عبدیت محض کوئی انشورنس پالیسی نہیں۔۔۔۔محمد فیضان

واصف علی واصف  اللہ کے ایک منفرد  ولی تھے- مختصر الفاظ میں سمندر جتنی گہری بات کرنے کا ملکہ ربّ کریم نے انہیں دے رکھا تھا- پچھلے دنوں انہی کا ایک مضمون پڑھ رہا تھا جس کا مفہوم تھا کہ کسی بھی حاصل شدہ شے  پر قابض رہنے کی خواہش خوف و ملال پیدا کرتی ہے- تھوڑا غور کرنے سے پردہ اُٹھا کہ یہ خوف تو دل میں ہر لحظہ موجود رہتا ہے کہ میسر نعمتیں بس کسی طرح قائم و دائم رہیں- لہٰذا ہماری دعائیں بھی ان نعمتوں کے دوام کی التجاؤں کی حامل رہتی ہیں-
اس خیال نے عجیب و غریب بے چینی پیدا کردی اور کئی سوالوں نے ذہن میں سَر اٹھانا شروع کریئے- مثلاً کیا اس کمزور و شکستہ عبدیت کے پیچھے درحقیقت خوف کی بندگی کارفرما ہے؟ کیا معبود سے عبد کا رشتہ فائدہ کے لئے ہے اور کیا بصورتِ دیگر نقصان کا خدشہ ہے؟ کیا مزید حاصل کی آرزُو بھی خوف کے آگے سرنگوں رہتی ہے؟
بوجۂ احتیاج اپنے ربّ کی عبادت مخلوق کی ضرورت تو ہے لیکن بنیادی طور پر یہ مخلوق پر اخلاقی فرض ہے کہ خالق کے آگے اپنے عجز کا اعتراف کرے- اور اُس ربّ کا حق ہے کہ اُسے پُوجا جائے اور اُس کی پرستش کی جائے- چونکہ انسان اپنی فطرت کے مطابق ہر کام میں غرض یا فائدہ دیکھ کر ہی اُسے سرانجام دینے کی حامی بھرتا ہے یا نقصان اور سزا کے ڈر سے باز رہتا ہے سو اس عبادت کے ساتھ بھی ربّ نے کچھ انعامات جوڑ دیئے جیسے عطائے مال و دولت، آل اولاد، گھر بار، خاندان، صحت وغیرہ تاکہ انسان اُس ذات کے دَر پر اپنا ماتھا ٹیک کر یہ سب مانگتے ہوئے ہی اپنی عاجزی و محتاجی تسلیم کرے اور میرا بندہ بنے!
اب حق تو یہ تھا کہ ربّ کی بندگی اُس کی شان و شوکت، کبریائی، لافانیت، عظیم الشان قدرت اور وحدت کی وجہ سے کی جاتی لیکن انسان نے ان عظیم بنیادوں کو بُھلا کر اُن وجوہات پر عبدیت قبول کی ہے کہ جو سراسر اُس کی اپنی فانی ذات سے ہی متعلق ہیں-
لیکن مقصود اور انعام کے فرق کو سمجھنے میں ہم انسانوں سے یہ غلطی ہونے لگی کہ رفتہ رفتہ ہم ان کی ترجیح و ترتیب کو بُھلانے لگے اور عبادت کے اصل مقصود کو پسِ پشت ڈال کر اسے نعمتوں کے حصول اور نقصانات سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھنے لگے- نتیجتاً، لاشعور میں یہ راسخ ہوتا چلا گیا کہ عبادت کرنے سے نعمتوں میں اضافہ ہوگا اور نافرمانی کرنے کے نتیجے میں مذکورہ نعمتیں چھن سکتی ہیں! سو عبدیت کے نئے اصول وضع ہوئے کہ نعمتوں کو حاصل کرنا اور حاصل شدہ نعمتوں پر قابض رہنا اب عبادت کے مقصودِ اصل ٹھہریں گے-
گویا عبادت ہم نے بطور انشورنس پالیسی کے اختیار کر لی کہ نماز، روزہ، اذکار، تلاوت، صدقہ وغیرہ بلاؤں کو ٹالنے، مشکلات کے حل اور نقصانات سے پیشگی بچاؤ کی تدبیر قرار پائے- گو کہ ربّ تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو سب عطا فرماتا ہے اور نافرمانوں کو محروم کرتا ہے لیکن کبھی کبھی وہ اپنی عظیم حکمت سے اس کے برعکس بھی کرتا ہے- اس سب کے باوجود اور بعد از تذکرہ ایک تقاضا وہ اپنی ربوبیت کی قدردانی کے ضمرے میں بھی تو کرتا ہے کہ اے انسان! چل! تُو بے شک یہ سب لے لے پَر مجھے اپنا ربّ تو مان جیسا کہ ماننے کا حق ہے!
ہم کمزور لوگ ہیں- ربّ کریم کی ایسی عبادت نہیں کر سکتے کہ اپنے مفاد بھی بھول جائیں لیکن اس بات کا ادراک و احساس ہوجانا کہ عبدیت انشورنس پالیسی سے کہیں زیادہ معتبر، بالا اور اونچا مقام ہے، کوئی معمولی تبدیلی تو نہ ہوگی!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *