چونسہ۔۔سلیم مرزا

وہ نورانی چہرے والا دکاندار ہم دونوں کا واقف نہیں تھا ۔اسی لئے سیدھے سبھاؤ ہی مُکر گیا۔گوجرانوالہ کی  سٹیل مارکیٹ میں اچھے بھلے گودام کا مالک اپنا گودام چھوڑ کر کھوتی ریڑھی پہ رکھے آموں کے کریٹ میں سے ایک ایک آم چن کر علیحدہ کریٹ بنا رہا تھا ۔

گدھا اور ریڑھی والا چپ چاپ کھڑے تھے بالکل ایسے جیسے بجٹ بناتے وقت حکومت اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہوتی ہے۔

“کل تو آپ نے کہا تھا کہ جستی چادر ایک سو پانچ روپے کلو ہے “میں نے ایک بار پھر ترلا کیا ۔
“کل تھی ابھی ایک سو پندرہ ہے ،جہاں سے سستی ملتی ہے، وہاں سے لے لو ۔

میرا اور بلو ویلڈر کا مسئلہ یہ تھا کہ نیلے رنگ کی جستی چادر صرف اسی کے پاس تھی ۔اگر کسی اور رنگ کی خریدتے تو ہمیں نیلا رنگ کرنا پڑتا ۔مجھے تقریباً آدھ  ٹن چادر کی ضرورت تھی ۔
“ایک سو دس کا ریٹ لگا لیں “۔۔۔
میں نے اس کے ہاتھ میں پکڑے خوبصورت چونسے کو دیکھ کر کہا جس کی لذت اور مٹھاس کا سوچ کر بلو کا منہ امب جیسا بن رہا تھا ۔

“یار ۔سر نہ کھا ،ایک سو پندرہ میں لینی ہے تو لے لو ”
وہ بدستور آموں کے فرانزک ٹیسٹ میں مشغول رہا۔

گیارہ کلو آموں کا اس نے لڑ جھگڑ کر پندرہ سو دیا ۔حالانکہ ریڑھی والے کے مطابق چننے سے پہلے ڈیڑھ سو روپے کلو طے ہوا تھا ۔آم گاہکوں کے بیٹھنے والے بنچ کے پاس رکھ کر دکاندار اپنی سیٹ پہ جا بیٹھا۔۔

گودام میں کافی گاہک تھے ۔ہم نے بھی مزید بحث نہ کی اور ایک سو پندرہ کے حساب سے جستی چادر کا وزن کروایا ۔ جستی چادر کو بلو نے لوڈر رکشے میں رکھا اور نکل گیا ۔

میں نے جستی چادر کے پیسے دیے۔ ۔تو دو گاہک میرے  اور دکاندار کے درمیان آگئے ۔دکاندار مجھے بقایا دینے کی بجائے ان سے بحث کرنے لگا ۔
تب میری نظر آموں کے کریٹ پہ پڑی ۔
میں نے دکان کے ملازم کو اشارہ کیا ۔وہ پاس آیا تو میں نے اسے گاڑی کی چابی دی اور کہا

“یار یہ کریٹ ۔چٹی مہران میں رکھ آؤ ۔کہیں میں بھول نہ جاؤں “جیسے ہی وہ کریٹ کی طرف بڑھا میں بھی اٹھ کر دکاندار کے سامنے جا کھڑا ہوا کہ اسے ملازم جاتا نظر نہ آئے ۔
بقایا پیسے لیکر جیسے ہی میں مڑا ۔ملازم نے گاڑی کی چابی مجھے پکڑائی اور میں نے باقی پیسوں میں سے اسے پچاس کا نوٹ دیا ۔
دوسال ہوگئے ۔اتنے شاندار آم آج تک نہیں ملے !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *