عمران خان کو درپیش چیلنجز ۔۔۔۔۔شہزاد سلیم عباسی

SHOPPING
SHOPPING

تحریک انصاف کی حکومت کو ابھی 100 روز مکمل نہیں ہوئے کہ ہر طرف سے سوالات، الزامات کی بوچھاڑ، طعن و تشنیع اور شرم وحیا دلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ٹی وی ٹاک شوز پر ایک ہی راگ الاپا جارہا ہے کہ جب یہ حکومت ناتجربہ کار تھی تواسے یہ ذمہ داری کیوں سونپی گئی؟ جب یہ حکومت ڈیلیور نہیں کرسکتی تھی تو بڑھکیں کیوں ماری تھیں۔ جب آئی ایم ایف کے پاس ہی جانا تھا تو پھر یہ کیوں کہا تھاکہ”آئی ایم ایف میں جانے سے اچھا ہے کہ میں خودکشی کر لوں“۔ تبدیلی کا بھوت ذہن پر سوار رکھنے والوں نے انصاف کا علم تو بلند کردیا ہے مگر تجربہ اور پارلیمانی طرز عمل نہ ہونے کی وجہ سے کشکول کا بھانڈا بے وقت گھماکر اپنے حکمرانوں کی کرپشن کی داستانیں چار دانگ عالم پھیلائی جارہی ہیں اور جواب میں کشکولی حکومت کو ہر طرف سے گرین جھنڈی کے بجائے آئینہ دکھا کر مشروط فنڈزپر صبر شکر کا کہا جارہا ہے۔

شروعات سے ہی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے کچھ نہ کچھ ایسا ہو رہا ہے جس سے بلاناغہ تحریک انصاف کے گراف میں خط نیچے کی طرف(Decline) آتا دکھائی دیتا ہے۔ فواد حسین چوہدری سے لیکر فیاض الحسن چوہان تک، علی محمد گنڈا پور سے لیکر مراد سعیدتک،نعیم الحق، شبلی فرازسے لیکر شہریارآفریدی کے جذباتی پن تک ہر کسی کی اپنی وکھری داستان ہے اور تحریک انصاف کی گڈ بک کے صفحات کو گدلا کرنے پر ہر لمحہ تلی ہے۔عمران خان اپوزیشن میں تھے توامریکہ اور بھارت کو للکارنے کی بات کرتے تھے، انتہا پسندی، ناانصافی، کرپشن، اقرباء پروری، ظلم و زیادتی کو زہر قاتل سمجھتے تھے، قرض لینے اورکشکول پھیلانے کو موجب باعث شرم اور قوم کے ضمیر کے ساتھ سودا کرنے کے مترادف گردانتے تھے لیکن وائے ناکامی کہ اب عمران خان بھی نواز و زرداری کی طرح علیم خان، جہانگیر خان ترین، احسن گجر،اعظم سواتی،بشری بی بی اور پرویز خٹک کے ہاتھوں مجبور ہیں اور پنجاب میں عثمان بزدارکو لگا کر صو بہ پنجاب عملاً  چھ وزرائے اعلی کے سپرد کر دیا گیا ہے جن میں جہانگیر ترین، علیم خان، عثمان بزدار، احسن گجر، فیاض الحسن چوہان اور محمد سرور شامل ہیں۔عمران خان کا اٹل فیصلہ ہے کہ ملک پاکستا ن کے حالات دگرگوں   ہیں اس لیے جھولی پھیلا کر ہی ملک و قوم کے مقدر سنور سکتے ہیں۔

حکومت کے مسائل درج ذیل ہیں

(1) تجربہ کی خاصی کمی ہے کہ زر تاج گل،عندلیب عباس،افتخار درانی، علی امین گنڈا پور، مراد سعید، فیا ض الحسن چوہان، فواد حسین چوہدری، فیصل واوڈا، ذولفقار بخاری سمیت دیگر پڑھے لکھے لوگ وزارتوں کے قلمدان تو سنبھال چکے ہیں مگرعزم و حوصلہ کے باوجود معاملہ فہمی اور ادراک سے خالی ہیں۔

(2) ترجیحات میں عدم توازن اور مخصوص نظام انصاف کے باعث مختلف اسٹیک ہولڈرز، اپوزیشن جماعتوں، اداروں کے سربراہان اور بیوروکریسی کو خواہ مخواہ اپنے خلاف کیا جارہا ہے۔

(3) مہنگائی کے ہوش ربا نرخوں سے عامی و خاص پریشان ہے اور اب آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے تو ان کی کڑی شرائط بھی مانیں گے اور مہنگائی کا طوفان اور افراط زر بھی بڑھے گا۔

(4)”احتساب سب کے لیے“اور کرپشن کے سدباب کے پرفریب نعرے بے وقعت ہوگئے جب احتساب کے رگڑے میں ن کو رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور پی پی پی پرخاموش احتساب کی تلوار لٹکا دی گئی، وگرنہ خود خان صاحب سے لے کر پی ٹی آئی کے ایک درجن سے زائد لوگوں پر نیب و دیگر کیسز التواء کا شکار ہیں۔ ایک نقطے والی بات ہے کہ اگر شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نہیں بن سکتے کہ وہ ملزم ہیں تو زبید ہ جلال، خالد مقبول صدیقی، علیم خان اور چوہدری برادران کس آئین و قانون کے تحت وزارتیں اور اہم عہدے سنبھالیں بیٹھیں ہیں۔

(5) تحریک انصاف خیبر پختون خوا  جیسے پروپیگنڈے چھوڑ کر کام پر توجہ دے

(6) بے لگا م نیب کے لیے کچھ قوانین وضع کریں تاکہ کل وہ آپ کے لیے مس یوز نہ ہوسکے۔

SHOPPING

ارض وطن کا سب سے بڑا مسئلہ ڈکٹیٹ پالیسی کو لے کر چلنا اور ملک کے لیے اپنی ترجیحات کو قربان کرنا ہے۔ ہم اندورنی یا بیرونی دباؤ کے بغیر چلنے کے عادی نہیں رہے۔ پچھلے پینتالیس سال سے ملک کے  غیور عوام کے ساتھ جوہو رہا ہے وہ حوصلہ افزاء بات نہیں ہے۔ یقیناً  اسلام کی کڑی حفاظت اورپاکستان کی سلامتی و استحکام کے لیے پوری قوم ایک صفحے پر ہے اور جان ہتھیلی پر رکھ  کر اسلام و پاکستان کے لیے قربان ہونے کو تیار ہے اور پاک فوج اور دیگر اداروں کے شانہ بشانہ چوکس کھڑی ہے۔ ایسی صورتحال میں کہ جب قوم پاک فوج اور دیگر اداروں سے بے پناہ محبت کرتی ہے اورخدانخواستہ کہیں سے یہ اشارہ  ہو جائے کہ ہماری حکومتوں کو عشروں سے ادارے کنٹرول کررہے اور اداروں کے اپنے مقاصد ہیں اور نیب، ایف بی آر، ایف آ ئی اے، سائبر کرائم اور دیگر ادارے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے حکومتوں کو استعمال کرتے ہیں تو یقیناً  ہماری بدقسمتی ہے۔ اور اگر ایسا ہے توپارلیمنٹ سے ایک توانا آواز اٹھنی چاہیے جوآئین میں ترمیم کے ذریعے ایسے ہر عمل کو ہر قسم کے حالات میں نا قابل معافی جرم قرار دے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اداروں کے خلاف ہر زہ سرائی کرنے اور الزام تراشی کرنے والوں کو لگام ڈالنا بھی پارلیمنٹ کا کام ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *