خمیازے۔۔۔۔۔سلیم مرزا

کسی تاریخی کتاب میں پڑھا تھا کہ گھوڑوں اور جوانوں کا کوئی وطن نہیں ہوتا ۔
ہم بھی خود کو دو گھوڑا مارکہ جوان سمجھتے تھے ۔چار ملک خجل ہونے کے بعد پتہ چلا کہ لوگ پاکستابیوں کو گدھے سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں ۔وہ ساری خواتین جو مستنصر حسین تاّڑر کو ملی تھیں ۔وہ اب کہیں بھی “اّڑنے “کو تیار نہیں تھیں ۔بنکاک کے گندے نالے میں چلتی میٹرو کشتی میں جس لڑکی سے اظہار عشق کیا تھا ۔سی ٹی اسکین میں وہ بھی کھسرا نکلا ۔
اور تو اور اس کرونائی وبا کے پیچھے بھی کرونا ہے پاکستان واپس آکر پتہ چلا کہ وہاں گدھا سمجھتے تھے ۔یہاں باضابطہ گدھا ہوں۔
سچ پوچھیں تو اپنی جنریشن کی قسمت میں ہی آلو تھے ۔
آلو بھی وہ جو نئے سو روپے کلو تھے اور پرانے آلو اسی روپے ۔میں نے سوروپے کلو والے نئے آلو جن کو پاؤ بھر مٹی لگی ہوئی تھی خرید لئے ۔
گھر آکر پتہ چلا کہ پرانے آلوؤں کو نیا کرنے کیلئے ان پہ مٹی چڑھائی جاتی ہے ۔کمینے سبزی والے بھی خود کو شجاع پاشا سمجھنے لگے ہیں ۔ویسے بنانے والوں نے تو اُسامہ بھی بنایا تھا ۔دھویا تو دہشت گرد نکلا ۔
کل رات لائن میں لگ کر ڈیڑھ لیٹر پٹرول لوٹ کر گھر پہنچا تو پی ٹی آئی کی عندلیب عباسی ٹی وی پہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔حالانکہ اسے دیکھ کر”آ عندلیب مل کے کریں آہ و  زاریاں “والے شعر سے بھی نفرت ہوگئی تھی ۔ میں سمجھا مہنگائی اور قحط دماغ کی طرف شوٹ کر گیا ہے ۔۔ریحان کو آواز دی کہ دیکھ پتر کیا معجزہ ہوا ہے ۔؟
ناخلف اولاد ۔۔خوب ہنسا ۔
کہنے لگا
“پاپا ،آپ ٹنڈ والا حصہ اُڑا کر فوٹو اپلوڈ کرتے ہو کہ ہیرو لگو ۔ادھر بھی یہی معاملہ ہے ۔ٹھوڑی کے اوپر ہاتھ رکھے بیٹھی ہے ۔ابھی اٹھائے گی تو “ٹھپا منہ “دیکھ کر چیخ نہ نکلی تو میرا نام بدل دینا “۔
میں ابھی بچے کا نام بدلنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ چیخ نکل گئی ۔
زرتاج گل خوبصورت ہے ۔مجھے اس کو دیکھ کر “کم بسنگر “یاد آتی ہے ۔لیکن جب سے اس نے کرونا کے انیس نکات بتائے ہیں ۔قوم چودہ نکات کو بھول گئی ۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ میں زیادہ کنفیوز ہوں کہ حکومت ۔کوئی کیا کرے ۔۔کسی چیز کی گارنٹی نہیں ،اُسامہ شہید تھا یا مردار ؟
یہ وہی بتا سکتے ہیں جن کی پروڈکٹ تھی کیونکہ دہشت گردی بیچیں گے تو گاہک فریج کے کمپریسر کی شکایت تو نہیں کرے گا ناں ؟
واشنگ مشین میں آنے والے کرنٹ کیلئے بم ڈسپوزل   سکواڈکی ضرورت نہیں پڑتی ۔
اگر وزیر اعظم شہید کہہ رہا ہے تو ٹھیک ہی کہہ رہا ہوگا ۔مجھے تو اپنی فکر پڑی ہے۔میں کرونا سے مرا تو شہید کہلاؤں گا کہ مہنگائی سے مر کر اپنی عاقبت سنواروں گا ۔
اور جو دہشت گردی سے مرے تھے وہ کیا تھے ؟
فورا ًسعید سادھو کی دکھائی فلم “زیرو ڈارک تھرٹی “نکال کر ایک بار پھر دیکھی ۔ اندازہ ہوا کہ میں اگر دہشت گردی میں مارا جاتا تو سراسر شہید ہوتا ۔کیونکہ اکانومی کی جنگ لڑنے والا چاہے حفیظ شیخ ہو ،شہید ہی کہلائے گا ،اور شبر زیدی غازی ۔۔
ویسے ہیں دونوں ہی پراسرار بندے ۔نجانے کون ناعاقبت اندیش اسمبلی میں کہہ رہا تھا کہ ان دونوں کو ای سی ایل پہ ڈال دو ۔
میں تو کہتا ہوں سارا ملک ای سی ایل پہ ڈال دو ۔
کیونکہ یہ قوم کرونا سے نہیں مر رہی ۔مہنگائی سے نہیں مر رہی ۔ان کو باندھ کے مارو۔حد ہوتی ہے ڈھیٹ پنے کی ۔
بس مجھے جانے دو ،اور وہ بھی کسی غیر ملکی ائیر لائن پہ کیونکہ ‏چالیس فیصد پائیلٹ بغیر لائسنس کے جہاز چلارہے ہیں ۔اور جو لائسنس والے جہاز چلارہے ہیں ان کا جہاج کون سا صحیح اڑ رہا ہے ۔یہ جب بھی گرا ہمارے ہی سر پہ گرے گا ۔یہ خمیازہ بھی ہمارا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *