ایک شامی مجاہد کی آپ بیتی۔۔۔۔حمزہ ابراہیم

میرے کالے رنگ کو دیکھ کر شاید آپ سمجھیں کہ میں افریقی ہوں لیکن 2011 سے میں شامی مجاہد بن چکا ہوں- 2012 وہ سال تھا جب ہر سمت ہماری اسلامی فتوحات کا چرچہ تھا- سید قطب کی تعلیمات کے مطابق اسلامی انقلاب برپا ہوئے دو سال ہو چکے تھے- امت مسلمہ کی دعا سے مجاہدین نے تقریبا ًًً پورے شام پر اپنا قبضہ جما لیا تھا- قبضہ ہوتا بھی کیوں نہ، انڈونیشیا، ملایشیا، بنگلہ دیش، پاکستان، سعودی عرب، صومالیہ، نائجیریا اور لیبیا سمیت دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوۓ راسخ العقیدہ مسلمان جوق در شوق شہادت لیے شام کا رخ کر رہے تھے-

بشار الاسد کے دن گنے جا چکے تھے- دنیا بھر سے مجاہدین ‘ابو جہاد’ امریکہ کی مکمل حمایت ہی نہیں، مالی، عسکری اور ذہنی مدد بھی ہمارے ساتھ تھی- حکیم امت طیّب اردگان بھی موافق تھے- سب مجاہدین انہی کے ملک سے رستہ پکڑتے تھے- سعودی عرب ، قطر اور امارات نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے تھے- امریکہ نے یورپ کے کافی ملکوں کو بھی ساتھ ملا لیا تھا- اسرائیل تو شروع سے ہی حامی تھا، جب کبھی ہم مشکل میں ہوتے وہ شامی فوج پر فضائی حملہ کر دیتا- مجاہدین کے جذبہ جہاد میں اضافے کی خاطر ہر طرح کے دینی و دنیاوی اسباب مہیا تھے- پاکستان میں جماعت اسلامی ، دیوبند اور اہل حدیث برادران نقاروں کو تیل دے رہے تھے کہ شام میں فتح کا وقت آن پہنچا ہے، کہیں امریکہ بہادر ہم سے پہلے نہ نقارہ بجا دے- ہر آن مجاہدین ایک نئے  شہر پر پرچم اسلام لہرا رہے تھے، رافضی بشار الاسد کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا تھا- بدلے کا وقت آن پہنچا تھا ، الشیخ عدنان عرعوراور احمد الاسیر وغیرہ روضۂ حضرت زینب کو مسمار کرنے کی باتیں ٹی وی پر کرنے لگے تھے- عبدالله  ابن سبا کے بہکاوے میں آ کر صفین میں قتل ہونے والے صحابی رسول عمار یاسر کے روضہ کو تو پہلے ہی اسلامی طریقہ پر مسمار کیا جا چکا تھا جسے پہلے اہل بدعت نے شرک کا اڈہ بنایا ہوا تھا- اب بس دنوں یا مہینوں کا کھیل باقی تھا-

ہم نے اسلام کے گم گشتہ پیغام اوراحکامات کو دوبارہ زندہ کرنے میں کوئی کسر بجا نہ رکھی- اسلام کی وہ تعلیمات جو ماڈرن ازم کے چکر میں مسلمان بھول چکے تھے، ہم نے انکو عملی جامہ پہنا کر دکھایا- بلخصوص غلامی، اسلامی سزائیں جیسے ذبح وغیرہ کرنا، زندہ آگ لگانا، مفتوحہ علاقہ کی خواتین کو اپنی “پناہ” میں لینا، منافقین کی سرکوبی کرنا کو خوب زندہ کیا گیا- بد قسمتی سے نوے فیصد شامی لوگ مغربی تعلیم کے معیارات کے مطابق پڑھے لکھے اور روشن خیال ہیں- ہم جس بھی علاقے کو فتح کرتے وہاں پر اسلامی قوانین کے احترام میں بوڑھوں اور بچوں کی رعایت کرتے، باقی لوگوں کو تہ تیغ کر دیتے- اس میں بھی اگر کوئی راسخ العقیدہ مسلمان نظر آ جاتا، جو شرک وغیرہ سے اجتناب کرتا ہو تو اسے بھی بخشش مل جاتی تھی- مگر روافض کے ساتھ بعض مجاہدین جلال پر قابو نہ رکھتے ہوئے حدود شریعت پار کر جاتے تھے- انکے بچے وغیرہ بھی ان بدبختوں کے اعمال کی بھینٹ چڑھ جاتےتے تھے- انکی عورتوں کو بھی بسا اوقات تبلیغ کرنے کی بجائے بس ہمبستری تک ہی محدود کردیا جاتا. بسا انھیں کہا کہ کیا پتا انکے دل میں اسلام آ جاۓ- مگر مجاہدین کی اکثریت قائل تھی کہ یہ شیعہ ٹھیک ہونے والے نہیں ہیں- انہیں بس کام میں لاؤ اور فی النار کر دو- بت شکنی بھی اہم اسلامی فریضہ ہے جسے ہم نے خلافت میں قائم کیا اور تمام مراکز کفر جیسے چرچ وغیرہ کے ساتھ عالمی دباؤ کے باوجود رعایت نہ برتی- بد قسمتی سے صحابہ نے شام کے آثار قدیمہ کو تباہ نہیں کیا تھا- صحابہ سے توحید کے پرچار میں جو کسر رہ گئی وہ ہم نے امریکی بموں سے پوری کی اورتدمر کے بت کدے کو اڑا کر رکھ دیا- اس میں امریکہ اور اسرائیل کا مفاد یہ تھا کہ شام اپنی تاریخ سے کٹ جاۓ اور اس علاقے پر یہودی حق کو ثابت کیا جا سکے-

مگر پھر سال 2013 میں کچھ ایسا ہوا کہ سب کچھ پلٹ گیا- شاید الله کو ابھی مسلمین کا مزید امتحان لینا مقصود تھا- شاید ابھی خلافت کے قیام کے لیے ہمارے اعمال کافی نہیں تھے- لبنان کی حزب الشیطان جو اپنے آپکو حزب الله کہتی ہے، روضہ سیدہ زینب (س) کی حفاظت کے چکر میں میدان میں کود پڑی- مجاہدین کو شکست پر شکست ہونے لگی- ایران بھی پشت پناہی کرنے لگا- ایسا لگا کہ فتح اسلام کا راستہ روک دیا گیا ہے- مقامات شرک کو تباہ کرنے کے لیے شاید مسلمین کو مزید انتظار کرنا ہو گا- صورت حال بیلنس سی ہوگئی- مگر برا ہو اس لادین ملک روس کا کہ وہ بھی عین اسی وقت اپنی ٹیکنالوجی سمیت میدان میں کود پڑا اور مجاہدین پر قیامت سے پہلے قیامت ڈھا دی- اسکو یہ ڈر تھا کہ کہیں شام پر قبضے کے بعد مجاہدین چیچنیا میں خلافت قائم نہ کر دیں- مجاہدین کو سر چھپانا مشکل ہو گیا- ابو جہاد امریکہ بھی ایک حد سے زیادہ مدد نہیں کر سکتا تھا- وہ اپنی فوج اور فضائیہ کو شہید کروانے کیلئے تیار نہیں تھا- ایسی صورت حال میں مجاہدات بھی، جو یورپ وغیرہ سے جہاد باالنکاح کی غرض سے گھر بار چھوڑ کر تشریف لائی تھیں ، پریشان ہونے لگیں- بہت ساری بلادالخلافہ سے دوبارہ بلاد الکفر جانے کی تیاری کرنی لگیں- جس سے مجاہدین پر جنسی دباؤ بڑھنے لگا- استغفراللہ  ایسے میں مجاہد لونڈیوں وغیرہ سے کام چلانے لگے، مگر وہ تو جب دشمن کا علاقہ فتح ہو  تو تب ہی نصیب ہوتا ہے- اس نعمت عظمیٰ کی فراوانی جب نہ رہی تو مجاہدین کا حوصلہ مزید پست ہونے لگا- آسمان سے روس اور زمین سے شامی فوج نے جینا محال کر دیا تھا- بہت سارے مجاہدین شہید ہو گے اور بہت سارے نوزائیدہ مجاہد اپنے ممالک کو لوٹ گے- شام میں خلافت اسلامیہ کا خواب چکنا چور ہونے لگا-

شامی حکومت نے ایک ایک کر کے قصبے اور شہر واپس لینا شروع کیے تو مجاہدین پسپا ہوتے چلے گے- ابو جہاد نے اقوام متحدہ وغیرہ میں بہت شور مچایا کہ شامی حکومت اپنے لوگوں پر بم برسا رہی ہے، اسے روکا جاۓ لیکن عبث! یہاں تک کہ مرکز خلافت یعنی حلب ( جسے انگریزی میں الیپو کے نام سے جانا جاتا ہے ) شہر پر بھی شامی فوج نے حملے کے لیے پر تول لیے- ایسے میں بے چینی میں مجاہدین نے اپنے حامی و ناصر امریکہ سے مطالبہ کیا کہ ہمیں بچایا جاۓ- امریکہ نے کہا کہ ہمت تو تم لوگوں نے بہت کی ہے اور ہماری خاطر قربانیاں بھی بہت دی ہیں مگر اس وقت ہماری مجبورری یہ ہے کہ مقابلے میں اسد نہیں، مقابلے پر روس ہے- اس لیے ہم عسکری مدد تو نہیں کر سکتے لیکن اس میدان میں ایک اور طریقے سے آپکو بچانے کی کوشش کریں گے- تم بس ایسا کرو جیسا ہم کہیں- سکرپٹ ہم لکھ کر دیں گے، ایکٹنگ تم نے کروانی ہے- اچھی شکل و صورت والے بچے ڈھونڈو، انکی ویڈیو بناؤ- ہم یہ ویڈیو پوری دنیا میں آگ کی طرح پھیلا دیں گے- چلی کے ساحلوں سے لے کر چین تک ہر ایک با ضمیر نفس پکار اٹھے گا کہ بند کرو یہ تشدد- یہ طریقہ جہاد امریکہ نے ہمیں پہلے نہیں سکھایا تھا- ہم نے جو ویڈیو بنائیں وہ اللہ کے فضل سے ہر مسلم کے دل میں گھر کر گئیں، سوائے رافضی کے، کہ انکے دل پر بغض عمر کی بابت مہر لگ چکی ہے- ایمبولینس میں بیٹھے ہوئے بچے والی ویڈیو ہماری بہت مشہور ہوئی تھی، اس پر طرہ یہ ہوا کہ سی این این کی خبریں پڑھنے والی رو پڑی- نرم دل خاتون تھی. اگر جہاد بلنکاح کی غرض سے آ جاتی تو شاید میں اپنی زوجیت میں لے لیتا- اب خدا جانے وہ کہاں ہو گی؟ وہ تو برا ہو کہ بعد میں اس ویڈیو کی حقیقت پکڑی گئی جب اس لڑکے اور اس کے باپ نے حقیقت کھول دی- نمک حرام کہیں کے، جیسے ہی حلب پر اسد کا قبضہ ہوا لڑکے کے باپ نے میڈیا کو بتایا کہ اس کے بیٹے کو میک اپ کر کے استعمال کیا گیا تھا- چند ایک اور ویڈیوز بھی پکڑی گئیں لیکن شکر ہے کہ اکثر ویڈیوز کو بے نقاب کرنا اتنا آسان نہیں تھا- اب تو ہمارے پاس ترکی میں ایک پورا سٹوڈیو ہے جہاں سے ہم کیمیائی حملے بھی فلما سکتے ہیں-  اسد نے دوبارہ ہمارے ٹھکانے غوطة پر حملے کا سوچا تو امریکہ نے پھر وہی پرانی ترتیب آزمائی- بزدل اپنی فوج اور فضائیہ کو نہیں بھیجتا- خیر اب تو یہ بھی اسکی مہربانی ہے- مجاہدین  کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ ایسے موقع پر عوام میں گھل مل جائیں تاکہ محفوظ بھی رہیں اور ویڈیو وغیرہ کے لیے مواد بھی زیادہ ملے- شہر کے لوگ بھی اسلامی خلافت کی اہمیت اور جذبہ جہاد سے عاری ہیں، بار بار یہی کہتے ہیں کہ ہمیں دمشق جانے دو- ہم بھلا کیسے جانے دیں- یہ جا کر اسد کے قبضہ والے علاقوں میں آرام سے بیٹھ جائیں گے اور مجاہدین بے کس و لاچار رہ جائیں گے- ایسے نافہم اور دنیا پرست لوگوں کو اگر ہم اسلام کی خدمت میں لا رہے ہیں تو برا ہی کیا ہے ؟ اگر کچھ مارے گئے تو جنت جائیں گے، ان لبرل کافروں کی بھی عاقبت بن جاۓ گی-

اب صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے. تقریباًًً  تمام علاقہ مجاہدین کے قبضے سے لے لیا گیا ہے- بہت کم جگہوں پر نظام اسلام باقی رہ گیا ہے- حلب میں ٹرین بھی چل گئی ہے دوبارہ سے، یونیورسٹی میں پھر کافرانہ سائنس پڑھائی جا رہی ہے- اور تو اور موسیقی و رقص کی محفلیں سج رہی ہیں، کرسمس کا تہوار منایا گیا- دیواروں پر غیر اسلامی تصویریں بن رہی ہیں- دین انکے دلوں تک اترا ہی نہیں- اب ہمیں شاید کوئی اور زمین تلاش کرنی چاہیے جہاں اسلامی نظام ممکن ہو- اس لیے ابو جہاد امریکا سے بھی بات چیت چل رہی ہے- دیکھیں اب قسمت اس مجاہد کو کہاں لے جاتی ہے-

حمزہ ابراہیم
حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *