• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اردو افسانہ عہد حاضر میں۔۔۔رابعہ الرَ بّاء/اردو افسانہ انسائکلو پیڈیا

اردو افسانہ عہد حاضر میں۔۔۔رابعہ الرَ بّاء/اردو افسانہ انسائکلو پیڈیا

حرف جمال
(اردو افسانہ عہد حاضر میں ) ’’ ایک تھا’’ انسائکلو پیڈیا ،،لیجئے آپ کی امانت آپ کے ہا تھ میں ہے ۔(جی آپ درست سوچ رہے ہیں ، بات یہ ہے کہ انسا ن اپنے بچوں کا نام خود رکھتا ہے ۔ اور آپ کی کتاب، آپ کی اولاد ہو تی ہے۔)
افسانے میں کہا نی نہ ہو تو پسند نہیں کیا جا تا ، کہا نی میں ڈرامہ نہ ہو تو پھیکی پڑ جا تی ہے ۔ جس کا م میں رکا وٹ نہ ہو ، اس کی سچائی مخدوش ہو جا تی ہے۔ جس رانجھے کے رستے میں چا چا قیدو نہ آئے ، وہ مشکوک  ہو جا تا ہے۔ جس فلم میں ولن نہ ہو اس کے ہیرو کی اہمیت نہیں ر ہتی۔اللہ کے احسان سے اور آپ سب کے تعاون و دْعاسے سب مراحل طے ہو گئے۔ کہا نی اپنے انجا م کو پہنچ گئی۔
اس آٹھ سالہ طو یل کا م نے بہت کچھ سمجھا دیا ، سکھا دیا۔ تا حال یہی محسوس ہو رہا ہے۔ مکمل تو انسا ن خیر کبھی بھی نہیں ہو تا ۔ نئے تجربا ت، نئے واقعات، آپ کے اپنے ہی کْلیو ں کو بد لنے کے لئے تا دم آخر اپنے وجو د کے ساتھ مو جود رہتے ہیں۔

گلو بل اردو قلم نگری کی سیر کرنے کا یہ ایک حسین تجر بہ تھا ۔ جس میں گلاب ، خار ، خاک و آب سب مو جو د تھے۔ مگر کا ئنات اسی کیمسٹری کا نا م ہے۔ بہت محبتیں ملیں ، بہت حسن ملا ، بہت لب و لہجے ملے، بہت تہذیبں ملیں ، بہت کردار ملے، نت نئی کہا نیاں ملیں ، درد کے رشتے  بنے، خلو ص کے رنگ بکھرے ، دور سے نظر آنے والے اونچے قدوں میں ، بو نے بھی دیکھے ، اور دور سے ہی نظر آنے والے بو نو ں میں سرو ظرف بھی دکھائی دئیے، پھلو ں سے جھْکی ، گھنے درختو ں میں چھپی شاخیں بھی دیکھیں ، کا غذی چہرے بھی نظر آئے ، چہروں سے اترتے نقاب بھی دیکھے اور ادبی دبستا نوں کی مدھر تال پہ کتھک رنگ بھی دکھا ئی دیا۔دنیا اپنے تمام رنگو ں میں میرے پا س مو جود تھی۔


افسانے نے برصغیر میں ایک صدی تک راج کیا ۔ دنیا میں یہ اس سے قبل ہی چھا یا ہو اتھا ۔ اس میں تجربات ہو ئے ، مو ضوعات کا تنو ع آیا ، کہانی پن کبھی کم ہو گیا ، کبھی چھا گیا تو کبھی افسانے سے کہانی گْم بھی ہو گئی، شعور کی رُو کا سفر بھی کیا ، علامت نگاری کے میدان میں بھی غوطے لگائے گئے، داستا ن سے بھی کرداروں کو لا کر اس میں شامل کیا گیا۔ مذہبی حکا یات سے بھی اس میں کہا نی تلاشی گئی ۔ تہذیبو ں نے بھی اس پر اپنے اثرات چھوڑے۔ زبا نو ں نے بھی اس میں رنگ بھرے، اور ’اردو ، زبا ن کی تو یہ بھی خوش نصیبی رہی کہ یہ ہر زبا ن کو اپنی کوکھ میں جگہ دے سکتی ہے۔ جس نے اس کو حسنِ لطیف سے نوازا۔
یہا ں ’’اردو افسانہ عہدِ حاضر میں، آپ کو املاء  مختلف نظر آئے گی تو یہ بھی اس لئے کہ مختلف ممالک میں کچھ الفاظ کو اپنے مقامی انداز سے لکھا جا تا ہے۔وہ حروف استعمال نہیں ہو تے ، جو ہما رے ہاں مروجہ ہیں ۔ پھر مقا می زبا نو ں کی آمزش سے اس میں مزید حسن آیا ہے۔
افسانے نے دو عالمی جنگو ں کے زخم کھائے ۔جس سے یہ لہولہو بھی ہو ا، افسردہ بھی ہو ا، مسوس بھی گیا، مگر اس کی کو کھ بھانجھ نہیں ہو ئی۔ اس نے تقسیم کے زلزلے بھی سہے ۔ مگر پھر سے اس کے جسم میں جان آگئی ۔ اس نے ہر ہر دور کو اپنے اندر رچا بسا کے تاریخ رقم کر دی ۔
اور یو ں اس نے مختلف مراحل سے گزرتے ہو ئے ایک صدی کا سفر طے کر لیا ۔
اب اس کی اپنی اک شاخت بن گئی تھی ۔ اب اس کو اس کے اپنے حوالے سے پہچا نا جا تا تھا۔ اب اس نے نئے دور کے ساتھ قد م بڑ ھانے شروع کئے تو کہا جا نے لگا کہ’’ گستاخ” ہو گیا ہے۔ اب اس کا وجود ’’خطرے” میں ہے۔ معتصب افسانوی مورخوں نے اس کو ایک خا ص مقام پہ لا کر ، اپنی ادبی کتا بو ں کو تالے لگا دئیے۔ اور اعلا ن ہو نے لگا ۔ افسانہ اپنے آخری دموں پہ ہے ۔ بس اس کی اتنی ہی زندگی تھی۔ مگر ایسا نا تو کبھی ہو ا ہے نا ہو گا ۔ ’’ مو ت ،، کی حقیقت بھی’’ انتقا ل ،،ہی ہے۔ لہذا نئے افسانے کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں کہ افسانہ ختم ہو رہا ہے۔ افسانہ صرف نئے دور کے ساتھ چل رہا ہے ۔ اس نے وقت کے ساتھ اپنا حلیہ بد لا ہے ۔ اور تغیر کو فوری طو ر پہ کبھی بھی قبو ل نہیں کیا گیا۔ اب کیسے کیا جا سکتا ہے۔
افسانے نے ’’افسانچے،، کا سفر کیا ۔ پھر یہ سو لفظی کہانی میں بھی مقبولیت اختیا ر کر رہا ہے۔ تو ’’ ون منٹ سٹو ری” بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ لکھی جانے لگی چونکہ وقت کم سے کم ہو تا جا رہا ہے ،سفر تیز سے تیز ، اس لئے افسانہ بھی مختصر سے مختصر ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ یہ اپنی اصل بھو ل گیا ہے ۔ اس کی زمین وسیع ہو گئی ہے۔ اس کا آسمان پھیل گیا ہے۔ یہ بتدیلیاں فنا نہیں ، ارتقاء ہیں۔

اب یہ جونیا افسانہ اور نئے افسانہ نگا ر ہیں ، جن کا تعلق اکیسویں صدی سے ہے ۔ان کی بنیادیں مضبو ط ہیں اس لئے یہ پو رے اعتما دسے اس میں نئے تجربات کر تے دکھائی دیتے ہیں ۔
نیا اسلو ب جگہ بنا رہا ہے۔ نئی تراکیب استعما ل کی جا رہی ہیں ۔ لفظوں کے مروجہ پیما نو ں میں پیوند کا ری کی جا رہی ہے۔ املا ء میں تغیر آ رہاہے۔ وقت کے ساتھ بدلتے نئے مسائل کو بیان کیا جا رہا ہے، ترقی اور ، اس ترقی سے جنم لینے والے مسائل اور امکا نات پہ بات کی جا رہی ہے۔ سائنسی و خلائی افسانے لکھے جا رہے ہیں ، نئے نفسیاتی مسائل کی بات ہو رہی ہے ۔ تکنیک کے اصولوں میں نئی راہیں   تلا ش کی جا رہی ہیں۔گلوبل ویلج سے پیدا ہو نے والے نئے کلچر کو اجا گر کیا جا رہا ہے ۔
جب کو ئی بڑا کا م منظر عام پہ آتا ہے تو وہ بہت سو کی کا وش ہو تی ہے ، اگر آپ سب لو گ اپنا ہی کا م بھی نا بھیجیں تو ہم یہ کا م بھی تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے۔ آپ سب کے تعاون کے ساتھ ساتھ جو ادیب کسی نا کسی طرح ہم قدم رہے ان میں عاصم بٹ، مشرف عالم ذوقی، اوج کمال ،اقبال نظر، زیب اذکا ر حسین، فرخ ندیم ، حمید شاہد، اشرف سلیم ، اسرار گا ندی ، مشتاق احمد نو ری ، ظہیر بدر ، نورین علی حق، وقار وامق، سیمں کرن، ثمینہ سید ،وحید قمر،آدم شیر ،گل شیر بٹ ،حفیظ خان، بہت سے دوستوں کے ساتھ میری فیملی بھی شامل ہے ، کہ جن کو میں ،جب بھی زیا دہ کا م ہو اوقت نہیں دے سکی ۔ چونکہ کو ئی ایک عشرے پہ محیط کہا نی ہے اس لئے ممکن ہے کچھ نا م میری یاداشت میں محفوظ نا رہے ہو ں ،میں آپ سب کی شکر گزار و دعا گو ہو ں ۔
کچھ وضاحتیں بھی ضروری ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ اگر کچھ حیا ت سینئر نا م آپ کو ان صفحات پہ مسکراتے نظر نہ آئیں تو بہت معذ رت کے ساتھ میں بے ادب نہیں ہو ں، ’’ ان کا حکم تھا کہ اگر حروف تہجی کی ترتیب ہو تو ان کا نا م اس کام سے الگ کر دیا جائے، سومیں نے صرف حکم کی تعمیل کی ہے۔
کچھ محتر م افسانہ نگا ر یہا ں اپنا نا م و کا م دیکھ کے ہو سکتا ہے حیران و برہم ہوں کیونکہ انہو ں نے خود ابھی تک مجھے اپنا کا م نہیں بھیجا تھا، مگر چونکہ ان کے افسانے رسائل و جرائد و اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں ، اور آپ کی پسندیدگی بھی حاصل کرتے ہیں لہذا’’ادبی ایما ن داری” کے تحت ان کو شامل کیا گیا ہے ،کچھ افسانہ  نگار رہ گئے ، ان سے بھی معذرت کہ اب انتظار کا وقت انتقال فر ما گیا ہے۔

ایک اور وضاحت ضروری ہے کہ بہت سے افسانہ نگاروں نے اپنے افسانے اور تصویر تو بھیج دی مگر کئی مرتبہ یا د دہا نی کے با وجو د تعارف ارسال نہیں کر سکے، کچھ نے تعارف بھی اپنی مرضی کا ارسال کیا ، جو پو چھا گیا تھا ، اس سے، ان کو کوئی خاص لگا ؤ محسوس نہیں ہو ا، کچھ ایسے افسانے بھی مو صول ہو ئے جن پہ لکھاری کانا م نہیں تھا ، وہ افسانے بھی پڑھے ، ای میل بھی کئے کہ جنا ب و جنا بہ آ پ کون  ؟ کہا ں سے؟ مگر جو اب کو یہ آنکھیں ترس ہی گئیں۔ کچھ افسانہ نگا ر تا حال مصروف زندگی ہیں، کچھ افسانہ نگارو ں سے با ر بار درخواست کی گئی ، مگرشْنوائی نہ  ہو ئی ، اور جب کا م ختم ہو نے کا اعلان کیا گیا توان کی طرف سے پو چھا گیا ’’ میرا کا م ہے نا اس میں؟ با دشاہت کے ان اطوار حمیدہ کے باعث بہت سا عمد ہ کا م اس فقیر کے آستا نے میں شا مل نہیں ہو سکا ۔
بہت سی کتا بو ں نے بہت مدد کی ۔ جن میں ڈاکٹر انو ار احمد کی کتا ب ’’ اردوافسانہ ایک صدی کا قصہ،، ’’ ادبی رسالہ چہا ر سو،،’’ ادبی جریدہ ’’کو لا ژ،، ڈاکٹر طا ہر طیب کی کتا ب ’’ لا ہو ر میں اردو افسانے کی روایت،، خصوصی قابل ذکر ہیں۔

میرے ان تین کمپوزرز کا بھی ذکر کیا جا نا ضروری ہے کہ ، جب یہ کشتی طو فا ن کا شکا ر ہو ئی تو انہو ں نے دن رات میرا ساتھ دیا ، میں افسانے سکین کر کے بھیج دیتی اور وہ کمپو ز کر کر کے ای میل کرتے رہتے۔ میرے لئے تینو ں چھوٹے بھا ئیوں کی طرح ہیں ۔ تینوں کے لئے بہت سی دعائیں ہیں۔
ان چائے ، کا فی کی پیالیوں ، ان گو لیو ں کا بھی شکریہ کہ جب میں تھکن سے نڈھا ل ہو تی تو یہ میرا ہا تھ تھا م لیتے تھے۔میرے لیپ ٹاپ کا بھی شکریہ جو میرے ساتھ دن رات ، بنا گلہ کئے جا گتا رہا ۔
اور عارفین صفت لو گو ں کی دعا ؤ ں کا بھی شکر یہ ، جو ببظاہر نظر نہیں آتے۔ مگرکسی صورت ساتھ ہوتے ہیں ۔ اور ان کا وجو دآپ کو طو فانو ں میں بھی سنبھا ل لیتا ہے کہ طو فا ن کو اپنا رستہ بدلنا پڑ جاتا ہے۔
الفاظ کہہ رہے ہیں بس اتنا ہی کا فی ہے ۔ میں نے ان کی بھی ما ن لی ۔
لیجئے آپ کو آپ کی امانت لَوٹا کر جا رہی ہو ں ۔ کسی نئے دشت کے سفر پر، کہ زندگی سفر کا نا م ہے
فی اما ن اللہ!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”اردو افسانہ عہد حاضر میں۔۔۔رابعہ الرَ بّاء/اردو افسانہ انسائکلو پیڈیا

  1. واااہ کیا بات ہے برسوں کی محنت کو اسقدر آسان بنا دیا اس طرز تحریر نے ۔۔۔ایک ایک لفظ کام کے تیئں آپکی محبت عبادت اور ریاضت کی دلیل ہے ۔ اس کام کی مقبولیت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاےء گی ایسا کام اس طرح کا انسائکلو پیڈ یا اب تک نظر سے نہیں گزرا تھا یہ جنونی کام ہے جو آپ نے کر دکھایا اس کے لےء آپکو جتنی بھی مبارکباد دی جاےء کم ہے دعائیں محبتیں نیک خواہشات خدا آپکو سلامت رکھے آمین

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *