حرمتِ مذہب یا پیشہ ورانہ مخاصمت

SHOPPING
SHOPPING

یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں جب خال خال گھرانوں میں اخبار پڑھا جاتا تھا، شہری آبادی میں رہنے والا عام انسان بھی اخبار خریدتے ہوئے ہچکچاتا تھا، روزانہ کی بنیاد پر اخبار یا تو اعلیٰ سرکاری افسران خریدتے تھے یا سیاست کی شدھ بدھ رکھنے والے شہری۔ ملکی حالات سے خود کو باخبر رکھنے والے اساتذہ اور متمول گھرانوں کے لوگ بھی روزمرہ کی بنیاد پر اخبار بینی کے شوقین تھے ۔ بڑے اخبارات کے دفاتر بڑے شہروں میں ہونے کی وجہ سے اخبار کی ترسیل سست روی سے ہوتی تھی ، تمام دیہی علاقوں میں تازہ اخبار پہنچنا ایک مشکل کام تھا ،کیونکہ اخبار کی ترسیل کا نظام پبلک ٹرانسپورٹ پر منحصر تھا اور غیر موثر مواصلاتی نظام کی بدولت بعض اوقات دوسرے شہر میں بھی اخبارات تاخیر سے پہنچتے تھے ، انگریزی اخبارات پڑھنے کا رجحان بھی کم ہی تھا۔ مقابلے کے امتحانات میں شرکت کے خواہاں طالب علم امتحان کی تیاری کے اور حالات ِ حاضرہ کی خبر رکھنے کے لئے اردو اور انگریزی اخبار ات باقاعدگی سے پڑھتے تھے –
چند بڑے نام اخبارات میں باقاعد گی سے حالات حاضرہ کے تجزئیے پیش کرتے تھے ، جو کبھی حکومت کے کسی اچھے کارنامے کا احاطہ کئے ہوتے تھے یا حکومتی فیصلوں پر تنقید ۔ کبھی خارجہ پالیسی کے پیچ وخم سنوارے جاتے تھے اور کبھی داخلہ پالیسی میں شامل اغلاط کا محاسبہ کیا جاتا تھا۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ ایک پارٹی کی حکومت آتے ہی اس پارٹی کی تعریف اور توصیف مبا لغے سے بڑھ کر کی جاتی تھی اور وقت کا پہیہ گھومتے ہی اسی پارٹی کے حکومت کے دوران کئے گئے سب اغلاط کو منظر عام پر لانے کےلئے مخالفین کے ساتھ ہاتھ ملا لئے جاتے اور عدالتوں میں چلنے والے مقدمات میں وعدہ معاف گواہ بننا بھی کہنہ مشق صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کا خاصہ رہا ہے۔
بدلتے عالمی حالات ، روسی انہدام اور پاکستان میں ضیاء مارشل لاء کے زیر اثر بننے والے سیاسی اور سماجی حالات ، اخبارات کے مالکان کی سیاسی وابستگی اور بائیں بازو کے دانشوروں کی گوشہ نشینی کی بدولت ریاستی مشینری کے لئے کارآمد پرزوں کے طور پر کام کرنے والے دانشور اور ایسے تجزیہ نگار جن کو کوئی بھی حکومت اپنے ساتھ سیدھ میں لے سکتی تھی، کم و بیش تمام اخبارات کے اداراتی صفحوں پر قابض نظر آتے ہیں ، مذکورہ تجزیہ نگاروں، دانشوروں اور صحافیوں کا یہ خاصہ رہا ہی کہ وہ ایک حکومت کی کرپشن ، بدانتظامی اور حکومتی غلط فیصلوں کو دوسری حکومت کی گود میں بیٹھ کر بے نقاب کرتے رہے اور کچھ ایسے قسمت کے دھنی ٹھہرے کے اگلی حکومت میں اعلٰی عہدے پا کر تجزیوں اور کہانیوں سے توبہ تائب ہو گئے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ ترقی کرتے گئے اور نجی ٹیلیویژن چینلز کو لائنسس ملنے کے بعد اخبارات میں اپنی تجزیہ نگاری کی وجہ سے پہچانے والے کہنہ مشق تجزیہ نگار سوٹ بوٹ پہن کر اخلاقیات کا درس دینے ٹی وی پر براجمان نظر آنے لگے، خبروں اور تجزیوں سے بھرپور پروگرام اور ٹاک شوز پاکستانی عوام کےلئے ایک نئی چیز تھی، ہر چینل کے پروگرام کا فارمیٹ تقریباًٍ ایک جیسا ہی تھا جہاں ایک خوبرو اینکر پرسن اپنے مہمانوں کا تعارف کروانے کے بعد اس پروگرام کا مدعا بتاتے ہی ایک اکھاڑہ سجا لیتا تھا اور اس اکھاڑے کی لفاظی کُشتی بغیر کسی نتیجہ کے اپنے اختتام کو پہنچتی تھی۔ ان ٹاک شوز کا عوامی سطح پر فائدہ یہ ہوا کہ عوام اخلاقی و مذہبی لبادہ اوڑھے ہوئے کتنے ہی سیاسی و سماجی عمائدین کی اصلیت جان گئے۔ یہ کل کی بات ہے کہ اختلافات کی اخلاقیات کی تبلیغ کرنے والے کسی سیاسی ٹاک شو کے دوران ذاتی طور پر اخلاقیات کا پاس نہ رکھتے ہوئے اپنے مد مقابل کی ذاتیات کا جنازہ نکالتے ہوئے خوشی سے سرشار ہوتے رہے اور ان کے مداح ان کی اس حرکت کی مدح سرائی کرتے رہے۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مذہبی، سیاسی و عسکری عمائدین کے کسی بھی صحافی نے سماج کے ان مسائل کی طرف توجہ دلانا ضروری نہ سمجھا جس سے ریاست کے ارفع اداروں کی عظمت کو ٹھیس پہنچنے کا شائبہ تک بھی ہو۔ تما م بڑے اور معتبر نشریاتی اداروں پر ٹاک شوز اور تجزئیے پیش کرنے والے عام انسان جو پبلک ٹرانسپورٹ اور موٹر سائیکل پر اخبارات کے دفاتر میں یا پریس کلب جاتے تھے کا طرز بوودوباش اتنا شاہانہ کیسا ہوا یہ ایک الگ بحث ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کی تاریخ میں اگر کوئی سماج، دلیل ، منطق یا سوال کرنے والا انسان کسی دائیں بازو کے کہنہ مشق دانشور کو منطق و دلیل کی بنیاد پر قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو لا جواب دانشور شرافت کا لبادہ ایک طرف رکھ کر گالم گلوچ اور لعن طعن پر بھی اتر آتے ہیں۔ نتیجتاً ایک موزوں انسان اپنی بات ادھوری چھوڑ کر اپنی عزت بچاتے ہوئے خدا حافظ کہنے میں ہی عافیت جانتا ہے۔ نجی نشریاتی اداروں کے ٹاک شو ز اگر محفوظات میں سے نکال کر دیکھے جائیں تو ایسا لگتا ہے کہ ایک ہی شو کے کردار معمولی ردوبدل کے ساتھ دوبارہ پردے کے پیچھے سے ظاہر ہو رہے ہیں اور اپنا کردار مکمل کر کےواپس پلٹ جاتے ہیں ۔ ٹاک شوز کی ضرورت کے پیش نظر سیاسی پارٹیوں نے بھی اپنے مخصوص زعماء کو اس کا م کے لئے مختص کیا ہوا ہے جو ایک مکالمے کا آدھا سے زیادہ وقت اپنے قائدین کی تعریف و توصیف میں خرچ کرتے ہوئے عار محسوس نہیں کرتے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے مستعمل ہونے کے بعد عوام کی اکثریت نے اسے اظہار رائے کا ذریعہ بنایا، ماضی قریب میں عرب سپرنگ اور اس جیسے دوسرے واقعات نے متوسط اور ترقی پذیر ریاستوں کی عوام کو اس کے مثبت استعمال سے روشناس کروایا۔
جوں جوں سوشل میڈیا کا استعمال بڑھنے لگا، اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کا رجحان کم ہوتا دکھائی دینے لگا، سوشل میڈیا کی بڑھتی مقبولیت کے زیر اثر مرکزی دھارے کے نشریاتی اداروں نے بھی اپنی تشہیر اور نشر مکرر کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا لینا شروع کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر اور دوسرےڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال ہونے کی وجہ سے تمام اخبارات بھی آن لائن دستیاب ہونے لگے جو نہ صرف بغیر پیسے خرچ کئے پڑھے جا سکتے ہیں بلکہ ان کے ادارتی صفحات پر چھپنے والے تجزیات پر وہ تنقید بھی کی جا سکتی ہے جو کسی دور میں خط کی صورت مدیر کے پاس پہنچنے پر کچرے کی ٹوکری میں چلی جاتی تھی۔ سوشل میڈیا پر کام کرنے والے سماجی کارکنان اپنی سہولت سے انسانی حقوق کے تحفظ کی مہم چلا سکتے ہیں اور اپنے اختلافی نوٹ لکھ سکتے ہیں جو نشریاتی اداروں کے مالکان کی اجازت اور مدیران کی مرضی اور نظریات سے مختلف ہونے کی وجہ سے بڑے اردو یا انگریزی اخبارات میں نہیں چھپتے تھے۔ یا الیکٹرانک میڈیا میں ایسی مہمات کے لئے ایک خطیر رقم درکار ہوتی تھی۔
اسی دوران مرکزی دھارے کے کچھ اخبارات ، چینلز کے ساتھ ساتھ ادب و صحافت میں دلچسپی رکھنے والے کچھ خواتین اور حضرات نے آن لائن لکھنے کے پلیٹ فارم مرتب کئے جن کی بدولت سکہ بند دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کے برعکس عام انسان کو اپنی بات عوام کے سامنے رکھنے کا موقع ملا، دائیں بازو کے سکہ بند دانشوروں کے برعکس ایک دوسرا بیانئہ سامنے لانے والے ایک دفعہ پھر مقبول ہونے لگے۔ دہشت گردی، عسکری اداروں کا کردار، فوج اور سیاست، مولوی، پنڈت، مسجد ، کلیسا ، راہب، مذہبی انتہا پسندی اور وہ تمام بنیادی سوال ابھرنا شروع ہوئے جو ایک نیشنل سیکیورٹی سٹیٹ میں امر مانع ہوتے ہیں ۔
متنوع تحریریں اور متبادل بیانیہ شدت پسند مذہبی عناصر کے مفادات کے لئے نقصان دہ تو تھا ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ دائیں بازو کے حامل دانشوروں ، ریاست اور ملا کے حاشیہ برداروں کے لئے بھی زہرِ قاتل ہے کیونکہ عوام کو عوام میں سے عوام کی بات کرنے والا زیادہ بھاتا ہے، دشمن کا دشمن دوست ہونے کے مصداق عوامی مقبولیت کھونے کے ڈر سے دائیں بازو کے دانشوروں نے مذہبی شدت پسندوں کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے متبادل بیانئے کے حامل لوگوں پر توہین ِ مذہب کا لیبل چسپاں کروایا جو دراصل پیشہ وارانہ مخاصمت ہے۔
کسی بھی مذہب کی حرمت و محبت کے اشاریوں میں مذہبی شعائر اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہونا دلیل سمجھا جاتا ہے ، اگر متعصب مذہبی رویوں، شدت پسندی ، مذہبی منافرت، تفرقات اور مذہبی استحصال کو منطق و استدلال کی بنیاد پر مورد ِ الزام ٹھہرانا اس کے پیروکاروں کے لئے مذہبی حرمت کے خلاف ہے تو اسی مذہب کے ماننے والے اگر ملاوٹ، دھوکے بازی، ریا ، اپنے فرائض سے غفلت، جنسی تشدد اور اس جیسے کئی دوسرے مانع امور میں ملوث پائے جائیں توتوہینِ مذہب کا قانون لاگو کیوں نہیں ہوتا؟
اور ریاست کے زیر سایہ مربوط معاشی نظام ، قابلیت کی بنیاد پر مواقع کی فراہمی، مذہبی رواداری اور ریاست میں رہائش پذیر اقلیتوں کے خلاف خوبصورت کمروں میں بیٹھ کر بات کرنے والے دانشور اور سکہ بند تجزیہ نگار اگر اپنے مذہبی شعائر پر کاربند ہیں تو مذکورہ بالا امور کے خلاف بات کیوں نہیں کرتے؟ ونی، وٹہ سٹہ اور جبری شادی کیا توہین مذہب نہیں؟ کیا جبر، فرسودگی ، جہالت، اساتذہ کے بغیر سکول، کچرا چنتے بچے، مہنگائی، بے روزگاری، جبری مشقت، وڈیرا شاہی، استحصال ، وسائل کی غیر مساوی تقسیم ، عدالتی فیصلوں میں تاخیر ، عوام کے لئے الگ اور خواص کے لئے الگ قوانین کی بابت مذہبی احکامات کی حکم عدولی بھی توہین ِ مذہب ہے کہ نہیں؟ یا آفاقی کتابیں اس بارے خاموش ہیں؟ کیامسند ِعلم و دانش پر بیٹھے ، سوال اٹھانے والوں پر فتوے داغنے والے اہل دانش یہ جواب دے سکتے ہیں کہ معصوم نوکرانی پر تشدد کے خلاف لکھتے وقت ان کا قلم کیوں رک جاتا ہے؟ کیا یہ سوال کیا جاسکتا ہےکہ مدارس و مساجد میں جب کوئی بچہ جنسی تشدّد کا شکار ہوتا ہے تو یہ ریاستی قوانین کے مطابق ایف آئی آر درج کروانے کی تلقین کیوں نہیں کرتے؟ کیا جنسی تشدد مذہبی افکار کی توہین نہیں؟ کیا یہ ریاستی دستور کی نفی نہیں؟ اور جب یہ کسی مظلوم کو پرسہ دیتے ہوئے اس نظام کی نااہلی کی نشاندہی کرنے کی بجائے “مالک انصاف کریگا” ایسے جملے استعمال کرتے ہیں تو سوال اٹھانے والوں کو بھی مالک کی مرضی پر نہ چھوڑنا اخلاقی بددیانتی اور منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟

SHOPPING

اظہر مشتاق
اظہر مشتاق
اظہر مشتاق سماج کے رِستے زخموں کو محسوس کرنے والا عام انسان ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”حرمتِ مذہب یا پیشہ ورانہ مخاصمت

  1. اسی نوے کی دہائی کے ذرائع ابلاغ اور فکر کودور جدید سے کمال مہارت سے جا ملایا ہے..آپ کی اسلوب، فکر اور ابلاغ پہ گرفت ہے..اور یہ کم کم ہے..کاش ان لفظوں میں سلگتے زخم ہم.دیکھ سکیں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *