فلسفہ مذہب اور مُحَمَّد ﷺ۔۔۔۔۔اورنگزیب وٹو

مذہب انسان کا قدیم ترین ساتھی مددگار اور رہبر ہے۔ابتداۓ زمانہ سے مذہب ایک عظیم تصور اور فلسفے کی صورت انسانیت کا ہم سفر رہا ہے۔مذہب ہی وہ اولین منشور اور تصور تھا جس کی بنیاد انسانی حقوق اور اخلاقیات پر رکھی گئی۔بے شمار متبادل نظریات اور فلسفے رد مذہب کے طور پر سامنے آتے رہے۔مگر انسانی فطرت کے لیے ناقابل قبول اور ناقابل عمل ہونے کی وجہ سے اپنی اثر پذیری کھو بیٹھے۔

یونانی مادیت پرستی سے لے کر سوویت یونين میں نافذ کی جانے والی مادی اشتراکیت تک ہر اس نظام کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جس نے انسانيت کو مکمل طور پر مذہب سے دور کرنا چاہا۔مذہب انسان کے شعور اور لاشعور میں اس قدر نفوز کر چکا ہے کہ انسان کسی طور کسی متبادل خیال کو اپنا نہیں سکا۔مذہب نہ تو صرف انسانی جسم کی ضروریات پوری کرنے کا بندوبست ہے اور نہ انسان کو فکر دنیا سے بے خبر کر دینے والا کوئی  نشہ ہےبلکہ مذہب ایک ایسا عظیم فلسفہ ہےجو ہر تعصب کو مٹا کر انسانيت کو ایک ہی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔مذہب ہی وہ غیر متعصب عادل اور برتر نظام ہے جو انسانيت کو تقسیم کرنے کی بجائے متحد کرتا ہے۔آج جب قوم کے نام پر مختلف گروہ اپنی اپنی سرحدیں تشکیل دے چکے ہیں کسی دوسری نسل سے تعلق رکھنے والے انسان کو اجنبی قرار دیا جاۓ گا۔مشترکہ زبان کی بنیاد پر بہت سی ریاستیں قائم ہوئيں جن کی بڑی واضح مثال بنگلہ دیش ھے۔کیا کوئی  اور زبان بولنے والے انسان کو ایسی ریاستوں میں برابری کی جگہ مل سکے گی؟

امریکی قومی ریاست کی بنیاد جمہوریت کی بنا پر رکھی گئی اور اس جمہوریت میں سیاہ فاموں کا کوئی وجود نہ تھا۔مارکسی ریاستوں کی بنیاد مادی معاشی فلسفے کو قرار دیا گیا۔کیا یہ سارے نظام متعصب اور تنگ نظر نہیں جو قوموں کی پہچان نظریے کی بجائے رنگ نسل زبان اور جغرافيائی بنیادوں پر کرتے ہیں۔یہ اصول وسعت نظری سے عاری اور تنگ دامن ہیں۔ان اصولوں کے مقابلے میں مذہب اگر قومی وطن کی وکالت کرتا ہے تو اس وطن میں انسان رنگ نسل زبان اور ثقافت کی قید سے آزاد ہوں گے۔ایسے وطن میں اردو پنجابی سندھی پشتو بلوچی کشمیری سرائيکی بنگالی فارسی اور انگریزی بولنے والے ،مختلف رنگ نسل اور ثقافت کے امین راجپوت میمن مہاجر سندهی مارواڑی اور کوہستانی سب ایک نظریے کی بنیاد پر متحد ہو جاتے ہیں۔آفاقی نظریے کی بنیاد پر قائم ریاستیں ہی غیر متعصب اور جمہوری ہیں جب کہ اس کے متبادل اور مخالف خیالات انسانيت کے لیے قید خانے ہیں۔ان مادی نظریات کی بدترین شکل نازی جرمنی فاشسٹ اٹلی اشتراکی روس اور امریکی استعمار کی صورت ھمارے سامنے ہے۔

یہ مہینہ چونکہ تاریخ عالم کے سب سے بڑے انقلابی رہنما کی پیدائش کا ماہ مبارک ہے تو محمدﷺ کی زندگی اور فلسفہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔انہوں نے لوگوں کو رنگ نسل زبان یا جغرافیے کی بنا پر اکٹھا کرنے کی بجائے اس عظیم تر فلسفے کو کمال تک پہنچایا جو ان کے پیش روٶں نے ادھورا چھوڑا تھا۔جو انقلابات ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ جیسے عظیم پیامبروں نے برپا کیے انہی کا تسلسل اور معراج حضور کا انقلاب تھا۔انہوں نے عرب قوم پرستی کا نعرہ لگایا اور نہ ہی مزدکی فلسفے کی صورت معاشی نظریے کی ترویج کی۔حضور نے ایک ایسا نظریہ پیش کیا جو منطقی قابل عمل حقیقت پسندانہ اور غیر متعصب تھا۔مذہب کے ذریعے ایک سیاسی اور معاشرتی انقلاب برپا کیا اور وہ مذہب جو کبھی جنگلوں میں گیان ڈھونڈھتا پھرتا تھا اور کہیں کلیسا کی تنگ و تاریک راہداریوں کا مکین تھا،اس کو زندگی گزارنے کا رہنما اصول بنا دیا۔انہوں نے قانون سازی ریاستی معاشی امور سیاسی اجتماعوں کے لیے واضح اصول وضع کیے۔مذہب کو ایک ایسا نظام بنایا جو زندگی کے ہر شعبے کو اپنی فکر کے مطابق ڈھال لے۔حضور نے جو پہلی فلاحی قومی ریاست قائم کی اس کی بنیاد عربی بولنے والے،کسی خاص نسل سے تعلق رکھنے والے یا کسی مخصوص ثقافت کے حامل لوگ نہ تھے بلکہ اس ریاست کی بنیاد مشترکہ نظریہ تھی۔محمدﷺ اس وقت عربوں کو رومیوں اور ایرانیوں کے خلاف اکٹھا کرتے تو شاید عرب تاریخ کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے۔ اگر وہ خود پسند اور خواب دیکھنے والے ہوتے تو سکندر کی طرح دنیا فتح کرنے کا عظم رکھتے اور انکا شماریقیناً عظيم فاتحین میں ہوتا۔اگر مادیت اور معیشت کا فلسفہ پیش کرتے تو بلا شبہ مارکس کی شہرت پاتے۔اگر عظیم بدھا کی طرح تارک الدنیا ہو جاتے تو آج ان کے پیروکار بھی جنگلوں میں زندگی کی حقیقتیں تلاش کرتے پھرتے۔اگر قانون دان اور دانشور ہوتے تو یونانی حکما  جیسی شہرت پاتے مگر آپﷺ نے آفاقی عظمت،لافانی محبت اور پیروکاروں کی بے مثال عقیدت پائی۔

انہوں نے مذہب تاریخ سیاست علم فکر سماج جنگ اور سب سے بڑھ کر انسانی فطرت کے نباض کی حیثیت سے تاریخ عالم میں ایک ایسا مقام حاصل کیا جو نہ ان سے پہلے کسی کو حاصل ہوا اور نہ انکے کسی پیش رو کو ایسا مرتبہ نصیب ہوا۔حضورﷺ زمانہ قدیم کی حقیقتوں سے آشنا اور جدید کے عظيم رہنماو رہبر بن کر سامنے آۓ۔حضور نے عیسایئت کے پیروکاروں کی طرح مذہب کو صوفی کی کٹیا کا مکین بنایا اور نہ ہی یہودیوں کی طرح مذہب کو ایک نسل کی میراث بنایا۔انہوں نے مثالی سماج اور سیاسی حکومت کی بنیاد اخلاق اور انسانی حقوق پر رکھی۔مذہب جو ہمیشہ سے اخلاق اور انسانی حقوق کا علمبردار تھا،پہلی مرتبہ ایک عظیم تر انقلاب برپا کرنے میں کامیاب ہوا۔اس انقلاب کی ضرورت کل بھی تھی آج بھی ہے اور آنے والے زمانوں میں بھی رہے گی۔مذہب کا عظيم فطری اور آفاقی نظریہ اپنے عظیم محسن محمدﷺ کی فکر اور فلسفے کی صورت انسانی زندگی کے اہم ترین حصے کے طور پر زندہ رہے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *