درست سمت۔۔۔۔روبینہ فیصل

ہسپتال کے گول گول گھومنے والے دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی اس کا سر ہلکا سا چکرایا ۔ مگر اس نے قسم کھا رکھی تھی کہ دو سال پہلے رونما ہو نے والے اُس واقعے کو آنکھوں کے سامنے پھر سے نہیں آنے دے گی ۔ وہ مشکل سے اپنے اعصاب کو جوڑ کر اس مرحلے تک آئی تھی کہ فیملی ڈاکٹر کو اپنی منتشر دماغی حالت بتا کر کسی سائیکلوجسٹ کی مدد لے سکے ۔ اور آج بالآخر چند مہینوں کے بعد اسے سائیکلوجسٹ کی اپائٹمنٹ مل ہی گئی تھی ۔اسی سلسلے میں وہ اُسی ہسپتال آپہنچی تھی جہاں دو سال پہلے اسی ہسپتال کے ایک کمرے میں موت کا چہرہ اور زندگی کے مختلف روپ دیکھے تھے ۔جب سے اس کا نروس بریک ڈاون ہوا تھا اس کے بعد سے وہ ذرا ذرا سی بات پر گھبرا اٹھتی تھی ، اس کا سانس سینے میں بند ہونے لگتا تھا ، آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا جا تاا ورہاتھوں پیروں سے جان نکلتی محسوس ہونے لگتی تھی ۔

وہ بہت مضبوط ہوا کرتی تھی ، یا شاید مضبوط نظر آنے کی ایکٹنگ کیا کرتی تھی ۔ مگر اپنے ایک خول میں بند رہا کرتی تھی کیونکہ وہ دھوکہ کھانے سے بہت ڈرتی تھی اور اس سے بھی زیادہ اسے بدلتے چہروں ، بدلتے مناظر سے خوف آیا کرتا تھا ۔ پتہ نہیں کھو دینے کا ،بدل جانے کا یہ کیسا ڈر تھا جو پتہ نہیں کب سے اس کے دل میں بسیرا کئے بیٹھا تھا ۔ اس سے بچنے کے لئے وہ اپنے خول میں ہی بند رہنا پسند کرتی تھی ۔پھر بھی دوسال پہلے اسی ہسپتال کے ایک کمرے سے کھو دینے اور بدل جانے کی کہانی شروع ہو چکی تھی ۔

وہ ہسپتال کا بیرونی دروازہ پار کر کے انفارمیشن ڈیسک کی طرف بڑھی ،مینٹل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا پتہ پوچھا ۔کالی گوری مکس بریڈ کی ریسپیشنٹ نے مسکراتے ہو ئے اسے پتہ سمجھانے کو ہاتھ کا اشارہ جس طرف کیا وہاں وہی بنچ پڑا ہو اتھا جہاں دو سال قبل وہ ہاتھوں میں اپنا سر تھامے خود کو سنبھال رہی تھی ۔ ہسپتال کے کمرہ نمبر ۵۰۳ میں ہو جانے والی موت اس عورت کی تھی جس کی دوچھوٹی چھوٹی بچیوں کو وہ پچھلے ایک سال سے ماؤں سے بھی زیادہ ماں بن کر سنبھال رہی تھی ۔ کیونکہ اس کے دماغ میں ایک ہی چیز سوار تھی کہ ان بچیوں کو موت کے بھیانک چہرے ، لوگوں کی احساس کمتری میں مبتلا کرتی ہمدردیوں سے ، (جو بن ماں کے بچوں کے لئے بس خالی خولی امڈتی ہیں ) جس قدر ہو سکے بچا لے ۔ وہ ہمدرد طبیعت کی تو شروع سے ہی تھی ، مگر سات سمندر پار پاکستان میں بیٹھی اپنی مرتی ہو ئی بہن اور اس کی بچیوں کی اذیت کو اس طرح سہنے کی کوشش میں کینڈا میں آنکھوں کے سامنے ان دو بے سہارا ہو تی بچیوں کو محفوظ کرنے میں شائد اپنی استطاعت اور حد سے آگے نکل گئی تھی ۔ اس کا نام راحت تھا ، جب یہ نام رکھا گیا ہو گا تو کوئی نہیں جانتا ہوگا کہ وہ حقیقت میں لوگوں کے لئے راحت ہی بنے گی ۔وہ اپنے نام ہی کی طرح راحت ہی تھی ۔

اس نے بنچ سے نظریں چرا کر آگے بڑھنے کی کوشش کی مگر اچانک بنچ نے اسے جکڑ لیا ۔۔ سنو ۔۔ رکو ۔۔ اس کے کان میں کوئی زور سے چیخا ۔۔ وہ چکرا کر وہیں بیٹھ گئی ۔ سائکلوجسٹ سے ملاقات کے وقت میں ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھا ۔ وہ حسبِ عادت پہلے ہی آگئی تھی ۔ مگر سوال یہ تھا کہ گاری چلا کر وہ اتنی دور تک آ توگئی مگر اب اس بنچ سے بچ کر ڈاکٹر تک کیسے پہنچے گی ۔کیوں کہ وہی ہو رہا تھا جس کا اسے ڈر تھا ، وہ واقعہ اس کی آنکھوں کے سامنے آکھڑا ہوا تھا ۔
اورپھر اچانک دیکھتے ہی دیکھتے ہسپتال کا لاؤنج لوگوں سے کچھا کھچ بھر گیا ۔ اتنے لوگ اتنے لوگ ۔۔مرنے والی، جو سرکاری افسر کی بیوی تھی، کی موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پو رے شہر میں پھیل چکی تھی ۔ ٹورنٹو کے مشرق ،مغرب یعنی ہر جگہ سے لوگ دیکھتے ہی دیکھتے مسسزساگا کے اس ہسپتال میں اکھٹے ہو گئے تھے ۔ ۔ ابھی تو وہ اس عورت کی بچیوں کو آخری دفعہ ملوانے ہسپتال کے اس منحوس کمرے میں لائی تھی۔ مرنے والی شائد اپنی بچیوں کو آخری وقت میں اپنے اردگرد محسوس کرنے کا ہی انتظار کر رہی تھی۔

اسے یاد آیا جب وہ مریضہ کے کمرے کی طرف بچیوں کا ہاتھ تھامے بڑھ رہی تھی تو اسی وقت اس کے کانوں میں قران پاک کی تلاوت کی آوازیں پڑنے لگی تھیں ۔۔ اس کا دل سہم گیا تھا ۔ ابھی ابھی وہ پاکستان سے ایک موت سے نمٹ کر آئی تھی ۔ اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں اور اس کا پورا وجود کسی پتے کی طرح کانپنے لگا ۔ لیکن اس نے دل کو مضبوط کیا کیونکہ اس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو دو ننھی ننھی بچیاں تھامے ہو ئی تھیں ،جن کو موت کی بد صورتی نہ دکھانے کا اس نے خود سے وعدہ کر رکھا تھا ۔۔ وہ خود بچپن سے ہی بہت ڈرتی تھی ۔۔موت کے ساتھ جڑی جدائی اور تبدیلی کے تصور سے ۔۔ اس کا دل آج بھی ویسا ہی نازک تھا ۔ بظاہر وہ بچیوں کو تھامے ہو ئے تھی مگر حقیقت میں وہ اپنے بچپن کو تھامے ہو ئے تھی ۔

اس نے مریضہ کے شوہر کو ، جو اس کا بچپن کا ساتھی اور دوست تھا اسے یہ بات بتا ئی تھی ، بہت بار بتائی تھی ۔۔ سب بدل جاتا ایک موت کے ساتھ ۔ وہ کہا کرتا تھا میں نہیں بدلوں گا ۔۔ لیکن سب بدل جاتا ، تمھارے گھر موت ہو گی ، تم بدل جاو گے ۔۔ حا لات بدل جائیں گے ، یہ بچیاں کیسے یہ تبدیلی سہار پائیں گی ۔۔ چھوٹی لڑکیوں کو بدلنے کا خوف مار دیتا ہے ۔ ان کے اندر کسی آسیب کی طرح بیٹھ جا تا ہے ۔ وہ اس کا دوست تھا بہت گہرا ، بہت پرانا ۔۔اس کا ہاتھ تھام کر اسے تسلی دیا کرتا تھا ۔۔ کچھ نہیں بدلے گا ۔۔ کم از کم میں نہیں ۔ ان بچیوں کے لئے وہی باپ رہوں گا ، تمھارا ویسا ہی دوست رہوں گا ۔۔۔وہ اس کے شہر میں پاکستانی قونصلیٹ میں ٹرانسفر ہو کر آیا تھا ۔
تبدیلی تو اس کی جاب کے ساتھ جڑی تھی ، اور اب سونے پر سہاگہ حالات کے ساتھ بھی جڑ گئی تھی ۔۔ راحت یہ تو جانتی ہی نہیں تھی کہ وہ جھوٹ اور بناوٹ ، جس کا چہرہ وقت نے دکھایا ، اس کی ذات کا حصہ تھا یا اسی ڈپلومیسی کی جاب کی دین ۔۔ راحت کو یاد تھا کالج کے دنوں میں وہ بہت سادہ سا ،معصوم سا ہوا کرتا تھا ۔۔ یا شائد اسے ہی نہ پتہ چلا ہو اور وہ ہمیشہ سے ہی گرگٹ ہو ۔۔ رنگ بدلنے والا ہر موسم کے حساب سے ، ہر وقت کے حساب سے ۔ بہر حال اُس وقت وہ بس اتنا جانتی تھی کہ وہ اس کا دوست تھا اور اس کی بیوی مر رہی تھی اور اس کی دو بچیاں ماں کے سائے سے محروم ہو نے والی تھیں ۔۔

یادوں کی کھڑکی سے وہ موت کے کمرے میں داخل ہو نے ہی والی تھی کہ اس کے اندر سے ایکدم آواز آئی کہ بچیوں کو لے کر وہاں سے بھاگ جائے مگر ابھی اس کا ایک پاوں کمرے کے اندر اور ایک باہر تھاکہ افسر کی بچیوں کو دیکھتے ہی اندر سے عورتیں نکل کر اس پر حملہ آوار سی ہو گئیں۔ وہ سٹپٹا گئی کہ یہ یکا یک سارے شہر کی عورتیں کہاں سے آگئی تھیں ۔ جن میں زیادہ تر وہ تھیں جو طلاق یافتہ تھیں یا بیوہ یا جن کے شوہر انہیں چھوڑ کر کمانے مڈل ایسٹ بیٹھے ہوئے تھے ۔۔ ان سب عورتوں نے بچیوں کو اس کے ہاتھ سے جھپٹا ، جیسے کہ اب اس کا آیا گیری والا کام ختم ہوا اور ان کا کام شروع ۔۔ وہ روکتی رہ گئی ، وہ بچیوں کو روکنا چاہتی تھی ، وہ انہیں باہر کسی پارک ، کسی ریستوران کسی سینما میں لے جانا چاہتی تھی ۔ وہ بچیوں کو موت کی اس بھیانک تصویر کا حصہ بنتے نہیں دیکھ سکتی تھی مگر اس کے ہاتھ خالی رہ گئے اور بچیوں کے ہاتھ تھامے عورتوں کا وہ ہجوم ان کی مرتی ماں کی طرف ان دونوں ننھی جانوں کو دھکیلنے لگا ۔ انہوں نے جیسے ہی سانسیں توڑتی ماں کو دیکھا ، وہ خوف سے چیخنے لگیں ۔ اس کا دل کیا سب عورتوں کا منہ توڑ دے ۔ لیکن اس وقت اس کی حیثیت ایک اجنبی عورت سے زیادہ کچھ بھی نہیں رہ گئی تھی ۔اپنا دوست بھی اس عورتوں کے ہجوم میں اسے اجنبی لگا ۔
پھر ایکدم مرتی ہو ئی عورت کے سانسوں کا شور ایک دم تھم گیا ۔ رنگ بھری عورتیں جوسروں پر دوپٹہ جمائے با آواز بلند تلاوت کر رہی تھیں،اور ان میں سے کچھ بچیوں کو بار بار سینے سے چمٹا چمٹا کر رو رہی تھیں ،جس سے بچیاں خوف سے پیلی پڑ رہی تھیں ۔۔ اس ایک سانس کی ڈور ٹوٹنے کی دیر تھی کہ وہ سب عورتیں دیکھتے ہی دیکھتے آہ بکا اور ماتم کرنے لگیں۔ اس کا دوست اس کے گلے لگ کے رونے لگ گیا کہ اس پرائے شہر میں اس کو دکھ کی اس گھڑی میں صرف وہ ہی اپنی لگی تھی ۔ راحت کو یہ اعزاز ملتے دیکھ کر شہر بھر کی عورتوں نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا اور جلدی جلدی اس کے دوست کو اس سے الگ کیا اور کہا :”ہم سب کمرے سے باہر نکل رہی ہیں ، تم اپنی بیوی سے جی بھر کر باتیں کر لو کیونکہ اس کے بعد تم اسے کبھی نہیں دیکھ پاؤ گے ۔” وہ شائد اپنی دوست کے کندھے پر سر رکھ کر اور رونا چاہتا تھا ۔۔ مگر اسے عادت تھی ہجوم کا دل جیتنے کی اس کی خاطر وہ خود کو بھی مار سکتا تھا، سو وہ جلدی سے ہدایات پر عمل کر نے لئے چاک و چوبند ہو گیا ۔

ایک بڑی آزاد خیال عورت جسے راحت نے جب بھی باہر دیکھا،ہمیشہ بڑے مغربی طرز کے ایکسپوزنگ لباس میں دیکھا تھا، مگر یہاں وہ کالی چادر میں لپٹی ،آنکھوں میں آنسو بھرے کھڑی تھی اورانتہائی تبلیغی انداز میں بولی:” مردے کا منہ دائیں طرف موڑ دیا جائے یہ سنت ہے ” شوہر کے مڈل ایسٹ ہو نے کا جس طرح وہ عورت فائدہ اٹھا رہی تھی ، ٹورنٹو شہر کے بچے بچے کو پتہ تھا اسی لئے اس کے منہ سے ایسی سنت رسول کی باتیں سن کر راحت، اتنے غم میں بھی چونکے بغیر نہ رہ سکی ۔ اب سب عورتیں ، ہر طرح کی عورتیں ، پو رے شہر سے اکھٹی ہو ئی ہو ئی عورتیں مل کر مردے کا رخ دائیں جانب موڑنے میں پوری شدت سے مصروف ہو گئیں۔۔ اور ساتھ ساتھ مرنے والی کے شوہر کو ہدایات دینے لگ گئیں کہ ادھر آکر مردے کے چہرے والی سائیڈ پر بیٹھ جاؤ۔ سرکاری افسروں کی جی حضوری والے انداز میں وہ ہدایات پر عمل کرتا ہوا عین اس جگہ جا بیٹھا۔۔ بات یہیں ختم نہیں ہو ئی ایک حجاب پہنے عورت نے سب مذہبی معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے حکم صادر کیا کہ اب سب عورتیں کمرہ خالی کر دیں اور مرنے والی کا شوہر آخری دفعہ اپنی بیوی سے تنہائی میں باتیں کر ے گا ۔ راحت نے یہ حکم ٹھیک سے سنا نہیں اس لئے جب سب عورتیں کمرے سے نکل گئیں تو وہ وہیں دور باتھ روم کے پاس دیوار کا سہارا لئے منجمند سی کھڑی تھی ، اس کے پاؤں منوں بھاری ہو چکے تھے ، اسی وقت راحت کے دوست نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اس کے لئے پانی لانے کو کہا ، شاید اسے چکر آرہے تھے ، وہ اسی طرح کر سی پر اپنی بیوی کے مردہ چہرے کے عین سامنے بالکل اسی طرح براجمان تھا ، جیسے اسے کہا گیا تھا ۔۔۔ وہ بھاگ کر گلاس پکڑے، جگ سے پانی انڈیل ہی رہی تھی کہ آخر میں جانے والی عورت نے باہر نکلتے ہی اپنے پیچھے کمرے کا دروازہ بند کر دیا ۔۔ راحت نے مڑ کر ایک نظر بنددروازے کو دیکھا ، دوست کو پانی پلایا اورکمرہ خالی دیکھ کر خود بھی باہر نکلنے لگی کہ عین اسی وقت، ایک دم دروازہ کھلا اوربہت سی عورتیں اندر آگئیں ، اور آتے ہی اسے شک بھری ایسی نظروں سے دیکھا کہ وہ زمین میں ہی گڑگئی ، ایک عورت نے اپنے سر پر اپنا سکارف ٹھیک کرتے ہوئے بڑی تیز آواز سے کہا :”آپ کیوں ابھی تک یہیں کھڑی ہیں ۔۔؟ “سوال اس انداز میں کیا گیا جیسے وہ کوئی بہت بڑا گناہ کرتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ہو ، دروازہ ایسے کھولا گیا جیسے کسی بڑے مجرم پر بہت بڑا چھاپہ مارا جا رہا ہو ۔۔ اسی وقت مرحومہ کی کوئی رشتے دار ، جلدی سے بظاہر بات سنبھالتے ہوئے مگر حقیقت میں اسے اور شرمندہ کرتے ہوئے بولی : عورتیں بھی کووں کی طرح ہو تی ہیں جب سب مل کر کائیں کائیں کر نا شروع کر دیں تو ان کی بات سن لینی چاہیئے ۔۔ راحت کا دماغ خالی ہو چکا تھا ، اسے کچھ سمجھ نہ آرہی تھی کہ ہوا کیا ہے ۔۔ فلاح ؟ ایک طرف ؟ کوئے،عورتیں ؟ کائیں کائیں ؟مگر اس نے کیا کیا ہے ۔۔ وہ چوروں کی طرح اپنی صفائی دینے لگی میں تو اسے پانی دے رہی تھی ، اس نے مجھے رکنے کو کہا تھا، اسے شائد اپنی بیوی کے ساتھ اکیلے نہ رہنا ہو ۔۔۔ اس کے یہ کہنے کی دیر تھی کہ بھڑوں کا چھتہ چھڑ گیا ۔ بھن بھن کی آوازیں ہر طرف آنے لگیں ۔

اس دن وہ جس بھن بھن سے بچنے کے لئے بھاگ کر لاؤنج کے اس بنچ پر آبیٹھی تھی ، آج دو سال بعد وہ بھن بھن پھر اس کے کانوں کے پردے پھاڑنے لگی ، اس نے جلدی سے کانوں پر ہاتھ رکھ دئیے اور بے بسی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگی کہ کوئی اس کو ماضی کے اس شور سے نجات دلا دے ۔۔ اور اب تو یہ بھن بھن کا شور دو سال میں ہونے والی” تبدیلی” کی وجہ سے ایک اوربھیانک شکل اختیار کر چکا تھا ۔
اس دن راحت یہیں، اسی بنچ پر گم سم بیٹھی تھی ، کہ پاس سے ہی ایک کمزور سی زنانہ آواز ابھری تھی تو اسے محسوس ہوا کہ کوئی اور بھی ساتھ بیٹھا تھا ، اس نے خود میں سمٹتے ہوئے اس ادھیڑ عمر پاکستانی عورت کو دیکھا جو اُس سے پوچھ رہی تھی کہ :” یہ آج ہسپتال میں کون مر گیا ہے کہ اتنے لوگ اکھٹے ہیں ؟ یہاں کیینڈا میں تو کسی کو ایسی فرصت کہاں کہ  یوں جوق در جوق کسی سگے کے مرنے پر بھی پہنچ سکیں” ۔
راحت نے اس کی لمبی بات کو نظر انداز کرتے ہو ئے، دھیرے سے جواب دیا ” میری دوست تھی “۔ اگر کوئی کینیڈین پوچھتی تو وہ بلا ججھک کہہ دیتی کہ” میرے دوست کی بیوی تھی” ۔۔ ۔عورت نے فورا ً ہی اگلا سوال داغا: کیا وہ بہت نیک تھی ؟” ۔ اس عورت کی آنکھوں میں لوگوں کا میلے جیسا ہجوم دیکھ کر ایک تجسس تھا۔۔ ” ہاں تھی بہت اچھی تھی ” مگر وہ سوچنے لگی کیا یہ ہجوم واقعی اس لئے اکھٹا ہے کہ مرنے والی بہت اچھی تھی ؟ یا اس لئے کہ میرا دوست بہت اچھا، لوگوں کے کام آنے والا افسر ہے ؟ یا پھر صرف افسر بھی ہو تا تو ہجوم کا یہی عالم ہو تا ؟۔
اب وہ سوچنے لگی، عورتیں تو سب ہی ایسی ہی ہو تی ہیں جیسی مر حومہ تھی ، ایسے ہی کبھی کسی کے کام آجاتی ہیں ، کبھی کسی کی برائی کر دیتی ہیں کبھی کسی سے لڑ پڑتی ہیں ۔۔ سب عورتیں کم و بیش ایسی ہی ہوتی ہیں لیکن سب کے مرنے پر یوں لوگ مکھیوں کی طرح اکھٹے نہیں ہو جاتے ۔۔ پھر اس نے ساتھ بنچ پر بیٹھی متجسس عورت کی طرف منہ کر کے کہا : شائد اس کا شوہر لوگوں کے کام آنے والا آفیسر ہے ، اس لئے۔۔ وہ نیک دل انسان ہے۔۔ یہ کہتے ہو ئے اس کے دل میں اپنے دوست کے لئے ہمدردی اور فخر کا جذبہ اکھٹا پیدا ہو ا تھا۔۔

اب وہ عورت انتہائی غم سے بوجھل آواز میں بولی : بیٹی ، میرا میاں اس وقت موت کے منہ میں ہے اور میں باہر اکیلی بیٹھی ہوں ۔ہمارے اپنے بچے جو کہ کینیڈا کے مختلف شہروں میں ہیں، آنے کے لئے بہانے کر رہے ہیں ، وہ اتنی دور بھی نہیں رہتے مگرپھر بھی ان کا آنا آسان نہیں ہے، کہتے ہیں ایک ہی دفعہ آئیں گے ، مطلب جب باپ مر جائے گا تو تب ہی آ ئیں گے ۔۔ ،مصروف ہی ہو نگے نا ؟یہی سنا ہے کینیڈا میں سب بہت مصروف ہو تے  ہیں ۔۔مگر دیکھو خدا کی شان ایک انجان افسر کے لئے جس کی کل کو کہیں اور ٹرانسفر ہو جائے گی اور وہ پلٹ کر ان لوگوں کو دیکھے گا بھی نہیں اس کی بیوی کے مر نے پر کیسا شاندار اجتماع منٹوں میں اکھٹا ہو گیا ہے اسی شہر میں جہاں ایک سگے باپ کے لئے جس نے ان بچوں کی خاطر زندگی محنت مشقت میں کاٹ دی ۔۔۔۔۔ راحت خالی خالی آنکھوں سے اس جہاندیدہ عورت کی گہری گہری باتیں سنتی رہی ۔ تو بیٹی مجھے لگتا ہے کہ بات صرف اچھا ہونے یا کام آنے والے کی نہیں، بات ساتھ” افسر” کا جو لفظ لگا ہے، اس کی ہے ۔ سارا کھیل ہی اس افسری کا ہے ۔۔ ورنہ اب تمھیں کیا بتاؤں کہ میرے شوہر سے زیادہ ہمدرد ، دوسروں کے کام آنے والا ، انسان اور کون ہو گا ؟ مگر اس کے لئے تو ا سکے اپنے بچے نہیں پہنچ پا رہے ۔۔ تھا تو وہ بھی کبھی افسر مگر اب ساتھ” ریٹائرڈ” لگا ہوا ہے ۔۔ اور اب وہ کینیڈا میں صرف ایک ریٹائرڈ، سنئیرسیٹزن، سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔تو اس لئے اس کی بیماری میں سوائے میرے یہاں کوئی نہیں پہنچ پاتا ، ہسپتال کی کار پارکنگ کے بھی تو پیسے ہو تے نا۔۔ ۔”

تب ہی شائداس عورت کے تکلیف میں ڈوبے طنزیہ الفاظ اسے اندر سے توڑنا شروع ہو چکے تھے اور احساس کا وہ لمحہ ، اور کرب کی  وہ کہانی جواپنی انتہا تک نروس بریک ڈاؤن کی صورت پہنچے، ان کا آغاز اسی لمحے سے ہو گیا تھا ، اسی بنچ پر بیٹھے ، جہاں آج قسمت اسے دو سال بعد پھر سے لے آئی تھی ۔
آج اسی جگہ وہی عورت ویسی ہی شکوہ بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہو ئے فاتحانہ انداز میں کہہ رہی ہے : اب پتہ چلا اچھا انسان اور اچھا افسر ہونے میں کیا فرق ہوتا ہے ؟ وہ وہیں سر گھٹنوں میں دبا کر رونے لگی کاش آج وہ عورت اسے مل جاتی تو اسے بتاتی کہ اب تو مجھے یہ بھی پتہ چلا گیا ہے کہ افسر اور دوست میں کیا فرق ہو تا ہے ؟
راحت، وہ جسے اپنے آنسوؤں پر مکمل اختیار ہوا کرتا تھا ۔ اب بے قابو ہو چکے تھے ۔ اس کو جس جس بات پر مان تھا وہ سب مان ٹوٹ چکے تھے ۔ اس کے غرور کی موت شائد ان بچیوں کی ماں کی موت کے ساتھ ہی ہو چکی تھی ۔ جب وہ اس کے تابوت کے ساتھ سرد خانے جا رہی تھی تو شائد مرنے والی اپنی ساری بدقسمتی اس کے ہاتھ پر دھر گئی تھی ۔۔ وہ گا ڑی میں پتھر کی طرح بیٹھی تھی اور حیران ہو کر تازہ تازہ مرنے والی کی بہن کا ڈرائیو کر تے انہی کے کسی کزن کے ساتھ ہنسی مذاق سن رہی تھی ۔۔ ایک بہن بھائی کی موت اور ان کے پیچھے رہ جانے والے بچوں کا دکھ اور ان کی محرومی ، کیا سب اتنے غیر اہم ہو تے ہیں کہ کوئی ایک وقت کی ہنسی کا ناغہ بھی نہ کر سکے ۔۔

سرد خانے میں تابوت چھوڑ کر واپسی کا راستہ لمبا ہو تا گیا ۔ زندوں کے ہاتھوں اسے اپنی موت نظر آرہی تھی ۔ اس کی چھٹی حس چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ اب اس کے اندر ایک کے بعد دوسری موت اور دوسری کے بعد تیسری بلکہ ایک نہ ختم ہو نے والا سلسلہ شروع ہونے والا ہے ۔
جیسے نیند میں کبھی کبھی یہ کیفیت بھی آتی ہے کہ انسان کا دماغ جاگ جاتا ہے اور جسم سویا رہتا ہے ،وہ ارد گرد کی آوازوں کو سن سکتا ہے ، مگر اٹھ یا ہل نہیں سکتا ، ایسی کیفیت بہت ڈرا دینے والی ہو تی ہے ، اس حالت سے انسان جس طرح پو ری طاقت لگا کر باہر نکلتا ہے بالکل اسی طرح اس وقت راحت نے اپنی پوری طاقت لگا کر دو سال پہلے اسی بنچ پر بیٹھی اس عورت سے اور ٹورنٹو شہر کے پاکستانی ہجوم سے جان چھڑائی اور سائکلوجسٹ کے کمرے کی طرف بھاگی ۔۔ پورے گیارہ بج چکے تھے ۔ اور جب سائکلوجسٹ نے کدال لے کر اس کی روح کی کھدائی شروع کی تو یادوں کی کنکریاں اڑ اڑ کر اس کی آنکھوں میں چبھنے لگیں اور وہ زارو قطار رونے لگی ۔۔
سا ئیکالوجسٹ اس سے پو چھ رہی تھی کہ کیا چیز ہے جو اسے راتوں کو سونے نہیں دیتی ۔؟ وہ کچھ سوچے بغیراچانک ہی بولی :
“بچیوں کو موت کی بھیانک شکل سے بچاتے بچاتے ، میں زندگی کا سب سے بھیانک روپ دیکھ چکی ہوں ۔”
“اور وہ روپ کیا ہے ؟”سائکلوجسٹ نے پیشہ وارانہ سٹائل سے پوچھا ۔
“وہ زندگی کے بدلتے رنگ ہیں ، چہروں سے اترے ماسک ہیں ۔ معصومیت کے پیچھے چھپے دھوکے ہیں ۔۔ رنگ بدلتے گرگٹ ہیں ۔۔ ”
یہ سیدھی سیدھی بات کہتے کہتے اس کی ہچکی بندھ گئی ۔۔ آنسوؤں کا بند ٹوٹ گیا ۔
سائیکلوجسٹ خاموشی سے اسے ٹشو پکڑاتی رہی ۔۔۔۔ آپ کی بہن کی موت کو اور دوست کی موت کو بالترتیب تین اور دو سال ہو چکے ہیں ۔۔ مگر نروس بریک ڈاون اب کیوں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا محسوس ہو تا ہے ۔”
“آج سے پہلے ، شائد آدھے گھنٹے پہلے بھی مجھے اس سوال کا جواب نہیں پتہ تھا ۔۔ ابھی جو آدھا گھنٹہ باہر اس بنچ پر بیٹھ کر آئی ہو ں تو جیسے دھند چھٹ گئی ہو اور اب مجھے پتہ ہے کہ مجھ جیسی بہادر خاتون مایوسی کے آخری کنارے پر کیوں پہنچ گئی تھی ۔۔ ”
ماہر نفسیات نے نرمی سے سر کو ادھر ادھر ہلایا اور بولی مجھے تو تمھاری ساری باتیں سن کے یہ لگا کہ تم اپنی عمر دوسروں کے لئے گذارتی رہی ہو اور کوئی ایسا کبھی نہیں ملا جو تمھارے لئے اپنی عمر لے کر آتا ۔اس لئے ، گھڑا ایک سائیڈ سے خالی ہو تا گیا اور اسے بھرنے والا کوئی نہ تھا اور جب بالکل خالی ہو گیا تو تم چٹخ گئی ۔۔۔۔۔۔نروس بریک ڈاؤن اسی مقام پر ہو تا ہے ۔”
“ہاں بس میرے دوست نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اپنی بیٹیوں کی اور میری جان کی قسم کھا کر کہ موت ، کہیں بھی کوئی بھی تبدیلی نہ لائے گی ۔۔۔۔ میں نے اسے اپنے اس کمزوری کے راز میں بھی شریک کیا تھا کہ میں خزاں کے موسم میں کمرے میں ڈر کر، چھپ کر بیٹھ جاتی ہوں لیکن سب بدل دیا اس نے۔ بچیاں تک اور میں جس نے برسوں مشکلات کے پہاڑوں کو کاٹ کر لوگوں کے لئے آسانیوں کی نہریں پیدا کی ہوئی ہیں،خزاں اور موت کے بعد بدلنے والے پتوں اور چہروں کے رنگ برداشت نہ کر پائی۔۔بس! کہنے کو بس اتنی سی بات ہے ”
پھراس نے اپنی آنسووں میں ڈوبی آنکھوں کو صاف کرتے ہو ئے ڈاکٹر سے پوچھا : “کیا کوئی ایسی ددا ہے یا دعا یا کوئی تھراپی یا کوئی کالا جادو کچھ بھی ۔۔۔ کچھ ہے کہ میں فلیش بیک سے نجات پا لوں ۔۔۔۔۔؟”
ڈاکٹر نے کہا “گروپ تھراپی میں آنا شروع کر و، اس سے فائدہ ہو سکتا ۔ ”
کیسے ؟ اس کی آنکھوں میں امید چمکی ۔
“وہاں سب مل کر ایک دوسرے کے فلیش بیک کا سامنا کرتے ہیں، مل جل کر انہیں ہرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔”سائیکلوجسٹ نے پیشہ وارانہ مسکراہٹ میں جان ڈالتے ہو ئے کہا ۔
اور اسی وقت اسے لگا بہت سی عورتیں ، سارے شہر کی عورتیں مل کر اس کے پتھرائے ہو ئے بے جان جسم کا رخ دائیں طرف کو موڑ رہی ہیں ۔کیونکہ بے جان جسم کا رخ درست سمت میں ہو نا بہت
اہم بات ہے ۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”درست سمت۔۔۔۔روبینہ فیصل

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *