کچھ شکوہ ارباب وفا بھی سن لے!

یہ ۲۰۱۲ کی بات ہے جب مجھے مدرسے سے فراغت اور اس میں نظامت کی ذمہ داری کی بنیاد پر دینی مدارس کے لیے بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی میں منعقدہ ایک پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ اس پروگرام میں مختلف مدارس کے اساتذہ کرام شریک تھے اور ان میں سے سب سے کم عمر مگر مدرسے سے فراغت اور نظامت کے علاوہ علم التعلیم خاص طور پر نصاب سازی میں تجربے کی بنیاد پر میں پروگرام کے اساتذہ اور شرکاء کی توجہ کا باعث بنا۔ مختلف مسالک کے علمائے کرام اور مدارس کے اساتذہ سے بالمشافہہ اور قریب سے تعلق اور مکالمے کا یہ تجربہ میرے لیے نہایت خوش گوار تھا۔ اسلام آباد کے مدارس کے اساتذہ کے ساتھ ایسا تعلق قائم ہوا جو کئی مراحل طے کر کے بے تکلف دوستی میں بدل گیا اور الحمد للہ آج بھی وہ تعلق قائم ہے۔
اسی دوران ادارہ امن و تعلیم نے اسلام اور امن کے موضوع پر ایک مجوزہ درسی کتاب کی تیاری کے لیے مجھے بطور نصاب ساز اس منصوبے میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ اس عرصے میں مجھے مدارس کے قائدین ، مختلف مسالک کے جید علمائے کرام اور ماہرین تعلیم سے مختلف مشاورتی اجلاسوں اور علمی مذاکروں و نشستوں میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ تجربات اور مشاہدات نے میرے مسلکی خول کو توڑ کر مجھے نئے افق اور عمق سے متعارف کروایا۔ علمائے کرام اور ماہرین کی جُہد مسلسل کے بعد مجوزہ کتاب ’’تعلیم امن اور اسلام‘‘ کی صورت میں شائع ہوئی اور مختلف مدارس میں اساتذہ و فضلا کو اس کی تدریس پر پیشہ وارانہ تربیت کا بھی آغاز ہوا۔ ادارہ امن و تعلیم کی جانب سے مختلف مسالک کے مقتدر علمائے کرام اور پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں کے ماہرین کی مشاورت سے تیار ہونے والی اس کتاب ’’ تعلیم امن اور اسلام ‘‘ پر مختلف مدارس کے قائدین نے اپنی اپنی تقاریظ اور کلمات تحسین بھی تحریر کیے۔ نظر ثانی، مشاورت اور تقاریظ و کلمات تحسین لکھنے والوں میں شامل علما ئے کرام اور ماہرین کے نام لکھنے کے لیے ایک الگ سے آرٹیکل درکار ہے۔
تقاریظ لکھنے والوں میں معاصر دور کے امام المحدثین ڈاکٹر شیر علی شاہ رحمہ اللہ (شیخ الحدیث جامعہ دار العلوم حقانیہ) بھی شامل تھے، آپ نے لکھا ’’ادارہ امن و تعلیم کی گرانقدر، زرین تالیف ’’تعلیم امن اور اسلام‘‘ کے جوہری مضامین (اخوت و مروت، ایثار و ہمدردی )کے مطالعہ سے حد درجہ سرور اور انبساط نصیب ہوا۔ ماشاء اللہ! مذہب و ملت کے درد و غم، سوز و گداز سے سرشار حضرات محققین کرام کے اس دلکش و دلنشین، مدلل و محقق کتاب کے پڑھنے والوں کے قلوب و جوارح میں وحدت و یگانگت، باہمی ربط و تعلق، ایثار وجانثاری کے پاکیزہ جذبات و احساسات نمودار ہوں گے‘‘ مزید ہمارے لیے یوں دعائیں دی ’’بارگاہ الٰہی میں دست بہ دعا ہوں کہ وہ اپنے خصوصی فضل و کرم سے ان محققین کرام کی ان مخلصانہ مساعی جمیلہ کو شرف پذیرائی عطا فرمائے، اس تالیف کو قبولیت عامہ تامہ سے نوازے اور ان محققین حضرات کو اسی مقدس منہج پر آگے قرآنی آیات اور نبوی احادیث و روایات کے علوم و معارف کے بحر ذخار سے جاندار و روح پرور، ایمان افروز تالیفات کی توفیق عطا فرمائے۔ جن سے ہمارے دینی مدارس اور بالخصوص کالجوں اور یونیورسٹیوں کے گریجویٹس میں اتنی دینی بصیرت حاصل ہو سکے کہ وہ اپنے مقدس مذہب اور اس کے قوانین و ضوابط سے دیگر مناصب سے وابستہ لوگوں کو روشناس کر سکیں‘‘
امن، رواداری، مکالمہ اور ہم آہنگی ہی میرا مشن اور اوڑھنا بچھونا بن گیا ہے۔ اس مشن نے ہماری زندگی کتنی مشکل میں ڈال رکھی ہے یہ واقفان حال ہی جانتے ہیں۔ ہمیں اپنے وطن کی تعمیر و ترقی، امن و استحکام کتنا عزیز ہے یہ ہماری جہد مسلسل ہی گواہی دے سکتی ہے۔ میرا ضمیر الحمد للہ اس بات پر مکمل مطمئن ہے کہ اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں کسی بھی پلیٹ فارم سے آج تک ہم نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جو اسلام تعلیمات سے متصادم ہو، آئین پاکستان یا قانون کی خلاف ورزی ہو۔ اگر تکریم انسانیت، مذہبی ہم آہنگی، سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں تنازعات کے حل کے اسالیب، مذہبی و سماجی معاملات زندگی میں مکالمے کی مہارتوں کی تدریس، تعصبات اور منافرت کے رجحانات کی نشاندہی، آئین پاکستان میں دیے گئے شہریوں کے حقوق و آزادیوں کے پرچار سے پاکستان کے قومی و اسلامی تشخص، مفاد کو زد پہنچتا ہے تو ضرور ہماری رہنمائی کیجیے۔
ادارہ امن و تعلیم کے تحت ائمہ و خطباء، اساتذہ، اور بین المذاہب قائدین کے لیے جو علمائے کرام کی مشاورت سے تیار کیا گیا تربیتی نصاب ان ہزاروں شرکاء کے پاس موجود ہیں جو ان پروگرامات میں شریک ہوتے رہے ہیں، ان تربیتی کتب کی ہر ماڈیول کے مقاصد کے تعین اور خاکہ سازی سے لے کر اس کے جائزہ کے لیے بنے ہوئے فارمز تک ہم خود تیار کرتے ہیں ایک لفظ کی کہیں سے ڈکٹیشن نہیں ہوئی۔ اس تربتیی مواد میں کوئی ایک لفظ یا جملہ بھی اسلام، پاکستان کے تشخص اور مفاد سے متصادم ہو تو ہمیں آگاہ کریں۔ عین ممکن ہے ہم سے کہیں الفاظ کے چناؤ یا جملوں کے انتخاب یا مقاصد کے تعین میں غلطی ہوئی ہو تو اس کی نشاندہی کی جائے ہم ایسے لوگوں کے شکر گزار ہیں۔ نیز مختلف مسالک و مذاہب کے ہزاروں جید علماء اور دانشوروں کے ساتھ ہونے والی نشستوں میں ہونے والی گفتگو یا خلاف شرع اٹھائے گئے کسی قدم کا کوئی ایک حوالہ دیا جائے جہاں ہم نے اپنے اسلامی اور قومی تشخص، مفاد اور ثقافت پر سمجھوتہ کیا ہو۔
پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے متعلق حالیہ مہم میں زیر بحث رپورٹ میں ذاتی طور پر میں اس پراجیکٹ کا باقاعدہ حصہ نہیں رہا تاہم ادارے کے ایک ابتدائی کام کی اشاعت کی وجہ سے اس کے لنک کو شئیر کیا۔ اس میں میری غلطی یہ تھی کہ اپنی مشغولیات کے باعث اسے پڑھے بغیر میں نے شیئر کر دیا تھا، حالیہ بحث میں جس کے سکرین شارٹ لے کر کچھ احباب اپنے منصبی فریضے کے طور پر عام کرتے رہے۔ مجھے ان تمام دوستوں کی نیت اور خلوص پر یقین ہے تاہم یہ بھی ایک اخلاقی فریضہ اور انصاف کا تقاضا ہے کہ کسی سے بھی رائے لی جائے۔ ان دوستوں کی اس طرف توجہ دلانے پر سب سے پہلے میں نے ہی احتجاج کیا اور ادارے کو ٹھوس اقدامات کرنے پر متوجہ کیا ۔ ادارے کو جب احساس ہوا کہ ان کی سفارشات میں رد و بدل کیا گیا ہے تو انہوں نے ا USCIRF سے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس میں کی گئی غلطیوں کو درست کیا جائے اور اس پر معذرت بھی کی جائے۔ جس کے بعد USCIRFنے باقاعدہ اعتراف کرتے ہوئے اپنی غلطی پر معذرت کی جس کی تفصیل ادارے کے ویب سائیٹ کا وزٹ پر موجود ہے۔
http://www.peaceandeducationfoundation.org/index.php

حالیہ قضیے میں ادارہ امن و تعلیم کے خلاف مہم کو دیکھ کر مجھے انصاف کا درس دینے والوں کے معیار ِانصاف پر تعجب ہوا ہے کہ کس طرح لوگ خود ہی مدعی، گواہ، وکیل اور منصف بن کر دوسروں کے بارے میں یک طرفہ فیصلے سناتے ہیں ۔ مجھے تحقیق پڑھانے والے ان اساتذہ کے رویے پر بھی بہت دکھ ہوا کہ ان کے معیار تحقیق کا عالم یہ ہے کہ آپ کسی کے بارے میں اپنی’’ مستند‘‘ تحقیق پیش کر رہے ہیں لیکن آپ نے ان سے اپنے الزامات کی تصدیق کرنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کیا۔ لوگ کس طرح اپنی ذاتی شکایتوں (grievances) اور تنظیمی و اداراتی تناؤ کے لیے دوسروں کے کندھے استعمال کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی شاطرانہ منافقت بھی حیران کن نظر آئی کہ ایک طرف وہ آگ لگاتے ہیں اور دوسری طرف اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔ میں صحافیوں کی پیشہ وارانہ اخلاقیات سے بھی دل برداشتہ ہوا کہ ایک آپ کسی معاملے میں اپنی تحقیقاتی صحافت پیش کر رہے ہیں لیکن آپ معاملے کے فریقوں کی آراء اور صورتحال کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا بھی گوارا نہیں کرتے ۔ مجھے بہت سے قائدین کے رویے پر بھی تکلیف ہوئی کہ بیک جنبش وہ کس طرح اپنا تیور بدلتے ہیں۔ ان کی قیادت عوامی رائے یا public perceptions کی بنیاد پر چلتی ہے تو وہ کس طرح کے قائد ہیں۔
یہ ہماری کتنی بدقسمتی ہے کہ یہاں تشدد، منافرت، تعصبات کے سودا گروں کو تحفظ ملتا ہے اور امن، رواداری، تکریم انسانیت اور آئینی طور پر ہر شہری کو ضمانت شدہ مذہبی و سماجی حقوق کی بات کرنے والوں اور ہمارے وطن عزیز میں بدامنی، منافرت اور تعصبات کے خاتمے کے لیے تعلیمی و تربیتی سطح پر کام کرنے والوں کو جان کا خطرہ لاحق ہے اور کس طرح لوگ ان کی عزت و آبرو سر عام تار تار کرنے کے درپے ہیں، مجھے سوشل میڈیا کے ان غیر محتاط احباب سے بھی گلہ ہے کہ وہ کس طرح اپنی سفلی جذبات اور تعصبات کی تسکین کے لیے منافرت پھیلاتے ہیں۔
سماج کی تعمیر و ترقی کے لیے قائم کسی بھی ادارے پر سوال کرنا اور اور اس کے کاموں پر اعتراض کرنا قطعاً برا نہیں بلکہ ہر شہری کا حق ہے لیکن ہر کام کے کچھ تقاضے اور ہر قدم کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ کچھ انصاف ،تحقیق اور قانون بھی ہوتے ہیں انسانی معاشروں کے ۔
آخر میں مختلف ممالک اور شہروں میں مقیم مختلف مذاہب و مسالک کے احباب کے اظہار ہمدردی پر شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنی محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہمیں بہت سے مفید مشورے دیے۔

محمد حسین
محمد حسین
محمد حسین، مکالمہ پر یقین رکھ کر امن کی راہ ہموار کرنے میں کوشاں ایک نوجوان ہیں اور اب تک مختلف ممالک میں کئی ہزار مذہبی و سماجی قائدین، اساتذہ اور طلبہ کو امن، مکالمہ، ہم آہنگی اور تعلیم کے موضوعات پر ٹریننگ دے چکے ہیں۔ ایک درجن سے زائد نصابی و تربیتی اور تخلیقی کتابوں کی تحریر و تدوین پر کام کرنے کے علاوہ اندرون و بیرون پاکستان سینکڑوں تربیتی، تعلیمی اور تحقیقی اجلاسوں میں بطور سہولت کار یا مقالہ نگار شرکت کر چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *