گلگت بلتستان میں فرقہ واریت اور چند سوال۔۔محمد ہاشم

گلگت بلتستان کےصدر مقام ضلع گلگت میں 8 جنوری 2005 کو دن کے وقت آغا ضیاءالدین رضوی پر ہوئے قاتلانہ حملے سے شروع ہونے والی پُراسرار آگ اور خون کی ہولی 2013 تک چلتی رہی۔ اس دوران مسلک کے نام پر لوگ گاجر مولی کی طرح کٹتے رہے۔ ریاستی اداروں سے گلگت جوٹیال سے لے کر بارگو شروٹ تک چند کلومیٹر کا علاقہ سنبھالا نہیں گیا اور آئے روز خون نا حق بہتا گیا۔ مقتول کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیوں مارا جا رہا ہے البتہ قاتل کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کا مرنا کیوں ضروری ہے۔ اس دوران جو کچھ ہوا اس کو رقم کرنے کے لئے شاید کئی کتابیں لکھی جائیں تو بھی کچھ نہ کچھ باقی رہ ہی جائے گا۔
2013 میں CPEC کا اعلان ہوتا ہے اورچونکہ گلگت بلتستان اس میگا پراجیکٹ کے دروازے کے طور پر دنیا کے سامنے آتا ہے تب اچانک ہی اس خطے میں لگی آگ جس کے بجھنے کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نظر نہیں آرہا تھا, اچانک پراسرا طور پر بجھا دی جاتی ہے۔ یہ جنت نظیر خطہ پھر سے امن کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
سب ساتھ ساتھ بھائیوں کی طرح رہنا شروع کردیتے ہیں۔
اب اہم بات یہ ہے کہ کیا ہم گلگت بلتستان والے یہ سوال کسی سے پوچھ سکتے ہیں کہ جو مسلک کے نام پر سینکڑوں بے گناہ لوگ مارے گئے ان کے قاتل کون تھے؟
اگر یہاں کے مقامی ہیں تو سی پیک کے اعلان کے بعد ہی وہ قاتل کیوں خاموش ہوئے اور کہاں چلے گئے؟
سی پیک کے اعلان کے بعد ہی ایسا پراسرار امن کیسے قائم ہوا۔؟ نہ کوئی بڑا قدم نہ کوئی آپریشن اور نہ ہی کوئی بڑے پیمانے پر صلح۔
اور اگر امن کا قیام اتنا آسان تھا تو انہی طاقتوں نے اس خون خرابے سے پہلے ہی کیوں نہیں قائم کیا؟
وہ لوگ جن کے عزیز مارے گئے وہ لواحقین اب بھی یہیں ہیں۔
کیا اب ان کی وہ بدلے کی آگ بجھ گئی؟ بجھ گئی تو کیسے؟
کیا اب وہی فرقوں میں بٹے ہوئے لوگ ساتھ ساتھ نہیں رہ رہے؟
سیدھا جواب یہ ہے کہ جو ہوا ان میں مقامی لوگوں کا ہاتھ نہ ہونے کے برابر تھا اور اگر تھوڑا بہت تھا بھی تو وہ مٹھی بھر لوگ اس پراسرار قوت کے ہاتھوں استعمال ہوئے۔
اب جب کہ امن ہوگیا ہے تو ان سوالوں کے جواب کس نے دینے ہیں ؟
کون ذمہ دار ہے اس نقصان کا جو یہاں کی نوجوان نسل کاہوا؟
کون ہے ان یتیم بچوں کے باپ کا قاتل؟
کون ہے جس نے اپنے مفادات کی خاطر ماں کی گود اجاڑی اور سہاگنوں کا سہاگ چھینا؟
کون دے گا ان سوالوں کے جواب؟
اور کیا گارنٹی ہے کہ آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا؟
یاد رہے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے 90 کی دہائی میں ایسی ہی مسلکی آگ میں اپنوں کو جلتے دیکھا تھا۔
اب اگر مستقبل میں چائنہ کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا ہے تو عین ممکن ہے کہ سی پیک کے نام پر چائنہ کو بلیک میل کرنے کے لئے ایسی ہی آگ پھر سے بھڑکائی جائےگی۔
اور اب اگر کوئی اٹھ کے سوال پوچھتا ہےتو اس کو خاموش کرنے کے لئے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں لیکن یہ آہنی ہاتھ تب کہاں تھے جب اس خطے میں خون نا حق بہایا جا رہا تھا۔؟
بس سوال پوچھنے والے کو غداری کا سرٹیفیکیٹ تھمایا جائے گا اور پھر وہی آہنی ہاتھ۔
ظلم کی قسمتِ ناکارہ و رسواسے کہو
جبر کی حکمتِ پرکارکے ایماسے کہو
محملِ مجلسِ اقوام کی لیلیٰ سے کہو
خون دیوانہ ہے ‘ دامن پہ لپک سکتا ہے
شعلہء تند ہے ‘خرمن پہ لپک سکتا ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *