اسلامی نظریاتی کونسل کا نیاچیئرمین کون؟۔۔انعام الحق

ایوب خان کے دور 1962 میں اسلامی نظریاتی کونسل کا ابتدائی ڈھانچہ بنا، چنانچہ یکم اگست 1962کو اسلامی نظریاتی کونسل کے پہلے چیئرمین جسٹس ابو صلاح محمد اکرم مقرر ہوۓ جن کے دورانیہ کا اختتام 5 فروری 1964کو ہوا اور 6فروری 1964سے پروفیسر علامہ علؤالدین صدیقی دوسرے نئے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل مقرر ہوۓ جو 31جنوری 1973تک کونسل کے سب سے طویل المدتی چیئرمین رہے جو تقریباً نو سال پر  محیط عرصہ ہے۔

1973کے متفقہ آئین میں جب شق نمبر 227شامل کی گئی جس کے مطابق پاکستان کا کوئی بھی قانون قرآن وسنت کے متصادم نہیں بنایا جاۓ گا تو شق نمبر 227پر عملدرآمد کے لئے شق نمبر 228,229اور 230کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل کی باقاعدہ آئینی ادارہ کی حیثیت سے تشکیل ہوئی جو چیئرمین سمیت 20 ارکان پر مشتمل ہے ابھی تک اسکے چودہ چئیرمین رہے ہیں، جن میں مولانا محمد خان شیرانی دو دفعہ اسکے چیئرمین مقرر ہوۓ ،کونسل کے فرائض میں صدر ،وزیر اعظم، گورنرز ،قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کو پیش آمدہ مسائل میں قانون سازی کے لئے قرآن وسنت کے مطابق جامع سفارشات دینا اور تمام قوانین کو ملاحظہ کر کے انکو قرآن وسنت کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے سفارشات دینا ہے۔

سفارشات کی حد تک اسلامی نظریاتی کونسل نے کافی شافی کام کررکھا ہے 2013 میں 1962 سے لیکر 2013 تک کونسل کی جانب سے دی گئی سفارشات کو کونسل نے باقاعدہ شائع کیا ہے جس پر تبصرہ کرتے ہوۓ معروف اسلامک سکالر مولانا زاہدالراشدی نے اپنے ایک کالم میں لکھا کہ جو لوگ اپنی جہالت کیوجہ سے یہ کہتے ہیں کہ اسلام کے پاس نظام نہیں وہ اگر چاہیں تو اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پڑھ کر اپنی جہالت کو دور کرسکتے ہیں واقعتاً کونسل کا یہ تاریخی کارنامہ ہے جو کہ علمی حلقوں کے لئے گرانقدر تحفہ ہے۔

جس طرح پاکستان کےتمام اداروں کو ناجائز سیاسی مداخلت نے تباہی کے دہانے پر کھڑا کیا ہوا ہے اسلامی نظریاتی کونسل بھی ایک سیاسی اکھاڑہ بن کر رہ گئی ہے برسراقتدار سیاسی پارٹی اسکے ممبر سے لیکر چیئرمین تک کے انتخاب میں سیاسی مفادات اور سیاسی وفاداریوں کو ہی ملحوظ خاطر رکھتی ہے جسکی وجہ سے اسلامی نظریاتی کونسل اپنی افادیت ہی کھو بیٹھی ہے۔

مستقبل قریب میں اسلامی نظریاتی کونسل کے تمام ممبران چیئرمین سمیت اپنی مدت پوری کرکے ریٹائرڈ ہورہے ہیں جس کی تفصیلات کے مطابق نومبر 2020 میں حالیہ چیئرمین قبلہ ایاز سمیت 12ممبران اسلامی نظریاتی کونسل اور مئی 2021 میں بقیہ 8ممبران اسلامی نظریاتی کونسل ریٹائرڈ ہورہے ہیں۔

ضابطہ کے مطابق موجودہ چئیرمین سبکدوشی سے قبل آئندہ کے ممبران کے لئے مجوزہ لسٹ وزارت قانون کو دے سکتا ہے ذرائع کے مطابق پچاس افراد پر مشتمل لسٹ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے وزارت قانون کو بھجوا دی ہے پھر وزارت قانون ایک مجوزہ لسٹ وزیر اعظم ہاؤس کو دیتی ہے وزیر اعظم ہاؤس اس لسٹ میں سے یا جو چاہیں وہ صدر ہاؤس کو بھجواتا ہے پھر صدر پاکستان چیئرمین اور ممبران اسلامی نظریاتی کونسل کا حتمی فیصلہ کرتے ہیں۔

آجکل اسلامی نظریاتی کونسل کے لئے لابنگ عروج پر ہے حیرت انگیز طور پر مفتی عبدالقوی بھی بھاگ دوڑ میں لگے ہیں اور حافظ طاہر اشرفی جو ایک عرصہ سے اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ پر نظر رکھے ہوۓ تھے وہ بھی بھرپور انداز میں متحرک ہیں اسی سلسلہ میں گذشتہ دنوں ایک دن میں انہوں  نے وزیر اعظم ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سمیت اہم ملاقاتیں کی ہیں لیکن عام طور پر وہ ایسے معاملات میں سعودیہ کے اثر ورسوخ سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے لیکن اس دفعہ اشرفی کو اس میں کافی مشکلات درپیش ہیں گذشتہ ہفتہ وہ تین دن سعودی سفیر سے ملاقات کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے لیکن سعودی سفارت خانہ سے نولفٹ اور We are busy کا جواب ملنے پر سخت پریشان ہیں کہاں وہ عروج کہ سعودی فرمانروا شاہ سلیمان کے پاس جا ٹپکتے تھے اور کہاں یہ مسکینی کہ سفیر بھی گھاس نہیں ڈالے بلکہ اس  سے بڑھ کر یہ غم لیکر لاہور رخصت ہوۓ کہ مولانا زاہد قاسمی نےانہی دنوں میں سعودی سفیر سے ملاقات دے ماری جب اشرفی کو وقت نہیں مل رہا تھا طاہر اشرفی نے مایوس ہوکر سعودیہ مخالف لابی سے تعلقات بڑھانا شروع کردئیے ہیں ذولفی بخاری سے پٕے درپے ملاقاتوں کو باخبر حلقے اسی تناظر کی کڑی قرار دے رہے ہیں منی لانڈرنگ کے الزمات،غیرمستند و غیرمعتمد مذہبی تشخص اور شہرہ آفاق اخلاقی دیوالیہ پن حافظ طاہر اشرفی کو ایسے کسی بھی مذہبی تشخص کے حامل منصب پر فائز ہونے میں اخلاقی طور پر مانع ہے بقیہ وہ تعلقات کے بل بوتے پر زبردستی اسلامی نظریاتی کونسل پر مسلط ہوتے ہیں تو یہ کونسل کے ڈولتے تشخص کو مزید کمزور کرے گا ۔سعودی سفارت خانہ سے ناراضگی کی وجہ علاج کی غرض سے سعودیہ جانے کو طاہر اشرفی نے بے بنیاد طور پر پاک سعودیہ کشیدگی میں مقتدر حلقوں کی جانب سے ثالثی کے لئے دورہ سعودی عرب قرار دینے کی مذموم کوشش پر سعودی سفارت خانہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا جس کی وجہ سے اشرفی ایک غیر معتمد شخص کے طور پر مزید ایکسپوز ہوۓ۔

بہرحال اسلامی نظریاتی کونسل میں اہل لوگوں کو آنا چاہیے جن کا مسلمہ مذہبی تشخص ہو جیسے مفتی تقی عثمانی مولنا زاہد الرشدی علامہ ابتسام الہی ظہیر پیر سلطان فیاض الحسن قاری حنیف جالندھری مفتی زبیر حقنواز مفتی منیب الرحمن مولنا خادم حسین رضوی اگر اس طرح کی شخصیات اسلامی نظریاتی کونسل کا حصہ ہوں تو کونسل موثر بھی ہوگی اور متفقہ بھی ہوگی
اللہ تعالی پاکستان کے تمام اداروں کو اہل شخصیات سے مالا مال کرکے استحکام بخشے!
امین یارب العالمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *