مکالمہ مقابلہ مضمون نویسی کے نتائج

مکالمہ قارئین،
مکالمہ کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ بھیڑ چال اور سنسنی خیزی کے دوڑ سے نکل کر “سوشل میڈیا سائیٹس” کی مین سٹریم میڈیا سے ہٹ کر ایک راہ نکالی جائے جو نا صرف کہ مسائل کا ادراک کرے بلکہ ممکنہ حل بھی سوچے۔ ہمیں ثانیہ مرزا کی چٹ پٹی تصاویر سے زیادہ دلچسپی ان لکھاریوں میں ہوتی ہے جن کا رشتہ زمین سے جڑا ہے، جو سفارش نا ہونے کی بنا پہ اپنا فن مین سٹریم میڈیا پہ نہیں لا سکتے اور جو سماج میں بنیادی تبدیلی کیلئیے ذہن سازی کر سکتے ہیں۔ اسی لئیے مکالمہ وقتا فوقتا ایسی ایکٹویٹیز کرتا ہے جو ان مقاصد کی جانب سفر کو جاری رکھیں۔

پاکستانی سماج میں اس وقت شدت پسندی خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ یہ شدت پسندی مذہبی و غیر مذہبی، تعلیم یافتہ و ناخواہندہ، سکول و مدرسہ؛ ہر طبقہ ہائے زندگی میں نظر آتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو ہزاروں سال سے “برداشت” کی روایت کو اپنائے ہوے تھا، پچھلی چار پانچ دہائیوں میں خود اپنا منہ شدت پسندی کے تیزاب سے دھو بیٹھا ہے۔ ہمارے “دانشور” تو اس ایشو پر مقالے بیان کرتے ہی رہتے ہیں، مگر ہماری نوجوان نسل اور نئے لکھاری کیا سوچتے ہیں، یہ بہت اہم ہے۔

اسی سلسلہ میں مکالمہ نے “پاکستانی سماج میں شدت پسندی اور عدم برداشت کی تاریخ اور اسکا تدارک” کے عنوان سے ایک مقابلہ مضمون نویسی رکھا۔ ہم ممنون ہیں محترم ہارون ملک کے جو بطور ڈونر سامنے آئے اور انکی اس ڈونر ہیلپ کے تحت اس مقابلے کیلئیے دس ہزار، چھ ہزار اور چار ہزار کے انعام بھی رکھے گئے۔ ایک بہترین ججز پینل جو
1- انور سن رائے
2- اقبال حسن
3- ڈاکٹر عاصم اللہ بخش
4- رحمن عباس
5- محمد حسن معراج
6- آصف محمود ؛ اور
7۔ رانا اظہر کمال
پہ مشتمل تھا، نے مضامین کی مارکنگ کی۔ ججز کو مضامین کینڈیڈیٹ نمبر لگا کر بھیجے گئے اور انھوں نے ایک سے دس نمبر تک کی مارکنگ کی۔ ججز کو لکھاریوں، حتی کہ ایک دوسرے کا بھی علم نہیں تھا۔
مندرجہ ذیل اٹھارہ لکھاریوں کے مضامین مقابلے کا حصہ بنائے گئے۔
1- بلال شوکت آزاد
2- عبداللہ خان چنگیزی
3- علی اختر
4- عتیق الرحمان
5- حمزہ ابراہیم

6۔ حسن رضا
7۔ کاشف حسین
8۔ عارف کشمیری
۹۔ مرزا شہباز حسین بیگ
۱۰۔ محمد نصیر
۱۱- آصف منہاس
12۔ عبد الرحمان تابانی
13- ڈاکٹر عمران آفتاب
14۔ سلمان عزیز
15۔ عائشہ یاسین
16۔ سحر شاہ
17۔ ساجد حمید( گل ساج)
18۔ محمد حنان صدیقی

مصنفین کے نام پہ کلک کر کے انکا مضمون پڑھا جا سکتا ہے

مکالمہ ان تمام لکھاریوں کا ممنون ہے جو اس مقابلے کا حصہ بنے اور اپنا قیمتی وقت دیا۔ یقینا سب کے خیالات بیش قیمت ہیں اور ہم نے ان سب سے ہی کچھ نا کچھ سیکھا۔ یہ مقابلہ کیونکہ تکنیکی بنیادوں پہ ہے تو نتائج کا مطلب انکے فہم و فن کی برتری یا کمتری مہیں ہے، وہ سب ہی ستائش کے قابل ہیں۔ مگر جیسا دستور ہے تو مرتب شدہ نتائج کے مطابق پہلے تین مضامین یوں ہیں۔
پہلا انعام۔ دس ہزار
محترم عبد اللہ خان چنگیزی
دوسرا انعام۔ چھ ہزار
محترم علی اختر
تیسرا انعام چار ہزار
اس انعام کیلئیے محترم حسن رضا اور محترم حمزہ ابراہیم ایک جتنے نمبر لے کر دونوں ہی حقدار ٹھہرے۔ اصولً گو دونوں دو دو ہزار کے انعام کے مستحق بنے مگر دونوں کے مضامین بہت محنت سے لکھے گئے۔ چنانچہ دونوں کو چار چار ہزار کا انعام دیا جائے گا۔

محترم انور سن رائے اور تین دیگر ججز نے محترم حمزہ ابراھیم کے مضمون کی اور تکنیک کی بہت تعریف کی ہے مگر کچھ تکنیکی وجوہات کی بنا  پہ وہ نمبرز میں نیچے ہو گئے۔ بحرحال، مقابلے میں پہلی تین پوزیشنز لینے والوں کو ہماری جانب سے دلی مبارکباد۔ مکالمہ ایک بار پھر مکالمہ ٹیم، ڈونر محترم ہارون ملک، تمام محترم ججز اور لکھاریوں کا ممنون ہے۔ قارئین سے امید ہے کہ وہ ان مضامین سے سیکھیں گے اور مل جل کر ہم ایک ایسا سماج بنانے کی کوشش کریں گے جو شدت پسندی سے پاک ہو۔

آپ کا اپنا

مکالمہ

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مکالمہ مقابلہ مضمون نویسی کے نتائج

  1. مقابلہ مضمون نویسی میں میرے مضمون کا تیسرے نمبر پر آنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے- میری توجہ شیعہ مخالف تشدد کے تاریخی ارتقاء پر تھی جو کہ ہمارے معاشرے میں شدت پسندی کا سب سے بڑا مظہر ہے- میں نے شاہ ولی اللہ صاحب کے زمانے سے مفتی شامزئی صاحب کے زمانے تک اس تشدد کے سفر کو موضوع بنایا ہے- اگرچہ مضمون کافی طویل ہو گیا، جو شاید قاری کو تھکا دے، لیکن شدت پسندی کے اس نمایاں ترین مظہر کے نتیجے میں جتنے انسانوں کی زندگیاں متاثر ہوئی ہیں ان کی خاطر ہم پر ایک اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اس کو تاریخی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں- میرے مضمون کو اس لنک پر پڑھا جا سکتا ہے؛-
    https://www.mukaalma.com/50585
    میں یہ چاہوں گا کہ میرے انعام کی رقم دہشتگردی سے متاثر ہونے والوں کو دے دی جاۓ- شہید فاؤنڈیشن ایک ایسا ادارہ ہے جو دہشتگردی سے متاثر ہونے والے ان خاندانوں کی مدد کرتا ہے جن کو حکومت پاکستان سے نہ تو انصاف مل سکا ہے نہ ہی ان کے نقصان کا ازالہ کیا گیا ہے- شہید فاؤنڈیشن کو عطیہ جمع کرانے کیلئے انکی ویب سائٹ کا لنک یہ ہے:-
    http://www.shaheedfoundation.org
    آپ کا بہت بہت شکریہ!

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *