ایک زرداری سب پر بھاری تھا،ہے اور رہے گا۔۔۔۔۔عارف خٹک

کراچی کے معروف صنعتکار خاندان، جس کی دو ملز نوشہرو فیروز سندھ میں لگی ہیں۔ پانچ ہزار ملازم ہیں،جس میں نوے فی صد سندھی ہیں۔ اس صنعت کار سے زرداری اور اس کی بہن فریال تالپور نے پچھلے دورِ حکومت میں کروڑوں روپے بطور بھتہ وصول کئے۔ بالآخر ان کے ملوں پر قبضہ جمانے کی کوششیں کیں۔مگر دونوں بہن بھائی کامیاب نہیں ہوسکے۔
دس دن پہلے نوشہرو فیروز سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم۔پی۔اے خان محمد ڈاہری نے پھر ان پر حملہ کروایا۔ مگر اس بار حملہ پولیس کے ذریعے کروایا گیا۔ پولیس نے بھاری نفری کےساتھ دھاوا بول کر ان کے کارخانوں کو قبضے میں لیا۔اور پیداوار بند کروا دی۔ ایس ایس پی نوشہرو فیروز طاہر ولایت نے ملوں کو پچھلے پندرہ دن سے بزور پولیس قبضے میں رکھا ہے۔یہ کہہ کر،کہ یہاں خیبر پختونخوا   سے آنے والے دہشت گردوں نے پناہ لی ہے۔اور پندرہ دن سے وہ دہشت گردوں کو ان کارخانوں میں ڈھونڈ رہا ہے۔
وزیر داخلہ شہریار آفریدی نے سندھ پولیس اور ہوم سیکرٹری کو نوٹس دیا۔کہ پولیس اور سیاسی جماعت کر کیا رہی ہے اور آئی جی سندھ امیر کلیم شیخ کو مراسلہ بھیجا۔

کہانی میں کس بات نے آپ کو زیادہ متاثر کیا؟

پولیس کے ایک ایس ایس پی کی جرات؟
یا زرداری کے وہی اوچھے ہتھکنڈے؟
یا پھر عمران خان حکومت کی بے بسی؟

چلیں اب آپ کو ہنسادیتا ہوں۔
آئی جی سندھ نے وزیر مملکت شہریار آفریدی کا خط ردی کی ٹوکری میں پھینکا۔اور وزیر مملکت سے فون پر بات کرنے سے منع کیا۔
پھر بھی آپ کا دعوٰی ہے کہ آپ بیرونی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کےلئے مُناسب ماحول فراہم کریں گے۔

یہ ہے آپ کے وفاق کی حکومت کے سو دن۔
لہٰذا اب مان بھی لو کہ ایک زرداری سب پر بھاری تھا۔ ہے،اور رہےگا۔
بولو جئے بھٹو
جئے زرداری!

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *