حقیقی اُڑن کھٹولا۔۔۔۔محمد شاہ زیب صدیقی/دوسری قسط

ہم نے پچھلے حصے میں  حقیقی اُڑن کھٹولا۔۔۔۔محمد شاہزیب صدیقی/حصہ اول انٹرنیشل اسپیس اسٹیشن میں ہونے والے تجربات کے متعلق پڑھا اور یہ بھی سمجھا کہ کیسے ISS کو دوبارہ اس کے مدار میں لے جایا جاتا ہے ، اگر ایسا بار بار نہ کیا جائے تو انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کچھ ہی سالوں بعد زمین سے ٹکرا جائے گا۔یہ اگر کہا جائے تو جھوٹ نہ ہوگا کہ انسان جہاں بھی جاتا ہے وہاں اپنی باقیات چھوڑے جاتا ہے، جو بعدازاں پتہ دیتی ہیں کہ کبھی یہاں زندگی ہوا کرتی تھی، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انسان خلاء کو اپنا مسکن بنائے لیکن وہاں باقیات نہ چھوڑے، جب بھی کبھی کوئی راکٹ یا سیٹلائیٹ لانچ کی جاتی ہے ، تو اس کے متعلق سائنسدانوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ کب تک یہ کام کرنے کے قابل ہے اس کے بعد اگر اسے مزید update نہ کیا گیا تو یہ ریٹائر ہوجائے گی ،عموماً سیٹلائیٹس سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق ہی نکلتی ہیں، لہٰذا ریٹائر منٹ کے بعد ان سیٹلائیٹ کو واپس زمین پہ نہیں لایا جاتا اور بلکہ زمین کے مدار میں ہی تیرتاچھوڑ دیا جاتا ہے۔

یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ اِن آوارہ سیٹلائیٹس کوزمین پہ واپس کیوں نہیں لایا جاسکتا، اس کا جواب یہ ہے کہ مالی معاملات کے باعث ناکارہ سیٹلائیٹ کو وہیں چھوڑ دیا جاتا ہےمثلاً اگر ہمیں کسی سیٹلائیٹ کو خلاء میں بھیجنے کے لئے 1 لاکھ روپے درکار ہیں تو اس کو واپس لانے کے لئے تقریباً 15 لاکھ روپے چاہیے ہونگے،ایسا بھی نہیں کہ ہم سیٹلائیٹ کو صحیح سلامت واپس لے آئیں گے بلکہ واپسی کے دوران سیٹلائیٹ کو زمینی فضاء کے باعث کافی نقصان بھی ہوگا، جس خاطر ناکارہ سیٹلائیٹس کو واپس لانے کے بجائے خلاء میں ہی تیرتا چھوڑ دیا جاتا ہے ، اِن کا مدار وقتاً فوقتاً زمین سے کم ہوتا رہتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ زمین کی فضاء میں داخل ہونے کے بعد جل کر راکھ ہوجاتی ہیں، کئی بار ان کے ٹکڑے زمین پہ گر جاتے ہیں، جب یہی ناکارہ سیٹلائیٹس خلاء میں ہوتی ہیں اور ان کے پرزے خلاء میں زمین کے گرد گھوم رہے ہو تو ان کو ہم Space debris (خلائی کچرے) کے نام سے جانتے ہیں،یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق اس وقت زمین کے گرد مختلف ناکارہ سیٹلائیٹس کے 17 کروڑ پُرزے گولی کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے چکر لگا رہے ہیں، جن میں سے 29 ہزار ٹکڑے سائز میں 4 انچ سے بھی بڑے ہیں، عموماً یہ ٹکڑے 400 کلومیٹر کی بلندی سے زیادہ اوپر رہتے ہیں جس وجہ سے ISS سے ان کا ٹکراؤ نہیں ہوپا لیکن اگر کبھی خلاء میں موجود کچرا یا کوئی پتھرISS سے ٹکرا جائے تو متاثرہ حصے کی مرمت کےلئے اندر موجود خلاء باز اسپیس سوٹ پہن کر باہر نکلتے ہیں ، یوں باہر نکل کر خلاء میں تیرنے کو Space Walk کہا جاتا ہے ،یہ سحرانگیز مناظر آپ بھی انٹرنیٹ پہ سرچ کرکے دیکھ سکتے ہیں۔

کچھ ہفتے پہلے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے رُوس والے حصے میں خلائی کچرا ٹکرانے کے باعث سوراخ ہوگیا تھا ، اس سوراخ کی وجہ سے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے اندر موجود آکسیجن اور دیگر گیسز باہر نکلنا شروع ہوگئیں،اِس سوراخ کو سائنسدانوں نے فوراً بند کیا۔چونکہ وقت کے ساتھ ساتھ ہر شے upgrade ہورہی ہے لہٰذا سائنسدانوں کو اندازہ تھا کہ ہمیں عالمی خلائی اسٹیشن کو بھی وقتاً فوقتاً اپگریڈ کرنا پڑے گا،لہٰذا اسے انتہائی خوبصورتی سے ڈیزائن کیا گیا کہ اس میں اگر کسی بھی moduleکا اضافہ کرنا پڑے تو ہمیں مشکلات نہ آئیں، زمین سے ہم مختلف modulesبھیج سکتے ہیں جو اس سے attach ہوکر اس کا حصہ بن کر انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کو مزید وسیع کرسکتے ہیں۔اب تک بیس سے بھی زیادہ modules خلائی اسٹیشن کی جانب بھیجے جاچکے ہیں جنہوں نے اس تاریخی اسٹیشن کا حصہ بن کر اسے مزید وسعت دی۔کئی modules پلان ہوئے مگر بجٹ کی کمی کے باعث نہ بھیجے جاسکے۔یہ خلائی اسٹیشن اپنے اندر زندگی کی رنگینیاں لیے زمین کے گرد دوڑے جارہا ہے۔زندگی رواں دواں رکھنے کے لئے اسپیس اسٹیشن میں پیچیدہ انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں سب سے اہم atmospheric control system ہے ،اس نظام کا مقصد خلائی اسٹیشن میں ہمہ وقت زمین جیسا atmospheric pressure فراہم کرنا ہے۔

ہمیں معلوم ہے کہ زندگی کے لئے atmospheric pressure انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے اگر اس میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو زندہ رہنا ممکن نہیں رہتا، خلائی اسٹیشن میں اسی کنٹرول سسٹم کے تحت آکسیجن بھی پیدا کی جاتی ہے،اس دوران آکسیجن پیدا کرنے کے لئے پانی کا استعمال کیا جاتا ہے،چونکہ پانی آکسیجن اور ہائیڈروجن کے ایٹمز سے مل کر بنتا ہےجس کا مطلب ہے کہ ہم پانی میں سے آکسیجن کو الگ کرسکتے ہیں،1 لیٹر پانی سے اتنی آکسیجن نکالی جاسکتی ہے جو ایک انسان ایک دن تک استعمال کرسکے،یوں خلائی اسٹیشن میں موجود پانی سے روزانہ آکسیجن بنائی جاتی ہے، یہاں پہ یہ خیال ذہن میں آتا ہے کہ ایسے تو وہاں موجود پانی ختم ہوجاتا ہوگا کیا زمین سے نیا پانی بھیجا جاتاہے؟َ ۔۔۔

اس کا جواب نہیں ہے، ہمیں معلوم ہے کہ انسان آکسیجن اندر لے کر جاتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ باہر نکالتا ہے، اب جب پانی میں سے آکسیجن نکال لی گئی ہے، تو پیچھے ہائیڈروجن رہ جاتی ہے ،وہ ہائیڈروجن container میں محفوظ رہتی ہے،یہ تو سب جانتے ہیں کہ انسان آکسیجن inhale کرتاہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈexhale کرتا ہےلہٰذاکنٹینرز میں موجود ہائیڈروجن کا reaction وہاں موجود سائنسدانوں میں سے نکلنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ سے کروایا جاتا ہے ، اس reaction کے ذریعے پانی اور میتھین وجود میں آجاتے ہیں ۔ہنگامی حالات سے نپٹنے کےلئے خلائی اسٹیشنزمیں آکسیجن ٹینکس بھی رکھے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ Vika Oxygen generatorنامی طریقہ کار کے ذریعے بھی آکسیجن بنائی جاتی ہے، اس طریقہ کار میں کچھ کیمیکلز کو جلا کر reaction کروایا جاتا ہے جس کے ذریعے نمک اور آکسیجن حاصل ہوتی ہے، اس طریقہ کار کے تحت 5 منٹ میں اتنی آکسیجن حاصل ہوجاتی ہے جو تمام سائنسدانوں کے لئے ایک دن تک بہت ہوتی ہے۔اس کے علاوہ چارکول کا بھی استعمال کیاجاتاہے جو پسینے سے نکلنے والے امونیا اور میتھینز کو فضاء میں سے جذب کرتے رہتے ہیں۔اِس خلائی اسٹیشن میں دوسرا پیچیدہ نظام بجلی اور گرمائش کنٹرول کرنے کاہے، انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن اپنی بجلی کی ضروریات solar panels کے ذریعے پوری کرتا ہے، چونکہ اسپیس اسٹیشن 90 منٹوں میں زمین کا ایک چکر مکمل کرلیتا ہے لہٰذا یہ ان 90 منٹوں میں سے 35 منٹ زمین کے عین پیچھے گزارتا ہے جہاں رات ہوتی ہے اور زمین کے سائے کے باعث سورج کی روشنی اس تک نہیں پہنچ پاتی ، لہٰذا اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے اسے batteriesکا سہارالینا پڑتا ہے، پہلے پہل اس میں Nickle Hydrogen بیٹریز استعمال کی گئیں جو ہر 6 سال بعد تبدیل ہوتی تھیں، لیکن 2017ء میں ان کی جگہ لیتھیم آئن بیٹریز لگا دی گئیں جو امید کی جارہی ہے کہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کی ریٹائرمنٹ تک خدمات انجام دیتی رہیں گئیں۔ISS میں جتنی بھی بجلی پیدا ہوتی ہے وہ آخرکار heat کی صورت میں ختم ہوجاتی ہے، مثلاً سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی کو مختلف مشینیں استعمال کرتی ہیں جس وجہ سے گرمائش پیدا ہوتی ہے، لہٰذا انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کو گرم رکھنا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ٹھنڈا رکھنا زیادہ مسئلہ ہے جس کے لئے اس میں اے سی لگائے جاتےہیں، اگر یہ اے سی نہ ہو تو خلائی اسٹیشن میں رہنا ناممکن ہوجائےبلکہ ان کے بغیر درجہ حرارت 150 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے،خلائی اسٹیشن کے رہائشی علاقے کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے امونیا کو مائع حالت میں pipes کے اندر سے گزارا جاتا ہےجو خلائی اسٹیشن کی گرمائش کو اپنے اندر جذب کرلیتی ہیں، بعد ازاں اسی امونیا کو بہت بڑے radiator کے ذریعے گزارا جاتاہے جدھر اس میں سے گرمائش ریڈیشن کی صورت میں خلاء کی جانب نکل جاتی ہے یوں امونیا ٹھنڈی ہوجاتی ہے اور اسے دوبارہ خلائی اسٹیشن میں بھیج دیا جاتا ہے۔آکسیجن اور درجہ حرارت کنٹرول کرنے کے بعد تیسرا پیچیدہ نظام زمین سے رابطہ کرنا ہے ۔زمین سے رابطہ کرنے کے لئے خلاء باز ریڈیو کمیونیکیشن سسٹم استعمال کرتے ہیں، خلائی اسٹیشن میں 15 لیپ ٹاپس بھی موجود ہیں جن میں ونڈوز 95 سے لیکر ونڈوز10 تک تمام آپریٹنگ سسٹم موجود ہیں،یہ لیپ ٹاپس مختلف ماڈیولز میں موجود کمپیوٹرز سے بذریعہ وائی فائی connected رہتے ہیں، ان لیپ ٹاپس کا اہم مقصد تمام ماڈیولز پہ نظر رکھنا ہے اور کہیں بھی گڑبڑ ہونے کی صورت میں ماڈیول میں موجود کمپیوٹر فوراً اِن لیپ ٹاپس کو اطلاع دیتاہے۔

اس کے علاوہ جب کبھی زمین سے خلاء باز بھیجے جاتے ہیں تو آنے والے راکٹ کو خلائی اسٹیشن کے ساتھ dock کرنے(جوڑنے) کے لئے انہی لیپ ٹاپس کے ذریعے رابطہ کیا جاتا ہے۔چونکہ وقتاً فوقتاً Space walk بھی کی جاتی ہے، اس دوران خلاء باز پیغام رسانی کےلئے Ultra High Frequency radio waves استعمال کرتے ہیں۔انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں انٹرنیٹ کی رفتار 3 ایم بی فی سیکنڈ رہتی ہے جو تھری جی کی سست رفتار کے برابر ہے(آجکل یوفون تھری جی جبکہ بقیہ تمام نیٹ ورک فور جی انٹرنیٹ فراہم کررہے ہیں)۔بےپناہ آکسیجن ، وافر پانی اور دیگر نظامِ زندگی کتنی بڑی نعمت ہیں ،اس کا جواب ہمیں خلائی اسٹیشن میں بیٹھے سائنسدان بہتر انداز میں دےسکتے ہیں جو پانی اور آکسیجن تک کے لئے مشینوں پہ انحصار کرتے ہیں۔پچھلے حصے کو پڑھ کر کئی دوستوں نے پوچھا کہ اڑن کٹھولے کا کیا مطلب ہے، اڑن کھٹولادراصل دیومالائی قصے کہانیوں میں اس تخت کو کہا جاتا تھا جو بنا کسی فیول کے آسمان پہ اڑسکتا تھا،اسی مناسبت سے اس تحریر کا عنوان یہ رکھا گیا،اور یہ سچ بھی ہے کہ موجودہ دور میں راکٹ اور جہاز اڑتے توہیں مگر ان سب میں جیسے ہی فیول ختم ہو تو زمین بوس ہوجاتے ہیں لیکن ISS بغیر کسی فیول کے دو دہائیوں سے زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے،لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں خلائی اسٹیشن انتہائی پیچیدہ سیٹ اپ پر مشتمل ایک اُڑن کھٹولا ہے.
جاری ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *