کب سے ہوں، کیا بتاؤں جہانِ خراب میں ۔۔۔۔۔ سلطان محمود

کب سے ہوں کیا بتاؤں جہانِ خراب میں
شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں

یہ تو معلوم نہیں کہ ہمارے اساتذہ شعرا ہجر کی راتوں کی طوالت اور اپنے محبوب کی زلفوں کی لمبائی کا حساب کتاب کس طرح سے رکھتے تھے، لیکن اتنا یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اتنے مشکل، طویل، پیچیدہ، اور گنجلک حساب کتاب کے لیے کم از کم انگریزی زبان کی گنتی تو ہر گز موزوں نہ تھی۔

انگریزی میں حساب کتاب کے لئے ہزار سے بڑا ہندسہ نہیں ہے۔ ہزار کے بعد دس ہزار اور پھر لاکھ کے لئے سو ہزار لکھتے ہیں۔ معلوم نہیں دس لاکھ اور اس سے بڑے ہندسوں کو کس طرح ظاہر کرتے ہوں گے۔ وہ تو بھلا ہو ریاضی دانوں کا جنہوں نے بڑی مقداروں کو ظاہر کرنے کے لئے نہ صرف ملین، بلین، اور ٹریلین جیسی اصطلاحات متعارف کروائیں بلکہ ان کو لکھنے کے لیے دس کی طاقت کا طریقہ ایجاد کرکے ہم جیسے تن آسانوں کو رومن حروف تہجی میں شبِ ہجر اور محبوب کی زلفوں سے بھی طویل جملے لکھنے کے عذاب سے بھی نجات دلادی۔ آج کل زیادہ لمبے فاصلوں کو ظاہر کرنے کے لئے نوری سال کی اکائی بھی استعمال ہوتی ہے جبکہ انتہائی چھوٹے فاصلوں اور دیگر مقداروں (مثلاً سب اٹامک لیول کی پیمائشیں، محبوب کی کمر، اور اس سے درکار قربت کے اندازے) کو ظاہر کرنے کے لئے دس کی منفی طاقت سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ بلین، ٹریلین اور دس کی طاقت جیسی نوٹیشنز ایجاد ہونے سے بہت پہلے ہماری دیسی گنتی میں اس سے بھی بڑے اعداد کو لکھنے کے لیے مستقل الفاظ موجود تھے؟

یہ الفاظ یا نوٹیشن کچھ اس طرح تھے (واضح رہے کہ ہر اگلا عدد پچھلے عدد کا دس گنا ہے):

“اکائی دہائی سینکڑہ، ہزار، دہ ہزار، لاکھ، دہ لاکھ، کروڑ، دہ کروڑ، ارب، دہ ارب، کھرب، دہ کھرب، نیل، دہ نیل، پدم، دہ پدم، سنکھ، دہ سنکھ، مہا سنکھ، دہ مہا سنکھ، ۔۔۔۔ آٹھ دس نمبر مزید بھی ہیں”۔

آخر ہندوستان میں اتنے بڑے بڑے ہندسوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ بادشاہوں کے خزانوں کا حساب کتاب، مندروں کی زمینوں اور دولت کا ریکارڈ، اجرامِ فلکی کو گنتی کی زنجیر میں قید کرنے کی خواہش، یا جو بھی ہو وہ تو تاریخ دان ہی بتا سکتے ہیں، فی الحال ہمیں اتنا معلوم ہے کہ غالب کی اپنے ممدوح بہادر شاہ ظفر کے لئے مانگی گئی دعا کے ماہ و سال انگریزی میں لکھنا بہت مشکل ہوگا۔ یقین نہ آئے تو ذرا ضرب تقسیم کرکے مندرجہ ذیل شعر میں سالوں کی تعداد تو معلوم کریں:

تُم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

یا پھر اس رباعی سے بننے والے مہ و سال کا ذرا حساب لگا کر دیکھیں:

اس رشتے میں لاکھ تار ہوں، بلکہ سِوا
اِتنے ہی برس شُمار ہوں، بلکہ سِوا
ہر سیکڑے کو ایک گرہ فرض کریں
ایسی گرہیں ہزار ہوں، بلکہ سِوا

یہ آپ کا ہوم ورک ہے۔ تب تک میں ذرا جرار جعفری صاحب سے، کہ ریاضی میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں، اپنا ایک مسلہ حل کرالوں:

دعویٰ بہت ہے علم ریاضی میں آپ کو

طولِ شبِ فراق ذرا ناپ دیجیے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *