داستانِ زیست۔۔محمد خان چوہدری/قسط26

اسلام آباد میں اِنکم ٹیکس سرکل ۔25 کو اوپن سرکل کہتے تھے۔ اس کی اِنکم ٹیکس افسر میڈم کے پاس تا حال کوئی پیشی نہیں ہوئی تھی۔ جتنی سُن گُن تھی ان کی شخصیت سخت مزاج بتائی گئی تھی۔ اس سرکل کا پہلا کیس ہاتھ لگا تھا۔۔
صاحب نصاب ٹیکس گزار ایک نوٹس ، ایک ہزار روپیہ ایڈوانس فیس ۔ پاور آف اٹارنی کے ساتھ دے کر یہ فرمان جاری کر کے چلتے بنے کہ حاضری لگا کے ٹائم لے لیں ، شام تک پرانے وکیل سے فائل لے کے پہنچا دیں گے۔

کیس کے حقائق سامنے نہ تھے ۔ ہم ناشتہ کرتے میڈم کا سراپا سوچتے رہے ۔ انکو پہلا امپریشن کیسا دینا ہے۔ رام کرنے کو کیا کہانی سنانی ہے ۔ اسی سوچ میں غلطاں ان کے دفتر پہنچے جو F-6 سیکٹر کی ایک کوٹھی میں تھا۔
کار پارک کر کے گیٹ سے داخل ہوئے، سامنے لان کے ساتھ دروازہ کھلا تھا۔ کوٹھی کے ڈرائنگ ڈائننگ میں سٹاف بیٹھا تھا۔ دائیں ہاتھ فائلوں سے بھرے ریکس کے بیچ ریکارڈ کیپر کا ڈیسک اور سامنے میڈم کے آفس کا بند دروازہ۔
ہم کلف لگے کاٹن کے سوٹ کی شکنیں سیدھی کرتے اس منحنی کلرک سے مخاطب ہوئے۔

سلام کیا۔ ۔وزٹنگ کارڈ کی بیک پر کیس کا نام لکھ کے اسکے سامنے رکھا، اچٹتی سی نظر ڈال کے وہ مسکرایا۔ ہم نے دائیں بائیں دیکھا کہ کرسی ہو۔۔تو بیٹھ کے بات کریں پر اسکے ڈیسک کے سامنے کرسی ندارد، کھڑے کھڑے اسے کیس کا نام بتایا کہ وہ متعلقہ فائل نکال کے میڈم  کے پاس پہنچائے اور ہم پیش ہوں۔

اکبر نامی اس بندے نے  جواب میں کہا۔۔ ایک کلو دودھ پتی ! دودھ پتی نہیں تو ریکارڈ بھی موجود نہیں !

ذہنی دباؤ انسان کی خوابیدہ سوچ اور تصور کو اجاگر کرتا ہے ۔ ہم اس کیفیت میں تھے ۔

غصہ آ جائے تو سوچ کی نفاست غائب ہو جاتی ہے۔
ہمارے ذہن سے انگلش کی ڈکشنری ، اردو کی لغت بھک سے نکل گئیں۔
ٹھیٹھ چکوالی لہجے، پاٹدار اور گونجتی آواز میں ہمارے منہ سے نکلا ۔۔ اوئے کے آکھیا ای ۔۔۔

دفتر کے تمام لوگ متوجہ ہو گئے۔ میڈم کے دفتر کی کال بیل بجی۔ شبیر نوٹس سرور کہیں سے نکل آیا اس سے جان پہچان ہو چکی تھی۔ وہ بولا ،خان جی اکبر صاحب مذاق کر رہے ہیں ۔۔ بیل دوبارہ بجی، شبیر میرا کارڈ لے کر اندر گیا ۔ تھوڑی دیر بعد ہم میڈم کے آفس میں ان کے روبرو تھے۔ غصہ ابھی دور نہیں ہوا تھا۔ میڈم نے شبیر سےپانی منگوایا ۔ ہم پی چکے تو میڈم نے بڑے شیریں لہجے میں کہا۔ محمدخان صاحب ریلیکس کریں ۔۔

اِنکم ٹیکس آفس کی روایات اور آداب سے تب تک ہم نابلد تھے۔ وکالت کے داؤ پیچ سے ناواقف ۔۔

ہم نے اکبر کی فارمل شکایت کی۔ میڈم نے اسے طلب کیا۔ فائل کا پوچھا ۔ اس نے کہا کہ فائل انسپکٹر ناصر ہاشمی صاحب کے پاس ہے جو اس میں انکوائری کرنے گئے تھے، وہ دفتر میں موجود نہیں ۔
میڈیم نے اسے حکم دیا کہ اس کیس کا Misc cover بنا لاؤ ۔۔اور شبیر کو چائے بنانے کو کہا۔
مجھے کہنے لگیں۔ اکبر کو شو کاز ایشو ہو گا ۔ چائے پینے تک ماحول پر سکون ہو گیا۔ نئے کور میں آرڈر شیٹ پر ہماری حاضری نوٹ ہوئی۔ پاور آف اٹارنی آن ریکارڈ آئی  اورکیس میں دو دن کی تاریخ ہو گئی۔

ہمارے حواس لوٹے۔۔ میڈم سے معذرت کی۔ ذہن میں سوچ رکھی کہانی سنائی کہ ہم ان خواتین کے کتنے مداح ہیں جو امور خانہ داری،بچے پیدا کرنے اور پالنے کی مشقت کے ساتھ دفتری کام کرتی ہیں بلکہ مردوں کے مقابل بہت اچھا کرتی ہیں۔ ہم نے چند ٹیکس آفس کے دوست بھی گنوائے۔ ناصر ہاشمی انکے ماتحت اور پسندیدہ سٹاف نکلے تو ہم نے ان کے گرائیں ہونے کے ساتھ پیر گھرانے ، انکے تحصیلدار چچا جان سے دوستی ، دادا کے ہمارے سکول کے ہیڈ ماسٹر رہنے تک سب معلومات بیان کر دیں۔جواب میں انہوں نے بھی ہمارے بارے دیگر افسران سے سنے تاثرات ہمیں بتائے۔ سب سے اہم بات یہ نکلی،کہ گزشتہ دنوں میں ایک ٹھیکیدار صاحب کا پیچیدہ کیس ہم نے بہت محنت سے جن آئی ٹی او کے سامنے حل کیا وہ میڈیم کے شوہر نامدار تھے،تو اس ایک پیشی میں تلخی تو ہوئی لیکن میڈم کو ہم نے بہت ذہین اور فہیم پایا ۔عام شہرت کے برخلاف بے حد نفیس اور خوش مزاج خاتون ہیں ۔۔

ٹیکس جوئی کے لیے جاری مہم کے تناظر میں اس کیس کی تفصیلات اہم ہیں آگے چل کے ان پر بات کریں گے۔۔

ابھی دو پہلو جو اس پیشی سے اجاگر ہوئے ان پہ  غور ضروری ہے۔

بار روم اور میٹنگ میں جیسے ہم لوگ ٹیکس کے افسران اور عملے کے بارے میں تجزیہ اور تبصرہ کرتے ہیں۔
عین اسی طرح ایف بی آر اور ٹیکس کے دفاتر میں ہم وکلاء ، مشیران، اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے رویے اور مہارت
زیر بحث رہتے ہیں، جیسے ہم نووارد تھے لیکن میڈم ہماری پرفارمنس سے بخوبی آگاہ تھیں ۔
یہ بات بھی ہمارے علم میں آئی  کہ سینئر افسران نئے آنے والے جونیئر افسروں کو باقاعدہ فعال ٹیکس کنسلٹینٹس کے خواص حمیدہ سے آگاہ کرتے ہیں بلکہ انہیں کچھ وکلا سے محتاط رہنے کی تنبیہ اور تاکید بھی کرتے ہیں ۔

دوسرا دلچسپ پہلو یہ رہا کہ اس روز شام کو جب ہم پنڈی امیر عالم خان صاحب کے  ہاں گئے  تو ان کو بڑے فخر سےاپنی کارگزاری سنائی کہ کس طرح ہم نے ریکارڈ کیپر کی کلاس لی۔ اسکو شو کاز جاری کرایا ۔۔۔
خان صاحب نے ہماری تقریر بڑے تحمل اور خاموشی سے سنی۔ لیکن جب وہ بولے تو چائے کا کپ ہمارے ہاتھ میں تھرتھرا گیا۔ فرمایا۔ جناب ابھی تک چکوال کے اُجڈ پینڈو اور بے عقل جاٹ ہیں !
میڈم افسر ہے کل کسی اور سرکل ،زون یا بورڈ میں ٹرانسفر ہو جائے گی،ریکارڈ کیپر نے یہیں رہنا ہے ۔ اسی رینج میں ۔ وہ تو مستقل ملازم ہے اس سے بگاڑ مہنگا پڑے گا۔
وہ ریکارڈ سے تمہارے کیس کے چالان یا گوشوارے ہی غائب کر دے تو تم کیا کرو گے ؟

یہ لوگ تو ہمارا خاندان ہیں ، ہم انکے ساتھ دن بھر اپنے گھر والوں سے زیادہ وقت گزارتے ہیں۔۔کتنے ناجائز کام بھی ان سے کرانے پڑتے ہیں۔ ہر حال میں کل اسے راضی کرو ۔۔

تو جناب اگلے دن ہم نے اکبر کو منایا۔
کلو دودھ پتی کا جرمانہ پورے سٹاف کو لنچ منگوا کے کھلانے سے ادا کیا۔۔
جاری  ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *