غنڈہ، لفنگا اور بدمعاش خواجہ سعد رفیق ۔۔۔ راشد ملک

“اپنے بڑوں کو بھیجو ہم بچوں کو نہیں مارتے۔ “

 Jamiat swept the polls

یہ بات ہے 1982 کی جب میں گورنمنٹ کالج لاہور میں دن رات اسلام کی سر بلندی کے لیے سٹوڈنٹ الیکشن کی تیاری میں مصروف تھا- ایم اے او کالج وہاں سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر پڑتا تھا- پنجاب یونیورسٹی پر جمعیت کا قبضہ ہے  اور بدلے میں ایم اے او کالج پر ایم ایس ایف کا- اس کے علاوہ بھی سٹوڈنٹ الیکشن میں تمام جماعتیں مل کر جمعیت کے خلاف الیکشن لڑتی تھیں- ایسے ہی موٹرسائیکل پر کالج سے کالج پھر کر الیکشن مہم  کا جائزہ لینا، گویا مجھ پر فرض تھا- ایک ہی دن پہلے جمعیت کے ایم اے او کالج کے چند لڑکوں پر ایم ایس ایف کے غنڈوں نے بہیمانہ تشدد کیا تھا، اور سعد رفیق اس میں بنفس نفیس شامل تھا- جمعیت والوں کے تشدد کو، خیر سے اسلام کے نظریہ ضرورت سے منسوب کرکے، پارسائی کا درجہ حاصل تھا- جمعیت کے جن لڑکوں کے ٹانگ بازو ٹوٹے تھے، ان کو ایم اے او کالج کے سامنے سڑک پار نمائشی ہمدردی کے لیے بٹھایا گیا تھا کہ ان کی پشت پر پنجاب یونیورسٹی کی ایک عمارت تھی اور ان کو وہاں سے تحفظ فراہم کیا جاتا تھا- 

مجھے چونکہ رب کے علاوہ کسی کا خوف نہیں تھا یا اسے میری قسمت کہہ لیں، میں اپنے سینے پر جمعیت کا بیج لگائے ایم اے او کالج میں سر فروشی کی تمنا لیے داخل ہو گیا، جہاں جمعیت والے پر بھی نہیں مار سکتے تھے- ایک دم سے میرا سامنا خواجہ سعد سے ہو گیا- اس کے ساتھ اس کے سارے کن ٹٹے دوست تھے- سعد اپنے ان دوستوں میں سے واحد زندہ بچ جانے والا انسان ہے، باقی تمام اس کے بعد فقط ایک ہی سال میں اندرونی و بیرونی بدمعاشی کی بھینٹ چڑھ چکے تھے، جن میں عابد چوہدری ایک بڑا نام تھا- 

میرا آمنا سامنا ہونے پر زمین میرے پاؤں سے سرکنے لگی تھی، لیکن خلاف توقع سعد رفیق نے مجھے سے کہا “اپنے بڑوں کو بھیجو ہم بچوں کو نہیں مارتے، لیکن یہاں نظر مت آؤ”- اس خندہ پیشانی سے پیش آنے کے باوجود میرے دل میں سعد رفیق کے لیے نفرت کے سوا کبھی کچھ نہ تھا- یہ میری سعد رفیق سے پہلی اور آخری ملاقات تھی- اپنے والد کے قتل کے بعد، جس کا الزام بھٹو کے سر لگایا جاتا ہے، سعد رفیق کا خاندان انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزارتا رہا- والدہ کی طرف سے اس پر سیاست میں حصہ لینے پر مکمل پابندی رہی- میری ملاقات سے دو دن بعد سٹوڈنٹ یونین کے انتخابات ہوۓ، اور سوائے ایم اے او کالج کے، جمعیت ہر جگہ جیت گئی تھی، گورنمنٹ کالج میں بھی شائد سالوں بعد- ایم اے او کالج پر بکسہ چوری کا الزام لگا- پولیس کی نگرانی میں انتخابات ہوۓ، گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹوں کو بھگا دیا گیا تھا- گورنمنٹ کالج میں ایک چھوٹا سا انتخاب میں بھی جیتا تھا- اخبار میں خبر لگی تھی:

Jamiat    swept   the   polls

لیکن فقط دو مہینے بعد ضیاء نے سٹوڈنٹ یونین پر پابندی لگا دی- 

اس کے بعد سعد رفیق سے پہلا غائبانہ تعارف “ایک دن جیو کے ساتھ” میں ہوا- اس سارے انٹرویو میں اس نے اپنے ماضی کے بارے میں ایک بھی جھوٹ نہیں بولا، تو اس کی راست گوئی پسند آئی- مسلم لیگ سے اس کا اٹوٹ تعلق ہی اسے سیاست میں آگے لے کر آیا- تعلیمی قابلیت میں وہ کبھی کچھ بھی نہیں تھا، اس کے باوجود بھی ایک وزارت کو جس بہترین انداز میں چلایا تو میں پہلی مرتبہ اس کا مداح ہوا- وزارت کے علاوہ اس کے حلقے کے لوگ بھی اس سے بہت خوش ہیں- اس کا مکمل حلقہ فوجیوں کے علاقہ میں اور ڈیفنس میں ہے اور یہاں کے برگر ہی سب سے زیادہ مزیدار ہوتے ہیں- پچھلے پانچ سال میں سعد رفیق نے جو کام کیا، وہ کام انسان صرف روزانہ اٹھارہ گھنٹے کام کر کے ہی نبھا سکتا ہے- ریلوے کی ساری وزارت، ملازم اور قلی تک اس کے مداح ہیں- پاکستان کی سیاست کے مستقبل کا ایک بڑا استعارہ ہے اور کل عوام سے اپنا کھویا ہوا اعتماد بھی واپس لے چکا ہے۔ 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *