اپنی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو

اسلام قوانین کا دین ہے، آپ دنیا بھر کے قوانین و ضوابط اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو یہ کسی نہ کسی طرح قرآن و حدیث سے ہی کشید کردہ ملیں گے، محترم استاد قاری حنیف ڈار صاحب نے اطلاع دی کہ ابوظہبی میں بھی یورپ کی طرح گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھنے والوں کے لیے بھی سیٹ بیلٹ باندھنے کی پابندی عائد کر دی گئی ہے، اس پابندی اور جرمانے پر مومنین نے افسوس کا اظہار کرنا شروع کر دیا. زیر نظر تحریر اسی کے ردعمل میں ہے.
قرآن کریم میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں.
وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(سورۃ البقرۃ، آیت 195)
‏ اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں مت ڈالو اور نیکی کرو بے شک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔
امام بخاری ؒ اور ابن ابی حاتم اور دیگر حضرات نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے راستے [یعنی جہاد] میں خرچ کرنا چھوڑ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو ۔ (بخاری ۔ تفسیر ابن ابی حاتم)
لیکن اس آیت کا عام حکم اور مفہوم بہت وسیع ہے ۔غور کیجئے، کہا گیا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو.. ہر وہ چیز ہر وہ کام جو آپ کے لیے یا آپ کے اردگرد رہنے والوں کے لیے تکلیف اور پریشانی کا سبب بنے وہ منع ہے.
ایک چیز مضر صحت ہے پھر بھی اسے استعمال کرنا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے شراب، ہیروئین، چرس ہو یا پان، سگریٹ چھالیہ وغیرہ مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں، یہ سب حرام ہیں، اسی طرح بیماری کی صورت میں حلال چیزیں بھی حرام ہو جاتی ہیں. ایک شخص کو ہائی بلڈ پریشر ہے پھر بھی وہ نمک کھاتا ہے، ایک صاحب کو شوگر ہے پھر بھی وہ میٹھی چیزوں کا استعمال کرتے ہیں. یہ خودکشی ہے۔ اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو مارنے کے برابر ہے. جوا کھیلنا، لاٹری ٹکٹ کھیلنا، فضول پیسہ خرچ کرنا بھی اپنے ہاتھ سے خود کو برباد کرنا ہے. یہ تھا انفرادی طور پر ہلاکت کا بیان ۔لیکن آپ کے کچھ اعمال نہ صرف آپ کو بلکہ دوسروں کو بھی ہلاکت میں ڈال سکتے ہیں. آپ تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہے ہیں تو آپ نے اپنے ساتھ دوسروں کو بھی ہلاکت میں ڈال دیا، آپ نے سڑک پر کچرا پھینک دیا، کانچ کی بوتلیں یا کیلیں پھینک دیں، آپ نے غلط پارکنگ لگا کر راستہ تنگ کر دیا یہ سب ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے.
کوئی بھی ایسی حرکت جس سے عام لوگ تکلیف میں مبتلا ہو جائیں، از روئے شریعت حرام اور ناجائز ہے۔ مسلمان تو پُر امن ہوتا ہے، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ دین اسلام کی تعلیمات میں سے ہے کہ مسلمانوں کو اپنے راستے کشادہ رکھنے چاہئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ راستہ سات ہاتھ یعنی ساڑھے دس فٹ مقرر کیا کرو(مصنَّف ابن ابی شیبہ422/19) مگر ہماری گلیاں راستے تنگ و تاریک ہیں، ہم میں سے ہر ایک کی کوشش ہے کہ اپنی دیوار دو فٹ آگے بڑھا کر زیادہ جگہ پر قبضہ کر لے، حضرت سہل بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ’’ایک مرتبہ ہم نے حضورﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں شرکت کی۔راستے میں پڑاؤ ہوا تو لوگوں نے خیمے قریب قریب لگا لیے جس سے راستہ تنگ ہوگیا۔اس وقت حضورﷺ نے ایک منادی بھیج کر لوگوں میں اعلان کرایا کہ جو شخص راستے میں تنگی پیدا کرے گا یا راستہ کاٹے گا تو اس کا جہاد قبول نہیں!‘‘ (سنن ابوداؤد 47/2)
دیکھیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے راستہ تنگ کرنے یا بند کرنے پر کتنی سخت وعید سنائی ۔جبکہ ہمارے ہاں راستوں میں غلط پارکنگ، ریڑھیاں، ناجائز تجاوزات عام ہیں. اسی طرح حضرت سیار بن معرور رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے تو میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا: ’’اے لوگو! رسول اللہ نے یہ مسجد بنائی اور اس وقت ہم رسول اللہ کے ساتھ تھے۔ انصار بھی تھے اور مہاجر صحابہ بھی۔ (مسجد ہم سب کے لیے بنی ہے اس لیے) اگر اب اس مسجد میں مجمع زیادہ ہوجائے تو تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کی پیٹھ پر سجدہ کرے۔چند لوگوں کو آپ نے دیکھا کہ وہ راستے میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ مسجد کے اندر نماز پڑھو۔‘‘ (اتحاف الخیرہ المھرہ309/2)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں راستہ بند کرنا یا اس میں تنگی پیدا کرنا نہایت مذموم ہے کیونکہ راستہ لوگوں کے گزرنے کے لیے ہوتا ہے اگر راستہ بند کردیا جائے تو گزرنے والوں کو سخت دشواری کا سامنا ہوگا. کراچی دنیا کا سب سے زیادہ مسلم آبادی والا شہر ہے لیکن کراچی شہر کے ٹریفک اور کچرے کے مسائل ہمارے سامنے ہیں. ہم ہر گلی کے نکڑ پر کچرا پھینک دیتے ہیں، ہماری نالیاں، گٹر، ندیاں نالے گند سے بھرے پڑے ہیں، ذرا سی بارش سے گٹر ابل پڑتے ہیں اور پورا شہر گندگی اور تعفن سے بھر جاتا ہے، ہر سال کئی بچے کھلے گٹر میں گر کر مرتے ہیں یا پھر نالے میں..
ہر دیوار، ہر بس سٹاپ، ہر کونہ کھدرا پان کی پیک سے بھرا ہوا ہے، ہم چلتی بس سے پان، نسوار تھوک دیتے ہیں، کہیں بھی جلتا سگریٹ پھینک دیتے ہیں، ہم بسوں کی چھتوں پر یا دروازوں پر لٹک کر سفر کرتے ہیں، موٹرسائیکل پر دو کی بجائے چار بیٹھتے ہیں اور اگر بچے ہوں تو آٹھ بھی ممکن ہیں، ہمارے تقریباً تمام ٹرک اوور لوڈنگ کرتے ہیں یوں ٹریفک حادثات تین گنا ہو جاتے ہیں.
ہمارے ہاں پبلک سیفٹی بالکل نہیں ہے، ہم اونچی اور بڑی عمارتیں بنا لیتے ہیں لیکن ان میں آگ بجھانے کا سسٹم نہیں لگاتے، ہمارے پاس فائر بریگیڈ ہے ہی نہیں، ہماری فیکٹریاں کارخانے روزانہ حادثات کا شکار ہوتے ہیں، تفریحی مقامات پر بھی سیفٹی کا کوئی نظام نہیں کراچی ہمارا سب سے بڑا ساحل ہے جس پر ایک بھی لائف گارڈ نہیں، باقی ملک میں بھی لائف گارڈ کا کوئی تصور نہیں جبکہ مغرب سوئمنگ پول کے ساتھ بھی لائف گارڈ رکھتا ہے۔
ہماری ریلوے کا شمار سب سے زیادہ حادثات کا شکار ہونے والی ریلویز میں ہوتا ہے، ہزاروں کراسنگ ایسے ہیں جن پر پھاٹک نہیں ہے اور اگر پھاٹک ہے تو اٹینڈینٹ نہیں ہیں، ہمارے لوگ ٹرین کے دروازے اور چھت پر سفر کرتے ہیں، ہم اپنی کشتیوں میں بھی گنجائش سے زیادہ لوگ بٹھا لیتے ہیں. ہم تین سو ارب روپے کی میٹرو اور اورینج لائن بناتے ہیں لیکن اپنا لائسنس سسٹم ٹھیک نہیں کرتے پاکستانی لائسنس کو دنیا جوتے کی نوک پر رکھتی ہے، ایک گورا ہمارے ہاں آتا ہے اور پاکستانی پاسپورٹ بنا کر چلا جاتا ہے. یہ ہے ہماری سیفٹی اور سیکیورٹی کی حالت زار…
ہم اپنے ہاتھوں سے اجتماعی خود کشی کی طرف گامزن ہیں اور اگر کوئی ہمیں سدھارنا چاہے تو ہم یونین بناتے ہیں، جتھے اور ڈنڈا بردار فورس بناتے ہیں ہڑتالیں کرتے ہیں اور حملہ آور ہو جاتے ہیں.

اے ایمان والو، اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں مت ڈالو ۔۔۔

قمر نقیب خان
قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *