• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کیا کے۔ٹو حادثہ نیپالی کوہ پیماؤں کی مُجرمانہ غفلت تھی؟۔۔عمران حیدر تھہیم

کیا کے۔ٹو حادثہ نیپالی کوہ پیماؤں کی مُجرمانہ غفلت تھی؟۔۔عمران حیدر تھہیم

کے۔ٹو کی حال ہی میں ختم ہونے والی سرمائی کوہ پیمائی کی مُہم جُوئی کے دوران کے۔ٹو پر ہونے والے حادثات خصوصاً پاکستان کے شُہرہء آفاق کوہ پیما مُحمّد علی سدپارہ اور دیگر دو کوہ پیماؤں آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جے۔پی۔موہر کے لاپتہ ہوجانے کے واقعے کے بعد دُنیا بھر کے شائقین افسردہ اور غمگین ہیں۔ نیپالی کوہ پیماؤں کی 10 رُکنی ٹیم کی کے۔ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کی کامیاب مُہم جُوئی کے بعد نیپالی ٹورآپریٹر کمپنی کی جانب سے مِس مینجمنٹ کی خبریں منظرِعام پر آنے کے بعد بہت سے سوالات سب کے ذہنوں میں جنم لے رہے ہیں اور لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ کے۔ٹو پر اصل واقعہ ہُوا کیا ہے۔

گزشتہ دو روز میں پاکستانی کوہ پیما مُحمّد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ اور سلوانیہ کے کوہ پیما توماز روٹر کے انٹرویوز کے بعد ایک انتہائی اہم سوال اُبھر کر سامنے آیا ہے کہ کیا کے۔ٹو پر ہونے والا سانحہ نیپالی کوہ پیماؤں کی مُجرمانہ غفلت کے سبب ہوا؟
اِس سوال کا جواب جاننے کےلیے آئیے سب سے پہلے مَیں آپکو تاریخ کے جھروکوں میں لیے چلتا ہوں۔

tripako tours pakistan

ایک وقت تھا کہ کوہ پیمائی اِنتہائی شریف النفس، خاموش طبع، کم گو اور حقیقی فطرت پسند لوگوں کا کھیل تھا۔ ہر سال یورپ کے دی الپس جنوبی امریکہ کے اینڈیز اور ایشیا کے قراقرم، ہندوکش اور ہمالیہ کے پہاڑی سِلسلوں میں شائقین مُہم جُوئی کا شوق پُورا کرتے تھے۔ 1802 میں گریٹ برٹش ٹرگنومیٹرک سروے میں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکُش کے پہاڑی سلسلوں کو اور اِن میں موجود بُلند و بالا چوٹیوں کی اُونچائی کو پیمائش کرکے ڈاکیومنٹ کیا گیا۔ بعد ازاں جدید دور میں GPS ٹیکنالوجی کی آمد اور پہاڑوں کی درست اور بےعیب پیمائش معلوم ہو جانے کے بعد جب یہ معلومات منظرِ عام پر آئیں کہ دُنیا میں کُل 14 پہاڑ ایسے ہیں جنکی بُلندی سطح سمندر سے ماپنے پر وہ 8000 میٹر سے بُلند ہیں۔ چنانچہ اِن 14 پہاڑوں کو “ایٹ تھاؤزینڈرز” 8000er کا نام دیا گیا اور پھر اِن پہاڑوں کو سر کرنے کی ایک دوڑ کا آغاز ہوگیا۔

اِن 14 پہاڑوں میں سے 8 نیپال، 5 پاکستان اور 1 چین میں ہیں۔ کچھ پہاڑ مُشترکہ بھی ہیں۔ جیسے دُنیا کا سب سے بُلند پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ نیپال اور چین کی مُشترکہ سرحد پر ہے۔ دُوسرا بُلند پہاڑ K2 پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے جبکہ تیسرا بڑا پہاڑ کینچن جُنگا سِکّم میں بھارت اور نیپال کی سرحد پر واقع ہے۔ نیپال میں اِن 8000er گروپ کے سب سے زیادہ 8 پہاڑ ہونے کی بِنا پر مغربی کوہ پیماؤں کا بہت زیادہ رُحجان نیپال کی طرف ہوگیا۔ ویسے بھی بناوٹ کے لحاظ سے نیپال میں موجود 8000ers کوہ پیمائی کےلیے اِس قدر مُشکل نہیں جتنے پاکستان کے 5 پہاڑ ہیں۔ دُوسرا چونکہ ہمارے پہاڑ اسٹریٹیجک لحاظ سے بھی بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعوں کے باعث حسّاس علاقوں میں واقع ہیں اِس لیے بھی اُن پر کوہ پیمائی کی مُشکلات کے ساتھ ساتھ انتظامی مُشکلات بھی جُڑی ہوئی ہیں لہٰذا مغربی کوہ پیماؤں کا زیادہ رُحجان نیپال کی طرف ہوگیا اور نیپال میں سیاحت اور کوہ پیمائی کی باقاعدہ انڈسٹری بن گئی۔ تاہم جن بین الاقوامی کوہ پیماؤں کا ٹارگٹ تمام 14 چوٹیاں سر کرنا تھا کم از کم اُنہیں ضرور پاکستان آنا درپیش ہوتا تھا۔ اور یُوں کسی حد تک پاکستان میں بھی سیاحت اور کوہ پیمائی کی بہت چھوٹی انڈسٹری پَھلنے پُھولنے لگی۔ اُدھر نیپال نے اِس انڈسٹری کو بہت زیادہ ڈیویلپ کر لیا اور اِسے مُلک میں زرِمُبادلہ کمانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ بنا لیا۔ قُدرت نے بھی اُن پر مہربانی کی کہ ایک تو دُنیا کا سب سے بُلند پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ اُن کے مُلک میں تھا اور دُوسرا اس پہاڑ کی بناوٹ بھی اللہ نے ایسی رکھی ہے کہ اِس پر کوہ پیمائی قدرے آسان ہے۔ خصوصاً دُنیا کے دوسرے اور پاکستان کے سب سے بُلند پہاڑ کے۔ٹو کے مقابلے میں تو ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیمائی کئی گُنا آسان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کو آج تک 6000 سے زائد جبکہ کے۔ٹو کو محض 400 کے قریب کوہ پیما سر کر پائے ہیں۔ لہٰذا مغربی کوہ پیماؤں کا زیادہ رُخ نیپال کی جانب ہو گیا۔

اِس موقع کو نیپالیوں نے بھی غنیمت جانا اور ماؤنٹ ایورسٹ کے اطراف میں ٹریکنگ اور اسکی چوٹی پر کوہ پیمائی کو آسان اور کمرشل بنانا شروع کردیا۔ نیپال کے بُلند و بالا پہاڑوں پر رہنے والے خاص قبیلوں کے لوگ جن کو “شرپا” کہا جاتا ہے اُنہیں بھی استعمال کرنا شروع کردیا اُنکو مغربی کوہ پیماؤں کے ذریعے ہی تربیت دلوائی اور پھر ٹور آپریٹر کمپنیاں بنا کر نیپال کی سیاحت اور ماؤنٹ ایورسٹ کی کوہ پیمائی کو کمرشل بُنیادوں پر اُستوار کردیا۔ یورپ کے ایسے امیر لوگوں کو جنہیں تھوڑا بہت کوہ پیمائی کا شوق اور زیادہ تر اس بات کا شغف تھا کہ وہ دُنیا کی چھت پر قدم رکھیں نیپالیوں نے اپنی طرف راغب کر لیا۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ تھی کہ ایک تو کے۔ٹو پہاڑ پر چڑھنا صرف اعلیٰ درجے کے کوہ پیماؤں کے بس کی بات تھی اور دوسرا یہ بھی حقیقت تھی کے شُہرت کے بُھوکے مغربی امیر لوگ خُود کو مُشکل میں کیوں ڈالیں گے وہ بھی دُنیا کی دوسری بڑی چوٹی پر چڑھنے کےلیے جبکہ سب سے بُلند چوٹی پر چڑھنے کےلیے نیپالی شرپا اُنکی خدمت کےلیے پیش پیش ہوں۔ چنانچہ وہ وقت آن پہنچا کہ نیپالی شرپاؤں نے ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیمائی کےلیے درپیش چیلنجز کو اِتنا آسان کر دیا کہ اب ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے والوں میں ایک نابینا اور ایک بغیر ٹانگوں والے شخص کے نام بھی شامل ہیں۔

حالیہ چند سالوں میں تو یہاں تک مشہور ہو چُکا ہے کہ آپ نیپالی شرپاؤں کو 10 ہزار ڈالرز اضافی دیں تو وہ آپکو کندھے پر سوار کرکے بھی ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھانے کےلیے تیّار ہو جائیں گے۔
نیپال کی اِس حکمتِ عملی سے اُنکے مُلک میں کوہ پیمائی کی انڈسٹری اِتنی طاقتور ہوگئی اور اِتنا زرِمُبادلہ آگیا کہ نیپالی ٹور آپریٹنگ کمپنیاں اپنی مَن مانیاں کرنے لگ گئی اور نیپال حکومت میں اُنکا اثر رسوخ بہت بڑھ گیا۔ کوہ پیمائی کی قانون سازی وہی کرتے ہیں وہ سیاہ کریں سفید کریں کوئی اُنہیں روکنے والا نہیں۔ پیسا کمانے کی اِس دوڑ نے کوہ پیمائی کی اصل رُوح کو چَھلنی کر کے رکھ دیا ہے۔
تاہم دُنیا بھر کے جینوئن اور بڑے بڑے کوہ پیما اِس کمرشل ازم کے خلاف ہیں اور اِس بارے اپنی صدائے احتجاج بُلند کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اُنکی بھی ایک مجبوری ہے، اور وہ یہ کہ آخر کار اُنہوں نے بھی تمام 14 آٹھ ہزاری پہاڑ سر کرنے ہوتے ہیں اگر وہ نیپالی شرپاؤں کے خلاف ایک حد سے زیادہ بولیں گے تو نیپالی بُنیادی طور پر کینہ پرور لوگ ہیں لہٰذا وہ اِنہیں اپنے مُلک میں خجل کریں گے۔ اِس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہیں کہ نیپالی شرپا کلائمبرز ذہنی اور جسمانی طور پر بہت پاورفُل ہیں وہ ہائی آلٹیٹیوڈ پر کسی کو بھی تگنی کا ناچ نچا سکتے ہیں اور نچاتے بھی ہیں لہٰذا اُن کے رحم و کرم پر ہونے کی وجہ سے مغربی کوہ پیما اُن سے ڈرتے بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ توماز روٹر نے کے۔ٹو حادثے پر کافی حد تک نیپالیوں کی مِس مینجمنٹ اور بدنیتی بےنقاب کرنے کے باوجود یہ کہا ہے کہ وہ آئندہ بھی سیون سمٹ ٹریکس کمپنی کی خدمات حاصل کرتا رہے گا۔ اسکی بُنیادی وجہ یہی ہے کہ توماز نے ابھی صرف 3 آٹھ ہزاری چوٹیاں سر کی ہیں اور 11 چوٹیاں ابھی باقی ہیں جس کےلیے اُسے بہرحال نیپال جانا پڑے گا۔ اگر وہ کُھل کر نیپالیوں کے خلاف بولا تو یہ اُسے اپنے مُلک میں خجل کریں گے۔

نیپالی شرپاؤں کا طریقہء واردات:
نیپالی شرپاؤں کا طریقہء واردات یہ ہے کہ پیسے کمانے کی غرض سے یہ کلائنٹس کیساتھ دغا بازی، مکّاری اور جھوٹ سے کام لیتے ہیں۔ چونکہ اِنکو معلوم ہے کہ اِتنے بُلندوبالا پہاڑوں پر اِنہیں کون پکڑ سکتا ہے لہٰذا یہ اپنی مَن مانیاں کرتے ہیں۔ تمام نیپالی شرپا بھی بُرے نہیں ہیں۔ اِن میں بھی پِسا ہوا طبقہ ہے جنہیں پڑھے لکھے نیپالی شرپا اور بڑی بڑی کمپنیاں کم اُجرت دے کر استعمال کرتی ہیں اور انکا استحصال کرتی ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ کے موسمِ گرما کے کلائمبنگ سیزن کے دوران وہاں بہت رش ہوتا ہے اور مغربی ممالک سے ہزاروں کوہ پیما آتے ہیں۔ بےشمار کمپنیاں انہیں انتہائی مہنگے پیکجز کے ذریعے دل کھول کر لُوٹتی ہیں۔ یہ غیر تربیت یافتہ لوگوں کو بھی سبز باغ دِکھا کر گھیر لیتے ہیں۔ جب مغربی شائقین پیسے کے بل بوتے پر اِن سے معاہدہ کر کے نیپال آتے ہیں تو یہ اپنی مہمان نوازی سے انہیں اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں لیکن ان نیپالیوں کا اصل رنگ تب کُھلتا ہے جب یہ امیر مغربی نِیم کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ کے ہائیر کیمپس پر پہنچتے ہیں۔ وہاں اکثر یہ ہوتا ہے کہ ڈمپ کی ہوئی آکسیجن کے سلنڈرز چوری کرکے اِدھر اُدھر کر لیے جاتے ہیں اور جب کوہ پیما پھنس چُکے ہوتے ہیں یا موت و حیات کی کشمکش میں ہوتے ہیں تو اُنہیں انتہائی مہنگے داموں آکسیجن بیچ کر پیسے کمائے جاتے ہیں۔ ایک کمپنی کے پھنسے ہوئے کوہ پیما کو دوسری کمپنی والے ریسکیو کرنے کا ڈھونگ رچا کر دُنیا بھر میں شُہرت بھی کماتے ہیں اور پیسہ بھی۔ اِن کے خلاف اگر کوئی شکایت کرے بھی تو حکومتی سطح پر تحقیقات نہیں ہوتیں اور اُنہیں ٹرخا دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے نامور کوہ پیما کرنل عبدالجبار بھٹی Abdul Jabbar Bhatti
اس کی زندہ مثال ہیں جب 2017 میں اُنکی آکسیجن اِدھر اُدھر کر دی گئی تھی اور پھر اُنہیں ریسکیو کرکے اُن سےرقم کا مطالبہ کیا گیا پاکستانی ایمبیسی بھی نیپالیوں کے آگے بےبس ہوگئی۔ کرنل صاحب خُوش قسمتی سے زندہ بچ گئے لیکن اُن کی تمام تر کوششوں کے باوجود تاحال اُن کے ساتھ ہونے والے واقعات کی تحقیقات نہیں کی جاسکیں اور اُس مِس مینجمنٹ پر کسی نیپالی کی تاحال جواب طلبی نہیں کی جاسکی۔

چنانچہ یہ جان لیجیے کہ نیپالی اپنے پہاڑوں پر دیدہ دلیری کے ساتھ مِس مینجمنٹ، مںس کمٹمنٹ اور مِس کنڈکٹ کرتے ہیں اور کوئی اُنہیں پُوچھنے والا نہیں ہے۔
اپنے کلائنٹس کی آکسیجن چوری کرنا کا انکا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اور اسی ہتھیار کو اِنہوں نے یہاں کے۔ٹو پر بھی استعمال کیا۔ مشہور کینیڈین فوٹوگرافر ایلیا سیکلی کی کے۔ٹو کے کیمپ 3 پر آکسیجن چوری ہونے کا واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ کیونکہ کیمپ 3 پر مینجمنٹ سیون سمٹ ٹریکس کے علاوہ اور کسی کے پاس تھی ہی نہیں۔ جان سنوری اور علی سدپارہ ٹیم کو خدمات فراہم کرنے والی پاکستانی کمپنی جیسمین ٹورز تو صرف کے۔ٹو کے بیس کیمپ تک محدود تھی اور ایلیا سیکلی کے ساتھ کام کرنے والے پاکستانی پورٹرز تو تھے ہی ایلیا کے ہمراہ۔ اصل بات یہی ہے کہ سیون سمٹ ٹریکس والے غیرمُلکی کوہ پیماؤں سے صرف پیسے بٹورنے کی خاطر اُنہیں کے۔ٹو پر لائے اور نیپالیوں کی کامیاب مُہم جُوئی کے بعد اُنکا بالکل ارادہ ہی نہیں تھا کہ کوئی دوسرا اس سیزن میں کے۔ٹو کو سر کر لے۔ اس لیے اُنہوں نے جان بُوجھ کر مِس مینجمنٹ کی۔

آپ ذرا تصوّر کیجیے کہ 10 نیپالی شرپا کے۔ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرکے نیپال چلے گئے اور اب اُن کے پیچھے اگر 30 مزید کوہ پیما کے۔ٹو کو سر کر لیتے اور اُن میں دو پاکستانی باپ بیٹا بغیر آکسیجن کے اور بیٹا دُنیا کا کم عُمر ترین کوہ پیما بن جاتا تو نیپالیوں کی سمٹ گلوری کدھر جاتی؟
نیپالیوں کی سمٹ والے دن وہاں اُنکے علاوہ کوئی نہیں تھا ماسوائے سپین کے کوہ پیما Surgie Mingote کے۔ جب نیپالی سمٹ کرکے واپس آئے تو عین اُسی دن Mingote کیمپ 1 سے نیچے گِر کر جاں بحق ہوگیا۔ اگر وہ زندہ ہوتا تو یہ بھی بتا دیتا کہ Nims Dai نے آکسیجن بھی استعمال کی تھی۔ اس ضمن میں ساجد سدپارہ کا انٹرویو غور سے پڑھیے کہانی کچھ واضح ہو جائے گی۔ کیا خبر Mingote کی موت کیسے واقع ہوئی۔ ایک ایسا کوہ پیما جس نے 11 آٹھ ہزاری چوٹیاں سر کر رکھی ہوں وہ کے۔ٹو پہاڑ کے سب سے آسان سیکشن یعنی کیمپ 1 سے ایڈوانسڈ بیس کیمپ ABC کے بِیچ گِر کر جاں بحق ہو جائے، غیر معمولی بات لگتی ہے۔

کے۔ٹو پر نیپالیوں کی بددیانتی کیسے ثابت ہو:
جیسا کہ مَیں نے عرض کیا کہ کے۔ٹو پر ایک تو نیپالی کمپنی سیون سمٹ ٹریکس نے مِس مینجمنٹ اور مِس کمٹمنٹ کی جو کیمپ 3 پر ایلیا سیکلی کی آکسیجن چوری ہونے اور کلائنٹس کےلیے مناسب تعداد میں خیمے نصب نہ کرنے سے ثابت ہوتی ہے۔
اِسکا دُوسرا پہلو جان سنوری ٹیم کے حادثے کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔ جیسا کہ سلوانیہ کے کوہ پیما توماز روٹر کے انٹرویو سے واضح ہے کہ منگما جی شرپا کے جان سنوری کے ساتھ گزشتہ سال کی کے۔ٹو مُہم جُوئی کے وقت سے اختلافات چلے آرہے تھے لیکن اس کے باوجود 14 جنوری والی سمٹ پُش سے پہلے جان سنوری نے نیپالیوں سے پُوچھا کہ کیا وہ سمٹ کرنے جارہے ہیں تو جواباً نیپالیوں نے جھوٹ بولا ۔ منگما جی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں خُود تسلیم کیا ہے کہ نیپالیوں نے سمٹ پُش کو خُفیہ رکھا۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم بات جان سنوری کے گارمین ٹریکر کی آخری لوکیشن اور گراف سے واضح ہوتی ہے۔ زیرِ نظر تصویر میں ذرا اس گراف کو مُلاحظہ کریں۔ آڑی ترچھی لکیریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کیمپ 3 سے رات کے اندھیرے میں نکلنے کے بعد 7300 میٹر سے 7800 میٹر کے درمیان جان سنوری ٹیم اِدھر اُدھر بھٹکتی رہی ہے۔ عین ممکن ہے یہ وہی جگہ ہو جس کے بارے میں نیپالیوں نے کہا تھا کہ اُنہیں کیمپ 4 کے پاس ایک ایسی کریواس ملی جنہیں کراس نہ کیا جاسکا اور پھر اُنہوں نے کے۔ٹو کے شولڈر پر لیفٹ سائیڈ والا چیزن رُوٹ والا رستہ استعمال کر کے وہ کریواس کراس کی اور سمٹ پر پہنچے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ ممکنہ طور پر نیپالیوں نے اگر رسّی لگائی تھی تو کریواس سے پہلے دو جگہوں پر لگائی ہوگی۔ ایک وہ جگہ جہاں سے وہ بھی کراس نہ کر سکے اور رسّی کو ڈیڈ اینڈ پر چھوڑ دیا۔ اور دوسری وہ جگہ جہاں سے اُنہوں نے چیزن رُوٹ والی سائیڈ سے کریواس کراس کی۔ وہاں پر لگی رسّی یقیناً اِنٹیکٹ تھی۔

جان سنوری کے ٹریکر کا گراف ظاہر کرتا ہے کہ وہ لیفٹ سائیڈ یعنی چیزن رُوٹ کی بجائے رائٹ سائیڈ پر زیادہ دیر رہے۔ اور پھر 7823 میٹر پر جا کر اُنکا ٹریکر بند ہوگیا۔
اس ساری بحث سے مُراد یہی ہے کہ اگر نیپالیوں کو واقعی اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ اُن کے بعد جو مرضی کے۔ٹو کو سر کر لے اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تو پھر اُنہوں نے بیس کیمپ پر پہنچ کر یہ معلومات باقی لوگوں کو کیوں نہیں دیں کہ ڈیتھ زون میں یہ خطرہ موجود ہے۔ توماز روٹر کے مطابق تو نیپالیوں نے سمٹ کے بعد بیس کیمپ پر پہنچ کر بھی کسی کو بھی معلومات فراہم نہیں کیں۔ ممکن ہے سیون سمٹ ٹریکس کے چھانگ داوا شرپا کو سب بتا دیا ہو اور اُس نے کلائنٹس کو دھوکہ دیا اور اُسکے ایمپلائیز شرپاز کیمپ 3 سے کلائنٹس کو اپنی مِس مینجمنٹ کے ذریعے ڈرا کر واپس لے آئے۔ جان سنوری ٹیم کو اُسوقت کے کیمپ 3 سے اُوپر کے خطرات سے جان بُوجھ کر آگاہ ہی نہ کیا تاکہ ایسا نہ ہو کہ نیپالیوں کے بعد 30 مزید کوہ پیما سمٹ کرکے نیپالیوں چودھراہٹ ختم کردیں۔ مَیں اِس ضمن میں قبل ازیں اپنی ایک پوسٹ میں یہ واضح کر چُکا ہوں کہ نیپالی کمپنی امیجن نیپال نے 2018 میں کے۔ٹو کے ابروزی روٹ کے شولڈر پر کیمپ 4 سے آگے ایک نیا رُوٹ امپرووائز کرنے کا نقشہ جاری کیا تھا جس کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ باٹلنَیک کی لیفٹ سائیڈ پر چیزن رُوٹ کے اُوپر والے راکی پورشن پر بولٹس اور فِکسڈ سیڑھیاں لگا کر باٹلنَیک اور ہینگنگ سیراکس والے حصّے کو بائی پاس کرکے سیدھا سمٹ تک رُوٹ پہنچا دیا جائے تاکہ کے۔ٹو آسانی سے سر ہو جایا کرے۔ لیکن اِس کام کےلیے حکومتِ پاکستان کی اجازت درکار ہوگی۔

عین ممکن ہے کہ نیپالیوں کا پاکستان میں بھی کوہ پیمائی کا کاروبار شروع کرنے کا ارادہ ہو اور وہ کے۔ٹو کو سردیوں میں سر کرکے ثابت کرنا چاہتے ہوں کہ آٹھ ہزاری پہاڑوں پر اُن کے علاوہ کوئی چیمپئن نہیں لہٰذا آئندہ وہ کے۔ٹو پر اپنی مرضی کریں گے۔ تاہم میرے اِس مفروضے کے صحیح یا غلط ہونے کا تعیّن آنے والا وقت کرے گا۔

اس ساری صُورتحال کے تناظر میں میرا حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ ہے کہ کے۔ٹو واقعے پر جامع تحقیقات کروائے۔ اسوقت پاکستان کے اندر 20 سے زائد ایسے کوہ پیما موجود ہیں جو کے۔ٹو سر کر چُکے ہیں۔ اس کے علاوہ سکردو میں پاکستان کا واحد انٹرنیشنل سرٹیفائیڈ کلائمبنگ اور ریسکیو انسٹرکٹر زاہد راجپوت موجود ہے جس کی قیادت میں ساجد علی سدپارہ کے ہمراہ ایک آل پاکستان SAR مشن جون جولائی میں کے۔ٹو پر بھیجا جائے جو نہ صرف تینوں کوہ پیماؤں کی لاشیں تلاش کرے بلکہ اس بات کی بھی تفتیش کرے کہ کہیں واقعی نیپالیوں نے کوئی گڑبڑ تو نہیں کی۔ اور اگر ایسا ہوا ہو تو عالمی سطح پر نیپالیوں کو نشانِ عبرت بنا دیا جائے کیونکہ ہمارا ایک قومی ہیرو ہم سے چھین لیا گیا ہے۔ نیپالی اپنے مُلک میں جو کرتے ہیں کرتے پِھریں لیکن ویسی اجارہ داری ہم اُنہیں پاکستانی پہاڑوں پر قائم نہیں کرنے دیں گے۔

مُحمّد علی سدپارہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا سب سے بہترین انداز یہی ہے کہ ساجد سدپارہ کو اُسکی کوہ پیمائی کی وراثت کا حقیقی وارث قرار دے کر ساجد کو تمام 14 آٹھ ہزاری چوٹیاں سر کرنے کےلیے سپانسر کیا جائے اور پاکستان کے تمام ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز کو ڈاکیومنٹ کرکے اُنہیں شرپاؤں کے مقابلے میں سہولیات سے آراستہ کیا جائے تاکہ پاکستان میں کوہ پیمائی اپنی اصل اور جینوئن خُوبصورتی کیساتھ ترقی کرسکے. (آمین)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *