بُک ریویو: مادھو لال حسین۔۔۔۔نین سکھ/تبصرہ احمد سہیل

یہ ناول مادھو لال شاہ حسین کی زندگی کے پس منظر میں لکھا گیاہے۔ جس کو سوانحی ناول بھی کہا جاسکتا ہے۔ اصل میں یہ ناول لاہور میں آسودہ خاک دو صوفیوں کی زندگیوں سے متاثر ہوکر نیل سکھ نےاسے معاصر کہانی یا کتھا میں تبدیل کردیا ہے۔ ناول نگار نے اپنی تخلیقی فراست و فطانت سے اور تخلیقی تجزیاتی ہنر کے ساتھ جنوبی ایشیا کے معاشرتی، ثقافتی، جمالیاتی اور سیاسی تاریخ کے تناظر میں ایک صوفی کے” جنون” کو ” مابعد ماضی کی گمشدگی” [LAPSARIN] سے دنیا کو لاتعلق کرکے دکھایا ہے۔ ناول نگار نے مادھو لال حسین کی زندگی کو تاریخ سے نکال کر ایک استعارے میں تبدیل کردیا ہے۔ اس ناول میں حقائق حساس اور جذباتی نوعیت کے ہونے کے ساتھ ساتھ اثر انگیز مایوسی، یاسیت لایعنی وجودیت ، طنز آمیزی اور تناقص کا احساس دلواتے ہیں۔ ناول کے واقعات کو پڑھکر قاری نطشے کی معاشرتی اور ثقافتی فکریات سے رجوع کرنے لگتا ہے۔ جہاں پر معاشرتی تضادات کے سبب معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوجاتا ہے ۔ نین سکھ نے مادھو لال حسین کے زندگی کے حقائق کو اکٹھا کرکے ایک شاندار تخلیقی “رسائی ” کے تحت ناول کے ” لاتعلقی” کے مزاج کو اخذ کرکے اس ناول کا اصل مقولہ دریافت کیا ہے۔ یہ بڑے کمال کا ناول ہے۔ اس کا انداز نگارش دیگر عصری ناولوں سے مختلف اور اچھوتا ہے ۔ اس میں تاریخ نویسی اور تاریخ کاری کی افسانوی ہیت کی مخصوص شعریات کی جمالیاتی خوشبو بکھری ہوئی ہے۔ ناول نگار نین سکھ اردو سے پنجابی کی طرف آئے۔

شاہ حسین مادھو لال کا مرقعہ ذات۔ عشق مادھو لال اور ناول کا پس منظر

شاہ حسین المعروف مادھو لال حسین ایک صوفی اور پنجابی شاعر تھے ۔ شاہ حسین تصوف کے فرقہ ملامتیہ سے تعلق رکھنے والے صاحب کرامت صوفی بزرگ اور شاعر تھے، وہ اُس عہد کے نمائندہ ہیں جب شہنشاہ اکبر مسند اقتدار پر متمکن تھا۔
حضرت شاہ حسینؒ لاہوری 945ھ بمطابق 1538ءکو اندرون ٹکسالی گیٹ میں پیدا ہوئے آپ کے والد گرامی کا نام شیخ عثمان تھا جوکہ جولاہےتھے۔ شاہ حسین کے دادا کا نام کلجس رائے تھا جنھوں نے فیروز شاہ تعلق کے دور میں اسلام قبول کیا۔ آپ کاخاندانی نام ڈھاڈھا حسین تھا ۔ ڈھاڈھا پنجاب کے راجپوتوں کی ایک ذات ہے۔
شاہ حسین کی روز مرہ زندگی ملامتی زندگی میں رچی ہوئی تھی۔ انکے مطابق طالب اور مطلوب کے درمیان رابطے کے لئے کسی تیسری ذات کی موجودگی اور اس کا فعال تعاون ‘ بے حد ضروری ہے۔ شاہ حسین کہتے تھے کہ انسان کا ظاہراورباطن ایک ہونا چاہیے
شاہ حسینؒ جب عمر مبارک کے 51ویں برس میں داخل ہوئے آپ کو مادھو لال نامی ہندو برہمن سے عشق ہوگیا ۔جو کہ شاہدرہ کا رہائشی تھا شاہ حسینؒ مادھولال کے مکان کے گرد چکر لگاتے رہتے اور اندرون خانہ کی ساری باتیں باہر بیان کرتے آہستہ آہستہ مادھولال بھی رنگ شاہ حسین میں رنگا گیا اور گھر بار چھوڑ کر دامن شاہ حسین سے پیوستہ ہوگیا اور دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا ۔شاہ حسین نے آپ کا اسلامی نام محبوب الحق رکھا شاہ حسین کی نظر کرم کی بدولت مادھو جلد ہی تصوف کے درجہ کمال کو پہنچے۔ شاہ حسین کے حکم پر انہوں نے تیرہ سال مغل فوج میں ملازمت اختیار کی۔ ان دو افراد کا تعلق اتنا گہرا ہو گیا کہ عوام شاہ حسین کو مادھو لال حسین کے نام سے جاننے لگے، گویا وہ دونوں یک جان ہو گئے۔ قربت کا یہ گہرا تعلق جو ان کے درمیان پیدا ہوا، ان کی زندگی ہی میں بہت سی بدگمانیوں اور اختلافات کا باعث بن گیا۔ ہندوستانی تصوف کے ماہر جان سبحان لکھتے ہیں کہ ایک ہندو لڑکے اور مسلمان فقیر کا یہ انتہائی قریبی تعلق ان کے معاصرین کے نزدیک “قابل شرم” ہونے کی وجہ سے “قابل اعتراض کردار” کا مظہرتھا۔ جبکہ جان سبحان ان دو افراد کے درمیان تعلق کی اس “ناقابل صبرکشش” کو “عشق” قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح پنجابی تاریخ دان شفیع عاقل مادھو اور شاہ حسین کے اس تعلق کو “لا محدود محبت” کہتے ہیں اور اس تعلق کو بیان کرنےکے لیے زبان و بیان کے وہی پیرائے اختیار کرتے ہیں جو عام طور پر مرد اور عورت کے تعلق کو بیان کرنےکے لیے اختیار کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ “مادھو سے شاہ حسین کو پیار تھا اور خود مادھو بھی ان کو چاہتے تھے”۔وہ یہاں تک لکھتے ہیں کہ “شاہ حسین مادھو سے کسی صورت جدا ہونے کے لیے آمادہ نہ تھے۔
۔ڈاکٹر موہن سنگھ دیوانہ نے بھی مادھو کا قصہ مسترد کرتے ہوئے لکھا ہے، ’’مادھو برہمن کا قصہ بھی محض گپ شپ ہے اور حسین کے تصوف کو بدنام کرتا ہے، حسین کی کافیوں میں مادھو کا کہیں ذکر نہیں‘‘۔ یہ بات بہت وزن رکھتی ہے کہ اگر شاہ حسینؒ مادھو کے عشق میں اتنے دیوانے تھے تو اپنی شاعری میں کہیں تو اس کے حوالے سے کچھ بیان کیا ہوتا۔کوئی شاعر اپنے حقیقی یا مجازی محبوب کو شاعری کرتے ہوئے کیسے نظر انداز کر سکتا ہے۔ ہمارے پاس اگر کچھ مستند مواد شاہ حسینؒ کے حوالے سے ہے تو وہ اس سے منسوب وہ کافیاں ہیں جن میں مادھو کا کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی حقیقت الفقرا اور تحقیقات چشتی سے پہلے مادھو کا کوئی قصہ بیان کیا گیا اور نہ ہی ہیں شاہ حسین ؒ کو اس سے پہلے مادھو لال حسینؒ لکھا گیا اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ اس تاریخی گمراہی کی اصلاح کرتے ہوئے مادھو لال حسین ؒ کے بجائے اصل نام حضرت حسینؒ سے ہی پکارا جائے، لکھا جائے اور حوالہ دیا جائے۔” شاہ حسینؒ کے مرنے کے ساٹھ ستّر سال بعد جب شیخ پیر محمد نے شاہ حسین کی حیات کے بارے میں حقیقت الفقرا نامی مثنوی بزبانِ فارسی تحریر کی تو گمان غالب ہے کہ فرید الدین عطار کی’’ منطق الطیر‘‘ سے متاثر ہو کے وحدت الوجودی فلسفے کو بیان کرتے ہوئے شیخ پیرمحمد نے من و تو کی دوری ختم کرنے اور عشقِ مجازی کا سہارالے کر مادھو اور شاہ حسینؒ کی محبت کا قصہ گھڑا ہو، اس لیے کہ آخر میں یہ کہا جاتا ہے کہ مادھو کی شکل مرنے سے پہلے بالکل شاہ حسین ؒ جیسی ہو گئی تھی۔
عربی کے عالم اور صاحب کرامت صوفی تھے۔شاہ حسینؒ کے بارے میں میاں ظفر مقبول نے ایک جگہ لکھا ہے ؛’’شاہ حسین کا تصوف اصل میں مستی کا تصوف تھا جو کہ ذکر خفی اور تصور کی منزلوں سے بہت آگے کی بات ہے تاہم ان کے تصوف میں اخلاق، فلسفہ، خیال، رومانیت اور اس کے جملہ عناصر کے اسرارورموز سبھی کچھ موجود ہیں۔‘‘ شاہ حسین کی وفات ایک حوالے کے مطابق 1599ء اور تحقیقات چشتی کے مطابق بھی 1599ھ میں ہوئی جبکہ شفقت تنویر مرزا کی تصنیف ’’شاہ حسین دی حیاتی‘‘ کے مطابق ان کی وفات 63سال کی عمر میں 1601ء میں ہوئی۔ شاہ حسین نے اپنے احباب اور عزیز واقارب کو وصیت کی تھی کہ مجھے شاہدرہ میں دفنا یا جائے۔ تیرہ برس بعد میری قبرراوی کے سیلاب سے تباہ ہو جائے گی۔ بعد میں مجھے بابو پورہ حالیہ باغبانپورہ میں دفن کیا جائے لہٰذا ایسا ہی ہوا۔ آج ان کا مزار باغبانپورہ میں موجود ہے۔ شاہ حسینؒ کے کلام کے قلابے انسان کی حقیقت اور انسان کے اگلے پڑاؤ سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے فکروفن کے ذریعے لوگوں کے دلوں پر حکومت کی۔ شاہ حسین نے پنجابی ادب کو کافی کی صنف سے روشناس کرایا، ان کو کلاسیکل دور کا دوسرا بڑا شاعر کہا جاتا ہے۔ ان کے کلام میں امن وآشتی ،صلح ومحبت ، پیار واخلاق اور انسانیت کی رہنمائی ہے۔ انہوں نے حق اور سچ کا بول بالا کیا ہے اور اپنے عارفانہ کلام کے ذریعے محبت کا پیغام دیا ہے۔ ان کی تعلیمات اخلاقیات کا درس دیتی ہیں۔
لاھور میں برس ہابرس تک درو یشانہ رقص و سرورکی محفلیں آباد کرنے کے بعد یہ درویش 1599ء {1008ھ } میں اللہ کو پیارا ہوگئے۔ ان کی قبر اور مزار لاہور کے شالیمار باغ کے قریب باغبانپورہ میں واقع ہے۔ یہ صدیوں سے باغبان پورہ لاہور شہر میں فیوض و برکات کا سرچشمہ ہے۔ ہر سال مارچ کے آخری ہفتے میں میلہ چراغاں کے موقع پر ان کا عرس منایا جاتا ہے۔ مادھو انکے بعد اڑتالیس سال بعد تک زندہ رہے اور انہیں شاہ حسین کے برابر میں ایک مقبرے میں دفنایا گیا۔
شروع سے لے کر 1950ء تک میلہ چراغاں یا مادھو لال حسین(شاہ حسینؒ) کا عرس شالا مار باغ میں ہوا کرتا تھا مگر بعد میں شالا مار باغ کی تخریب کو مد نظر رکھتے ہوئے میلے کو جی ٹی روڈ اور باغبانپورہ تک محدود کر دیا گیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق آٹھ سے دس ہزار لوگوں کا روزگار اس میلے سے وابستہ ہوتا ہے۔ یہ میلہ عوام کو محض تفریح فراہم نہیں کرتا اورنہ ہی خالصتاً عرس کی طرح منایا جاتا ہے بلکہ تجارتی مواقع بھی فراہم کرتا ہےیہ مزار آج تک عقیدت مندوں کی بہت بڑی تعداد کا مرجع ہے کہ یہاں جدا نہ ہو سکنے والے دو ایسے عاشقوں کی قبریں ہیں جو مرنے کے بعد بھی اسی طرح ایک ہیں ‘ جیسے زندگی میں تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *