ ہاتھوں کے نمونے قدموں کو ہلنے نہیں دیتے تھے۔ میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں یہاں پھر آؤں گی اور بہت سا وقت گزاروں گی۔ طارق بن زیاد سٹریٹ پر کہیں آگے جا کر گھر تھا۔
گھر کچھ اُس محاورے کا عکاس تھا کہ صورت کے نہیں سیر ت کے ہم غلام ہیں۔ مرکزی دروازے کا گیٹ چوبی تھا۔ ڈیزائن سے گھتا ہوا ۔ دو منزلہ گھر کی بالکونیاں چوبی تھیں۔ عام سی جسامت والے ستون بھی غالباً چوبی ہی تھے۔ ہمارے ہاں کی طرح بالکونیوں کے چھجے بڑے خوبصورت اور ڈیزائن دار تھے۔ بیل کی آواز پر دروازے کی چھوٹی کھڑکی کھلی جس میں سے جھک کر اندر داخل ہونا پڑا۔ یقیناً گھر میں اطلاع تھی کہ ایک نو عمر لڑکے نے احمد فاضل کو نشست گاہ کا راستہ دکھایا تھا۔
نشست گاہ یا گھر کا ڈرائنگ روم عربی کلچر میں دیوان مستطیل سی صورت کا تھا۔ گھر کے اندر ڈیوڑھی اور باہر کھلنے والے دروازوں اور کھڑکیوں کی پیشانیوں پر محرابی صورت بنی پٹی آرٹ کی مینا کاری سے سجی کمرے کو انفرادیت دیتی تھی۔ چھت اونچی اور دو دیواروں میں بلندی کی سطح پر لمبوتری سی چارکھڑکیاں روشن دانوں کی طرز پر شیشوں سے روشنی آنے کا باعث تھیں۔ صوفے کا ایک سیٹ جدید وضع اور دوسرا قدیمی صورت لئے ہوئے تھا۔ کمرے میں دو الماریاں تھیں اور دونوں کے پٹ گتھی چوبی کندہ کاری سے مزین تھے۔ میں نے چند لمحے خاموش بیٹھنے اور کمرے کا جائزہ لینے کے بعد احمد فاضل کی طرف دیکھا اور پوچھا اگر میں اندر جاؤں تو گھر والے برا تو نہ منائیں گے۔
بچے نے خوش دلی سے کہا۔
’’ارے جائیے۔ جائیے۔‘‘
میں گھر میں کھلنے والے دروازے سے آنگن میں داخل ہوتے ہی جیسے خوشگوار حیرتوں سے دوچار ہوئی۔ آنگن گو زیادہ کشادہ نہ تھا۔یقیناًاس کی ایک وجہ وہ دیوار تھی جس نے گھر کو تقسیم کیا ہوا تھا۔ زکریا کے چچا کا گھرجو جدّی جائیداد کی تقسیم کے نتیجے میں سکڑ گیا تھا۔
سامنے محرابی برآمدے کے ستونوں سے چمٹی انگوروں کی بیلیں دو منزلہ کمروں کی بالکونیوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اطراف میں بھی کیاریا ں تھیں جن میں اُگے چھوٹے چھوٹے بوٹوں میں خوش رنگ پھول کھلے ہوئے تھے۔ سہ طرفی برآمدوں میں سے ایک میں درمیانی چوبی چوکی جیسے موڑھے پر بیٹھی ایک سرخ و سفید پوپلے سے منہ والی خاتون چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں حیرت لئے مجھے دیکھتی تھی۔ میں ان کی طرف بڑھی ۔
بوڑھے گذار ہاتھوں نے میرے ہاتھوں کو تھاما ۔اھلاً و سہلاً کہا۔ میرے رخساروں پر بوسے دئیے۔ قریب پڑی کرسی جسے میں نے خود ہی اپنے لئے کھینچ لیا تھا ۔پر بیٹھتے ہوئے بغور اُنہیں دیکھا۔ ماتھے کے آخری سرے تک بس ذرا سا آنکھوں سے اوپر سیاہ رنگ کی کَسی ہوئی پٹی پیچھے تک چلی گئی تھی۔فراخ پیشانی اس میں چھپی بیٹھی تھی۔ دونوں کان سفید اور سیاہ کچھڑی بالوں کی آگے تک جھولتی موٹی بل دار لٹوں سے چھپے ہوئے تھے۔ پھولوں والی چھوٹی سی اوڑھنی نے سر ڈھانپا ہوا تھا۔ سیاہ زمین پر چھوٹے چھوٹے سرخ پھولوں والا گھیردار سا پہناوا جس کی صورت واضح نہیں ہو رہی تھی پہنے بیٹھی تھیں۔
بڑی اشتہا انگیز سی کسی کھانے کی خوشبو صحن سے ہوتی ہوئی میر ے نتھنوں میں گھس رہی تھی۔
پھر دو عورتیں ایک لڑکی اور دوسری عورت نما عقبی اور سامنے والے کمروں سے آئیں۔ دونوں جیسے حُسن میں پو ر پور بھیگی ہوئی تھیں۔ لڑکی کے ہونٹ رسیلے الوچوں جیسے تھے۔ نازک بدن۔ پرنٹڈ بلاؤز پر لمباسکرٹ ، دودھیا رنگت اور شربتی سی آنکھیں۔ عورت ذرا فربہی گوری چٹی ٹخنوں کو چھوتے میکسی نما فراک پر حجاب لئے۔گالوں پر بوسے تھے۔ مسکراہٹیں تھیں۔ مگر تینوں گونگیاں تھیں ۔ انگریزی سے کوری۔
پھر زکریا کبرت آگیا۔ چلو شکر۔ خوبصورت نوجوان تھا۔ اونچا لمبا کلین شیو ،مگر چھوٹی چھوٹی سنہر ی سی مونچھوں کا پھیلاؤ چہرے پر بھلا لگتا تھا۔ خوبصورت لڑکی فدیلہ تھی۔زکریا کی بیوی اور دوسری اس کی بھاوج بنان اور خاتون والدہ کاریدہ تھیں۔
قہوہ وہیں آگیا۔ ٹرے میں رکھی چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں ۔ ساتھ کجھوریں اور بقلاوہ تھا۔ بڑا کسیلا قہوہ۔ شکر ہے ساتھ کجھوریں تھیں ۔ دانتوں تلے کجھور دبا کر چھوٹے چھوٹے چند گھونٹ ہی بھرنے میں پیالی خالی ہو کر اپنی تہہ میں بنے خوبصورت پھولوں کے ساتھ سامنے آگئی تھی۔
زکریا سے بدلتے وقتوں کی بہت سی باتوں کا پتہ چلا۔ اِس پرانے دمشق میں تو بہت بڑے بڑے گھر تھے۔ لوگوں نے کہیں انہیں ریسٹورنٹوں میں اور کہیں ہوٹلوں میں تبدیل کر کے اپنی رہائش گاہیں مضافاتی علاقوں میں لے گئے ہیں۔
آج لکھتے ہوئی دل دلگیر سا ہے۔ گو زکریا لوگ خیریت سے ہیں۔ مگر اِس کی تحریر میں گھلے یاس نے مجھے تڑپا دیا تھا۔آپ نے دمشق کا جو حُسن دیکھا تھا وہ گہنا گیا ہے۔
کمرے میں دستر خوان بچھ گیا ہے۔ یہ نشست گاہ ہے۔ کہہ لیجئیے گھر کا اندرونی دیوان خانہ ہے۔حرم کا نام لے لیں۔ احمد فاضل بھی آگیا ہے۔ ہاتھ دھو کر ہم دستر خوان پر بیٹھ گئے ہیں۔ شکرہے سفید اُبلا ہوا چاول بڑی قاب میں ہے۔ یہ دال ہے اور یہ بھنا ہوا گوشت۔ سلاد مکس سا تھا۔ کالے اور سفید زیتون بھی نظر آتے تھے۔ ٹماٹر اور کھیرے بھی تھے۔ پودینے کے پتوں کی بھی بہاریں تھیں۔ زکریا نے کہا تھا کہ آج تو وقت نہیں تھا۔ وگرنہ مقلوبہ کی ڈش بناتے اور اس سے آپ کی تواضع کرتے۔
بچے بھی سکول سے آگئے ہیں۔ دو بیٹے زکریا کے بڑے بھائی کے ہیں۔ سات سالہ ہمیش اور پانچ سالہ آدونس دونوں ال تکیہ ال سلیمانیہ کے قریب ایک فرینچ سکول میں پڑھتے تھے۔ دونوں ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بات چیت کر سکتے تھے۔
بچوں کا باپ کوئی چھ ماہ ہوتے ہیں اپنا پریس کا بزنس بیروت منتقل کر بیٹھا ہے۔ نئی جگہ پر نئے سیٹ اپ میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بیوی بچے ابھی یہیں ہیں۔ زکریا کی شادی ابھی چند ماہ پہلے ہوئی ہے۔ باپ بھی بڑے بیٹے کے ساتھ بیروت میں ہی تھا۔ابھی تین چار دن پہلے آیا تھا۔ سرخ وسفید، اونچا لمبا صحت مند مرد جسکی جوانی اس کی شخصیت کو وجہیہ بناتی تھی۔کاروبار کی نقل مکانی دوسرے ملک میں کرنے کی وجہ پوچھی تو مزے سے بولے۔
’’رشوت اِس ملک کی ہڈیوں گوڈوں میں اُتر گئی ہے۔ شام سوشلسٹ ملک ہے۔ بس نعرہ اور ڈھنڈورا ہی کافی ہے۔ اِن سب بڑوں نے جو طریقے اختیار کر رکھے ہیں انہوں نے اِس ملک کی اقتصادیات کا خون نچوڑ لینا ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان چھوٹا موٹا فرق نہیں انتہا کا ہے۔ موقع ملے تو یعفور ضرور جائیں۔ امر ا ء، وزراء کی محل باڑیاں آنکھیں پھاڑ دیں گی۔ خیر سے ترکی کے ساتھ فری تجارت نے مقامی صنعتوں کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔‘‘
میں نے لمبی سانس بھرتے ہوئے خود سے کہا تھا۔
’’ہائے یہی سب کچھ میرے ملک میں بھی ہو رہا ہے۔ ایک جیسے المیے۔ کہیں روشنی نہیں۔ ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ ‘‘
یہ سنی گھرانہ تھا۔ گفتگو سے انداز ہ ہوا تھا ۔ تاہم یہ بھی جانا تھا کہ دمشق مذہبی معاملات میں بڑا لبرل ہے۔
بیٹھنے کی ترتیب ونشست میں حسب مراتب کوئی مخصوص اہتمام کیا گیا یا اس کا کوئی خیال رکھا گیا مجھے اس کا اندازہ نہیں ہوا۔ تاہم ماں کے لئے جو نشست مخصوص تھی اُ س کا خیال رکھا گیا۔میں سوچتی تھی کہ کیا وہ زمین پر بیٹھ سکیں گی۔ مگر ان کے بیٹھنے میں مہارت تھی اور کسی طرح کی تکلیف بھی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ میرے خیال میں یہ کرامت یقیناً زیتون کے تیل کی برکات کے سبب ہی ہوسکتی تھی۔
ہم دونوں یعنی میں اور احمد فاضل والدہ کی جانب بیٹھے۔ بچے باپ کے داہنے ہاتھ تھے۔ اچار گھر کا تھا اور بڑا مزے کا تھا۔ ہمارے اچاروں سے مختلف۔میرے لئے یہ سب ایک خدائی نعمت سے کم نہ تھا۔ جو مجھے نصیب ہوئی تھی ۔ کنف بازار کا تھا۔ بے حد ذائقہ والا۔ یوں گھرپر بھی تیار ہوتا ہے ۔ کھانے کے بعدقہوہ کی باری سانس لینے جیسی مجبوری و ضروری تھی۔
کبرت کی بیوی گو دمشق یونیورسٹی کی گریجوایٹ تھی۔ مگر لازمی زبان کے طور اس نے جرمن پڑھی تھی۔ اُسی میں اُس کا تھوڑا بہت دال دلیا تھا۔ گھر دیکھنے کی خواہش دونوں میاں بیوی نے سب سے پہلے مجھے اپنا کمرہ دکھانے سے کی۔ نئے نویلے جوڑے کا آراستہ پیراستہ کمرہ۔ کمرے کی دو دیواریں چوبی پینل سے بنی ہوئی تھیں۔ بیڈ بھی ساخت کے اعتبار سے بڑا منفرد سا جس پر بچھی چادر کا ڈیزائن اور رنگ اتنے منفرد سے تھے کہ زکریا نے بتایا کہ یہ اس کے ماموں سسر کا خصوصی تحفہ ہے جو انہوں نے بھیجا تھا۔
اُن کے تین کاروباری ملازم قنطیرہ کے سرحدی گاؤں حدّر کے رہنے والے ہیں۔ایسی کڑھائی وہاں کی عورتوں کی خصوصیت ہے۔بازار میں یہ بڑے مہنگے داموں میں ملتا ہے۔
کمرے کا ایک گوشہ دلہن کی اپنی تصویروں سے سجا تھا۔ مختلف علاقائی لباس۔ ایک میں اس کے سر کی پشت پر لٹکتی چاندی کے زیورات سے سجی پٹی اور فراک نما قمیض ہمارے ہاں کی کیلاشی عورتوں جیسی ہی تھی۔اِس تصویر کو دیکھتے ہی میری آنکھیں گویا اپنایت اور مانوسیت کی چمک سے جیسے جھلملانے سی لگی تھیں۔
فدیلہ نے کسی قدر حیرت سے میرے تاثرات کو دیکھا تو میں نے وضاحت کی۔ایک اور تصویرمیں سر پر دھرے گٹھڑ نما پگڑی پر سجی موتیوں کی لڑیاں درمیان میں اُس البیلی شہزادی کا چمکتا چہرہ اور بلوچی سٹائل کا پہناوا۔ مختلف کلچروں کی کتنی چیزوں میں کتنی مماثلت ہوتی ہے۔
میں نے زکریا سے پوچھا تھا۔آپ کے ہاں سیاسی پارٹیاں کیوں نہیں۔یک جماعتی نظام ذہنی سوچ کی پستی کا غمّاز ہے۔کیا و جہ ہے اس کی؟
ڈکٹیٹر شپ۔تیس سال باپ کی اور اب بیٹے کی۔مگر کب تک؟
میں نے محسوس کیا تھا زکریا سیاست پر گفتگو سے گریزاں تھا۔محتاط تھا۔اس نے پہلو بدلا اور ساتھ ہی پل بھر میں موضوع بدل دیاتھا۔
’’آپ نزّارقبانی بارے کچھ جاننا چاہتی ہے۔میری ڈاکٹریٹ کا مقالہ اس پر تھا۔مگر آ ج آپ کو کچھ نہیں بتایا جائے گا۔ دوسری اور تیسری بار آنا شرط ہے۔ ‘‘
میں کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔ مہمان نوازی کا خوبصورت اور موہ لینے والا انداز ۔
سچی بات ہے کب معلوم تھا مجھے کہ اچھے دنوں کی ان یادوں پر لکھے گئے کچّے پکّے مسودے کو آخری ٹچ دینے کے لئے باکس فائل میں سے جب نکالوں گی تو پلوں کے نیچے سے ڈھیروں ڈھیرپانی ہی نہیں بہا ہو گا بلکہ ان پانیوں کی میٹالی رنگتوں میں لالیوں کی صورت شامیوں کا خون جگر بھی بہہ نکلا ہوگا۔
کبرت کے گھر کے برآمدے میں بیٹھی اس کی والدہ مرتن اپنے خدوخال اپنے انداز واطوار سے میری یادداشتوں میں ابھری ہیں۔بعینٰہ اسی طرح میرے تصور کی آنکھ نے امل کیسرکو دیکھا ہے۔ جو امرکین ماں اور شامی باپ کی بیٹی جس کی آوائل بلوغت کا کچھ وقت دمشق میں اپنی دادی کے فارم ہاؤس پر گزرا تھا۔اس وقت میں امل کیسر کی دادی کو دیکھتی ہوں جس پر لکھی ہوئی امل کیسر کی نظم نے مجھے اُن تمام شامی بوڑھی عورتوں کی یاددلائی ہے۔جنہیں شام اپنی ہر شے سے زیادہ عزیز ہے۔
میری دادی شام کو ہر شامی سے زیادہ جانتی ہے


اس کے گھٹنوں میں آرتھرائٹس ہے
اُسے اپنے کھیتوں کی مٹی کے نام اور خوبیوں سے مکمل آگاہی ہے
وہ ظالموں اور آمروں کو بھی جانتی ہے
وہ کہتی ہے
غلاظت اس کے(بشار) انتظار میں ہے
وہ اپنی قبر بارے بھی جلد جان جائے گا
اور پھر
وہ اپنی چھاتی پر پورے ملک کا بوجھ محسوس کرے گا
جااری ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *