• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستانی معاشرہ میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخی وجوہات اور انکا تدارک۔۔۔ بلال شوکت آزاد/مقابلہ مضمون نویسی

پاکستانی معاشرہ میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخی وجوہات اور انکا تدارک۔۔۔ بلال شوکت آزاد/مقابلہ مضمون نویسی

میرا تعلق چونکہ دائیں اور بائیں دونوں بازوؤں کے نطریاتی دوستوں سے ہے تو اس لیئے مجھے اکثر لبرلز اور فنڈامنٹلسٹس دوستوں میں ہونے والی ایسی بحثوں میں شمولیت کا اکثر موقع ملتا رہتا ہے جہاں میں غیر جانبداری کا ہی مظاہرہ کرتا ہوں اور جو بات حالات و واقعات, فطری اصولوں, تاریخی حوالوں اور انسانی حواس خمسہ سے میل کھاتی ہوئی نظر آئے اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں اور صاحب الرائے کو سراہتا ہوں اس کی ایسی دلیل پر جو بحث کو اختتام دینے میں مددگار ثابت ہوتی ہو۔

بات کریں پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی اور عدم برداشت کی تو یہ بات سمجھ لیں کہ معاشرہ خواہ پاکستانی ہو یا دیگر کوئی بھی ریاستی معاشرہ ہو, ہر معاشرے میں منفی اور مثبت عوامل اور نظریات پوری شدو مد سے موجود رہتے ہیں۔

اصل مدعا ان کی تشخیص اور ان کا تدراک و علاج ہے کہ کونسا رویہ اور نظریہ معاشرے کی ترقی و ترویج اور بقاء کے لیئے ضروری ہے اور کونسان راہ کا پتھر ہے؟

شدت پسندی اور عدم برداشت محض دو الفاظ دو عام رویے نہیں بلکہ یہ ایک پوری نفسیات, پوری راس لیلا, پوری داستان اور پوری تاریخ ہے انسانیت اور مذاہب کے تصادم کی کہ جو چیز, جو رویہ بلکہ یوں کہوں کہ جو نظریہ اس تصادم کے نتیجے میں وجود پاتا ہے وہ دراصل اور کچھ نہیں شدت پسندی اور عدم برداشت ہے۔

جب جب شدت پسندی کو فروغ دیا جائے گا تب تب عدم برداشت جیسا شدید ردعمل بھی خودکار طریقہ سے پروان چڑھے گا۔

آپ یوں سمجھ لیں کہ شدت پسندی ایک بے پھل درخت ہے تو اس کو لپٹی آکاس بیل عدم برداشت کا رویہ ہے۔

معاشرہ دراصل مہذب دنیا کا سب سے خوبصورت پہلو ہے جس نے ہزاروں سالوں کے تہذیب و تمدن اور مذاہب کی شکست و ریخت اور ارتقاء کے باوجود ایک واضح اور مکمل شکل اختیار کرلی ہے اور انسان اب اس مہذب معاشرے کے بغیر ایک لمحہ جینا تو دور اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تو ایسے میں متضاد نظریات و فکریات کا جنم بھی انوکھی بات نہیں مثبت اور قابل قبول نظریات و فکریات کے مدمقابل, بلکہ یہ بلکل عام سی بات لگتی ہے اور شاید موجودہ دور کے انسانوں کا اس منفی اتار چڑھاؤ کو عام سمجھنے کے پیچھے یہ خوف اور خطرہ کارفرما ہو کہ اگر اس کو خاص سمجھ کر سر پر مسلط کیا تو شاید معاشرہ اپنے ارتقائی سفر میں جمود کا شکار ہوجائے اور ایک دن یہ جمود معاشرے کی موت پر ختم ہو۔

بہرحال پہلے شدت پسندی اور عدم برداشت کو سمجھ لیں تو اس کا ایک رائج اصول جس کی میں علمی اور حقیقی اعتبار سے نفی کرتا ہوں اور ہر غیر جانبدار بندہ بھی یہی کرے گا کہ ہم نے مطلب ہمارے معاشرے کے سرکردہ اور نمایاں افراد جو نظریہ سازی اور فکری محاذ کی پہریداری کرتے ہیں بلا تفریق بلا تخصیص وہ ہی شدت پسندی اور عدم برداشت کو مذہب اور الہامی تعلیمات و نظریات سے جوڑ کر خود ہی شدت پسندی اور عدم برداشت کا سہرا سر پر بندھوالیتے ہیں۔

صاحبان اول تو یہ مغالطہ اور خوش فہمی دلوں سے نکال باہر کریئے کہ مذہب یا مذہبی افراد شدت پسندی اور عدم برداشت کے پروردہ اور محافظ ہیں اگر آپ حقیقی معنوں میں مصلح, فہیم, نظریاتی اور آزادی رائے اظہار کے علمبردار ہیں تو؟

دوم شدت پسندی اور عدم برداشت نیوٹن کے لاء کی طرح متوازی اور لازم و ملزوم ہیں مطلب عمل اور ردعمل ہیں۔

سوم شدت پسندی اور عدم برداشت فقط مذہبی افراد کی ہی میراث نہیں بلکہ یہ اس وقت معاشرے کے ہر طبقے کی میراث ہے جو اپنے مد مقابل متضاد طبقے سے اختلاف اور ناپسندیدگی رکھتا ہو۔

تاریخ تو شدت پسندی اور عدم برداشت کی بہشت سے شروع ہے جب ابلیس نے آدم کے مقابلے خود کو افضل قرار دیکر سجدے سے انکار کیا اور شدت پسندی اور عدم برداشت کا مظاہرہ کیا تو راندہ درگاہ ہوکر قیامت تک کے لیئے ملعون قرار پایا پر اگر انسانی دنیا کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو آدم و حوا علیہ اسلام کے بیٹوں کی مخاصمت اور تاریخ کا پہلا قتل یہ بات واضح کرتا ہے کہ یہ انسانی فطرت کا لازمی جزو ہے کہ پہلا قتل ہابیل کا قابیل نے کیا جس کی وجہ بیشک ایک عورت تھی لیکن جذبات کو اگر سمجھنا چاہیں تو وہ یہی شدت پسندی اور عدم برداشت کے رویے سے مزین تھے۔

اب بات چونکہ تاریخ کی چل نکلی ہے تو بات پھر پہلے تاریخ کنگھال کر ہی کرلی جائے تو بہتر معلوم ہوتا ہے۔

پاکستان میں شدت پسندی اور عدم برداشت کب اپنی اصل شکل میں ظہور پزیر ہوئی اس کی کوئی مستندد اور قابل قبول توجیہہ اور تاریخ شاید ہم مل بیٹھ کر بھی مرتب نہ کرپائیں۔

کیونکہ اس کی وجہ بھی یہی شدت پسندی اور عدم برداشت ہوگی جو ہمیں ایک موقف پر متفق نہیں ہونے دیگی, اگر سمجھیں تو یہ بہت بڑا اور خطرناک مسئلہ ہے۔

لیکن چونکہ ہمیں بحث کو سمیٹنا ہے تو میں استعاری حوالوں سے پاکستان میں شدت پسندی کی تاریخ اور پس منظر اپنی بساط کے مطابق بیان کرنے کی کوشس کرتا ہوں لیکن اگر کوئی بھول چوک اور سہو ہوجائے تو قارئین کی قبل از شدت پسندی اور عدم برداشت تبدیلی میں میں معافی کا خواستگار ہوں۔

پاکستان بنا اور جمہوری سلسلہ ہائے حکومت رواں دواں ہوا تو رویوں میں عدم برداشت اور شدت پسندی عود کرآئی اور جمہورے آپس میں لڑ مر کر اپنی اپنی چونچ تڑوا بیٹھے تب عسکری قیادت نے قدم اٹھائے جو اس بندر تماشے کو دیکھ کر برداشت گنوا بیٹھے اور شدت پسندی کا رویہ اختیار کرکے آئین کی عین غین کرڈالی۔

پھر یہ ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے اور متضاد و مخالف سیاسی و جمہوری نظریات کے حاملین منتظموں اور محکموں کی جنگ کا سلسلہ شدت پسندی کی بھینٹ چڑھتا رہا اور ابتک یہ سلسلہ ہائے شدت پسندی اور عدم برداشت پاکستان کے انتظامی و جمہوری ڈھانچے کا لازمی حصہ بن کر پاکستان کو اندرونی شکست و ریخت سے دوچار کررہا ہے۔

بین الستور بہت کچھ کہہ چکا اگر سمجھدار پڑھ رہے ہونگے تو بات کی گہرائی کو ضرور ماپیں گے اور سمجھ جائیں گے۔

سیاسی طور پر ہمارا ملک جس سیاست کا شکار ہے اس کی بنیاد ہی شدت پسندی اور عدم برداشت ہے۔

مذہبی و مسلکی طور پر ہمارا ملک جس مذہبی و مسلکی طبقے کا شکار ہے وہ بھی شدت پسندی اور عدم برداشت کا ڈسا ہوا ہے۔

روشن خیالی, آزاد خیالی اور مادر پدر آزاد رویے کے حاملین بھی اسی شدت پسندی اور عدم برداشت کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔

غریب کو امیر اس کا دشمن لگتا ہے یہ شدت پسندی ہے جبکہ امیر کو غریب ناگوار اور ناقابل برداشت لگتا ہے یہ عدم برداشت ہے۔

انپڑھ کو پڑھے لکھے برداشت نہیں اور پڑھا لکھا انپڑھوں کے متعلق شدت پسند خیالات کا حامل ہے۔

داڑھی والے کو کلین شیو برداشت نہیں اور کلین شیو داڑھی والے کے متعلق شدت پسندی کا شکار ہے۔

پردہ دار, بے پردہ کے متعلق شدت پسندی کی شکار ہے تو بے پردہ کو پردہ دار برداشت نہیں۔

مسلمان کو کافر برداشت نہیں جبکہ کافر مسلمان کے متعلق شدت پسندی کا شکار ہے۔

“ادھر تم ادھر ہم”, “تمار دیش, ہمار دیش, سنار دیش” یہ نعرے لگوانے والے اور ان کے موجد بھٹو و مجیب شدت پسند تھے اور یہ نعرے شدت پسندی تھی جبکہ سقوط ڈھاکہ اور بنگلہ دیش کا قیام عدم برداشت کی مثال ہے۔

بات چونکہ پاکستان میں شدت پسندی اور عدم برداشت کی تاریخ کی ہورہی ہے تو میں پاکستان سے پہلے اور اس کے باہر نہیں جارہا لہذا ادھر ہر مثال کا تعلق پاکستان سے ہی ہوگا خواہ وہ تاریخی ہو یا موجودہ۔

ہر دفعہ جمہوریت کا ٹوٹ کر بکھرنا شدت پسندی کی وجہ سے ممکن ہوا اور ہر مارشل لاء عدم برداشت کی جیتی جاگتی تصویر ثابت ہوا۔

ہر دفعہ مسلکی آزادی اور قتل و غارت کی وجہ پاکستان میں شروع سے ابتک یہ شدت پسندی اور عدم برداشت ہی رہی۔

الغرض اور قصہ المختصر دائیں اور بائیں بازو کی پیدائش کے لیئے جس نطفہ (شدت پسندی) اور انڈا (عدم برداشت) کو اس معاشرے کے رحم میں رکھ کر پرورش کی گئی وہ یہی شدت پسندی اور عدم برداشت ہیں۔

آپ اگر دائیں بازو کے پروردہ ہیں تو آپ بائیں بازو والوں کو شدت پسندی اور خود کو عدم برداشت کے تخت پر براجمان کرسکتے ہیں جانبداری کا مظاہرہ کرکے بلکل اسی طرح آپ اگر بائیں بازو کے پروردہ ہیں تو آپ دائیں بازو والوں کو شدت پسندی اور خود کو عدم برداشت کے تخت پر براجمان کرسکتے ہیں جانبداری کا مظاہرہ کرکے۔

لیکن یاد رہے آپ چاہ کر بھی اس دلدل سے نکل نہیں سکتے بیشک آپ کو اس کا احساس ہو یا نہ ہو پر حقیقت یہی ہے۔

مثالیں اتنی ہیں اور تاریخی حوالہ جات کی ایک لمبی چوڑی لڑی ہے جس کی تفصیل میں لکھنا شروع کردیا جائے تو کتابی شکل اختیار کرجائے لیکن تحریر لکھنی ہے تو میں اب بحث سمیٹوں گا اور تاریخ سے نکل کر حال میں آؤں گا اور اس کا تدراک کیسے ممکن ہے اس کا حل تجویز کروں گا۔

پاکستان میں شدت پسندی اور عدم برداشت ویسے تو ختم کرسکنا ناممکنات میں سے ایک ہے کہ ادھر نسلی, عصبی, مسلکی, سیاسی, مذہبی اور ذاتی نظریات کی اتنی بھرمار ہے کہ اگر ہم ان کا خاتمہ حاملین نظریہ کو مار کر کرنے بیٹھے تو سب ایک دوسرے کو قتل کرڈالیں اور پاکستان پھر قبرستان بن جائے لیکن ایسا چونکہ ممکن نہیں تو ہم مشکل کی طرف رجوع کرلیتے ہیں کہ شاید ہماری بات کسی کے دل میں اتر جائے۔

شدت پسندی اور عدم برداشت کا تدراک ہم اگر واقعی چاہتے ہیں تو اس کے تین مراحل پر مبنی حل ہے میری ناقص رائے میں جو کہ درج ذیل ہے۔

1-انفرادی پہل
2-اجتماعی اقدامات
3سرکاری اقدامات

1-انفرادی پہل:

میں اگر دائیں بازو کے نظریات کا حامل انسان ہوں تو مجھے خود پہل کرتے ہوئے اپنے دل کو وسعت دینی ہوگی اور آگے بڑھ کر بائیں بازو کے نظریات کے حامل انسان کو گلے لگانا ہوگا بطور انسان, مسلمان اور پاکستانی۔

اسی طرح میں اگر بائیں بازو کے نظریات کا حامل انسان ہوں تو مجھے خود پہل کرتے ہوئے اپنے دل کو وسعت دینی ہوگی اور آگے بڑھ کر دائیں بازو کے نظریات کے حامل انسان کو گلے لگانا ہوگا بطور انسان, مسلمان اور پاکستانی۔

تب ہی یہ شدت پسندی اور عدم برداشت کم ہوگی, جی ہاں کم ہوگی ختم نہیں کہ یہ ممکن نہیں۔

2-اجتماعی اقدامات:

اجتماعی بنیادوں پر ہمیں اختلاف رائے اور آزادی رائے اظہار کا ایک متفقہ اصول بنانا ہوگا کہ جو شدت پسندی اور عدم برداشت کی آگ کو ہوا نہ دے۔

بیشک لاکھ اختلاف ہوں پر ہم باہم سیرو شکر رہیں اور ایک دوسرے کی عزت, جان اور مال کو نقصان نہ پہنچائیں اور نہ پہنچنے دیں۔

تب ہی یہ شدت پسندی اور عدم برداشت کم ہوگی, جی ہاں کم ہوگی ختم نہیں کہ یہ ممکن نہیں۔

3-سرکاری اقدامات:

سرکار ان منفی رویوں کی ترویج, تبلیغ اور تشہیر پر قدغن لگائے اور ان کے حاملین کو چن چن کر بحالیات کا حصہ بنائے اور آئندہ ایسا کچھ نہ ہو کو نظر میں رکھ کر تعلیمی اور تربیتی اقدامات اٹھائے اور سخت قوانین کا اطلاق کرے اولین بنیادوں پر ایمرجنسی کا نفاذ کرکے اس مسئلے میں تو بہت حد تک اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

تب ہی یہ شدت پسندی اور عدم برداشت کم ہوگی, جی ہاں کم ہوگی ختم نہیں کہ یہ ممکن نہیں۔

میری سمجھ میں مشاہدے, تجربے اور مطالعے کے بعد جو حل آئے وہ میں بیان کرچکا لیکن یہ کوئی حتمی بات نہیں بلکہ اس میں تغیر و تبدل کی بہت گنجائش باقی ہے پر چونکہ میرا مشادہ, تجربہ اور مطالعہ اتنا ہی ہے تو میں اتنے پر ہی اکتفاء کرنے میں عافیت سمجھوں گا۔

شدت پسندی اور عدم برداشت ایک ناسور ایک متعددی مرض کی طرح ہے۔ اس کو بروقت علاج نہ ملے تو معاشرتی موت طے ہے۔

آگاہی اور احتیاط ہی صحت مند معاشرے کی زندگی ہے۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *