قانون کے آگے ۔۔فرانز کافکا یہ کہنا چاہتا ہے/علی اختر

مجھے سن 2007 میں کسی دفتری کام کے سلسلے میں تھر کا سفر کرنا تھا اور وہاں کچھ عرصہ قیام بھی کرنا تھا ۔ یاد رہے کہ  اس دور میں اینڈرائڈ موبائل بھی نہیں تھے اس لیئے وقت گزارنا بہت مشکل ہو جاتا تھا ۔ سو میں نے اپنے ماموں سے کچھ کتابیں مانگیں جنہیں رات کے اوقات پڑھ  کر ٹائم پاس کیا جا سکے ۔ ان کتابوں میں ایک کتاب “کافکا کہانیاں” کے نام سے ایک جرمن رائٹر “فرانز کافکا” کی مختصر کہانیوں کا اردو ترجمہ تھا۔

یہ کہانیاں کیسے شروع ہوتیں اور کیسے ختم پتا ہی نہیں چلتا تھا۔ کچھ غور و فکر کے بعد یہ پتا چلا کہ  مصنف ہر کہانی میں کچھ نہ کچھ سمجھانا چاہتا ہے لیکن سب کو نہیں صرف غور   کرنے والوں کو۔ تو کہنا یہ تھا کہ  اس کتاب میں ایک کہانی “قانون کے آگے” کے نام سے شروع ہوئی اور منٹوں میں ختم بھی ہو گئی  لیکن آج مکالمہ پر جناب آصف محمود صاحب کا کالم “قانون کے آگے ۔۔فرانز کافکا کہنا کیا چاہتا ہے” پڑھ کر  برسوں پرانی وہ یاد تازہ ہو گئی  جب میں نے یہ کہانی پڑھی تھی اور گھنٹوں سوچا تھا کہ  فرانز کافکا آخر کہنا کیا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:   ’’قانون کے آگے ‘‘۔۔۔۔فرانز کافکا کہنا کیا چاہتا تھا؟

یہ کہانی کیا ہے مختصراً عرض کروں ۔ ایک دیہاتی آدمی جو شہر انصاف کی تلاش میں آتا ہے اور انصاف کے دروازے پر موجود محافظ اسے اندر جانے سے روکتا ہے ساتھ ہی یہ بھی باور کراتا ہے کہ  میں تو تمہیں چھوڑ دونگا لیکن اندر بہت سے دروازے اور بھی ہیں جن کے دربان تمہیں داخل نہیں ہونے دیں گے اور آخر کار وہ انصاف کے دروازے سے داخلے کی اجازت ملنے کے انتظار میں پوری عمر وہیں گزار دیتا ہے۔ یہاں تک کہ موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے اور جب وہ مر رہا ہوتا ہے تو دربان یہ کہہ کر دروازہ بند کردیتا ہے کہ  یہ دروازہ تمہارے لیئے ہی کھلا تھا اور اب میں اسے بند کر رہا ہوں ۔

تو صاحبو کافکا اس کہانی میں اس سے  یہ اشارہ دیتا ہے کہ  انصاف کبھی چل کر ہم تک نہیں پہنچتا بلکہ اسے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ کہا نی ایسے انسان کی المناک موت دکھاتی ہے جو ناکامی کے خوف سے سسٹم کے خلاف اٹھنے سے ڈرتا ہے اور یہ انتظار کرتا ہے کہ  انصاف اس تک خود پہنچ جائے گا ۔ اس دروازے  سے خود داخلے کی خواہش نہیں رکھتا۔ آخر مرتے دم تک انصاف اسے نہیں مل پاتا۔

یہ عام آدمی کبھی اپنا سامان رشوت کے طور پر دربان کے حوالے کرتا ہے تو وہ دربان یہ سب  کر کے  بھی اسے انصاف تک نہیں پہنچنے دیتا ۔ کبھی وہ صرف برا بھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکالتا ہے تو بھی نتیجتاً  صفر ہی رہتا ہے ۔ یہ ایک ایسا آدمی ہے جو معاملہ فہم نہیں ، جو یہ جاننے کی خواہش نہیں رکھتا  کہ  ارد گرد کیا ہو رہا ہے ۔ وہ اس سسٹم میں داخل ہونے کی، اسے بدل دینے کی ، اس سے فائدہ اٹھانے کی ہمت ہی نہیں رکھتا ۔۔

کافکا 1883 میں پیدا ہوا اور چالیس سال کی عمر میں 1923 میں ٹی بی کے ہاتھوں دنیا سے چلا گیا ۔ آج اسکے مرنے کے کم و بیش پچانوے سال بعد بھی لوگ اسے پڑھ  رہے ہیں ۔ ویسے اگر غور کریں تو کم و بیش ایک صدی سے کافکا بھی ہم جیسے لوگوں کو مسلسل بتا رہا ہے کہ  اٹھو اور اپنا حق مانگو ، سسٹم کا حصہ بنو ۔ اگر کوئی  خرابی ہو تو تبدیل کرو ۔ ورنہ ۔۔  مرتے جاؤگے انصاف نہیں ملے گا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *