نواز شریف کا العزیزیہ ریفرنس میں بیان ریکارڈ

SHOPPING

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں بطور ملزم اپنا بیان قلمبند کروادیا۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں۔سماعت شروع ہوئی تو سابق وزیراعظم نواز شریف کو روسٹرم پر بلایا گیا، جہاں انہوں نے 342 کا بیان قلم بند کرانا شروع کیا۔فاضل جج ارشد ملک نے پہلا سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ آپ عوامی عہدیدار رہے ہیں؟ جس کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا یہ بات درست ہے کہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ، وزیر خزانہ اور اپوزیشن لیڈر رہ چکا ہوں اور تین بار ملک کا وزیراعظم رہا ہوں۔نواز شریف سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے استغاثہ کے شواہد کو دیکھ، سن اور سمجھ لیا ہے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ جی میں نےشواہد دیکھ لیے ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ 1999 سے 2013 تک عوامی عہدیدار نہیں رہا اور 2000 سے 2007 تک جلا وطن رہا۔ نواز شریف نے کہا پرویزمشرف کے 12 اکتوبر 1999 کو مارشل لاء لگایا، مارشل لاء کے دوران کوئی عوامی عہدہ نہیں تھا۔ یہ درست ہے کہ ویلتھ ٹیکس گوشوارے میں نے ہی جمع کرائے۔اس موقع پر نواز شریف کے وکلاء نے سوالنامے میں شامل کچھ سوالات پر اعتراض اٹھائے جب کہ سابق وزیراعظم نے کہا کہ کچھ سوالات گنجلگ اور افواہوں پر مبنی ہیں اور کچھ سوالات میں ابہام بھی پایا جاتا ہے۔نوازشریف نے 50 سوالات میں سے45 کےجواب قلمبند کروائے، جبکہ 5 سوالات کے جوابات نہ دیتے ہوئے کہا کہ پانچ سوالوں کے جواب خواجہ حارث سے مشاورت کے بعد دوںگا۔نواز شریف نے کہا کچھ سوالات پیچیدہ ہیں، ریکارڈ دیکھنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث عدالت پیش نہیں ہوئےنواز شریف کے معاون وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ میاں صاحب نشست پر بیٹھ جائیں ہم جواب تحریر کرا دیتے ہیں جس پر جج ارشد ملک نے کہا کہ اگر جواب یو ایس بی میں ہیں تو جمع کرادیں۔معاون وکیل نے کہا یو ایس بی میں عدالتی سوالات کے جواب نہیں ہیں، ہارڈ کاپی ہے جس پر جج نے کہا کہ اپنے جواب کی کاپی مجھے دیں میں پڑھ لیتا ہوں جس کے بعد انہوں نے سابق وزیراعظم سے جواب کی کاپی لے لی۔یاد رہے کہ سابق وزیراعظم کے خلاف ٹرائل مکمل کرنے کے لیے فاضل جج ارشد ملک کو سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن بھی 17 نومبر کو ختم ہورہی ہے۔احتساب عدالت کی جانب سے ٹرائل کی مدت میں ساتویں بار توسیع کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کا بھی امکان ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *