صادقہ کی ڈائری کا ایک ورق ۔۔۔۔۔مونا شہزاد

“صادقہ کی ڈائری کا ایک ورق ”
میں اک لڑکی ہوں اسی لئے تو ڈرتی ہوں ۔
ہر اجنبی کی نظر ،مسکراہٹ، التفات ۔۔۔
میرے لئے ہے بدنامی کا پیامبر !
میں امی ابا کی اچھی بیٹی ہوں ۔
اسی لئے مجھے جدھر بیاہا جائے ،
میں سر جھکا دیتی ہوں ۔
میرے ویروں کے شملے اونچے رہیں اسی لئے سسرال کے غم چھپا کر رکھتی ہوں۔
میرا شریک حیات مجھے مسکرا کر روز کہتا ہے:
آہستہ آہستہ حالات بدل جائیں گے ،تمھیں سب اپنا لیں گے” ۔
پھر اپنا حق وصول کرکے وہ سو جاتا ہے۔ میں آہستہ آہستہ سسکیاں لیتی ہوں کہیں اس کی نیند نہ خراب ہوجائے۔
میں روز اس امید پر اٹھتی ہوں کہ شاید آج مجھے بھی انسان تسلیم کرلیا جائے گا جو کبھی تھک جاتا ہے ، کبھی بیمار بھی ہوجاتا ہے مگر روز میں تھوڑا سا مر جاتی ہوں ۔
میری ساس بہت نماز قرآن کی پابند ہیں، اپنے بیٹوں کو اپنی بہنوں کا خیال رکھنے کو کہتی ہیں۔اپنی بیٹیوں پر جان نثار کرتی ہیں ۔ان کی بیٹیاں آئے دن میکے آئی رہتی ہیں میں سخت گرمی میں سب کے لئے پکاتی ہوں اور آخر میں بچا ہوا کھانا کھاتی ہوں ۔ میں حیران سی ہر ایک کا منہ تکتی ہوں میں بھی تو کسی کی” بیٹی” اور” بہن” ہوں۔ مجھ پر اکثر میری ساس اور میاں کا ہاتھ اٹھ جاتا ہے ۔میں اپنی چیخیں ضبط کرتی ہوں ۔نیلوں کو ٹکور کرتی ہوں ۔کوئی اگر پوچھے تو میز یا کرسی کے کونے کو ذمہ دار ٹھہراتی ہوں۔
اب تو میں کسی کی” ماں” بھی ہوں مگر نہ کسی کی “بیوی” ہوں نہ کسی کی” بہو” ہوں ۔میرے بچے میری کمزوری ہیں کیونکہ میرے سسرال کے مطابق یہ تو” ان کی نسل” ہیں۔ان کے بچے ہیں ۔ میری ساس نندیں بڑی محبت سے ان کے منہ چومتی ہیں مگر میرا منہ چومنے کے لائق نہیں ہے۔
ماں کے پاس جب بھی آتی ہوں وہ یہی پوچھتی ہیں
“اپنے گھر کب واپس جاؤ گی؟
میں اب بہت کم میکے جاتی ہوں ۔بھلا اپنی زرد رنگت،بدحال کپڑوں کا کیا جواز دوں؟
مجھے سسرال میں جب بھی کوسا جاتا ہے تو میرے ماں باپ کو بھی گالیوں میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ میری ساس مجھے ہر بار یہ جتاتی ہیں کہ میں ان کے بیٹے کا مال کھارہی ہوں۔ شادی کے بعد میرا کھانا پینا یا جوتا کپڑا کس کی ذمہ داری ہے؟
میں پتھرائی ہوئی آنکھوں سے چپ کرکے سنتی ہوں ۔میرا میاں اکثر جھلا کر کہتا ہے
“کیا مٹی کا مادھو میرے ساتھ باندھ دیا ہے؟
” کوئی رنگ اور خوبصورتی نہیں ہے ۔”
میں ہو لے سے مسکراتی ہوں اور سوچتی ہوں:
“لڑکیاں تو تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں ۔
پھولوں کی مانند ہوتی ہیں ۔
اگر کوئی ان کو سخت ہاتھ لگا دے تو وہ بے رنگ اور چرمرا جاتی ہیں۔ عورت میں رنگ اور خوشبو تو اس کے میاں کے مان،محبت اور تحفظ سے آتی ہے ۔میں کسی رشتے کو کمتر نہیں قرار دیتی مگر میرا بھی تو جیون ساتھی تجھ سے کوئی رشتہ ہے۔ کیا نکاح کا بندھن تمھیں میری عزت و آبرو کا محافظ نہیں بناتا ہے؟ ”
میرے دو آنسو روز کی طرح ڈائری پر گر کر روشنائی پھیلا دیتے ہیں ۔میں سرد آہ بھر کر ڈائری چھپا دیتی ہوں۔

Avatar
Munnaza S
میرا نام مونا شہزاد ہے، میں کالج کے زمانے سے لکھتی تھی،1994 میں بی اے کے دوران قومی اخبارات میں لکھنے کا سلسلہ شروع کیا،جو گاہے بگاہے چلتا رہا۔2001 میں شادی کے بعد کینیڈا آنے سے سلسلہ رک گیا۔میں زندگی کی مصروفیات میں گم ہوگئی،زینب کے سانحے نے مجھے جھنجھوڑ کر بیدار کیامیں نے قلم سے رشتہ استوار کیا۔اب میری تحریریں تمام بڑے آن لائن پلیٹ فارمز،آن لائن رسالوں، دیگر رسالوں اور اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *