یہ لڑیں،وہ لڑیں ! مٹ ہم رہے ہیں۔۔۔۔اشرف لون

۲۶ اور ۲۷؍ فروری کی پوری رات بھارت کے جنگی طیارے   گشت  کر رہے   تھے ، کشمیری قوم ان طیاروں کے غیر معمولی شور کے درمیان نیند سے محروم ہوکربے چینی اور بے آرامی سے  کروٹیں بدل رہی تھی اور اٹکلیں لگا رہی تھی کہ کچھ اَشبھ ہونے والاہے کیونکہ کشمیری مزاجاًوطبعاً امن پسند ہیں۔ قبل ازیں کشمیر میں ۱۴فروری سے تناؤ اور تشویش کا ماحول گرم تھا اور خبریں یہ گشت کررہی تھیں کہ بھارت اور پاکستان میں جلد ہی جنگ ہونے والی ہے ،ایک ایسی جنگ جس کی کوکھ سے  کشمیر کا   مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل  ہوجائے گا اور کشمیر ی عوام کو مشکلات و مصائب سے نجات ملے گی۔ یوں کہئے کہ کشمیریوں نے جانے انجانے اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ اس جنگ سے مشروط کر رکھا  تھا ، حالانکہ جنگ کوئی حل نہیں دیتی بلکہ مسائل اور اختلافات کو گہرا اور تیکھا کر دیتی ہے، علی الصبح خبر آئی کہ نئی دلی نے رات تین بجے ایل او سی پار بم باری کی ہے۔ہند پاک محدود فضائی جنگ کا محرک دراصل پلوامہ میں ملیٹینٹوں کے ہاتھوں سی آر پی ایف کانوائی پر فدائین حملہ بنا۔اس خودکش حملے میں پچاس کے قریب فورسرز اہل کار مارے گئے۔ حملے کے بعد بھڑکاؤ میڈیا نے بھارت میں  چلّا چلا  کر جنگ کا ماحول  پیدا کر دیا ، پاکستان پر بمباری کر نے کی ڈفلی بجا کر  نا  صرف رائے عامہ کو مزید مشتعل کیا گیا ، بلکہ معاملہ فہمی کی ساری کنجیاں جذباتی سیاست اور انتخابی نفع نقصان کے ہاتھ سونپ دی گئیں ۔ اس صورت حال میں پہلے سے ہی سرمہری کے شکار چلے آرہے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی مزیدبڑھ گئی اور دونوں ملک جنگ کے حوالے سے تیوریاں تیکھی کر کے میدانِ جنگ میں کود بھی گئے مگر شکر ہے کہ    انڈو پاک جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی ہے۔

۲۶؍ فروری کو بھارتی فضائیہ نے ایل او سی پارکر کے وہاں بقول نئی دلی کے جیش کے تربیتی کیمپ پر طیش بھرے بم برسا کر اسے تباہ کردیا ۔اس کارروائی میں نقصانات کیا ہوئے ،اس بارے میں متضاد رپورٹیں منظر عام پر آئیں ۔ انڈیا کچھ کہتا ہے اور پاکستان کچھ اور۔وہیں عالمی میڈیا نے بھارت کے دعوؤں کو پوری طرح مسترد کردیا ہے۔البتہ ا سلام آباد نے فضائی حملے کے فوراً بعد نئی دلی کوجوابی کاروائی کی دھمکی دے ڈالی ۔ دوسرے دن یعنی۲۷؍ فروری کی صبح ۱۰ بجے سے ہی یہ خبریں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئیں کہ پاکستان نے بھارت کے دو جنگی طیاروں کو مار گرایا اور ایک فوجی پائلٹ کو زندہ گرفتار کرلیا ہے ۔ کچھ ہی دیر بعد اس خبر کی تصدیق ہوگئی تو جنگی جنون کے حالات یکسر بدل گئے۔سوشل میڈیا پر گرفتار شدہ پائلٹ کی ویڈیو Viral ہوگئی۔یہ منظر کسی بالی وڈ فلم کے طلسماتی منظر سے کچھ کم نہ تھا۔ ادھر بھارتی فضائیہ کا ایک طیارہ کشمیر کے ضلع بڈگام میں گر گیا جس میں دو پائلٹ اور عملے کے کئی افراد مارے گئے اور ایک عام کشمیری بھی خالق حقیقی سے جاملا۔یوں دونوں ملکوں کے میڈیا کو جنگی جنون دوآتشہ کر نے کے لئے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھا نے کا ایک بہانہ مل گیا۔

بھارت اور پاکستان کی فضائی جنگ بالی وڈ فلم کےسین جیسی لگ رہی تھی، اس کا اختتام بھی فلمی انداز کا ہوا۔ دوطرفہ تصاویر سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے اس محدود جنگ کی اسکرپٹ پہلے سے ہی لکھی گئی تھی اور ٹریڈ پرموشن کی طرح اس کے ٹریلر سے تماشائیوں کو اپنی جانب رجھانے  کے لئے دکھا وا کیا گیا۔ جنگ کے تماش  بین بالی وڈ فلم تماشائیوں کی طرح اپنے اپنے ہیروز کے واسطے کسی صورت پسپا ئی نہیں بلکہ happy endingہی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ان تماشائیوں میں بعض ایسے بھی تماشائی شامل ہیں جن کے وہم و گمان کے عین برعکس فلم اختتام پذیر ہوئی ۔وہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ اب کسی طرح وہ دن دیکھیں جس کا ان کو دہائیوں سے بے تابانہ انتظار رہاہے کہ ولن کے پرخچے اڑیں اور ہیرو جیت جائے ۔ بعض لوگ محدود الایام ہندپاک جنگ کو دونوں ملکوں کے درمیان بامعنی مذاکرات کے لئے ایک پہل کاری کے طور دیکھتے رہے لیکن اب تک ایساکچھ بھی نہ ہوا۔ ا س وقت سرحدی علاقوں میں روایتی گولہ باری جاری ہے مگر شکر کیجئے کہ تاحال مکمل جنگ ہوتے ہوتے ٹل گئی ۔

غور طلب  بات یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کے زیر حراست فوجی ہوا باز ابھی نندن کے بارے میں پاکستان کو جنیوا کنونشن یاد دلایا ،پاکستان نے اس یاد دہانی سے پہلے ہی موصوف کے ساتھ ایسا حسن ِسلوک کیا کہ ابھی نندن دشمن سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ دلی کاابھی نندن کے بارے میں اسلام آباد کو جنگی قواعد وضوابط کی گردان یاد دلانا حکومت ہند کاایک انسانی اور قانونی فرض تھا مگر راجستھان میں لاہور کے قیدی شاکر اللہ کو اٹھارہ سال جیل کاٹنے کے بعد گزشتہ ماہ سنگسار کیوں کیا گیا؟ کیاا س کا قصور  کچھ اور تھا کہ غلطی سے راستہ بھٹک کر بے چارہ اس پار آگیا تھاکہ سرحدی محافظوں کے ہتھے چڑھ کر اب ابدی نیند سلادیا گیا۔ جنیوا کنونشن اس ہلاکت کی اجازت دیتا ہے ؟ سوال یہ بھی ہے کہ کشمیر میں جب نہتے بچوں ، جوانوں، عورتوں اور بزرگوں پر گولیاں اور پیلٹ برسائے جاتے ہیں تب جنیوا کنونشن کیوں بھول دیا جاتا ہے؟پاکستانی وزیراعظم نے اپنی جوابی بمباری کے دوسرے ہی دن امن بحالی کے طور پر  بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کردیا ۔اس رہائی کو انہوں نے ’’پیس جسچر ‘‘ کہہ کر عملی طور  پر امن کو ایک موقع دیا، وہ بھی بہت ہی نازک اور جذباتیت سے معمور گھڑی میں ۔ دنیا نے اسے امن اقدام کے طور پر  سراہا ، مگر امن دشمن عناصر بالخصوص میڈیا ، جو خبر اورتجزیہ کے بجائے سماج میں زہر پھیلانے اور لوگوں کو تقسیم کر نے کے لیے پوری دنیا میں بدنام ہے، نے پاک وزیراعظم کی اس کھلی امن پسندی کے پیغام کو بھی بھارت کی جیت سے تعبیر کیا ۔ ہوش مند اوردانش ور طبقے نے اسے صحیح سمت میں صحیح قدم قرار دیا ۔ امن نوازلوگ یہاں تک کہہ گئے کہ عمران خان کو ا س  اقدام کو امن کا نوبل انعام دیا جانا چاہیے ، ا س کے کچھ دن بعد بعض بھگتوں نے ــ نریندر مودی کو امن کا نوبل انعام کا مستحق بتلایا۔آج کل  سیاست کارایوارڈبیچتے اور خریدتے ہیں اور پھر ان پر اپنے سیاسی محلات تعمیرکرتے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے بیچ چار دن طویل جنگی افراتفری کی ڈرامائیت میں لوگ بھول گئے کہ کشمیر میں بھی پچھلے تیس سال سے جنگ ہی چل رہی ہے،اس جنگ میں اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری لوگ(جوان،بچے،بوڑھے، عورتیں) مارے گئے ہیں، دس ہزار سے زائد کشمیری زیرحراست غائب کئے گئے ، ہزاروں بچے بچیاں یتیم ہوگئے ، ہزاروں عورتوں کی عصمتیں لوٹ لی گئیں،  بے نام قبروںاور تباہ شدہ بستیوں بازاروں کی حزنیہ داستان الگ ہے ۔کیا یہ ساری صورت حال یک طرفہ جنگ پر دلالت نہیں کر رہی ہے؟ اگر یہ جنگ نہیں تو اس کے لئے کوئی الگ سے نام تجویز کیجیے کہ یہ ہے کیا۔کیا اس جنگ میں ہتھیار استعمال نہیں ہورہے ہیں؟انصاف اور امن کی بات کرنے والے نہ جانے چار روزہ جنگ میں اس طویل اورتباہ کن جنگ کو کیسے بھول جاتے ہیں ؟نہ جانے ان کی عقل پر کون سا پردہ پڑ اہے کہ ان کے یہاں جنگ کا مفہوم   بدلتاہے ؟ کیا بیروہ کے فاروق ڈار کو فوجی گاڑی کے بونٹ کے ساتھ باندھ کر گاؤں گاؤں پریڈ کروانا جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی نہیں ؟ کیا پلوامہ کے ایک مظلوم و بے بس لیکچرار شبیر احمد کو وردی پوشوں کے ہاتھوں پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اُتارنا جنگی کارروا ئی نہیں ہے؟ ایک نوماہ کی  معصوم بچی ہبہ پر پیلٹ برسا کر چند سکینڈوں میں اس کی دنیا تاریک کردی جاتی ہے، کیایہ جنگ نہیں؟ کشمیر ایسے سلگتے موضوع پر دنیائے انسانیت خاموش کیوں ہے ؟ کشمیر حل کے لئے دنیا میں کوئی شوروغوغا کیوں نہیں ؟ شاید وجہ یہ ہے کہ دنیا طاقت کا ساتھ دیتی ہے ، مفا د کی غلامی پر قانع ومطمئن ہے ، تجارت کو اصول پر مقدم سمجھتی ہے ، کمزور کاسہارا بننا بے کار کام  جانتی ہے اور سبب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا انسانیت کے حوالے سے پتھر کے زمانے سے گئی گزری ہے ، لیکن آخر کب تک دنیا اس شان ِ بے نیازی کے ساتھ کشمیر کی ویرانی اور کشمیریوں کی بربادی کا خاموش تماشائی بن کر دور سے نظارہ کر تی رہے گی ؟ ایک دن آئے گا جب دنیا امن عالم کے نقطہ ٔ نظر سے دو نیوکلیرپڑوسیوں کے بیچ فساد کی اس جڑیعنی مسئلہ کشمیر کا کوئی قابل قبول ، منصفانہ ا ور دیرپا حل یا تصفیہ کر ناپڑے گا ۔

بہرحال ۱۴؍ فروی سے یکم مارچ تک ہندپاک رقابتوں اور محاذآرائیوں کا خون آشام تماشا  دنیا نے دیکھ لیا اور ا س بیچ جو ہونا تھا سو ہوگیا،بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو اپنے ملک کے سپرد کر نے  سے قبل فلمی اسٹائل میں پاکستانی حکام نے داشتہ بکار آید کے مصداق ایک مختصر بیان لے کر اپنے پاس اور دنیا کے حافظے میں جمع کیا اور پھر اُسے مسکراتے ہوئے واہگہ سرحد پر بھارتی حکام کے حوالے کیا لیکن ا س دوران جو سوالات جواب مانگتے رہے ،وہ جوابات پتہ نہیں کب تک بے یارومددگار کشمیری عوام ڈھونڈتے رہ جائیں گے۔ دنیا میں ہر کوئی امن امن کی رَٹ لگائے بیٹھا ہے اور کڑاوسچ بھی یہی ہے کہ دنیا میں سب کے سب امن ہی چاہتے ہیں، با لخصوص وہ بچے جو کشمیر کی نہ ختم ہونے والی جنگ میں یتیم ہوئے ،وہ بھی امن چاہتے ہیں،وہ عورتیں بھی امن چاہتی ہیں جو اس جنگ میں دونوں طرفہ بندوقوں کے  قہر سے بیواہ  ہوئیں، وہ ماں  باپ جن کے بچے اس جنگ کے ہتھے چڑ ھ گئے، وہ بھی امن چاہتے ہیں،وہ بہنیں جنہوں نے جنگ ِکشمیر میں اپنے بھائی کھو دئیے، وہ بھی امن چاہتی ہیں،وہ بچے جو اس جنگ میں پیلٹ بندوقوں کے شکار ہوکر اپنی بینائی کھوبیٹھے، وہ بھی امن چاہتے ہیں اور اپنے دوستوں کو ویسا نہیں دیکھنا چاہتے جن اذیتوں سے وہ گزر رے ہیں۔ وہ مظلوم و ”بے قصور” جو کئی برسوں و دہائیوں سے بھارت کی مختلف جیلوں میں بند ہیں، وہ بھی امن چاہتے ہیں۔ ہر کشمیری دل و جان سے باعزت امن چاہتا ہے۔ ہر کشمیری یہی چاہتا ہے کہ وہ کسی گھن گرج اور گولہ بارود کے بغیر آزاد فضا میں اپنی زندگی گزارے۔وہ بھی دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح ترقی چاہتا ہے۔

اس لئے کشمیری قوم کے مجروح جذبات اور دلی چاہت کے پیش نظر پاکستان اور ہندوستان کو اپنے ووٹ بنک سیاست سے اوپر اُٹھ کر کشمیر کو حل دے کر یہاں کے عوام کو بھی امن سے جینے کا موقع دینا چاہیے ،جس طرح یہ دونوں ملک اپنے عوام کے امن کی خاطر کوشاں ہیں۔یہ کشمیریوں سمیت برصغیر  کے عوام الناس پر دونوں ملکوں کا سب سے بڑا احسان ہوگا۔

اشرف لون
اشرف لون
جواہرلال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی،انڈیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *