بھارت ماتا کا نیا ہیرو۔۔۔۔عامر عثمان عادل

مجھ سے ملیے میں ہوں ونگ کمانڈر ابی نندن
بھارت کے سابق ائیر مارشل کا بیٹا
میری بیوی بھی انڈین ائیر فورس کی سکواڈرن لیڈر رہ چکی یے
2004 میں مجھے بطور فائٹر پائلٹ بھارتی فضائیہ میں کمیشن دیا گیا
حال ہی میں پلوامہ حملہ کے بعد پورا بھارت پاکستان کو مزا چکھانے کیلئے اتاولا ہوا جا رہا تھا
میرے خاندانی پس منظر شاندار پروفیشنل کیرئیر اور خود میرے والنٹئیر جذبے کے پیش نظر سنٹرل کمانڈ نے مجھے ایک خاص مشن کی کمان سونپی
27 فروری کو میں نے لائن آف کنٹرول عبور کی اور اپنے طیارے کا رخ پاکستان میں اپنے ٹارگٹ کی جانب موڑ دیا اچانک مجھے پاک فضائیہ کے طیارے اپنی جانب بڑھتے دکھائ دئیے اس سے قبل کہ میں سنبھل پاتا فضا میں ایک کوندا لپکا اور میرے مگ کے پرخچے اڑا کر رکھ دئیے اب میرے پاس کوئ اور چارہ نہیں تھا کہ طیارے سے کود کر جان بچا لوں اور میں نے ایسا ہی کیا
زمین پر گرتے گرتے چوٹیں آئیں ہمت کی اٹھا اور روپوش ہونے کی کوشش میں تھا کہ مقامی لوگوں کے بپھرے ہجوم نے دبوچ لیا مجھے اندازہ ہوا کہ میں پاکستان کے علاقے میں گرا ہوں
غصے سے بھرے لوگ بھارتی سورما پر ٹوٹ پڑے قریب تھا میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاتے وہ تو بھلا ہو پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کا جو فرشتے بن کر وہاں پہنچے میری جان چھڑائ اور اپنے حصار میں بحفاظت نکال لے گئے
میرے لئے افواج پاکستان کا یہ روپ بالکل حیرت انگیز تھا سچی بات تو یہ ہے ایسے برتاو کی مجھے ہر گز توقع نہ تھی
اس کے بعد میں نے دنیا کی بہترین سپاہ کی مہمان نوازی دیکھی میرا علاج معالجہ تیمار داری دیکھ بھال سب کچھ مثالی تھا انسانیت کے اس روپ سے آج میں پہلی بار آشنا ہو رہا تھا اور مجھے یہ کہنے میں کوئ باک نہیں کہ اپنے دیش میں ایسے کسی رویے کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی
جہاں بے گناہ پاکستانی قیدیوں کو بھارتی جیلوں میں بدترین تشدد اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے
اس وقت تو میری حیرت کی کوئ انتہا نہ رہی جب پتہ چلا کہ خیر سگالی اور امن کی خاطر مجھے رہای دی جا رہی یے
لیکن یقین اس گھڑی آیا جب واہگہ بارڈر پر مجھے بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا
مجھے گمان تھا کہ دیش پہنچتے ہی کیا نیتا اور کیا جنتا میرا سواگت کرنے پھول لئے کھڑے ہوں گے لیکن یہ کیا مجھے تو بھارتیہ فوج کے سپاہیوں تک نے سییلیوٹ نہیں کیا
میں اندر ہی اندر ٹوٹ رہا تھا کہ یہ سب کی نظریں بدلی بدلی سی کیوں ہیں
ہاں یاد آیا میں نے پاکستانی سرزمین پر اپنے ویڈیو بیان میں یہ کیا ستم کر دیا تھا کہ پاکستانی فوج کو بہتر ین پروفیشنل فوج قرار دے دیا اور انکی مہمان نوازی کی تعریف کئے بنا نہ رہا
آپ ہی فیصلہ کیجئے کیا میں ایسے سلوک کا سزا وار تھا جو پاکستان نے مجھ سے روا رکھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اس سرزمین پر پھول نچھاور کرنے نہیں بلکہ آگ اور بارود کی بارش کرنے آیا تھا جیتی جاگتی بستیاں تاراج کرنے آیا تھا آبادیوں کو ملیا میٹ کرنا پاکستانی فوجی املاک کو گزند پہنچانا میرا ٹاسک تھا جس میں مجھے بری طرح ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور شاہینوں نے ایک ہی وار میں مجھے خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا لیکن باوجود اس کے جس انداز میں میرا خیال رکھا گیا اس نے قدم قدم مجھے انسانیت کا بھولا سبق ازبر کرا دیا
سنا ہے میرے دیش کا میڈیا مجھے ھیرو بنا کر پیش کر رہا یے
اور پاکستان کے کچھ دانشور اس بات پر پریشان ہیں کہ ابی نندن کو واپس کرنے سے بھارت کی فتح ہو گئئ ہے
واھگہ بارڈر پر آپ نے میری بھارتی حکام کو حوالگی کی تقریب تو دیکھ لی ہو گی کیا ایک ھیرو کی باڈی لینگوئج ایسی ہی ہوتی ہے ؟
24 گھنٹے گزر جانے کے بعد اب تک مجھ سے روا رکھا گیا رویہ کیا ایک ھیرو کے شایان شان یے ؟
پھر بھی اگر آپ مصر ہیں کہ میں بھارت ماتا کا ھیرو ہوں تو آپ کے حوصلے کی داد دینا پڑے گی
دنیا والو !
واھگہ بارڈر پر ایک ناکام فائیٹر پائلٹ کو رہائ کا پروانہ تھما کر پاکستانی حکام نے اس کی حوالگی کی دستاویز پر بھارتیوں سے دستخط نہیں کروائے بلکہ یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ آج ہمارے اس بیانیے کو شکست ہوئ یے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ریاست یے ایک دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان نے امن کا پرچم بلند کر کے ہمارے تمام باطل دعووں کو گنگا جمنا میں غرق کر دیا
مل کے بولو بھارت ماتا کی جے

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *