مریم نواز الیکشن کمیشن سے راضی ہو گئیں ۔۔گل بخشالوی

ڈسکہ این اے 75، الیکشن کالعدم قرار دے کر دوبارہ پولنگ کا حکم دیاگیا  ہے، الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخاب آزادانہ اور ایمانداری سے نہیں کرایا گیا ،خوف وہراس کی فضا میں ووٹر کوضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کا حق نہیں مل سکا ۔

ڈسکہ این اے 75 میں کمشنر اور آ ر پی او کو عہدوں سے ہٹانے کے فیصلے سے ثابت ہو گیا ہے کہ عمران خان کی حکمرانی میں ادارے آزاد ہیں ۔ اپوزیش کی مریم نواز نے بھی تسلیم کر لیا، اس نے کہا ، عوام کو ان کا حق مل گیا ،الیکشن کمیشن کی ساکھ میں اضافہ ہوا ، حکمران جماعت کی چوری پکڑی گئی ، سیاست میں صحافت اور سیاستدان اخلاقیات میں اس قدرگر جائیں گے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

tripako tours pakistan

پاکستان کی عوام نے یہ محسوس کر لیا ہو گا کہ کسی بھی عدالت سے کوئی بھی فیصلہ ا پوزیشن کے حق میں آئے تو عدالت کا فیصلہ درست ،اگر حق میں نہ آئے تو  الزام عمران خان پر کہ وہ انتقام لے رہے ہیں ،ادارے اور عدالتیں ان کی حکمرانی میں ان کے غلام ہیں ۔حالانکہ آج کے دورِ  اقتدار میں ایسا کچھ بھی نہیں جو اپوز یشن کے دور ِ حکمرانی میں تھا، سوال  یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف ڈسکہ میں کیوں پیش آیا ،ملک بھر میں دوسرے مقامات پر ایسا کیوں نہیں ہوا، ڈسکہ میں ایسا کیوں ہوا ؟ظاہر ہے لاشوں پر سیاست کرنے والی اپوزیشن نے افراتفری کے لئے یہ گیم کھیلی ہے۔

مریم نواز نے پولیس کی لاٹھی چارج پر شو ر مچایا لیکن اپنے باپ اور چچا کی حکمرانی میں ماڈل ٹاؤن میں عوام پر گولی چلانے والی پولیس کو بھول گئی، چور ی بھی ہے اور سینہ زور ی بھی ،یہ تو پوری قوم جانتی ہے لیکن جانے اپوزیشن کیوں بھول جاتی ہے کہ ان کا مقابلہ پاکستان اور پاکستان کے عوام سے   ہے ،ڈسکہ میں مسلم لیگ ن کا امیدوار ہی جیت رہا تھا ،اس کے باوجود اپوزیشن نے وہ کیا جو ان کی سیاست کا وطیرہ ہے ،وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کو حکمران دیکھنا پسند نہیں کرتے ،لیکن اب وہ وقت گیا جب اپوزیشن فاختہ اُڑایا کرتی تھی ۔

این اے 75الیکشن کالعدم قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان کی حکمرانی کی جیت ہے الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں جن چیزوں کی نشاندہی کی انہی پر اعتراض تھا ،الیکشن افسران سے آ ئی جی ،چیف سیکرٹری اور مقامی انتظامیہ نے تعاون نہیں کیا اس حوالے سے یہ ایکشن قابل ِ تعریف ہے ،لیکن  پولنگ کے دن گولیاں چلانے اور پریزائیڈنگ افسران کو اغواء  کرنے والوں اور الیکشن کمیشن سے تعاون نہ کرنے والے پریزائیڈنگ افسران کوگرفتار کر کے ان کو ان کی ملازمتوں سے برطرف کر کے قرار واقعی سزا بھی دی جانی چاہیے، ایک اسسٹنٹ کمشنر کو معطل کیا جانا اس مسئلے کا حل نہیں، اس سے پوچھا جائے کہ اس نے کیوں اور کس کا آلہ کار بن کر اپنے حلف سے غداری کی تاکہ آئندہ کے لئے ایسے افسران کو سبق مل جائے ،اور وہ کسی جماعت یا شخصیت کے لئے پاکستان اور پاکستان کے عوام کو سوچیں ۔ اگر الیکشن کمیشن ایسے ہی آ زاد اور خودمختار فیصلے کرنے لگ جائے تو جمہوری روایات کو چار چاند لگ جائیں گے۔

عمران خا ن بخوبی جانتے ہیں کہ ان کا مقابلہ اپوزیشن الیون سے تھا ۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی مقبولیت سے خائف اس وقت کی اپوزیشن نے بھی ایسا ہی کیا تھا تاکہ پیپلزپارٹی کی عوامی فتح کے مارجن کو کم کیا جا سکے لیکن اپوزیش الیون کے ا ُمیدواروں کے مقابلے میں تحریک ِ انصاف کا ووٹ بنک پہلے سے کہیں زیادہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ذاتی مفادات کے لئے پیش امام فضل الرحمان کی امامت میں اسلام آباد کی جانب سجدہ ریز اپوزیشن آئندہ عام انتخابات میں اپنی سرداری کے لئے منتشر ہو جائیگی اور ان کا حشر نوشہرہ میں عوامی نیشنل پارٹی سے مختلف نہیں ہو گا جہاں آستین کے سانپ نے حکومت کو ڈسا ! ولی خان خاندان کو بھی اپنی اوقات کا پتہ چل گیا ہے وہاں وہ اپوزیشن کی دس جماعتوں کے اور تحریک ِ انصاف کے امیدوار کے مقابے میں اپنی جماعت کی پہچان کے لئے کھڑےتھے لیکن چار ہزار سے کچھ زیادہ ووٹ لے کر ولی خاندان کے ساتھ اپوزیشن الیون کو بھی آ ئینہ دکھا دیا کہ اگر ایک ایک کرکے تحریک ِ انصاف کے مقا بلے میں آئے تو انجام عبرت ناک ہو گا۔

ھکومت نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو چیلنج کیا ہے حکومت کی کیا حکمت عملی ہے یہ تو حکومت والے ہی  بہتر سمجھتے ہیں لیکن اگر کھلے دل سے الیکشن کمیشن کا فیصلہ   وزیر ِ اعظم تسلیم کر لیتے تو یہ ان کی سیاسی اور اخلاقی جیت ہو تی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *