کیا آپ کو جنسی خیالات تنگ کرتے ہیں؟۔۔میاں جمشید

ہمارے ہاں بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کو ” یہ گناہ ہے ” کہہ کر پیچھا چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ حالانکہ صرف اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہوتا جب تک عملی طور پر اس کا حل نہ تلاش کیا جا سکے ۔ جنسی خیالات کا بار بار آنا ، جنسی رغبت پیدا ہونا ، جنسی باتیں کرنے کو دل کرنا ، جنسی کاموں کو سوچنا وغیرہ ایسی باتیں ہیں جو نوجوانوں میں عام پائی جاتی ہیں۔ اور پھر ہمارا نوجوان اس کو گناہ سمجھتے ہوئے اس سے چھٹکارا بھی حاصل کرنا چاہتا ہے ، مگر پھر بات آتی ہے کہ کیسے؟

بلوغت کے ساتھ ہی ہر نوجوان میں جنسی بیداری کا پیدا ہونا فطری بات ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں صرف اس تبدیلی کو نہ تو اچھے سے سمجھا جاتا ہے نہ ہی سمجھایا جاتا ہے تبھی پھر نوجوانوں میں بے راہ روی کا شکار ہو جانا عام سی بات ہے ۔ سب سے پہلے تو سمجھنے والی بات یہ ہے کہ بالغوں میں خود بخود جنسی خیالات کا آنا بہت عام بات ہے ۔ اس میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ آپ کیا سوچتے ہیں، کیسے خیالات آتے ہیں ، کیسے خواب دیکھتے ہیں، ان پر ہمارا کوئی زور نہیں چل سکتا ۔

مسئلہ تب بنتا ہے جب ایسے جنسی خیالات کی بہتات آپ کو کسی غلط عمل کی طرف لے کر جائے ۔ یوں سمجھیں کہ جنسی خیالات کا تنگ کرنا برا نہیں مگر اس کے نتیجے میں کوئی غلط قدم اٹھانا ،وہ بری بات ہے ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان جنسی خیالات پر قابو کیسے پایا جائے ۔ اور اسی کا جواب ہمیں اپنے نوجوانوں کو بغیر کسی شرم کے سمجھانے کی ضرورت ہے۔ خاص کر کہ والدین کو اپنے بالغ ہوتے بچوں کو ۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے بات آتی ہے ” ماحول ” کی ۔ جن لوگوں  کے ساتھ آپ اٹھتے بیٹھتے ، بات چیت کرتے ہیں ۔ کیا آپ کے ماحول میں جنسی موضوعات ، فحش باتیں یا گالم گلوچ وغیرہ عام سی بات ہے؟ اگر ایسا ہے تو اپنے ماحول کو بہتر بنائیں ۔ سلجھے ہوئے لوگوں کے حصار میں خود کو رکھیں ۔ جو کسی تعمیری موضوعات اور با مقصد لائف سٹائل کی باتیں کریں ۔

اس کے ساتھ یہ دیکھنا پڑے گا کہ آپ کے دیکھنے اور پڑھنے کا میعار کیسا ہے؟ فحش بینی کی طرف تو رحجان نہیں ہے؟ خاص کر جب جنسی خیالات کی زیادتی ہو تب فحش فلم دیکھنا یا ایسا لٹریچر سننا یا پڑھنا آپ کو آسانی سے میسر ہو جاتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو ذرا اپنی ان عادات کو بدلنے کی کوشش کریں۔ آہستہ آہستہ ان سب سے باہر آنے کی کوشش کریں۔ تنہائی سے نکل کر لوگوں کے درمیان آئیں۔

ان سب کے علاوہ اپنے کھانے پینے کے میعار کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ بہت زیادہ بھاری کھانا اور پھر حرکت بھی نہ کرنا جہاں سستی پیدا کرتا  ہے،وہیں زیادہ جنسی خیالات لانے کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ واک کو یا کسی کھیل کو اپنی روٹین کا لازمی حصہ بنانا چاہیے ۔

بہت سارے نوجوان جنسی خیالات کے چکر میں آ کر مشت زنی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں مگر اس کے کرنے کے بعد مزید گناہ گار ہونے کا سوچ کر ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ یہاں یہ بات سمجھنے والی ہے کہ جیسے جنسی خیالات کا ہونا فطری بات  ہے،ویسے ہی مشت زنی یا احتلام ہونا بھی عام بات ہے۔ اس کو نارمل لیں ۔ ہاں یاد رہے کہ زیادتی یا عادت بنا لینا خوش آئند بات نہیں ہے۔

ایسے معاملات میں پہلے والدین کی ذمہ داری بنتی  ہے،کہ اپنے بچوں کو بلا جھجھک رہنمائی دیں، اس سے پہلے کہ وہ گھر کے باہر سے الٹا سیدھا سیکھیں اور پھر ساتھ ہی وقت پر ان کی شادی کا اہتمام بھی کریں ۔ نوجوانوں کو بھی ایسی فطری باتوں کو اپنے سر پر سوار نہیں کرنا چاہیے۔ اپنے خیالات کو مثبت رخ کی طرف موڑنا سیکھنا چاہیے ۔ ان سب کی وجہ سے اپنی با مقصد زندگی سے توجہ نہیں ہٹانی چاہیے ۔ اس لئے اپنے آپ کو نارمل سمجھتے ، اچھا ماحول اختیار کرتے ، اپنی عادات پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے  اس خوبصورت زندگی کو اچھے مقاصد میں صرف کریں ۔

میاں جمشید
میاں جمشید
اس تحریر کے لکھاری اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مثبت طرز ِِِ زندگی کے موضوعات پر مضامین لکھتے اور ٹریننگ دیتے ہیں ۔ ان سے فیس بک آئی ڈی jamshades پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *