توتن خامون کے مقبرے کی دریافت/سیّد محمد زاہد

علم کے سمندر آکسفورڈ کو چھاننے کا دوسرا دن تھا۔ سن رکھا تھا کہ اس کی گہرائیوں میں بہت سے گوہر ہائے گراں مایا پنہاں ہیں۔ پہلا دن نئے آنے والے طلبا و طالبات کا استقبالیہ میلہ ’فریشرز ویک‘ دیکھتے گزر گیا۔ دوسرے دن بھی کسی کالج کے اندر گھسنے کی بجائے سڑکوں پر ہی گھوم رہا تھا۔ دیومالائی شہر کی عمارتیں صدیوں کی کہانیاں سنا رہی تھیں۔ گھوم پھر کر سب سے خوبصورت عمارت ‘ریڈکلف کیمرہ’ کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔ اس کے گرد دو دن میں یہ میرا چوتھا چکر تھا۔ خوبصورتی بار بار ادھر کھینچ لاتی۔ ویسے بھی یہ یونیورسٹی، بلکہ شہر کا مرکز ہے۔ چونکہ اس کے پاس بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں اس لیے سامنے والی عمارت سے گزر کر سڑک پر آگیا۔ یہ واحد جگہ ہے جہاں ہمیشہ بہت سے لوگ سیڑھیوں پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ سامنے قدیم یونانی و رومی طرز تعمیر کی آمیزش سے بنی دیوہیکل عمارت کے بڑے بڑے ستون استادہ ہیں۔ تھوڑی دائیں طرف شیلڈونین تھیٹرکی بیرونی دیوار پر موجود آکسفورڈ کے بزرگ/ بادشاہ کہلائے جانے والے سترہ مجسمے اس جگہ کی ہیبت و عظمت کو چار چاند لگا رہے تھے۔ اس تھیٹر میں دوسرے پروگراموں کے علاوہ پچھلے چار سو سال سے فارغ التحصیل طلبا کو ڈگری دینے کی تقریبات ہو رہی ہیں۔ ان دیواروں کو دیکھ کر پوری دنیا میں پھیلے یونیورسٹی کے فارغ التحصیل عظیم اساتذہ، لیڈرز، سائنس دانوں اور حکمرانوں کی نگاہیں جھک جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سائنس میوزیم ہے جس میں سائنسی دنیا کی اساطیری شخصیت، مشہور سیکولر سنت، آئن سٹائن کے تبرکات موجود ہیں۔

دروازے پر متبرکانہ و متکبرانہ دعوت لکھی ہوئی ہے، ’’ہمارے پا س وہ بلیک بورڈ اصلی حالت میں موجود ہے جس پر آئن سٹائن نے اپنے ہاتھ سے کائنات کا حجم، کثافت اور عمر جانچنے کا فارمولہ لکھا تھا۔‘‘

نظر گھما کر پیچھے کی طرف دیکھا تو ایک ستون پر لگے نیلے نیون سائن پر مصر کے فرعون کی تصویر آویزاں تھی۔ اوپر لکھا تھا، ’’توتن خامون: محفوظ شدہ دستاویزات کی کھدائی۔‘‘ نمائش کی جگہ کا نام ’ویسٹن لائبریری‘ تھا۔

گوگل کیا تو پتا چلا کہ اسی جگہ پر بیٹھا ہوں۔ تھکاوٹ ختم ہو گئی اور فوراً ہی اٹھ کر اندر داخل ہوگیا۔
آج توتن خامون کے مقبرے کی دریافت کے 100 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

1922 میں ہاورڈ کارٹر اور ان کی ٹیم نے لکسر میں اس نوجوان بادشاہ کا مقبرہ دریافت کیا تھا۔ قدیم مصر کی یہ پہلی معروف شاہی تدفین تھی، جس میں بادشاہ کی استعمال شدہ اشیاء اور زندگی بعد از موت میں کام آنے  والی چیزیں، اسلحہ اور زیورات کے ساتھ کفن پر چڑھائے گئے پھول اور پھل بھی محفوظ تھے۔ اس سے پہلے بہت سے مقبرے اور اہرام جن کے بارے میں احمد رضا خان بریلوی کا کہنا ہے کہ یہ جنات نے بنائے ہیں، کی تہوں تک انسان پہنچ چکا تھا۔ بدقسمتی تھی کہ انتہائی مشکل کھدائی کے بعد ملتا کچھ بھی نہیں تھا۔ مامون الرشید نے جب مصر فتح کیا تو غزا کے اہرام میں سے ’کوفو‘ میں راستہ تلاش کرنے پر مزدوروں کو لگا دیا۔ ایک فٹ فی دن کی رفتار سے نیچے جاتے ہوئے جب وہ اندر پہنچا تو پتا چلا کہ مدفون خزانہ پہلے ہی چوری ہو چکا تھا۔

توتن خامون کے مقبرے میں بھی دو دفعہ نقب زنی ہوئی لیکن اس چوری کا فوراً ہی پتا چل گیا اور دروازوں کو دوبارہ سیل کر دیا گیا تھا۔ پھر اردگرد کے دوسرے مقابر کی تعمیر اور توڑ پھوڑ کی وجہ سے اس پر بہت سی دھول مٹی اور پتھر جمع ہوتے گئے اور یہ مقبرہ تین ہزار سال تک انسانی نگاہوں سے اوجھل رہا۔ اس دریافت کو دنیا کے سب سے مشہور آثار قدیمہ میں سے ایک گنا جاتا ہے۔ توتن خامون قدیم مصر کا اہم بادشاہ نہیں تھا اور اگر یہ مقبرہ اس حالت میں دریافت نہ ہوتا تو شاید اب بھی اسے کوئی نہ جانتا۔

نمائش میں داخل ہوتے ہی پہلی نظر ہاورڈ کارٹر کی ڈائری پر پڑی۔ یہ ڈائری ان سو دستاویزات میں سے ایک ہے جنہوں نے دنیا بدل دی۔

کارٹر کی عمر اس دشت کی سیاحی میں گزری تھی۔ پہلی جنگ عظیم کی وجہ سے وہ کام ادھورا چھوڑ کر واپس چلا گیا۔ مشکل معاشی حالات بھی راستے کی رکاوٹ تھے۔ کئی سال کی مسلسل ناکامیوں کے بعد مالی معاون بھی ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ وہ دھن کا پکا تھا۔ حالات بہتر ہوتے ہی واپس آگیا۔ اس کی بصیرت پر حیرانگی یہ دیکھ کر بھی ہوئی کہ ڈائری میں 4 نومبر کے صفحہ پر صرف ایک ہی فقرہ لکھا ہے۔
First step of tomb found

وہ صاف ستھری لکھائی میں سطروں کے اوپر چھوٹا چھوٹا اور سیدھا لکھا کرتا تھا۔ اس فقرے کا ٹیڑھا پن اور الفاظ بتاتے ہیں وہ مقبرے کی چوکھٹ کی دہلیز دیکھ کر ہی جان گیا تھا کہ آثارقدیمہ کے اصلی تحت الثریٰ میں اترنے والا پہلا خوش قسمت شخص ہوگا۔ یہی خوشی پانچ تاریخ کو مالی معاون لارڈ کارنروان کوبھیجی گئی ٹیلیگرام میں بھی جھلکتی نظر آتی ہے۔ ’’بالآخر اس وادی میں ایک حیران کن چیز دریافت کرنے میں کامیاب ہوگیا ہوں۔ عظیم مقبرہ! جس کے بند دروازوں پر موجود مہریں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ سب کچھ آپ کی آمد کا منتظرہے۔ مبارک باد وصول کیجیے۔‘‘

اس نمائش میں اس کی۱۹۲۲ اور ۲۳ کی دونوں ڈائریاں، ہاتھ کے بنائے ہوئے نقشے، تصویریں اور چیزوں کی لسٹ، روزانہ کی دریافت کی بنیاد پر، لکھی ہوئی ترتیب وار موجود ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں سلائیڈز، پروجیکٹر اور اس کی اپنی آواز میں مقبرے کی بناوٹ اور ملنے والی چیزوں کی تفصیل بھی موجود ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

یہ تصویریں، خطوط، نقشے، ڈرائینگز، ڈائریاں اور کارٹر کی دیگرمحفوظ شدہ دستاویزات توتن خامون کے مقبرے کی دریافت، کھدائی، اور تحفظ کی پیچیدہ کہانیوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی بنائی ہوئی ایک ویڈیو بھی موجود ہے جو کہ حقیقی مقبرے کا تصوراتی اور مصنوعی طور پر سجائے کمروں کے حقیقی مناظر بیان کرتی ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

Syed Mohammad Zahid
Dr Syed Mohammad Zahid is an Urdu columnist, blogger, and fiction writer. Most of his work focuses on current issues, the politics of religion, sex, and power. He is a practicing medical doctor.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply