ایسی عید کا کسی نے سوچا بھی نا تھا

عید وہ دن ہے جس کا آغاز زیادہ تر گھروں میں آنسووں سے ہی ہوتا ہے۔ اس دن بچھڑے ہوئے اتنے یاد آتے ہیں کہ آنسووںکے راستے زبردستی دامن سے لپٹ جاتے ہیں۔ نماز عید کے بعد قبرستان آباد ہو جاتے ہیں۔ قبرستانوں کے باہر پھول والوں کی عارضی دکانیں سج جاتی ہیں۔ اس عید پر تو ملک الموت نے اوور ٹائم لگایا ہے اور تین دن کے اندر اندر پارا چنار، کوئٹہ اور احمد پور شرقیہ میں تین سو سے زائد لوگ لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ اب وطن عزیز میں مزید کئی سو گھر شامل ہوگئے ہیں جن کی تاریخ حیات عید ماتم میں بدل گئی ہے۔ اب وہاں ہر عید پر قہقہے نہیں بلکہ درد ناک چیخیں سنائی دیں گی۔
عجیب لوگ ہیں ہم۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم ذلالت کی تمام حدود پار کرتے ہی جا رہے ہیں۔ کوئی عورت کا بھوکا ہے تو کوئی پیسے کا۔ کوئی اختیار کا اور کوئی ثواب کا، کوئی جان دے سکتا ہے تو کوئی جان لے سکتا ہے۔ پولیس والے کے روکنے پر اس کی سزا یہ ہے کہ اس پر گاڑی چڑھا دی جائے۔ تمھاری جرات کیسے ہوئی ایک ایم پی اے کو روکنے کی؟ کوئی سوال اٹھائے تو اس پر گستاخی کا الزام لگا کر اسے دنیا سے اٹھا دیتے ہیں۔ جو سوال لکھ دے اسے غائب کر دیا جاتا ہے۔ جو پوچھے کہ دولت کہاں سے آئی اسے بدنام کر دو۔ یہ نمازیں، روزے، خیرات، حج اور عمرے وہی تو نہیں جو منہ پر مار دیئے جائیں گے۔ جھوٹ اور منافقت پر جو کمال ہمیں حاصل ہے اس کا کوئی جوڑ ہی نہیں۔ کمال ہے جھوٹ بولنے والوں کی نا تو زبان کالی ہوتی ہے اور نا ہی ان کی شکل پر پھٹکار پڑتی ہے۔ اب ایسے بیوٹی پارلر کھل گئے ہیں جو شیطان اور حیوان کو میک اپ کر کے “اچھا”انسان بنا دیتے ہیں۔ پھر یہ شیطان نما انسان ٹی وی پر آکر وہ وہ کمال دیکھاتے ہیں کہ لکی ایرانی سرکس یاد آ جاتی ہے۔ گزشتہ تین دن میں تو یہی دیکھا ہے۔ خبر بم دھماکے اور پٹرول سے جل کر مرنے والوں کی اور منہ پر وہ رونق اور 32 ایسے کھلتی ہے کہ شیطان بھی حیران ہے کہ میں تو قید تھا یہ میرے بھی استاد کہاں سے آگئے؟ اگر کوئی راہنمائی کر سکے تو مجھے یہ ضرور بتائے کہ کیا روزوں میں واقعی شیطان قید ہو جاتے ہیں یا پھر یہ سب باتیں ہیں!
پارا چنار اور کوئٹہ میں ایک دو کو نہیں، درجنوں لوگوں کو “دوزخ” بھجوا کر اپنے لیئے “جنت “پکی کرنی تھی۔ ادھر احمد پور میں بھی لوٹ سیل لگ گئی اور ایک لیٹر پیٹرول فی کس کے بدلے سینکڑوں میں موت بٹی۔ اصل میں یہ ہمارا قومی المیہ ہے اور مجموعی ملی سوچ کا عملی مظاہرہ بھی۔ وہ یہ کہ مال مفت اور پھر، ٹوٹ پر اس پے اے مرد مجاہد دیر نا کر ۔ یہ سلسلہ آج کا نہیں بلکہ ایک عرصہ سے جاری ہے۔ 47 میں بھی مال مفت کے بدلے انسانیت لٹی۔ 71 میں پھر اسے دوہرایا گیا۔ اب ہر رمضان میں ثواب کی خاطر راشن بانٹنے پر اس کے ہزاروں چھوٹے چھوٹے عملی مظاہرے ہوتے ہیں۔ بڑی عید پر گائے کا گوشت کئی بار تو انسانی ماس کی قیمت پر ہی ملتا ہے۔
بس جو مفت ہے، جو بٹ رہا ہے، جس کا کوئی وارث نہیں یا کسی کمزور کا مال ہے تو بسم اللہ پڑھ اور ہڑپ کر جا۔ سب جائز ہے۔ اور جہاں تک سرکاری دولت کی بات ہے تو بس بسم اللہ کے ساتھ الحمدللہ پڑھ لو وہ بھی جائز ہو جائے گا۔ سنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ بندے کا نظام ہضم کمزور پڑ جاتا ہے۔ مگر قومی دولت ہو اور اگر آپ اقتدار میں بھی ہوں تو ہاضمے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ پلاٹ، مکان، فیکٹری، ٹھیکے، اور ڈالر ایسے ہضم ہوتے ہیں کہ ان کا فضلہ بھی باہر نہیں آتا۔ توجہ دلانے پر کہا جاتا ہے لاو ثبوت۔ اب کوئی کرے بھی تو کیا کرے۔
ادھر کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ لوگ بہت غریب ہیں اور صرف ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت پر جا ن داو پر لگا دیتے ہیں۔ جس کو لڑکی صرف خواب میں نظر آتی ہے وہ 72 حوروں کے لالچ میں پھٹ جاتا ہے۔ اس کی ڈیسپریشن کا عالم تو نوٹ کریں۔ کس کیلئے پھٹ رہا ہے۔ اس کی ایک شادی کروا دو ان میں سے اکثر تو باقی 71 کا خیال بھی دل سے نکال دیں گے۔ غور کر کے دیکھ لیں پھٹنے والوں میں سے اکثریت کی تعداد ان علاقوں سے ہوتی ہے جہاں شادی ایک مہنگا سودا ہوتی ہے۔ جہاں تک بات غربت کی ہے میں اس دلیل سے بھی پوری طرح متفق نہیں۔ میں نے اس رمضان میں کئی ایسے مناظر دیکھے ہیں جو پہلے کھبی نا دیکھے تھے۔
اب بات سمجھ میں آئی ہے کہ سر عام خیرات لینے والوں کا مسئلہ روٹی ہے ہی نہیں۔ موٹر سائیکل اور رکشہ بردار اور وہ بھی اینورائیڈ فون والے جب ایک پاو چاول کا شاپر لینے کیلئے اپنے جیسوں کو ہی روند رہے ہوتے ہیں تو ان کے چہروں پر صرف اور صرف حیوانیت ہی چھلکتی ہے۔ اب صرف روٹی کیلئے نہیں بلکہ اپنی دیگر ضروریات مثلاً موبائل فون، اس کا بیلنس، اچھے کپڑے، موٹر سائیکل کا پیٹرول، اور بناو سنگھار کیلئے بھی مال چاہیے ہوتاہے۔ روٹی مفت لے لو اور جو پاس ہے اس سے خواہشات پوری کر لو۔ لالچ اور سہولتوں کی اس دوڑ میں “انا”گراوٹ کی تمام حدود پار کر چکی ہے۔ ادھر دینے والے بھی انسانی تذلیل میں ہی اپنا ثواب حاصل کرنے کے نت نئے طریقے ایجاد کر چکے ہیں۔
احمد پور شرقیہ سے لے کر پارا چنار میں خودکش حملہ کرنے والے تک۔ کراچی کے بھکاریوں سے لے کر حکومتی عہدیداروں تک۔ کلرک اور سپاہی سے لے کر سیکرٹری تک۔ کونسلر سے لے کر وزیر تک۔ جس کو جو مفت مل رہا ہے حق سمجھ کر دونوں ہاتھوں وصول کر رہا ہے، اور خیرات کا پنڈال سجانے والوں کے کارنامے تو آئے روز سوشل میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ دراصل ہمارے معاشرے میں دولت کی حکومت ہے اسی کا اقتدار سب سے مضبوط ہے۔ کوئی نہیں پوچھنے والا کہ دولت کا یہ پہاڑ کہاں سے آیا ہے۔ دولت جتنی بھی ہو۔ نماز، اعتکاف، واعظ، عمرہ کافی ہیں ثابت کرنے کیلئے کہ ہم پاک بھی ہیں اور صاف بھی۔ ہم سے بڑا ایماندار کوئی اور نہیں۔ اور انہیں نیک اعمال سے ہی خدا نے اتنی دولت سے نوازا ہے۔
اب احمد پور شرقیہ کی ہی بات لے لیں۔ ہم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر پر برن یونٹ نہیں بنائیں گے بلکہ ہیلی کاپٹر اور سی 130 لے کر پہنچ جائیں گے۔ کیونکہ ہم موت پر اپنی دکانداری کرتے ہیں۔ ایک لیٹر پٹرول لوٹنے والوں کی موت کی جب قیمت 20 لاکھ لگائی جاتی ہے تو عقل ماتم کرنے لگتی ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ جو زخمی ہیں ان کے ورثا کے دل میں بھی کہیں 20 لاکھ کی خواہش تو سر نہیں اٹھا رہی۔ خدا کرے کہ میرا یہ وہم غلط ہو۔ لیکن لالچ کی بستی میں آخر کتنے قناعت پسند ہو سکتے ہیں؟ یہ سوال ضرور تنگ کرتا رہے گا۔ اور ان پھرتی والوں کو دیکھو!!! لوگوں کو شعور، تعلیم، روزگار اور ہسپتال نہیں دینا بلکہ لاشیں اٹھانے کیلئے ہیلی کاپٹر اور جہاز دے دینے ہیں۔ سچ ہی تو ہے جیسی قوم ویسے حکمران۔ بندہ اس سے زیادہ اور کیا کہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply