مرزا بنے قوالی کے اُستاد۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

اس جہاں میں انسان کو ایسے بہت سے واقعات درپیش ہو جاتے ہیں جن سے وہ بہت کچھ سیکھتا ہے، ان میں اچھائی بھی ہوتی ہے برائی بھی، سکون بھی ہوتا ہے مصیبت بھی، عزت بھی ہوتی ہے ذلت بھی، لیکن کبھی کبھی کسی انسان کا سامنا صرف ذلت سے ہی ہوتا ہے وہ بھی ایسی ذلت جو خود انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے اس کی زندگی کا ایک جزو بن جاتی ہے، وہ بار بار اس طرف نہ جانے کی کوشش کرتا ہے لیکن کسی نہ کسی طور وہ اس میں جگڑ ا جاتا ہے۔

مرزا کے ساتھ ہمارا سامنا اس دن کے بعد نہیں ہوا تھا جس دن وہ ہمیں کچھ رنگینیاں دیکھانے کے واسطے کسی “خاص” جگہ پر لے جانے کو باولے ہوئے جارہے تھے، ہم خاص جگہ تو نہیں پہنچے لیکن مرزا ہسپتال ضرور پہنچے تھے، جب وہ ایک رکشہ والے کو خاص جگہ کا پتہ بتانے سڑک کے عین درمیاں تک پہنچ گئے تھے.

ہم کو بھی در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد ایک ہوٹل میں بیرے کی نوکری ملی تھی جو کہ ہم جیسے تعلیم یافتہ بمع ڈگری حضرت کے منظور نظر تو نہ تھی لیکن اتنا تو ہوچکا تھا کہ فاقوں کی اب نوبت نہیں آتی تھی، ہوٹل کیا تھا سمجھو ایک بہت بڑا ہال تھا جس کے ایک طرف تین فٹ لمبی دیوار بنائی گئی تھی اور دیوار کے اس طرف سب کچھ پکتا بنتا تھا اور سامنے ہی گاہکوں کی کالی، پیلی، سفید، زرد، گلابی، زعفرانی (اللہ معافی دے) چہرے دیکھائی دیتے تھے.

ہوٹل کے مالک “شرافت علی قزلباش” ایک بہت قلندر انسان تھے جو کسی بات پر اعتراض نہ کرتے، ہوٹل میں سب کچھ پینے کی اجازت تھی سوائے شراب کے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مدہوشی میں گاہک کھانا کھانے کے بعد پیسے نہیں دیتے اور مفت خوری اچھی عادت نہیں!
(اس کے بقول جبکہ ہم تو صدیوں سے آرزو مند ہیں)

ایک دن جب ہوٹل میں کوئی گاہک نہیں تھا اور ہم دونوں ہونقوں کی طرح مکھیاں مار رہے تھے تو استاد کی بھاری بھر کم آواز سنائی دی!

یار ایک بات سوچ رہا ہوں کہ کیوں نہ ہوٹل میں ایک قوال کو رکھا جائے، لوگ قوالی سننے آئیں گے تو ظاہر ہے کچھ چائے پانی کھانا بھی آرڈر کریں گے ویسے تو قوالی کا مزہ ہی نہیں آئے گا نہ ہی ہم کسی کو مفت میں قوالی سننے دیں گے!

میں نے استاد کو دیکھا اور دل میں لاحول ولا قوت پڑھی اور سوچا بلکہ سوچا کیا پکا یقین ہوچلا کہ استاد کا دماغ ہوٹل کی خستہ حالی کہ وجہ سے چل پڑا ہے ہم کو جب بار بار اس کا توبڑا تکتے تکتے بھی اپنی سماعت پر یقیں نا آیا تو ہم نے پوچھا….. کیا؟

استاد قزلباش نے ہم کو خونی نظروں سے ایسے گھورا جیسے ہم نے ان پر زنا بالجبر کا مقدمہ تھوپ دیا ہو اور وہ  14سال قید کاٹنے جارہا ہو، خیر ہم کو پھر بتایا گیا کہ کسی قوال کو پکڑ کے لاو جو ہوٹل میں قوالی سنائے اور محفل کو گرما کر رکھے اور ہوٹل گاہکوں سے دھڑا دھڑ پُر رہے ہم نے بھی سوچا کہ اگر ہوٹل کی آمدن بڑھی تو ہمارا بھی کچھ فائدہ ہو سو ہم نکلے تلاش میں ایک قوال کے.

ہم کتنے بار قزلباش صاحب سے فرمائش کر چکے تھے کہ وہ ہمیں ہزار روپیہ دیں ہماری حالت خستہ ہے، تاکہ ہم اپنے لئے کچھ کپڑے جوتے وغیرہ، کچھ ذاتی اخراجات پورے کر سکیں، اور کچھ نوٹ عیاشی کرنے پر خرچ کر سکیں، لیکن وہ کہ ایک نمبر کا کنجوس کبھی پیسہ دینے کی حامی نہیں بھری کمینے نے!

پانچ دن وہ بھی بھرے ذلالت کے گزارے، ہم ہر کسی سے پوچھتے رہے کہ بھئی کوئی قوال کے غریب خانے کا پتہ کسی کو معلوم ہو تو ہمیں عنایت کیجیئے تاکہ ہمارا نان نفقہ بڑھے اور ہم بھی کبھی سر پر سہرا باندھے لیکن معلوم ہوتا تھا جیسے شہر میں قوالوں کی اکال پڑی ہوئی ہو قوال تو کیا کوئی باجا بجانے والے سے بھی واسطہ نہیں پڑا، اگر واسطہ پڑا بھی تو
“اوئے دے نہ” کہنے والوں کھسروں سے جن سے ہم کو بچپن سے ہی چڑ رہی ہے، کیونکہ جب ہم ان کو دیکھتے تھے تو ناجانے کیوں ہم کو گدگدی شروع ہوجاتی تھی خیر جانے دیں بات تھی تلاشِ قوال کی.

چھٹی صبح جب ہم ہوٹل میں تشریف لے گئے تو جناب قزلباش صاحب کسی نشئی کو چائے پیش کر رہے تھے جو کہ ہم کو لگا کہ نشئی ہے لیکن اصل میں وہ گورکن تھا جس نے صبح صبح ہی کوئی قبر کھودی تھی اور تھک ہار کر ہوٹل میں چائے پینے چلا آیا تھا.

ہاں بھئی کیا بنا اس کام کا؟
قزلباش صاحب نے ہمیں دیکھتے ہی اپنا منہ کھولا!

قوال آج ضرور مل جائے گا ہم نے پتہ کروا لیا ہے، لیکن وہ قوال استاد ہزار کا نوٹ پہلے لے کر ہی یہاں تشریف لائیں گے اول درجے کے قوال ہیں اس سے پہلے تاج ہوٹل میں قوالی سناتے تھے محترم، ہم نے جواب دیا جو کہ مکمل جھوٹ پر مبنی تھا، استاد کچھ مطمئن نظر آئے،
اور ہمیں دیکھ کر کہنے لگے اگر تم گارنٹی لیتے ہو تو ہم ہزار کا نوٹ دینے کو تیار ہیں لیکن اگر قوال اچھا نا ہوا تو ہم تم کو چھوڑیں گے نہیں تمھارا پتہ ٹھکانہ ہم کو معلوم ہے، ہم نے وہ وہ باتیں سنائی اس نامعلوم سے قوال کے بارے میں، کہ توبہ ہی بھلی، آخر کار وہ رضامند ہوئے اور جیب سے ہزار کا نوٹ نکال کر ہم کو تھما دیا!

ہم نے شاہانہ انداز سے چائے کی پتیلی سے اپنے لئے چائے بنائی اور استاد کو چکمہ دے کر دودھ کچھ زیادہ ڈالا اور پینے لگے چائے پی کر ہم نے استاد سے اجازت لی اور نکلے قوال کو پکڑنے.

سارا دن بدنام گلیوں میں آوارہ گردی کرنے میں گزاری جو کہ ہم سمجھتے تھے کہ قوال کو ڈھونڈنے کے لئے ضروری ہے کیونکہ وہ ایسے ہی جگہوں پر اپنے سُر سے تال ملایا کرتے ہیں لیکن ناکام….

قزلباش کے دیئے ہوئے کچھ پیسوں کے دو فینسی سوٹ خریدے ساتھ میں دو جوڑے جوتوں کے اور باقی کے ہم نے ایک فلم دیکھی اور کچھ مکاں مالک کو ایک سال کا جو کرایہ باقی تھا اس کو تھمائے کچھ ہی نوٹ بچے تھے جو ہم نے حفظ متقادم اپنے پاس رکھ لئے، سوچا یہ تھا کہ اگر قوال نہیں ملا تو قزلباش صاحب سے کہیں گے کہ کچھ نوسربازوں نے مال روڈ پر پکڑ کر لوٹ لیا…

شام ہونے کی قریب تھی کہ ہم ریل گاڑی کے پٹڑی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اسٹیشن پہنچے اور وہاں ایک خالی کرسی پر براجمان ہوئے، اپنے ہاتھ سر کے پیچھے باندھے اور آسمان کو گھورنے لگے، ہمارے کانوں میں باجے و سنگیت کے مدھم سی آوازیں سنائی دینی لگی ہم کو شبہ ہوا کہ شاید قوال کی تلاش کرتے کرتے ہماری روح قوال بن بیٹھی ہے اور یہ آواز ہمارے روح کی ہے لیکن ہم نے سر جھٹکا اور پہلے دائیں اور پھر بائیں جانب دیکھا، ہم نے دیکھا کہ بائیں جانب کچھ دور ایک مخنی سا آدمی گلے میں پیانو باجا لٹکائے پلیٹ فارم میں آہستہ آہستہ چلا جا رہا ہے اور اس کی انگلیاں پیانو باجے سے دھنیں نکال رہی ہیں!

ہم اٹھے اور دلی خوشی محسوس کی سوچا کہ شاید ہماری تلاش ختم ہوئی ہم جلد از جلد اس سورما تک پہنچنا چاہتے تھے اور اس ڈر میں تھے کہ کوئی دوسرا اس کو ہم سے چھین کر نہ لے اُڑے…

ہم قریب ہوئے تو دیکھا کہ ایک لمبے بالوں والا کمزور سا آنکھوں پر چشمہ ٹکائے باجے کے ساتھ خرماں خرماں چلا آرہا ہے اور باجے کی سروں میں بے ربط سی آواز میں کچھ گا بھی رہا ہے ہم کچھ اور قریب ہوئے تو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا یا خدا یہ ہم نے کیا دیکھا؟

دیکھتے ہیں کہ ہمارا جٹادھاری شہنشاہ، لکھنو کا عظیم سرمایا، توپ شکن الفاظ کا مجموعہ اور ہمارے اچھے دنوں کو برا بنانے والا “نواز الدین مرزا” ہمارے سامنے بمع پیانو باجے کے کھڑے ہیں، ہم نے سوچا کہ کوئی جادو ہو جائے اور ہم غائب لیکن کمبخت نے ہم کو دیکھتے ہی پہچان لیا اور باآوازِ بلند پکارا

آجی خاں صاحب آپ……

مرزا سے دامن چڑانا بچوں کا کھیل نہیں تھا سو ہم نے خود کو ظاہر کیا اور وہ ہمارے گلے ایسے لپٹے جیسے ہم اس کے برسوں بچھڑے محبوب ہوں، جو طویل عرصہ بعد اس کو معجزانہ طور پر امرِ الہی سے ملے ہوں، خیر ہم نے اس کو ساتھ لیا اور ایک طرف بڑھے.

مرزا سے جو ہم نے اس کا یہ حال احوال کے بارے میں پوچھا تو جناب رونے کی صورت بنا گئے اور آواز کو پُرسوز کر کے کہنے لگے!

خاں صاب کیا بتاوں ہم پر کیا گزری تم نے تو اس دن کے بعد پوچھا بھی نہیں کہ بھائی بندہ کس حال میں زندگی کی سزا کاٹ رہا ہے، فاقوں سے پیٹ کی ہڈیاں کمزور ہوگئی
(اب ہم اس کو کیا سمجھاتے کہ پیٹ میں ہڈی نہیں ہوتی ہڈ حرام) آنکھوں کا نور چل پڑا، ٹانگیں لرزنے لگی ہیں، دانتوں کا ایک قطار غائب شُد، سر کے بال بچے تھے جو ہم نے زخیرہ کر لئے آہ خاں صاب واللہ جو تم کو دیکھا تو سمجھا کوئی کھوئی ہوئی دھوتی ملی ہو ہم کو! مرزا نے دانت دیکھائے اور ہم نے اس کے منہ میں خلا کو واضح محسوس کیا جو دانتوں کی کمی کی وجہ سے تھا.

ہم نے مرزا کی حالت ناپی اور سوچنے لگے کہ مرزا کو اگر ہوٹل میں قوال بنا کر لے جایا جائے تو کیسا رہے گا، لیکن اندر سے آواز آئی کہ دفع مار ہم نے فیصلہ تو کیا کہ لات مار کر دفع کرنے کا لیکن قوال حاصل کرنے کا آج شاید آخری دن تھا اور ہم کو یہ ڈر تھا کہ قزلباش صاحب جب ہزار روپیہ واپس مانگیں گے تو کیا جواب دیں گے، اور ایسا نہ ہو کہ ہوٹل ہی کا آخری دن نہ بنا دے سو بہت سوچا اور مرزا سے گویا ہوئے، جو ہم کو دیدے پھاڑ کر مسکین سی صورت بنا کر دیکھ رہے تھے.

مرزا یہ بتاو تم نے یہ گائیکی کی شروعات کب سے کی؟

مرزا : خاں صاب ہم نے بہت کوشش کی کام کرنے کی لیکن کسی نے کام پر نہ رکھا، سب لوگوں نے دھتکارا شاید ان کو ہماری خاندانی شخصیت پسند نہ آئی تو ایک دن کیا ہوا کہ ہم نے ایک کباڑی کی دکان میں یہ باجا دیکھا، باجا دیکھ کر ہمارے ذہن میں ایک منصوبہ بنا کہ کیوں نہ اپنا چھپا ہنر آزمایا جائے، پھر کیا ہوا کہ کباڑی کے ساتھ کام کرنے کا تہیہ کر لیا وہ بھلا آدمی تھا ہم کو صرف اس لئے رکھا کہ ہم روز اس کے سر کی مالش کریں گے اور کبھی کبھار پیٹھ کی بھی، چار و نا چار ہم مان گئے! تیسرے دن کیا ہوا کباڑی رفع حاجت کے لئے کہیں چل پڑا اور ہم باجا اڑا کر اڑن چھو ہوگئے….

کمینہ کہیں کا، بھلا ہم جیسا سجیلا جوان اب مالشی کرے گا، سو ہم باجا لے کر اپنے کھولی میں آئے اور اسی دن سے ریاض شروع کردیا، اخ واللہ خاں صاب کیا بتاوں خود کی آواز کو بار بار سننے کو دل کرتا رہا گیا راگ و سُر کا تال میل تم سنو تو عش عش کر اٹھو، پھر سوچا کیوں نہ اپنے اس ہنر کو زمانے کے سامنے لایا جائے آج تیسرا دن تھا کہ زہے نصیب آپ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا.

ہوں، مرزا کیا خیال ہے کہ اگر تم کو ایک جگہ قوال کی نشست دلاوں اور کچھ پیسہ بھی وہ بھی نقد؟ میں نے کہا!

مرزا اچانک اٹھا اور چیخ کر بولا دیکھا…..
ہم حیراں ہوئے کہ کیا ہوا؟

ہم نے کونسا وہ عجوبہ نہیں دیکھا جو مرزا کو دیکھائی دیا ہم نظریں یہاں وہاں پھیرتے رہے لیکن ندارد!

مرزا بولے…

باخدا آج ہم معلوم ہوا کہ ہماری ملاقات کیوں ہوئی، ایک تم ہی تو ہو جو اپنے لنگوٹئے یار کے ہنر کی صحیح پہچان رکھتے ہو ہم تیار ہیں یار بلائے اور دلدار نا آئے یہ ہو نہیں سکتا…

ہم نے مرزا کو بیٹھایا اس کو دو سو روپیہ دیا جو اس نے جلدی سے اچک کر اپنی قمیض میں کہیں غائب کردیا، اور سب کچھ سمجھایا کہ کہاں اور کسطرح اپنی جادوئی آواز کے پھول بکھیرنے ہیں اور اپنی خستہ حالی کا واسطہ بھی دلایا کہ کوئی اوٹ پٹانگ حرکت کی تو اس کی زبان کاٹ کر بلی کو کھیلا دوں گا…

مرزا کے روپ میں قوال مل گیا اب ایک طبلہ مار کی تلاش تھی جو مرزا کے جادوئی آواز کا ساتھ دیتا بہت دیر ہوچکی تھی آخر ایک “بازار” سے گزرتے ہوئے مرزا کسی جگہ گھس گیا اور آدھ گھنٹے بعد بمع طبلہ نواز کے باہر آن ورد ہوئے، شاید پہلے سے جان پہچان والے تھے.

ہم دونوں کو لے کر قزلباش کے یہاں چلے اور خوش ہوئے کہ نصیب جاگنے کے دن قریب ہیں نوکری نہیں تو کیا ہوا پیسے تو کچھ زیادہ ملیں گے، مرزا کو پیدل مارچ کرواتے ہوئے ہم ایسے دیکھ رہے تھے جیسے باجا اور طبلہ لے کر ہم سرحد پر پہنچ کر جوانوں کا لہو گرمانے کی سر توڑ کوشش میں ہوں…

خیر سے ہوٹل پہنچے جناب قزلباش نے جب دیکھا کہ ہم شہنشاہ قوال کو ساتھ لائے ہیں تو جھٹ سے باہر آئے اور بغل گیر ہوئے، مرزا کو دیکھا جس کے گلے میں باجا لٹکا ہوا تھا تو کچھ گڑ بڑ ہوئے لیکن عین ہم نے دخل اندازی کی اور مرزا کا تعارف کروا دیا…

ان سے ملیئے یہ ہیں جناب “نواز الدین مرزا لکھنو والے” قزلباش نے جو نام سنا تو اور پس و پیش نہ کی، بلکہ ان کو ایک طرف بیٹھنے کو کہا اور حال احوال پوچھنے لگے،
جناب کیا آپ نے کسی دوسری جگہ بھی قوالی سنائی ہے؟
مرزا تڑاخ سے بولے:
آجی کیا بات کرتے ہو ہم خاندانی قوال ہیں باپ دادا کی میراث ہے کوئی کھیل نہیں، اور ہم مرزا کی منافقت پر خاموش رہے.

قزلباش خاصے متاثر ہوئے اور ممنون نگاہوں سے ہماری طرف دیکھنے لگے جس میں یہی تاثر تھا کہ یہ نگینہ کہاں سے اٹھا لائے ہم، خیر وہ رات تو ہم مرزا کو اپنے ساتھ لے آئے اور طبلہ نواز کو قزلباش ساتھ لے گئے دوسری صبح مختلف تھی…

قزلباش تاکید کر گئے تھے کہ پہنچنے میں زیادہ دیر نا کروں قوال محترم کو عزت سے لے کر آوں، ہم جب اٹھے تو دن کے بارہ بج چکے تھے مرزا خواب خرگوش کے مزے لوٹتے رہے، وہ تب ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے جب ہماری ایک لات اس کی تشریف پر پڑی.

خاں یہ کیا ڈرامہ ہے ایسا کوئی جگاتا ہے، مروت بھی کسی شے کا نام ہے….

ہم نے اس کو بتایا کہ آدھا دن گزر گیا تان سین کی اولاد چل دھندے پر!

کون سا دھندا؟
وہ کمینہ ایک رات میں یہ بھول چکا تھا کہ اس کو میں قوال بنا کر لایا تھا، میں نے دانت پیستے ہوئے کہا، الو کے پٹھے ہوٹل میں قوالی سنانے نہیں جانا کیا؟ آج تمھارے ساتھ پہلا دن تھا اور پہلے دن ہی ہم تاخیر کے شکار….

خیر جب کوئی دو ڈھائی بجے کے قریب ہم ہوٹل پہنچے تو قزلباش صاحب کو خالی ہال میں طبلہ نواز کے اردگرد چکر لگاتے ہم نے دیکھا!

کیا دیکھتے ہیں کہ ہال کے ایک کونے میں دس بائی دس کا ایک چھوٹا سا لکڑی کا سٹیج نما لکڑی کا میز پڑا ہوا ہے اور اس پر نہایت شوخ رنگ کی ایک دری سی بچھی ہوئی ہے اور عین درمیاں میں مرزا کا باجا نہایت شاندار انداز میں صاف ستھرا رکھا ہوا ہے، طبلے والے کا طبلہ بھی خوب چمک رہا تھا، لگتا تھا قزلباش صاحب نے رسوئی کا بچا ہوا گھی اس پر مل دیا ہو!

قزلباش صاحب نے جیسے ہی مجھے دیکھا تیر کی طرح میری طرف لپکے اور خونخوار نظروں سے دیکھتا ہوا کہنے لگا…
کیوں بے تم نے کیا مجھے برباد کرنے کی ٹھان لی ہے کیا؟ ہاں…پیسہ میں بھروں اور حرام خور قوال کو تاخیر سے تم لے کر آو….

میں نے بڑی مشکل سے اسے سمجھایا کہ مالک قوال کو صبح صبح ریاض کرنے کی عادت ہے اور ریاض کرنے کے بعد وہ کچھ دیر آرام ضرور کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کا خاندانی رسم ہے…
میں نے مرزا کی طرف غصیلی نظروں سے دیکھا اور اس کی نگاہوں میں کمینی سی مسکراہٹ دیکھ کر میں خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا!

ہوٹل کے مالک جناب “شرافت علی قزلباش ” نے باقاعدہ طور پر قریب قریب سارے علاقے میں یہ اعلان بذاتِ خود کیا تھا کہ وہ ایک نایاب نسل کے قوال کو اپنی ہوٹل کی زینت بنائے ہوئے ہیں لہذا جناب کی قوالی سننے کا شرف حاصل کرنے کا موقع کوئی بھی ہاتھ سے جانے نہ دے قوالی کا وقت رات کے آٹھ بجے رکھا تھا شاید اس لئے کہ رات کو زیادہ تر لوگ آپنے کام دھندے سے فارغ ہوتے ہیں اور آنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی.

خدا خدا کرکے آندھیرا چھانے لگا اور اس دوران مرزا صاحب پیانو باجے پر اپنی مخنی انگلیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا رہا، اور طبلہ نواز کو راگ سُر بھی سمجھاتا رہا، قزلباش صاحب نے بھی اپنا رسوئی گھر سنبھالا ہوا تھا جہاں چائے بنانے کےلئے کیتلی، روٹی بنانے کے لئے توا، اور دوسرے لوزمات کے سارے انتظامات تیار تھے کہ جانے کون گاہک کب کس چیز کا آرڈر دے!

کچھ ہی دیر بعد کچھ لوگ ہوٹل نما ہال میں آنے لگے اور نیچے بچھے ہوئے دریوں پر براجمان ہوتے گئے، قزلباش صاحب کو رات کی تاریکی میں کھلی آنکھوں سے روشن مستقبل دیکھائی دینے لگا گاہک کا آنا اور وہ بھی اتنے زیادہ وہ بہت خوش دیکھائی دے رہا تھا.

مرزا لکڑی کے چبوترے پر ایک تکیے سے ٹیک لگائے سگریٹ پھونکتا رہا، اس نے فرمائش پر پان بھی منگوایا تھا جو کہ میں مجبوراً لے آیا تھا، جب ہوٹل میں لوگوں کی تعداد چالیس پینتالیس تک پہنچ گئی تو قزلباش نے میری طرف اشارہ کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ مرزا کو بتاوں کہ کوئی کلام پیش کیا جائے، اسی دوران دس پندرہ لوگوں نے چائے کچھ نے دوسرے لوازمات کی فرمائشیں کر دی تھی جو پوری ہو رہی تھی!

میں گیا اور مرزا کو قزلباش صاحب کا پیغام سنایا وہ سیدھے ہوکر بیٹھ گئے، مرزا نے طبلہ نواز کو اشارہ کیا اور طبلے پر چوٹ لگی اور وہ بج اٹھا، مرزا نے بھی پیانو باجے پر انگلیاں چلانی شروع کردی اور کچھ بے سرا سا راگ اور تال بجنے لگا، مرزا بار بار گلا کھنکارتا رہا، ہوٹل کے مالک مرزا کو ایک آنکھ سے اس کی طرف بڑے شوق سے دیکھتا رہا اور دوسری آنکھ سے گاہکوں کو تاڑتا رہا، جب مسلسل پانچ منٹ تک مرزا کے گلے سے کوئی آواز نہ نکلی تو لوگوں میں اکتاہٹ سی پیدا ہوگئی ایک دو نے تو کچھ جملے بھی کسے، اسی دوران میری نظر مرزا پر پڑی اور اس سے آنکھیں چار ہوئی….

میں بِدک پڑا اور میرے رہے سہے اوسان بھی جاتے رہے، مرزا کی صورت دیکھنے والی تھی جس پر صاف لکھا تھا کہ اسے کچھ سنانا نہیں آتا.

یک دم سے اس کی تیز چیخ سنائی دی سب لوگ اچھل پڑے اور مرزا کی طرف دیکھنے لگے، لوگ سمجھے کہ مرزا کو کسی سانپ نے کاٹ لیا کیونکہ چیخ ایسی تھی جس کو قوالی بلکل نہیں کہی جاسکتی، چیخ کے بعد مرزا یک دم سے اٹھے اور پیچھے بیٹھے ہوئے لوگوں کو تالیاں مارنے کا اشارہ کرنے لگے!

میری حالت کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں اور اس پاپی کو تالیوں کی پڑی تھی، مرزا جب دوبارہ بیٹھ گئے سامنے بیٹھے ایک شخص کو سگریٹ دینے کا اشارہ کیا اس نے سگریٹ دیا مرزا لمبے لمبے کش لینے لگا اور بڑے سر اور تال میں پیانو باجے کو بجانے لگے ہم کو شک ہوا کہ شاید وقعی خاندانی قوال ہیں، مرزا شاید وجد میں آگئے تھے اور اسی وجد میں اس نے اپنے سامنے رکھے ہوئے شیشے کے گلاس سے سارا پانی ایک دم سے اپنے منہ میں انڈھیل دیا اور گلاس کو بڑی زور سے فرش پر دے مارا!

ہم نے اپنے جوتوں کو پاوں میں مضبوطی سے جما لیا اور باہر دروازے کی طرف دیکھنے لگے

ہماری اس بات کی خوش فہمی کہ مرزا وجد میں آگئے اور اب کوئی دھانسو کلام پیش کریں گے، اس وقت چکنا چور ہو گئی جب مرزا نے قوالی کی بجائے قومی ترانہ پورا گلا پھاڑ کر سنانا شروع کر دیا، ہم نے دیکھا کہ قزلباش صاحب نے ایک ہاتھ میں سٹیل سے بنا ہوا پانی کا جگ اٹھایا اور اس رسوئی گھر سے باہر نکلنے لگے،
ہم نے آو دیکھا نہ تاؤ دروازے کی طرف چھلانگ لگائی صرف ایک نظر اتنا دیکھ سکے کہ قزلباش صاحب کے ہاتھ سے سٹیل کا جگ پوری قوت سے مرزا کی طرف گولی کی طرح نکلا، لیکن مرزا کو چکما دینا آسان نہ تھا وہ پہلے سے اٹھے ہوئے تھے اور مسند سے نیچے لوگوں کی طرف کودے لیکن شاید دیر کر دی تھی اس نے کیونکہ اگر دیر نہ کی ہوتی تو ہم کو مرزا کی دلدوز چیخ نہ سنائی دیتی بیچارہ نواز الدین مرزا….

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
منتظر ہیں ہم صور کے، کہ جہاں کے پجاری عیاں ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *