سلام ،اوم،شلوم،آمن۔۔۔۔اسد مفتی

سابق وزیراعظم برطانیہ ٹونی بلیئر نے فیصلہ کیا ہے  کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی مذہب  کی خدمت اور مختلف مذاہب کے درمیان بات چیت کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے وقف کردیں گے۔اور امن اور سلامتی کی اشاعت اقتصادی ترقی کے جذبات کو ابھارنے اور افلاس کو ختم کرنے کے لیے  مذہب کی طاقت سے استفادہ کرنے کی کوشش کریں گے ۔
ٹونی بلیئر کی اس بات کی صداقت کا اندازہ تو نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی امید کہ یسوع کے نائب کو اس کی توفیق ہوگی اور اس مہم میں وہ کچھ آگے  بڑھ سکیں گے،البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ وہ ڈاؤننگ اسٹریٹ چھوڑنے کے بعد سے ان کے اندر “مذہبی شعور “ کچھ زیادہ ہی پیدا ہوگیا ہے اور وہ سمجھنے لگے ہیں کہ موجودہ صدی مذہبی صدی ہوگی،جبکہ گزشتہ صدی سیاست کی صدی تھی(مذہب اور سیاست میں کیا فرق ہے؟ یہ سب جاننے کے لیے اب ہمیں ٹونی بلیئر کی طرف دیکھنا ہوگا)ممکن ہے بہت سے لوگ ان کی اس فکر سے متفق نہ ہوں اور وہ بھی اس صدی کو مذہبی صدی قرار دیتے ہوں گے۔موجودہ بین الاقوامی جنگی ماحول کے جواز اور اس کے اسباب و عوامل پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تو بظاہر ہمیں نظر آتا ہے کہ اس کے بھڑکنے میں مذہب کا عمل دخل ضرور رہا ہے،یعنی ان جنگوں کو جائز ٹھہرانے کے لیے مذہبی ٹرائل کا ہی استعمال کیا گیا ہے ،القائدہ کے بارے میں صاف کہا جاتا ہے کہ اس نے دنیا کو مشتعل کردیا اور 9/11 کی کارروائی کے ذریعے زمانے کی رفتار کو کاٹ دیا جس کا جواب بش نے   جنگ کے ذریعے دیا اور اسلامی بنیاد پرست ان جنگوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ اسلام کے خلاف ان کی چھیڑی گئی صلیبی جنگ ہے پھر اس کے نتیجے میں جس طرح کے حادثات و واقعات و واردات ہوئیں اس نے یہ ثابت کردیا کہ یہ کسی نہ کسی حد تک فکری یعنی مذہبی جنگ ہے جس کا مادیت سے زیادہ مذہب کا تعلق ہے ۔مذہبی جنگ کے اس نظریہ کو جھٹلانا اس کی تاویلات کرنا آسان نہیں کیونکہ  اس  کے عوامل ہر جگہ موجود اور اس کی بنیاد پر کشیدگی  دکھائی دیتی ہے جب بھی کوئی کشیدہ صورت حال رونما ہوتی ہے یا اس طرح کے واقعات پیدا ہوتے ہیں تو اسے کسی نہ کسی مذہبی وجوہات کی طرف محمول کردیا جاتاہے ،مغرب و مشرق کی اس کشمکش کو پُر جوش و عظیم صلیبی جنگ سے جوڑ دیتے ہیں ۔
اہل مغرب کو مسلمان انتہا پسند ،بنیاد پرست اور دہشت گرد دکھائی دیتے ہیں ،ان کے خیال میں اگر ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہے تو ہر دہشت گرد مسلمان ضرور ہے، انہیں وہ مغرب کی جمہوریت سیکولرازم اور عالمی کلچر و ثقافت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں ،یعنی ایک طرف مغرب سے مسلمانوں کو شکایت ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کو مغرب سے خطرہ ہے ۔اور ہر جانب سے دوسرے پرردو قدح کا بازار گرم  رہتا ہے ،اس شور شرابے میں  میانہ روی اور باہمی رواداری کی آواز دب جاتی ہے  ،اور دونوں کے درمیان خلیج حائل ہوجاتی ہے ۔
یہاں میں ایک حالیہ واقعہ کا ذکر کرتا چلوں ۔۔۔
چند دن قبل انٹر نیٹ پر مسلمانوں او ر  عیسائیوں کے درمیان بات چیت کا پروگرام نظر سے گزرا ۔۔۔اس میں عیسائیوں کی جانب سے جو بات کہی گئی اس کا لبِ لباب یہ تھا کہ ہم (عیسائی) 12 اسباب کی وجہ سے اسلام اور اسکے پیغمبر کو مسترد کرتے ہیں ۔اس کے مقابلے مسلمانوں کے تھیسس کا عنوان تھا، “عیسائیت پر طرب  کاری”۔۔۔ اس طرح کے جھگڑوں اور اشتعال انگیزی کو کیا آپ بات چیت یا گفتگو کہیں گے؟
ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ “کافروں “ اور غیر مسلموں سے بات چیت کس دائرے میں ہو؟۔۔۔۔
جن سے ہم بات کررہے ہیں ان سے ہم کیا چاہتے ہیں ؟۔۔۔ ہم کن سے بات کرسکتے ہیں اور کس طرح؟۔۔۔۔
مختلف مذاہب کے درمیان بات چیت اور گفتگو کا مفہوم دعوت و تبلیغ نہیں ہوتا یا نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ اور نہ ہی “دعوتِ حق”۔۔ دینا ہوتا ہے کہ بات چیت کے لیے آئے ہوئے دوسرے فریق کے سامنے اسلام کی خوبیوں کو بیان کرنے بیٹھ جائیں کیوں کہ یہ عین ممکن ہے کہ بات چیت کے لیے آنے والے غیر مسلم ،اسلام سے بخوبی واقف ہوں اور اس میں کافی ریسرچ  کیئے ہوئے ہوں ۔۔بات چیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں روا داری کو عام کرنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے اور تمام مزاہب مل کر یہ دیکھیں کہ کسی کے مذہب کی تعلیمات سے ٹکرائے بغیر ہم آپس میں مل جل کر امن و سلامتی اور بھائی چارگی کے ساتھ کس طرح رہ سکتے ہیں ۔ملک کی اقلیت کے حقوق کی نگہداشت کس طرح ہوسکتی ہے اور ان کے ساتھ بہتر برتاؤ کی وجہ سے دلوں میں نفرت و کراہت یا تعصب و عناد کے جذبے کو جڑ سے اکھاڑ نے میں مدد مل سکتی ہے اور بہتر تعلقات کے قیام کی راہ کیسے ہموار ہوگی۔۔

بلاشبہ اس بات چیت سے سنبھلنے کا دروازہ کھلتا ہے اس کے ذریعے مسلمان ہی حقیقت کو جان اورسمجھ سکتے ہیں جو دوسروں کے پاس ہے اس دروازے کے اندر اگر ہم داخل ہونے میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں تو اس کے اندر ہمیں بڑی وسعت نظر آئے گی جہاں مختلف تہذیبیں اور ثقافتیں آرام کے ساتھ زندگی بسر کتی نظر آئیں گی جب ہم ایک دوسرے سے واقف ہوجائیں گے اور ایک اور تہذیب دوسری  تہذیب سے مانوس ہوجائے گی تو انتہا پسندی و بنیاد پرستی کو وہاں جگہ نہیں مل سکے گی اور نہ ہی صلیبی جنگ کا نعرہ لگانے کا کسی کو موقع ملے گا۔

میرے حساب سے ہر  انسان ،انسان ہے ،ہر ایک کی  خواہش ہے  سکون و راحت کے لیے ہوتی ہے ،دوسروں کی طرح مسلمانوں میں بھی سلامتی اور میانہ روی و رواداری موجود ہے ،آج جنگ و جدل اور قتل و غارت کے ماحؤل میں رواداری کی شدید ضرورت ہے تاکہ انسان اپنی انسانیت کا ثبوت دے سکے، کہ عربی میں سلام،سنسکرت میں  اوم،عبرانی میں شلوم اور انگریزی میں آسن کے معنی و مفہوم امن ،سلامتی اور آشتی کے ہیں ۔

سب تیرے سواکافر،آخر اس کا مطلب کیا

سر پِھرا دے انسان کا،ایسا خبطِ مذہب کیا!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *