بلوچستان کا عکس کمانچر کی نظر میں/اورنگ زیب نادر

25 نومبر 1988 کو ضلع کیچ کے سرحدی شہر مند میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی جس نے پوری دنیا میں بلوچستان کی چھپی ہوئی خوبصورتی ، کسمپرسی اور ثقافت کو افشاں کردیا۔ یہ نوجوان سرور بلوچ المعروف کمانچر بلوچ ہے جن کے فن نے بلوچستان کو دنیا سے آشنا کردیا۔بلوچستان اپنی خوبصورتی اور ثقافت کے حوالے سے مشہور ہے، ایک دہائی سے زیادہ کمانچر بلوچ کے کیمرے کا مرکز رہا۔ ان کی منفرد عکس بندی نے فوٹوگرافی کو ایک اور رنگ اور طرز دیا۔

کمانچر بلوچ نے اپنے فن کا آغاز 2008 میں کیا، انہوں نے سادہ موبائل فون کا سہارا لےکر عکس بندی کی دنیا میں قدم رکھا۔اپنے آبائی علاقے مند سے انہوں نے فوٹوگرافی شروع کی۔2015 میں باقاعدہ فوٹوگرافی کو اپنا پیشہ بنالیا۔ اوائل عمری سے کمانچر بلوچ کو فوٹوگرافی کا ذوق رہا ہے۔ان کا عزم مادر وطن کی خوبصورتی اور لوگوں کے مصائب کودنیا کے سامنے لانا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ اچھے ادارے سے فوٹوگرافی کی کلاسیں یا کورسز کریں لیکن مالی تنگی کے باعث حسرت ادھوری رہ گئی۔ وسائل کی کمی اور معقول مواقع نہ ملنے کے باوجود انہوں نے فوٹوگرافی میں اہم مقام اور اپنے لوہےکو منوایا ۔کمانچر بلوچ نے اپنے عکس بندی کے سفر میں سات ہزار سے زائد تصاویر کھینچی ہیں۔

سنگلاح پہاڑوں سے لے کر وسیع  ریگستانوں تک، خانہ بدوش قبائل سے لے کر ہنگامہ خیز بازاروں تک، کمانچر بلوچ کی تصویریں بلوچستان کے جوہر کو پوری شان و شوکت میں سمیٹتی ہیں۔ اپنے فن کے ذریعے انہوں نے نا  صرف بلوچستان کے شانداراوردلفریب قدرتی حسن بلکہ یہاں کے لوگوں کی جدوجہد پر روشنی ڈالی جن میں خانہ بدوش لوگوں کےاجڑے ہوۓ جھونپڑیوں، بلوچستان کے غریب بچوں کی تعلیم کی خواہش اور مقامی موسیقاروں کے آلہ بجاتے ہوئے اپنے کیمرے میں قید کیا ۔ان کی تصاویر ایک ایسی سرزمین کی کہانی بیان کرتی ہیں جو ثقافت، تاریخ اور روایت سے مالا مال ہے۔

کمانچر بلوچ کو اپنی فوٹوگرافی کے سفر میں کئی مشکلات کا سامنا رہا ہے جن میں ان کے ذاتی مشکلات کے ساتھ ساتھ طبی مشکلات رہے۔ ذیابیطس، معدہ کی بیماریاں، نظر اور جسمانی کمزوریوں نے ان کی عکس بندی کے سفر میں خلل ڈالا لیکن اس باہمت نوجوان نے ہار نہیں مانی۔ اسی اثناء انہوں نے تصاویر کی نمائش اور فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنے علاج و معالجہ کرسکیں۔ پہلے وہ ایسے کرنے میں تامل تھے لیکن بعد میں انہوں نے سوچا ایسا کرنے میں نہ صرف علاج کے مشکلات آسان ہونگے بلکہ مزید بلوچستان کے پوشیدہ خوبصورتی کو قید کرسکیں گے۔ انہوں نے مختلف شہروں میں تصویروں کی نمائش کی۔ کمانچر بلوچ نے اپنے جیسے فنکاروں کے لیے حکومت اور مقامی اداروں کی جانب سے تعاون کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا۔ حکومت کی جانب سے فنکاروں کے لئے کوئی اسکیم نہیں تھی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

کمانچر بلوچ ایک باہمت انسان تھے۔ بیماریوں کو یکطرف کرکے انہوں نے فوٹوگرافی کے سفر کو جاری رکھا لیکن بیماریاں ان پر عالب رہے اور وہ کچھ عرصہ ہسپتال میں زیر علاج رہے لیکن بدقسمتی سے وہ 16 اپریل 2024 کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان کی بے وقت رحلت کسی بڑے سانحہ سے کم نہیں ہے ان کی انتھک محنت، بےبہا لگن نے بلوچستان کے چپے چپے کی خوبصورتی ، مصائب اور ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ان کی فوٹوگرافی کے میدان میں بیش بہا خدمات قابل ستائش وتحسین ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply