فکر اقبال۔۔۔۔حافظ امیر حمزہ

دنیا کی تاریخ میں کم ہی ایسی شخصیات گزری ہیں جن کوتقریباً ہر مکتبہ فکر اور دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والے باشندوں اور اہل علم نے سچے دل سے پسند کیا ہو۔ایسی ہی پسندیدہ اور مقبول ترین شخصیات میں سے ایک ایسی شخصیت گزری ہے جس کو ہر طبقے کے افراد جانتے اور پسند کرتے ہیں اس شخصیت کا نام ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ ہے اوردنیا اسے ؒؒؒؒؒؒؒؒشاعر مشرق کے نام سے بھی جانتی اور پہچانتی ہے۔ حضرت اقبال رحمہ اللہ ایک وسیع و عریض سوچ کے مالک تھے، وہ دین اسلام کے اصولوں اور تاریخ اسلام سے اچھی طرح واقفیت رکھتے تھے، آپ کے کلام میں دین اسلام کی سچائی کا مفہوم نظر آتا ہے۔ جو شخص بھی دین اسلام کے بارے میں معلومات نہیں رکھتا اس کے لیے شاعر مشرق کے کلام کو سمجھنا بہت مشکل ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ”اقبال رحمہ اللہ کا پیغام دراصل اسلام کا پیغام ہے“۔
علامہ اقبال رحمہ اللہ کے کلام میں اگر کوئی غوروفکر کرے تو اسے آپ کے کلام میں اسلام کا وسیع تر مفہوم نظر آنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو جر أت، بہادری کے ساتھ جینے اور حقیقی مسلمان بن کر زندگی گزارنے کا جذبہ بھی نظر آئے گا۔ اسی لیے اکثر علامہ اقبال رحمہ اللہ اپنے کلام و اشعار میں مسلمانوں کے لیے لفظ ”شاہین“ کو استعمال کرتے ہیں اور”شاہین“ایسا پرندہ ہے جو خود دار ہوتا ہے اورپھرایسا خوددار کہ صرف آب و دانہ کے لیے بلندیوں سے نشیب کی جانب نہیں آتا۔
شاعر مشرق نے اسی لیے کہا تھا:
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
جس کی نگاہ بھی تیز، پرواز بھی تیز اور رفتار بھی تیز ہوتی ہے، شاعر مشرق مسلمانوں کو”شاہین“کی طرح تیز رفتار، بلند نگاہ اور بلند پرواز دیکھنا چاہتے ہیں۔ علامہ اقبال رحمہ اللہ کلام میں مسلمانوں کا دل و دماغ بیدار کرنا چاہتے ہیں، جس سے وہ مسلمانوں کو ایک خوددار مسلمان بنانے کی فکر میں لگے رہتے تھے اور بزدلی،لاچا ری والی صفات کو وہ مسلمانوں سے دور کر کے ان کے اصل مقام سے آشنا کرانا چاہتے تھے کہ تم تو وہ تھے کہ مسلمان313ہیں اورمد مقابل 1000ہیں،جرأت،بہادری اور خودداری اتنی بیدار کہ مقابلہ کرنے کے لیے تعداد کی کوئی پرواہ نہ کی اورڈٹ گئے۔
علامہ اقبال رحمہ اللہ نے عالم اسلام کو اور خصوصاً برصغیر کے مسلمانوں میں اسی خودداری کو بیدار کرنے کے لیے یہ پیغام دیا کہ تم سب ایک جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ اور آزادی کے لیے تگ و دو کرواگر تم ایسا نہیں کرو گے تو پھرہمیشہ کے لیے انگریزوں اور ہندوؤں کے غلام بن کر رہ جاؤ گے۔ یہ فرقہ بندی،نسلی امتیازات اور غلامی کا طوق ہمیشہ کے لیے وہ تمہاری گردنوں میں پہنائے رکھے گے اورمزیدکچھ اس طرح فرمایا:
بتان رنگ وخوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی ایرانی نہ افغانی
مٹایا قیصرو کسریٰ کے استبدادکو جس نے
وہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق مسلمانی
آج کے دور میں عالم اسلام کو علامہ اقبال رحمہ اللہ کے مسلمانوں کے بارے میں لکھے گئے پیغامات پر غور وفکر کرکے اپنے اسلاف کی عظمت اور شان وشوکت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کونسی وہ خوبیاں تھی جسے اپنا کر ہمارے اسلاف کامیاب ہو گئے اور ایک خوددار مسلم کی حیثیت سے زندگی گزار گئے جیسا کہ اقبال رحمہ اللہ نے فرمایا:
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا اک ٹوٹا ہوا تارا

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply