تفہیم مغرب اور اس کے اثرات۔۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

نیوزی لینڈ میں ہوئے سانحہ نے پوری دنیا پر اثرات چھوڑے ہیں، مسلمان تو اس سے متاثر تھے ہی۔ غیر مسلم اقوام نے بھی اس واقعہ پر ردعمل کا اظہار کیا۔ کئی اہم چیزیں ہوئیں، جن پر بات ہو سکتی ہے۔ نیوزی لینڈ کے عام عوام نے جس بڑی تعداد میں مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیا، یہ ایک منفرد واقعہ ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان انسان کے درد کو بڑی شدت سے محسوس کرتا ہے اور اس کے ساتھ شریک غم ہونا چاہتا ہے۔ اسلامک فوبیا کی ایک وباء چلی ہوئی تھی، مسلمانوں کے شعائر کا مذاق اڑایا جا رہا تھا، بالخصوص پردہ کے حوالے سے باقاعدہ مہم جاری تھی، اس واقعہ کے بعد جس طرح بڑی تعداد میں یورپ کی غیر مسلم اقوام کی خواتین نے صرف اس لیے پردہ کیا کہ وہ مسلمان خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہی تھیں، اس سے پوری دنیا میں اچھا پیغام گیا۔

اس حوالے سے کئی مشہور چینلز پر بھی خواتین نیوز کاسٹرز نے سر پر سکارف لیے، پرائم ٹائم پر جب لوگوں نے انہیں دیکھا، تو اس وقت ایسا کرنے سے پردہ کے حوالے سے انتہا پسند عناصر کی پیدا کردہ غلط فہمیاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔ اس پورے واقعہ نے مغرب میں مسجد کے کردار کو بہت خوبصورت انداز میں واضح کیا ہے اور کروڑوں لوگ جنہوں نے مسجد کو کبھی دیکھا نہیں تھا، اس کے کردار سے آگاہ نہیں تھے، وہ بھی مسجد اور معاشرے میں اس کے کردار سے آگاہ ہوئے۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں زندہ بچ جانے والوں کے تاثرات کو دکھایا گیا، ان لوگوں نے بہت اچھے انداز میں اللہ پر ایمان اور اسے زندگی بچانے والا اور مسجد سے مستقبل میں اپنے تعلق کو مزید مستحکم کرنے پر بات کی۔ اس سے وہ قوتیں ناکام ہوئیں جو مسلمانوں کو مسجد سے دور کرنا چاہتی تھیں۔

انسان دوست لوگوں نے اس کے بعد آنے والے جمعہ پر کئی مقامات پر جس طرح بڑی تعداد مساجد کے سامنے آکر مسلمانوں کا استقبال کیا اور ان کے لیے ڈھال بنے یقینا یہ اچھا اقدام تھا جسے سراہا جانا چاہیے۔ اس سے مغرب میں موجود سہمے مسلمانوں کو نیا حوصلہ ملا۔ ایک اور چیز بھی واضح ہوئی کہ دہشتگردی کو کسی مذہب یا علاقے کے ساتھ نتھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس واقعہ میں ملوث دہشتگرد سفید فام تھا، اب اسے سفید فام دہشتگرد پکارا جائے یا یہ مسیحی تھا تو اسے مسیحی شناخت کے ساتھ منطر عام پر لایا جائے، اس کی ایک شناخت آسٹریلوی ہونا تھی، ان میں سے کسی شناخت کی بنیاد پر اس پوری کمیونٹی کو ٹارگٹ کرنا نادرست ہو گا۔ مسلمانوں کے ساتھ اس رویے پر بہت سے لوگ شرمندہ ہوئے۔ آسٹریلیا کے ایک سینٹیر دہشتگردی کو اسلام اور مسلمانوں سے ملانے کے حوالے سے معروف تھے، اس واقعہ کے بعد انہوں نے باقاعدہ مسلمانوں سے معافی مانگی۔

انہوں نے کہا کہ میں غلط تھا۔ میڈیا پر اظہار ایک سینیٹر کر رہا تھا، مگر لوگ بڑی تعداد میں یہ سمجھتے تھے کہ مسلمان دہشتگرد ہیں، اس واقعہ نے غلط فہمیاں دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چند دن قبل ادارہ امن و تعلیم اور مسلم کرسچن فیڈریشن کے زیراہتمام ایک سیمینار میں شریک تھا، جو بنیادی طور پر نیوزی لینڈ میں ہونے والے دلخراش واقعے کے شہداء کی یاد میں منعقد ہوا تھا اور اس میں ان عوامل پر بھی بات کی گئی کہ جن کی وجہ سے یہ واقعہ ہوا۔ چئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب نے اپنے خطاب میں ایک خوبصورت بات کی کہ نیوزی لینڈ واقعہ کے بعد کے یورپین ردعمل اور بالخصوص وہاں کی، وزیراعظم کے ردعمل کے بعد تفہیم مغرب کی ضرورت ہے، ہم مغرب کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے مسائل کا شکار رہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ دشمن یہ چاہتا ہے کہ مغرب اور اسلام کا تصادم کرائے اور اس کے نتیجے میں یورپ سے مسلمانوں کو بے دخل کیا جائے۔ ہم تصادم کی بجائے، تہذیبوں کے درمیان مکالمہ کی بات کرتے ہیں اور مسلمانوں کا مفاد بھی اسی میں ہے۔ پورے مغرب کو دشمن فرض کرنے اور وہاں کے انسان دوستوں کو نظرانداز کرنے سے مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ بات بالکل درست ہے کہ نئے سرے سے تفہیم مغرب کی ضرورت ہے، اس کے نتیجہ میں مغرب اور اسلام کا جو تعامل ہو گا وہ عملی طور پر ممکن اور نتائج کے اعتبار سے شاندار ہو گا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ عراق جنگ کے خلاف جہاں پوری دنیا میں امریکہ کے اس انسان دشمن اقدام پر مظاہرے ہوئے، جنگ کے خلاف سب سے بڑے مظاہرے یورپ کے قلب لندن میں ہوئے تھے۔

ایک اور بات بھی غور طلب ہے کہ اسرائیل جیسی جارح ریاست جو فلسطینوں کی زمینوں پر قابض ہے، اس نے ہولو کاسٹ کا اس قدر استعمال کیا ہے کہ آج اسی سال بعد بھی مظلومیت کا لبادہ لیے ہوئے ہے۔ اسرائیل اور صیہونی تحریک نے مغرب کے مزاج کو سمجھا اور کے مطابق فکری جنگ ترتیب دی اور آج نتائج سب کے سامنے ہیں۔ اسرائیل فلسطینی بچوں کو شہید کرتا ہے، ان کے شہروں کو ویران کرتا ہے اور بے گناہ لوگوں کو سالوں جیلوں میں رکھتا ہے، ان سب کے باوجود وہ یورپ کا محبوب بنا ہوا ہے، اور تفہیم مغرب کے بغیر ہم مظلوم ہو کر بھی اپنی آواز کو وہاں نہیں پہنچوا سکے۔ یہ ممکن ہے، حکومتیں نہ سننا چاہتی ہوں، مگر یورپ کے عوام تک آواز پہنچائی جائی، تو بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد نیوزی کی وزیراعظم نے جو اقدامات کیے، اس کے نتیجے میں وہ مسلم عوام میں بہت مقبول ہو گئی ہیں۔ مسلمان انہیں اپنے زخموں پر مرہم رکھنے والی شخصیت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ جدید تصور ریاست میں اقلیت و اکثریت کا تصور ختم کرکے مذہب کو ریاستی معاملات سے نکال دیا گیا ہے اور ہر شہری برابر کا حصہ دار ہے۔

بطور نیوزی لینڈ کے شہری، جو مسلمان شہید ہوئے ردعمل دینا، وزیراعظم کی ذمہ داری تھی۔ اس ردعمل میں اور امریکہ میں 11 ستمبر کے بعد آنیوالے ردعمل نے پوری دنیا، بالخصوص مسلم دنیا کو متاثر کیا۔ امریکی ردعمل کے نتیجے میں افغانستان، عراق اور شام سمیت کئی ممالک کو برباد کر دیا گیا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر وہ دہشتگردی کی گئی کہ الامان و الحفیظ۔، آج نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان عوام جس ملک کے خلاف سب سے زیادہ نفرت کرتے ہیں وہ امریکہ ہے۔ آج کے اس دور میں امریکی پالیسی سازوں کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ وہ جنگ اور پابندیوں کے ذریعے سوائے نفرت کے کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ انہیں مکالمہ کی طرف آنا ہوگا، دیگر اقوام کے ساتھ احترام اور برابری کی سطح پر بات کرنا ہو گی۔ مسلمان عوام سب سمجھتے ہیں، آپ دیکھ لیں، بغیر ایک روپیہ خرچ کیے، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کتنے مسلمانوں کے دل جیت لیے ہیں اور آپ نے کھربوں ڈالر خرچ کر کے سوائے نفرت کے کیا حاصل کیا ہے؟۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

Avatar
ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *