سندھ اسمبلی کامنارٹی بل،سراسراسلام دشمنی

ہمیں اس بات پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ سندھ اسمبلی نے اقلیتی ارکان کے پیش کردہ اس منارٹی پروٹیکشن بل کوکثرت رائے سے منظور کرلیاہے، جس کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کا قبول اسلام معتبر نہیں، 18 سال سے زائد عمر کاشخص 21 روز تک قبول اسلام کا اعلان نہیں کرسکتا، جبری اسلام قبول کرانے والے یعنی کلمہ پڑھانے والے اور نکاح خواں کیلئے کم از کم 5 سال یا عمر قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، کلمہ اورنکاح پڑھانے والے شخص کی مذکورہ مقدمہ میں ضمانت بھی نہیں ہوسکے گی۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ بل اس ملک کی نظریاتی اساس اور قوانین کے مطابق ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سندھ اسمبلی میں جولوگ بیٹھے ہیں ، چاہے ان کا تعلق اہل اقتدار سے ہو یا اپوزیشن سے، وہ سب اسلام مخالف سوچ اور عزائم رکھتے ہیں اور شاید کرپشن کے بعد یہ دوسرا یک نکاتی ایجنڈاہے جس پر یہ سیاست دان متحد ومتفق ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے بر سراقتدار آنے کے بعد سے لے کر اس بل کی منظوری تک، ان کے بیانات کا جائزہ لیجیے، آپ کو یہی نظر آئے گا کہ سائیں کہ لڑائی اگر کسی سے ہے تو وہ اسلام اور اسلامی اقدار سے ہے۔موصوف موسیقی کو سندھی ثقافت کا حصہ قراردے کر ببانگ دہل کہہ چکے ہیں کہ اسکولوں ،کالجوں میں رقص وموسیقی کی تعلیم دینے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ راجا داہر کو اپنا ہیرو ماننے اور محمود غزنوی و محمد بن قاسم سے دامن چھڑانے والوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے ، سوائے اس کے کہ وہ اسلام کی ہر علامت کو بیخ و بن سے اکھیڑنے کی اپنی سی کوشش کرتے رہیں گے، بقول شاعر
تم سے امید وفا ہوگی، جسے ہوگی
ہمیں تود یکھنایہ ہے کہ تو ظالم کہاں تک ہے
دوسری طرف اپوزیشن کا بھی یہی عالم ہے۔زیادہ پرانی بات نہیں اپوزیشن لیڈرخواجہ اظہار الحسن اسمبلی اجلاس میں اس بات پرآپے سے باہر ہورہے تھے کہ مدارس کی رجسٹریشن کا بل ایک بار پھر کیوں پیش نہیں کیا گیا،ان کا کہناتھامسائل کی بنیادی وجہ یہی دینی مدارس ہیں،نیشنل ایکشن پلان کے تحت ان مدارس کوشکنجے میں کسنالازمی ہے،ورنہ امن کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ان سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے؟دوسری جماعتوں کے اراکین کی بھی کم وبیش یہی حالت ہے۔پی ٹی آئی کے ممبر اسمبلی خرم شیر زمان پچھلی بار اسکولوں میں قرآنی تعلیم لازمی قراردینے کے حق میں بولے تھے، اس بار شاید اس لیے نہیں بولے کہ انھیں بھی تنبیہ کی گئی ہوگی کہ آپ کا تعلق ایک لبرل پارٹی سے ہے، ذرا احتیاط !!

وطن عزیزکوسیکولر بنانے کے ایجنڈے پر تیزی سے عمل کیا جارہاہے۔خیبر پختونخوامیں نظام ونصاب تعلیم ایک امریکی این جی اوکے ہاتھوں گروی رکھا جاچکاہے،جس کی پیش کرہ تجاویز میں ایک بنیادی نکتہ یہ بھی ہے کہ ملک میں انتہاپسندی کی وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام کو واحد دین برحق کے طور پر پیش کیا جاتاہے،لہٰذا ایسا نصاب بنایا جائے جس میں اس ''انتہاپسندانہ سوچ''کاقلع قمع کیاجائے،گویامسجد بھی اچھی،مندرگرجااورکلیسابھی اچھا کا لالی پاپ مستقبل کے معماروں کودیا جائے، تاکہ جب ملک کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں آئے تووہ ''اسلامیت''کی سوچ سے پاک صاف ہوکرسوچ اور فیصلہ کرسکیں۔ وہاں رائج نصابی کتابوں سے نہ صرف اسلامی اصطلاحات اور حضور اکرم ۖ وخلفائے راشدین ومسلم سلاطین وفاتحین کے اسباق ختم کیے گئے ہیں ،بلکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ومصور پاکستان علامہ محمد اقبال کی سیرت پر مشتمل اسباق بھی اس پالیسی کی زد میں آچکے ہیں۔وہاں کی دینی قیادت اور مذہبی زعمااس کے خلاف کافی زور وشور سے آوازبلند کرتے رہے،ان میں مولاناسمیع الحق ،مولانامحمد شہاب الدین پوپلزئی بطور خاص پیش پیش تھے،لیکن اب راوی چین ہی چین لکھ رہاہے۔ شنید ہے کہ اپنااپناحصہ لیاجاچکاہے، اللہ کرے ایسانہ ہو!حیرت انگیز طور پرقائد جمعیت مولانافضل الرحمن کے ایجنڈے میں اس ''عمرانی سازش''کے خلاف کوئی قدم بوجوہ شامل نہیں رہا اور تاحال نہیں ہے، حالاں کہ وہ سب سے زیادہ خیبر پختونخواحکومت کے خلاف بولتے ہیں اور عمران خان تو انھیں لگتے ہی سراپا خطا ہیں۔

آمدم برسرمطلب،وطن عزیزکوسیکولر ولبرل بنانے کادعویٰ کئی بار وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف بھی کرچکے ہیں۔ان کی مدبرانہ قیاد ت میں اس جانب سفر دھیرے دھیرے جاری ہے۔سندھ حکومت ہویاپنجاب حکومت،اس کے بیسیوں اقدامات اس سلسلے میں شاہد عدل ہیں۔شنید یہ بھی ہے کہ حالیہ دورہ امریکا میں میاں صاحب قانون توہین رسالت کے حوالے سے بھی ''پیش رفت''کا وعدہ کرآئے ہیں۔میڈیاوقتاًفوقتاًعوام کے اذہان میں یہ بات بٹھاتارہتاہے کہ توہین رسالت کے قانون کا استعمال غلط ہورہاہے،اس قانون کی وجہ سے اقلیتی برادری خود کو ہر وقت غیر محفوظ تصور کرتی ہے،مسلمان اپنے اقلیتی مخالفیں کے خلاف اس قانون کوایک انتقامی حربے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔یہ جھوٹ اس شدومد سے بولاجاتارہاہے،کہ اب اس پر سچ کا گمان ہوتاہے۔پروپیگنڈے کاہتھیار اس قدر کارگر ہے کہ اب عام مسلمانوں میں بھی اس قانون کے حوالے سے وہ ''جذباتیت'' نظر نہیں آتی ،جو اس سے پہلے نظر آتی تھی۔ زمین ہموار کی جارہی ہے،کسی مناسب وقت کاانتظار ہے۔ اللہ نہ کرے کہ یہ سیاہ کارنامہ بھی میاں محمد نوازشریف کے دور حکومت کے اعمال نامے کاحصہ بنے۔

اسی طرح مجموعی طور پر ملکی نصاب تعلیم میں بھی اس حوالے سے تبدیلیوں پر کام جاری ہے،گزشتہ دنوں سینئر کالم نگار جناب انصار عباسی نے بھی اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے امتحان میں اپنی بڑی بہن کے حوالے سے پوچھاجانے والاسوال،اسلام آباد میں ایک تعلیمی ادارے کی طالبات کالیڈی پیڈز دیواروں پر چسپاں کرکے احتجاج کرنا، آغاخان بورڈکابڑھتااثر ورسوخ، یہ اور اس نوع کے اقدامات اسی کاپیش خیمہ ہیں۔ پرائمری تک قرآنی تعلیم کولازمی قراردینے میں بھی یہ سوچ کارفرمانظر آتی ہے کہ گراس روٹ لیول کی دینی تعلیم کے لیے بچوں کومسجد ومدرسہ جانے سے روکاجائے، کہ جب قرآن اسکول ہی میں پڑھایاجارہاہے تومسجد ومکتب میں جانے کی کیاضرورت، یوں قوم کے شاہین بچوں کارشتہ دینی اداروں سے کاٹاجائے اورابتدائی دینی تعلیم کے مکاتب ومدارس کی اہمیت کم کی جائے۔کیایہ سب اس تاثر کومزید مضبوط نہیں کررہاکہ ملک سے اسلام کودیس نکالادینے کافیصلہ کرلیاگیاہے۔

اب ہم آتے ہیں سندھ حکومت کے حالیہ بل کی طرف۔اس کی جزئیات پر بحث کیے بغیر ہر منصف مزاج شخص اس بل سے یہ نتیجہ نکال سکتاہے کہ اس کا مقصد اندارون سندھ کے باسیوں کے تیزی سے قبو ل اسلام کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرناہے۔جبری قبول اسلام کی روک تھام،توایک بہانہ ہے،کیوں کہ ایسے واقعات آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔اگر کہیں ہیں بھی تواس میں اسلام کا کوئی کردار نہیں۔اسلام توواضح اعلان کرتاہے کہ قبول اسلام میں کوئی جبر نہیں۔ امت مسلمہ کی پوری تاریخ پر نظر دوڑائیے، یہی نظر آئے گا کہ جب چاردانگ عالم میں اسلامی سلطنت وخلافت کا ڈنکا بجتاتھا، جب عرب وعجم اور شرق وغرب سب اسلام کے زیر نگیں تھے، اس وقت بھی کسی پرسلام قبول کرنے کے لیے جبر نہیں کیا گیا، حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک بڑھیاکولایاگیاکہ یہ دنیا سے جانے والی ہے ،ہم اسے اسلام قبول کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں لیکن یہ نہیں مانتی۔ سیدنافاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس کی رائے پوچھی ، پھر اس کی رائے کااحترام کرتے ہوئے فرمایا: اسے اختیارہے، اسلام قبول کرے یانہ کرے،کیوں کہ اسلام قبول کرنے کے لیے کسی پر جبر کی کوئی گنجائش نہیں۔اسلام توایک نورہے،جواللہ تعالیٰ اپنے منتخب بندوں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں،اس کا تعلق ظاہر سے نہیں باطن سے ہوتاہے۔سندھ اسمبلی کے ہندواراکین اسمبلی ہوں یامسلم اراکین اسمبلی،اگر انھیں اس حقیقت کا ادراک ہوتاتووہ یہ سیاہ بل پیش نہ کرتے،کیوں کہ اس بل کے ذریعے چاہے جتنے پہرے بٹھادیے جائیں،جس کے دل میں اللہ تعالیٰ اسلام قبول کرنے کانورڈال دیں گے،وہ اسلام کی طرف آکر ہی رہے گا،چاہے آپ اس کواٹھارہ برس کی عمر تک اس کے اعلان سے روکے رکھیں،اسے کسی سیف ہاؤس میں رکھ کراسلام سے ہٹانے کی کوشش کریں،اس کو کلمہ پڑھانے والوں کوقید کی سزاؤں کے ذریعے روکیں،غرض یہ تمام حربے ظاہر پر توچل سکتے ہیں،باطن پر ان میں سے کوئی حربہ کار گر نہیں ہوسکتا۔اگرکوئی غیرمسلم کسی مادی مفادیاشادی وغیرہ کی غرض سے اسلام کاسہارالینا چاہتاہے اور اسلام اس کے باطن میں نہیں اترا،تواس کی اسلام کوحاجت بھی نہیں،ایسوں کاآنے سے نہ آنابہتر ہے۔جومخلص ہوکراسلام قبول کرناچاہتے ہیں ان کی راہ میں،اس بل کے ذریعے آپ مشکلات پیداکردیں گے،کہ آپ اس پر قادر ہیں،لیکن جومسبب الاسباب ہے وہ اس سے نکلنے کے لیے بھی غیبی راہیں ہموار کرنے پر قادر ہے۔ہمیں اس بل کی شقوں کودیکھ کرایک لطیفہ یاد آگیا،لیجیے!آپ بھی لطف اندوز ہوں۔
ایک بادشاہ کا باز گم ہوگیا،اس نے شہر کے داخلی وخارجہ دروازے بند کرادیے،یوں اپنی سمجھ میں اس نے باز کے ''فرار''کے تمام راستے مسدودکردیے،لیکن وہ اس حقیقت کو توبھول ہی گیاکہ بازتوفضاؤں میں اڑنے والاپرندہ ہے، دروازے بند کرکے اس کا راستہ نہیں روکا جاسکتا۔ بس یوں سمجھ لیجیے،سندھ حکومت نے باز کو''فرار''ہونے سے روکنے کے لیے کچھ ایساہی انتظام کیاہے۔ ایسے انتظامات کوزیادہ سے زیادہ''دل کے بہلانے کوغالب یہ خیال اچھاہے''کا مصداق قرار دیا جا سکتا ہے۔

Avatar
محمدجہان یعقوب
ایک دینی ادارے میں شعبہ صحافت وتفسیرکی نگرانی اور ایک تفسیر کی تالیف میں مصروف،ایک ہفت روزہ کی ادارتی ذمے داری اس پر مستزاد

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *