• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستانی سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے: ایک تعارف.. رشید یوسفزئی

پاکستانی سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے: ایک تعارف.. رشید یوسفزئی

پاکستان دنیا کے ان اولین چند ممالک میں سے ہے جہاں ملکی اداروں سے شہریوں کی نفرت کا گراف سب سے بلند ہے. سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کے عدم اعتماد اور انکے خلاف نفرت نے عوام کی مذکورہ اداروں سے عدم واقفیت کو جنم دیا ہے جو انسانی حقوق اور جمہوری اقدار دونوں کے حوالے سے غیر خوش آئند ہے. قومی ادارے عوام کے خادم ہوتے ہیں اور ادارے یہ خدمت تب ہی انجام دے سکتے ہیں جب عوام کو اپنے حقوق و فرائض کیساتھ ان اداروں اور ان کی ذمہ داریوں سے گہری واقفیت ہو.
سرِدست پاکستان میں تقریباً 19 سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کام کر رہے ہیں جن میں سرفہرست پولیس ہے. بد قسمتی سے پولیس کے پاس نہ تو اختیارات ہیں نہ وسائل. مثلا دہشت گردی کے مقابلے Counter Terrorism کا مسئلہ پولیس کی ذمہ داری ہے نا کہ فوج کا . دہشت گردی کے امور کے معاصر ماہر ڈگلس لیکی لکھتا ہے
The killing of civilians by terrorists is not war, but murder, so the social genre of terrorism is crime, and terrorists should be classified as criminals. If terrorists are criminals, their natural antagonists are the police.
“شہریوں کی موت جنگ نہیں بلکہ قتل ہے اسلئے دہشت گردی کی سماجی نوعیت جرم کی سی ہے اور دہشت گردوں کی درجہ بندی بطور مجرم ہے. اگر دہشت گرد مجرم ہیں تو ان کے مد مقابل پولیس ہونی چاہئے.”
تاہم پاکستان میں فوج بضد ہے کہ دہشت گردی سے نبٹنا ان کی ٹھیکہ ہے. اس لئے فنڈز لگانے کیلئے اس سے متعلقہ امور بھی فوج کی ہاتھ میں ہوں گے. نتیجتاً معمول کے چھوٹے ناخوشگوار واقعات کیلئے نہ صرف فوج بلائی جاتی ہے بلکہ پولیس کو منع کیا جاتا ہے، جس کے منفی اثرات پولیس کے استعداد اور عوامی ردعمل دونوں کی شکل میں ظاہر ہے. جنرل اسد درانی نے پولیس سے فوج کا وظیفہ لینے کی اسی غیر ذمہ دارانہ اور انتہائی نقصان دہ پالیسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے Spy Chronicle میں ذاتی واقعہ بیان کیا ہے کہ “لال مسجد واقعہ کے بعد میں راولپنڈی میں بھٹی حجام کے دوکان پر تھا کہ میرا جاننے والا ایک پولیس ایس ایچ او آیا. لال مسجد کی حوالے سے بات شروع ہوئی تو کہنے لگا، ‘جنرل صاب، ایک پولیس حوالدار کی لیول کی بات تھی آپ ساری فوج لے آئے’!”
تاہم پاکستانی پولیس سسٹم مسائل کی آماجگاہ ہے.
پاکستانی پولیس برطانوی استعماری پولیس کی وراث ہے. 1857 کی جنگ کے بعد برطانوی حکومت نے ایک ایسی فورس کی تشکیل کی ضرورت محسوس کی جس کا مقصد” شہریوں کو ظلم سے دبانا ہو” coercion نہ کہ شہریوں کی حفاظت Not protection. اس کیلئے پولیس ایکٹ 1861 نافذ کیا گیا. مضحکہ خیز بات یہ کہ پاکستانی پولیس انفراسٹرکچر اسی 1861 برٹش پولیس ایکٹ کی زیر تحت تشکیل دیا گیا ہے جس کا ہدف ایک تحکمانہ، غیر جوابدہ اور استبدادی پولیس فورس کی وجود تھا. مذکورہ ایکٹ کی شقوق پر ایک نظر سے ہی پتہ چلتا ہے کہ ان کا جدید جمہوری ریاست کے تقاضوں سے کوئی تعلق نہیں. ساٹھ سال کے عرصے میں پاکستان میں پولیس میں اصلاحات کے حوالے سے دو درجن سے زائد کمیشنوں نے اپنے رپورٹ پیش کیں تاہم سیاست دانوں کو اپنے گندے ذاتی اہداف کے حصول کیلئے وہی برطانوی پولیس سسٹم قابل ترجیح ہے. ساٹھ سال بعد، مشرف دور میں 2002 میں نیشنل ریکنسٹرکشن بیورو کی زیر نگرانی ماہر و مستعد پولیس افسران اور قانونی ماہرین نے جاپان کے نیشنل سیفٹی کمیشن سسٹم کے خدوخال پر پولیس ایکٹ 2002 کے تجاویز دیں. چونکہ سیاست دانوں کے اختیارات پر وار ہوا اس لئے پولیس ایکٹ 2002 کا حلیہ مکمل بگاڑ کر پولیس ایکٹ 2004 وضع کیا گیا. اور نتیجہ انٹرنیشنل کرائسس گروپ ایشیا کو ایک پاکستانی پولیس افسر کے دی گئے انٹرویو کے مطابق
Most police officers feel that, in order to secure their career prospects, they have no choice but to do the bidding of their political masters.
پاکستان کے دیگر سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کچھ یوں ہیں.
1. فرنٹیئر کور، FC پختونخواہ و بلوچستان وزارت داخلہ کی زیر نگرانی مقامی قانونی نفاذ کے علاوہ افغان ایران بارڈر کی نگرانی کرتی ہے. سربراہ میجر جنرل رینک کا انسپکٹر جنرل ہوتا ہے.
2. رینجرز پنجاب و سندھ. انڈیا کیساتھ پاکستانی سرحد کیساتھ ساتھ صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کرتی ہے. میجر جنرل رینک کا ڈی جی رینجرز سربراہ ہوتا ہے.
3. ناردرن ایریا سکاؤٹس گلگت بلتستان کی پیرا ملٹری فورس ہے. بریگیڈیئر رینک کا سربراہ ہوتا ھے.
4. فرنٹیئر کانسٹیبلری. برطانوی راج کی بارڈر پولیس سمانا رائفلز کی پاکستانی شکل. اگر چہ بنیادی طور پر کے پی سے متعلق ہے تاہم وزارت داخلہ کی زیر نگرانی ہوتی ہے اور ملک میں کسی جگہ بھی تعینات ہوسکتی ہے. پولیس کے ایڈیشنل آئ جی رینک کا افسر کمانڈنٹ ہوتا ہے.
5. پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی یا پاکستان کوسٹ گارڈز. سمندری ساحل اور سمندری حدود کی نگہبانی کرتی ہے. وزارت داخلہ کی زیر نگرانی ہے مگر میجر جنرل رینک کا حاضر سروس افسر سربراہ ہوتا ہے.
6. کیپٹل ٹیریٹری پولیس: اسلام آباد کے 13 تھانوں کے لئے .
7.ایف آئی اے .اقتصادی جرائم، امیگریشن اور سائبر کرائم کے کنٹرول کیلئے وفاقی تحقیقاتی ادارہ ہے. پولیس کے آئی جی رینک کا سربراہ ڈی جی ہوتا ھے.
8. اینٹی نارکاٹکس فورس. وزارت نارکاٹکس کنٹرول کا ادارہ ہے تاہم اختیار آرمی کے پاس ہوتا ہے. میجر جنرل سربراہ ہوتا ہے.
9. نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس. 1997 میں قیام عمل میں لائی گئی. وزارت مواصلات کی زیر نگرانی ہے.
10. ائیر پورٹ سیکورٹی فورس. وزرات دفاع کی زیر نگرانی ہے. بریگیڈیئر رینک کا ڈی جی سربراہ ہوتا ہے.
11. پاکستان ریلوے پولیس.
12. نیشنل پولیس بیورو.
13. نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی.
14. انٹیلی جنس بیورو. اطلاعات جمع کرنے کا سول ادارہ جس کی نہ کوئی کام ہے نہ فائدہ. وزارت داخلہ کی زیر نگرانی ہے. سیاسی لیڈر شپ کو باخبر رکھتی ہے. حکومت فوجی ہو تو سربراہ فوجی ہوتا ہے. حکومت سیاسی ہو تو پولیس افسر. تقریباً دوہزار تک ملازم رکھتی ہے.
15. آئی ایس آئی. وزارت دفاع کی زیر نگرانی پاکستانی خفیہ ادارہ ہے. سربراہ حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل ہوتا ہے.(تاہم بے نظیر کی اولین حکومت میں شمس الرحمن کلو ریٹائرڈ جنرل بھی سربراہ بن گیا تھا) ڈی جی آئی ایس آئی کور کمانڈرز اجلاس میں بھی شریک ہوتا ہے اس لئے آرمی چیف ہی اس کا اصل آقا ہوتا ہے ورنہ اصولاً وزیر اعظم کی زیر نگرانی ہے. تقریباً 3500 ملازم اور 20000 دیگر لوگ اس سے وابستہ ہیں.

رشید یوسفزئی
رشید یوسفزئی
رشید یوسفزئی ایک ایسا طالب علم ہے جس کی پیاس مزید بڑھتی جاتی ہے۔ چھ زبانوں کے ماہر رشید وقت سے بہت آگے سوچتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *