پانامہ کیس سے توقعات بے معنی تھیں

ایک پرانی کہاوت ہے کہ ایک دفعہ طوطوں کا ایک جوڑا کسی سفر پر جا رہا تھا تو ایک جگہ وہ آرام کی غرض سے رکا ، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بنا بنایا شہر موجود ہے مگر ہر طرف ویرانی ہی ویرانی ہے، عمارتوں کی دیواروں پر کہیں عمودی اور متوازی سمت میں آکاس بیل پھیلی ہوئی اور کہیں کائی پڑی ہوئی ہے اور کہیں دروازوں اور کھڑکیوں کو دیمک لگی ہوئی ہے، ایسی حالت دیکھ کر نر طوطا اپنی مادہ سے کہتا ہے کہ دیکھو کتنا اچھا شہر بنا ہوا ہے ، عمارتیں ہیں سڑکیں ہیں شاید سہولیات بھی ہوئی ہوں گی مگر لوگ نہیں ہیں ، اسی اثناء میں قریب سے ہی الّو کے بولنے کی آواز آتی ہے، نر طوطا سرد آہ بھرتے ہوئے قیاس کرتا ہے کہ دیکھو اُلّو کی نحوست سے شہر اجڑ گیا۔
دونوں جب دوبارہ سفر کی اُڑان بھرتے ہیں تو اُلّو سامنے آکر انہیں روک لیتا ہے اور اپنے ساتھ کھانا کھانے کی پیشکش کرتا ہے، طوطوں کا جوڑا کھانے کی پیشکش قبول کرتے ہوئے اُلوکے ساتھ ہولیتا ہے اور دونوں اسکے ساتھ کھانا کھاتے ہیں، کھانے سے فارغ ہوکر جب چلنے کیلئے تیار ہوتے ہیں تو اُلّو پھر کہتا ہے کہ دیکھو اب ہماری علیک سلیک تو ہو ہی گئی شام کے سائے بڑھ رہے ہیں، آپ راستے میں بھی کہیں قیام کرو گے ، بہتر ہے یہیں شب بسری کر لو، طوطوں کا جوڑا راضی ہو جاتاہے، اگلی صبح جب وہ پھر سے عازمِ سفر ہونے کی تیاری کرتے ہیں تو اُلّو مادہ طوطے (طوطی) کو روک لیتا ہے اور نر سے کہتا ہے کہ یہ میری بیوی ہے، نر حیران ہوکر پوچھتا ہے کہ یہ تمہاری بیوی کیسے ہوئی ، تم اُلّو ہو اور یہ طوطی ،یہ تمہاری بیوی کیسے ہو سکتی ہے؟ اُلّو مزید سختی سے کہتا ہے کہ اس نے میرے ساتھ رات گزاری اسلئے یہ میری بیوی ہے، طوطا پریشانی میں مسئلے کے حل کا سوچتا ہے، اور اس نتیجے پر پہنچتا ہےکہ عدالت کی طرف رجوع کیا جائے۔
دونوں عدالتی فیصلے کو ماننے پر راضی ہوجاتے ہیں اور عدالت کا رخ کرتے ہیں، عدالت پہنچ کر طوطا پریشان ہو جاتا ہے کیونکہ عدالت میں منصف بھی اُلّو ہی ہوتا ہے، مقدمہ دائر ہونے کے بعد بیانات اور دلائل ہوتے ہیں اور بالآخر منصف یہ فیصلہ دیتا ہے کہ طوطی اُلّو ہی کی بیوی ہے، طوطا مایوس ہوکر جانے لگتا ہے تو اُُلّو اسے روک کر کہتا ہے کہ طوطی کو ساتھ لے جاؤ ، طوطا معنی خیز نظروں سے اسکی طرف دیکھتا ہے تو اُلّو اسے سمجھاتا ہے کہ دیکھو شہر اُلّو کی نحوست کی وجہ سے ویران نہیں ہوتے ، شہر انصاف کی مسند پر بیٹھے ایسے منصفوں کے فیصلوں سے ویران ہوتے ہیں جو طوطی کو اُلّو کی بیوی بنا دیتے ہیں اور اُلّو ؤں کا شہروں کی ویرانی میں کوئی عمل دخل نہیں بلکہ جب آبادیاں انسانوں سے خالی ہو جائیں تو وہاں اُلّو بسیرا کرتے ہیں۔
بالکل ایسا ہی حال پاکستان کی عدالتوں اور عدالتی فیصلوں کا ہے ، جہاں انصاف کے حصول کے لئے عدالتوں کا معیار بھی وہی ہے جو بحیثیت مجموعی معاشرتی اقدار کا ہے، یہ درست ہے کہ تحریری طور پر قانون کی مقدّس کتاب میں سب کو برابر لکھا گیا ہے مگر عملی طور پر غریب اور تہی دست کے لئے الگ قانونی تقاضے ہیں جبکہ امیراور بالادست طبقات کے لئے الگ۔ اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جس معاشرے میں سماجی اور معاشی تفریق پائی جائے کیا اس معاشرے کے باسی اس تفریق کا اثر نہیں لیں گے؟ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ ریاستی ادارے، پارلیمان ، مقننہ اور عدلیہ طبقاتی تفریق کا اثر نہیں لیں گی تو اسے محض ذہنی عیاشی کا نا م دیا جا سکتاہے، حقیقت پسندانہ سوچ کبھی نہیں کہا جاسکتا۔
پانامہ کیس جس کا مقدمہ پاکستانی ریاست کی عدالت ِ عالیہ کے عدالتی کمرہ نمبر ایک میں باقاعدگی سے سُنا گیا اور متعدد پیشیوں کے بعد ایک دبیز فیصلہ لکھا گیا ، بدعنوانی کے سنگین الزامات کے باوجود پانامہ کیس کا مقصددراصل اقتدار کی چھینا جھپٹی کے لئے ایک ہی طبقے کے نمائندوں کی جنگ تھی اور سب سے دلچسپ بات یہ کہ اسی طبقے کے کچھ زعماء جو اعلٰی عدالتی اہلکار ہیں نے اپنے ہی طبقے کے دو گروہوں میں سے ایک کے خلاف فیصلہ دینا تھا۔ جس کے لئے پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے گذشتہ ہفتے سے ہی ایک سنسنی پھیلا رکھی تھی اور ایک عوامی رائے یہ بنا دی گئی تھی کہ میاں نواز شریف اور ان کا پورا خاندان سیاسی طور پر پُر اثر ہونے کے باوجود اس فیصلے سے متاثر ہوگا۔ بعض سیاسی اور قانونی تجزیہ نگار دبے لفظوں اور کھلے عام اس کا اظہار کر چکے تھے کہ یہ فیصلہ واقعی ایک تاریخی فیصلہ ہوگا اور عدالتِ عالیہ مستقبل کے لئے بدعنوانی کو روکنے کے لئے ایسے قوانین وضع کریگی کہ ہر طرح کی بدعنوانی کی نیت سے پہلے ریاست کے خواص و عوام اسکے ممکنہ نتائج کے بارے میں ضرور سوچیں گے۔
اس فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جاننا اشد ضروری ہے کہ کیا صرف بدعنوانی کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب سے پہلے ہمیں ریاست کے مروجہ نظام کو سمجھنا ہو گا، پاکستانی ریاست موجودہ عہد میں ایک نیم سرمایہ دارانہ نظام سے گذر رہی ہے، اور سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ کے زور پر سماجی اخلاقیات مرتب کی جاتی ہیں۔ موجودہ ریاستی نظام میں بدعنوانی کی منتقلی نیچے سے اوپر کی طرف ہوتی ہے، یعنی ریاستی ڈھانچہ ایسے خطوط پر استوار ہے جس میں کلرک کو اپنی ملازمت کے اگلے مرحلے میں داخل ہونے کیلئے یا تو مضبوط سیاسی پس منظر اور مدد چاہئے یا سرمایہ اور اسی طرح پیشہ وارانہ مہارت کے بغیر ایک اعلیٰ منصب تک پہنچنے کیلئے بھی کچھ سہاروں کی ضرورت پڑتی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ریاست کی عدلیہ یا قانون ساز ادارے ایسا قانون بنا چکے ہیں کہادنیٰ اور اعلیٰ سطح کی بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑنے میں ممد و معاون ثابت ہو؟ یا ریاست کے نظام کی تصحیح کے لئے ایسی کوششیں ہو رہی ہیں کہ ایک ایسا متبادل نظام بنایا جائے جو بنیادی عوامی مسائل کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکے؟
اسی لئے ماضی میں میاں محمد نواز شریف اور انکےسیاسی حلیفوں نے ایک معطل چیف جسٹس کی بحالی کے لیے بھرپور سیاسی مہم جوئی کی تھی بظاہر وہ جمہوریت اور عدلیہ کی بحالی کی ایک تحریک تھی مگر مشہور فلسفی کارل مارکس نے کہا تھا کہ طبقاتی معاشروں میں غیر جانبداری منافقت کا دوسرا نام ہے۔ مذکورہ چیف جسٹس اور میاں برادران کے مفادات سانجھے تھے۔ اس وقت کی ضرورت تھی کہ سیاسی عمل میں خود کو زندہ رکھنے کے لئے نواز لیگ ایک چیف جسٹس کی بحالی کو ایک سیاسی سرگرمی بنائے اور آنے والے انتخابات میں اسی سیاسی سرگرمی کو اپنے انتخابی منشور میں اپنی کار گزاری بنانے کی کوشش کرے۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ مشرف کا چیف جسٹس کو معطل کرنے کے عمل کو ایک مثبت عمل سمجھا جائے۔
پانامہ کیس میں نواز شریف خاندان اور متعدد دوسرے سیاستدانوں کے نام آنے کا ہر گزیہ مطلب نہیں تھا کہ پاکستانی عوام پر سیاستدانوں کی بدعنوانی کےبالکل نئے انکشافات ہوئے ہیں اور ایسا بھی نہیں تھا کہ ملک کی لگ بھگ بیس کروڑ آبادی حکمرانوں کی مالی بے ضابطگیوں سے بے بہرہ ہے۔ عمران خان کا عوامی تحریک چلانے کے برعکس ریاست کے عدالتی نظام پر اعتماد بھی عقل سے ماوراء ہی ہے کیونکہ ملکی تاریخ میں عدالتِ عالیہ آج تک کوئی ایسی مثال قائم کرنے میں ناکام رہی ہے جس میں کسی بھی سیاستدان کو بدعنوانی کے جرم میں ملکی سیاست سے باہر کیا ہو یا اسے قرار واقعی سزا دی گئی ہو۔ اس لئے عدالت کا بظاہر ایک کنفیوز فیصلہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ، کم و بیش ایک سال سے چلنے والا مقدمہ کسی منطقی نتیجے پر پہنچنے کے بغیر ابھی تک عدالت عالیہ میں موجود ہے۔ یاد رہے کہ موجودہ مقدمے سے مالی بے ضابطگیوں کے نتیجے میں ملک سے باہر گیا ہوا پیسہ نہ تو پاکستان میں واپس آنے والا تھا اور نہ ہی اس فیصلے سے عوام کی زندگیوں پر کوئی خاطر خواہ فرق پڑنے والا تھا۔ کیونکہ طاقتور طبقات کی آپسی لڑائی میں عوامی مسائل پسِ پردہ چلے جاتے ہیں۔ پاکستان کے عوام اگر بالادست اور تہی دست طبقات کے بنیادی فرق اور تضادات کو سمجھنے سے قاصر رہے تو ،وہ ایسی کھوکھلے نظام کا حصہ رہیں گے، جس کا مقصد لوٹ کھسوٹ، بد عنوانی اور استحصال ہے اور جوسرمائے، جبر، لوٹ مار اور بدمعاشی کی بنیادوں پر قائم ہے۔ پاکستانی عوام کو اس نظام کی تبدیلی کے لئے ایک فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گا اور ایسے نظام کی کوشش کرنی ہو گی، جس سے بھوک، ننگ، تنگدستی، بیماری، بدامنی، ظلم، بربریت، استحصال اور جبر کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔

اظہر مشتاق
اظہر مشتاق
اظہر مشتاق سماج کے رِستے زخموں کو محسوس کرنے والا عام انسان ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *