لکڑہارا اور زمین میں دفن خزانہ۔۔۔محمد احسن سمیع

ہمارے یہاں ایک بڑا مسئلہ سرکاری حکام کی جانب سے عوام میں اس عقیدے کی مسلسل ترویج ہے کہ قصے کہانیوں والے لکڑہارے کی طرح ایک دن ہمیں بھی اپنے یہاں زمین میں دفن کوئی خزانہ مل جائے گا اور بس پھر ساری زندگی کے لئے اپنے تو عیش ہی عیش!!! ریکودق سے لے کر کیکڑا آئل فیلڈ تک، اور ایک چپراسی سے  لے کر وزیر اعظم تک یہی سوچ کارفرما نظر آتی ہے، بغیر یہ بات سمجھے  کہ معدنیات کی اکنامکس کیسے کام کرتی ہے۔ ایک بات جو ہمیں سمجھنی چاہیئے وہ  یہ ہے  کہ اگر ہماری معیشت میں سعودی عرب کا پورا کا پورا جی ڈی پی بھی شامل ہوجائے تو ہماری فی کس آمدنی 5 ہزار ڈالر سالانہ نہیں ہوگی۔ دنیا کی حالیہ معاشی تاریخ کا جائزہ لیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ گزشتہ ۳۰ برسوں میں کوئی ایک بھی بڑی آبادی والا ملک ایسا نہیں ہے جس نے محض معدنی وسائل کے بل بوتے پر ترقی کی ہو۔ چین سے لے کر بھارت، یا ویتنام سے لے کر بنگلہ دیش ۔۔۔ سب ہی نیٹ انرجی امپورٹرز ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت ایتھوپیا کی معیشت بھی سالانہ ۸ فیصد کے حساب سے ترقی کررہی ہے اور یہ وہ ملک ہے جس کے پاس اپنی بندرگاہ تک نہیں۔ ان سب ہی ملکوں کی معاشی ترقی کی وجہ ان کی برآمدات کے گرد گھومتی مینوفیکچرنگ انڈسٹری ہے۔ اگر صرف سستی توانائی ہی سے ترقی ممکن ہوتی تو ہمیں تھر کے کوئلے کے بارے میں 1994 سے معلوم ہے مگر ہمارے پرائیویٹ سیکٹر نے آج تک اس سے فائدہ نہیں اٹھایا اور ابھی تک وہاں سے محض 300 میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکی ہے، اور یہ بھی سی پیک کی بدولت ممکن ہوسکا ہے۔

بالفرض اگر کراچی کے سمندر سے بڑی مقدار میں تیل نکل بھی آئے تو  یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیئے کہ یو اے ای اور سعودیہ کی طرح ہمارے وارے نیارے تب بھی نہیں ہوں گے، جب تک کہ اس سستے تیل کو ہم اپنی ویلیوایڈڈ اشیاء کی برآمدات بڑھانے کے لئے استعمال نہیں کریں گے۔ صرف خام تیل یا پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات پر انحصار کرکے امیر نہیں ہوا جاسکتا۔ اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ تیل کی صنعت پہلے ہی کساد بازاری کا شکار ہے اور فی الوقت قیمتیں یا تو مصنوعی طور پر پیداوار میں کمی کے ذریعے مستحکم کی گئی ہیں یا پھر ایران پر امریکی پابندیوں کی وجہ ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان سے اچانک عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا تو طلب و رسد کا فرق بڑھ جانے کے سبب قیمتوں میں مزید ارزانی آئے گی اور ہو سکتا ہے کہ قیمتیں اتنی گرجائیں کہ تیل کی پیداوار ہی قابل عمل  نہ رہے۔ سو یہ خیال جانے دیجئے کہ تیل کی اندھا دھند پیداوار کرکے ہم راتوں رات امیر ہوجائیں گے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس وقت ہم اپنی توانائی کی بیشتر ضروریات تیل اور گیس درآمد کرکے پوری کرتے ہیں، جس کے لئے کثیر زر مبادلہ درکار ہوتا ہے، اور تجارتی خسارے کے سبب زر مبادلہ کی کمی ہمیں کم و بیش ہمیشہ ہی درپیش رہتی ہے۔ اس لحاظ  سے یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ ملک کے اندر ہی اگر تیل و گیس کے بڑے ذخائر مل گئے تو وہ کثیر زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے جو اس وقت توانائی کی درآمد پر خرچ ہوتا ہے۔ بظاہر یہ بڑی خوشنما بات لگتی ہے مگر یہ معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اگر ملکی سطح پر ہی تیل و گیس مل جائیں تو حکومت پاکستان اس کی خریداری پاکستانی روپے میں کرسکتی ہے جس سے زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوگا۔ تاہم ایسا مکمل طور پر تب ہی ہوسکتا ہے جب یہ کام حکومت خود یا ملکی کمپنیاں کریں، جو کہ ظاہر ہے کہ قلیل اور وسط مدت میں ممکن نہیں اور اسی لئے حکومت نے یہ کام ایگزون موبل اور ای این آئی جیسی غیرملکی کمپنیوں کو سونپا ہوا ہے۔ ہمارے یہاں حکومت پاکستان (اپنے ذیلی اداروں کے ذریعے) توانائی کی سب سے بڑی خریدار ہے۔ تیل و گیس کے ان نئے ذخائر سے جب پیداوار شروع ہوگی تو حکومت ان ہی کمپنیوں سے یہ تیل و گیس خریدے گی اور آگے انڈسٹری اور گھریلو صارفین کو فراہم کرے گی۔ مسئلہ تب شروع ہوگا جب یہ کمپنیاں اپنے حصے کے منافع کی ڈالر یا کسی اور ریزرو کرنسی میں تبادلے کے بعد بیرون ملک منتقلی (repatriation) شروع کریں گی۔ یہ بات یاد رکھیے  کہ فارن کمپنیوں کی موجودگی میں اس تیل کی قیمت فروخت میں کسی نہ کسی سطح پر بین الاقوامی منڈی کی قیمتوں سے parity برقرار رکھی جائے گی، اس لئے ہمارا مالی مفاد بڑی حد تک صرف زر مبادلہ کی بچت تک محدود ہوگا۔ سو اگر اس توانائی کے بل پر ہم نے اپنی خانگی صنعت کو ترقی نہ دی، اور ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹس نہیں بڑھائیں تو ہماری معیشت کا حجم وہیں کا  وہیں   رہے گا اور ان کے کمپنیز کے اپنے منافع کی بیرون ملک منتقلی کی صورت میں زر مبادلہ کے ذخائر ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہوں گے، یعنی اتنی محنت کے بعد بھی نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات!

پرامید ہونا اچھی بات ہے اور مایوسی کفر۔ اللہ کرے کہ وطن عزیز کی زمین اپنے خزانے ہمارے لئے کھول دے، مگر صرف خزانہ ہاتھ لگنے سے ہماری مشکلات ختم تو کیا کم بھی نہیں ہوں گی۔ بلکہ خاکم بدہن الٹا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تیسری دنیا کے دیگر ممالک کی طرح یہ معدنی دولت ہمارے لئے وبال جان بن جائے۔ اسی لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ قصے کہانیوں والے لکڑہارے کی طرح صرف خوابوں پر اکتفا کرنے کی بجائے ابھی سے ٹھوس پیش بندی کرلی جائے کہ یہ خزانہ اگر مل گیا تو اس سے درست فائدہ اٹھانے کی ہماری حکمت عملی کیا ہوگی۔ فی الحال معدنی وسائل کے خزانے ملنا صرف ہماری امید ہے جبکہ معاشی مشکلات ہماری حقیقت، سو یہ بہت اہم ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے محض خزانہ نکلنے کا انتظار کرنے کی بجائے ابھی سے بات کی بھی پلاننگ کرلیں کہ اگر یہ تلاش خدانخواستہ کامیاب نہ ہوئی تو ہمارا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ مکرر عرض ہے کہ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں! جدید دنیا میں خلیجی ممالک کی مستثنیات کے سواء (جو کم آبادی کے ساتھ بے انتہاء وسائل کے مالک ہیں) کوئی ایک ایسی قابل ذکر معیشت نہیں ہے جس نے گزشتہ ۳۰ برسوں میں محض معدنی وسائل پر انحصار کرکے اپنی معیشت بڑھائی ہو۔ چین، بھارت، ویتنام، بنگلہ دیش، حتیٰ کہ فرانس اور جرمنی تک بھی نیٹ انرجی امپورٹرز ہیں۔ ان کی ترقی اور خوشحالی کا اصل منبع ان کی ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹس ہیں، جبکہ ہماری اس جانب توجہ ہی نہیں۔

وقت آگیا ہے کہ اپنے ایکسپورٹ سیکٹر پر اب مشکیں کسی جائیں اور انہیں آخری الٹی میٹم دیا جائے کہ آیا وہ اپنے اندر جدت طرازی پیدا کریں یا پھر بیرونی سرمایہ داروں کے لئے میدان کھلا چھوڑدیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان صنعتوں کو بھی ٹیکس ہالیڈیز اور دیگر مراعات دے کر مینوفیکچرنگ پاکستان منتقل کرنے پر آمادہ کرنا چاہیئے جن کی مصنوعات فی الحال ہمارے یہاں بنائی نہیں جاتیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو خزانہ مل بھی گیا تو ہم چند سال میں اسے کھا پی کر ختم کرکے پھر سے مفلسی کا رونا رو رہے ہوں گے۔

محمد احسن سمیع
محمد احسن سمیع
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر۔۔۔۔یارو راحلؔ کی کہانی اور ہے! https://facebook.com/dayaarerahil

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *