مذاہب کیوں روحانیت کو فروغ نہ دے سکے۔۔۔۔نذر محمد چوہان

یہ بہت عجیب بات ہے کہ  خدا سے ہم کلام ہو نے والے اور معراج پر جانے والے یا حضرت عیسی جیسے زندہ اٹھائے جانے والے تو بات ہی روحانیت کی کر گئے ۔ اللہ تعالی سے رابطے کی ، ایک oneness کی خدا کے ساتھ تو پھر اس درس پر قدغن کیوں لگائی  گئی ۔ مادہ پرستی اکیلی کیسے اس روشنی کو ختم کر گئی ؟ یہودیوں کے ربیوں نے قبالا کو ختم کیا ، عیسائیوں نے ایکہارٹ اور روزنکریوز کی تحریک Rosicrucians کو ختم کیا ۔ ۱۳ اکتوبر ۱۳۰۷ کا جمعہ مغرب میں بہت بھیانک اور سیاہ دن کے طور پر مانا جاتا ہے جب تمام دنیا کے بادشاہوں نے روحانیت کے  مزید پھیلنے پر پہرے بٹھا دیے ۔ ان esoteric اثرات کو انسانوں کے لیے خطرہ سمجھا گیا ۔ ہاں منفی معاملات witchcraft یا کالا جادو پر تو ایسا کیا جا سکتا تھا لیکن نیک اور پاک روحانی لوگ اس کا اثر زائل کر رہے تھے ان پر پابندیاں کیوں ؟ مسلمانوں میں منصور اور سرمد جیسوں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ۔
کہا جاتا ہے کہ  صوفی فکر اسلام سے بھی پہلے کا ہے جو ہمیشہ oneness کا پرچار کرتا رہا ہے ۔ قبالا کے بارے میں بھی یہی ہے کہ یہ مذاہب سے پہلے کا معاملہ ہے ۔ قبالا والے کہتے تھے کہ جب اللہ تعا لی نے نور سے ساری کائنات کو وجود دیا تو انسانوں کو vessel بنایا اس کو پھیلنے اور پھلنے کے لیے ، اور پھر خود ہی اس vessel کو break کروایا کچھ مخصوص انسانوں سے تا کہ روشنی چار سُو پھیلے ۔ روحانیت دراصل ہے ہی ، وہ ٹھیک کہتے ہیں کہ:
Legacy of the shattering vessel ..
قبالا والوں کے نزدیک مزید ہمارا مقصد ہی اس دنیا میں آنے کا ؛
To gain joy and fulfilment through unity with the creator ..
قبالا کے معنی ہی receiving تھا ۔ اور قبالا ہی کے نزدیک خدا تخلیق سے پہلے تھا انسانی روح اس کے بعد ۔ روحانی فلاسفر سپینوزا نے کہا تھا کہ  خدا ۔۔
Infinite creative substance
ہے ۔ اور سپیینوزا نے ہی کہا کہ
“The love of man to God and the love of man to man are one and the same thing
۹۰ کی دہائی  میں یہاں امریکہ میں ہی ایک کتاب لکھی گئی  جس کا عنوان تھا Twin Souls اسے گائیڈ کہا گیا اپنے true spiritual partner کی تلاش میں ۔ یہ کتاب ایک خاتون پیٹریشیا جوڈری اور ڈاکٹر موری پریسمین نے لکھی ۔ ان دونوں لکھاریوں کا یہ موقف ہے کہ  روح بھی پوزیٹو اور نیگئٹو پولز کی صورت میں لوگوں میں موجود ہے اور اندازا ًًً اس دنیا میں کوئی ایک درجن دفعہ آپ اپنے soulmate سے ملتے ہیں اگر شادی ہو جائے تو وہ روح اپنا مقصد پورا کر جاتی ہے ۔ آپ یہ کتاب نیٹ پر ضرور پڑھیں ، ایک مختلف سوچ لیکن میرے نزدیک ایسا نہیں ہے ۔ میں soul mates والی تھیوری سے تو سو فیصد اتفاق کرتا ہوں لیکن polarised souls کی نہیں ۔ میرے نزدیک بھی رشتہ ہے ہی روح کا باقی تو سارا گھروں پر قبضہ کرنے والا اور مادہ پرستی کا ۔ جوڈری نے سری اوروبندو کے قول سے کتاب شروع کی۔
The supreme state of human love is – unity of one soul in two bodies ..
اس سے بھی میں اتفاق کرتا ہوں ، لیکن روح مرد اور عورت نہیں ، وہ تو ایک روشنی ہے یا consciousness کی  فیلڈ جس میں پہنچ کر ہم سب ایک ہو جاتے ہیں ۔ گو کہ جوڈری نے اس میں ایملی برانٹے کے ناول Wuthering  heights کی اچھی مثال دی ہے جہاں پہلے کیتھرین اور اس کے بعد اس کی بیٹی کیتھی دونوں محض اس بنا پر اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیتی ہیں کہ  سوشل سٹیٹس کی وجہ سے اپنے روحانی میٹ سے شادی نہ کر سکیں ۔ اس کو جوڈری بہت اچھا کہتی ہے کہ
All pain in separation and all joy in union ..
اور یہ بھی ٹھیک کہتی ہے کہ
Masculine and feminine are two energies of God manifesting throughout the universe ..
دراصل یہ روحانی ملاپ ہی زندگی کی اصل معراج اور لُطف ہے ، باقی تو دھوکہ ؛
The union of sex and love shows the way to union with the Divine ..
اسی کو قبالا والے کہتے ہیں کہ
Man can reach divine in his own heart and own faith .. meditation of oneness can take you to divine and infiniteness ..
سب مذاہب کے پیغمبر درست اور سچے ہیں ۔ معاملہ خراب صرف اور صرف کنٹرول پر آ گیا ۔ جب ایک گروپ بنا کر ربی ، پادری اور مولوی نے دوسرے پر چڑھائی کی کوشش کی ۔
آج مجھے لوگ بہت پسند کرتے ہیں کیونکہ میں ایک آزاد pitch سے لکھ رہا ہوں اور فولورز نہیں چاہ رہا صرف آپ کو ایک ترغیب یا inspiration دے رہا ہوں آپ کے دماغ کو stimulate کر رہا ہوں نہ کہ  برین واش ۔ آپ کو soul searching یا introspection کی دعوت دے رہا ہوں ۔ جوناتھن اسے اکثر کہتا ہے upside down اور inside out ۔ میرا صرف اور صرف یہی مقصد ہے ، نہ مجھے پیسہ چاہیے ، نہ شہرت اور نہ چودھراہٹ ، فقیری بہت پسند ہے جو پیغمبروں اور ولیوں کا شیوا رہا
اگر کل میں بھی کوئی  خدا نخواستہ پائتھاگرس یا مورسی کی طرح brotherhood بنانے میں لگ پڑا تو کسی جیل میں ہوں گا ۔ کتے کی موت مروں گا  ۔ لہٰذا میری آپ سے سب سے ہمیشہ کی طرح درخواست ہے کہ  اپنی زندگیاں اپنے مطابق گزاریں ۔ تقلید سے پرہیز کریں ۔ میری  بھی باتیں پڑھیں لیکن اپنے تجربہ اور مشاہدے سے پرکھیں ۔ اپنے خالق اور رب سے اپنا رابطہ استوار کریں ۔ قدرت سے محبت کریں ۔ مادہ پرستی سے جتنا دور ہو سکے رہیں ۔ ہو سکے تو زندگیاں صوفی بزرگ رومی کشمیر میاں محمد بخش کی طرح سفر میں گزاریں ۔ اسی پر ختم کروں گا ۔
اوّل حمد ثنا الہی تے جو مالک ہر ہر دا
اس دا نام چتارن والا کسے میدان نہ ہردا!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *