• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • فیاض اللہ فیضی ماں کے لیے لکھی گئی ایک تحریر/ عثمان انجم زوجان

فیاض اللہ فیضی ماں کے لیے لکھی گئی ایک تحریر/ عثمان انجم زوجان

فیضی ماں!

مردانہ جسم کے پنجرے میں زنانہ روح کا پنچھی کیسے قید ہو گیا؟

آج کے ان زمینی خداؤں کا کہنا ہے کہ کہ فیضی اور اس جیسوں کا تذکرہ کسی مقدس صحیفے میں نہیں!

پر ان بے خبر خداؤں کو کون باور کرائے کہ اس ذات لم یز ل آسمانی خدا نے فیضی کا تذکرہ اس ازلی صحیفے میں لکھوا دیا تھا!

یہ زمینی خدا اسے شاید لوح محفوظ کہتے ہیں!

قلم نوشتہ فرشتے جب روز ازل ہر شے لکھ چکے!

تو بارگاہِ خداوندی میں عرض گزار ہوئے!

سیاہی تھوڑی سی بچ گئی  ہے، حکم ہو تو سیاہی گرا دیں اور قلم توڑ دیں؟

اذن خداوندی ہوا، نہیں نہیں! ابھی نہیں، میرے تو ایسے ایسے ناز بردار آئیں  گے کہ تمہیں پھر سے لکھنا پڑے گا!

وہ حدیث تو سب نے پڑھی یا سنی ہوگی نا!

تقدیر اگر اٹل ہوتی، تو دعا کا حکم ہرگز نہ ہوتا!

مدبر کی تدبیر تقدیر کو نہیں ٹال سکتی، قادر مقتدر ہے، جب چاہے، جیسا چاہے کرے!

اے ملاٹو!

مجھ سے بدگمان نہ ہوں!
مجھ پر اپنے فتاویٰ کی بوچھاڑ نہ کرو!
مجھ کو باغی نہ سمجھو!
مجھ کو بد مذہب نہ جانو!

میں دین و مذہب کا سہارا لے کر فیضی کی تعریفیں اور پھر تعریفوں کے پل نہیں باندھ رہی!

میں بھلا کیوں کسی کی تعریف کروں گی؟

ارے بابا! میری پوری بات سن کے تو جاؤ ذرا!

کالج میں میرے انگلش کے پروفیسر ابرار ہوا کرتے تھے!

ہوا کچھ ایسا کہ کہتے!

زوجان! سنا ہے تم بڑی سیانی ہو تو یہ بتاؤ کہ کچھ لوگ برے ہوتے ہوئے بھی اچھے کیوں لگتے ہیں؟

ارے ہاں! یہ تو وہی بات ہوئی نا؟

اماں جب بھی کہتی تھیں، پتر ایدھے نال نہ پھراں کر، اے چنگا بندا نہیں!

ہمیشہ ایک ہی جواب ہوتا تھا!

اماں جی! توانوں کی پتہ اوہ چنگا اے یا مندا!

ابا حضور بھی کہتے تھے، پتر، حافظ سلطانا، بوں نیک پرہیزگار ای، اسنے کول بوویا کر!

یہاں بھی ایک ہی جواب ہوتا تھا!

ہمم! ویلے دیاں نمازاں، کاویلے دیاں ٹکراں!

خیر میں تو تھی ہی ایک سائنس کی طلبہ!

کہنے لگی کہ سائنس میں پڑھا تھا کہ کچھ شعاعوں کا اخراج ہوتا ہے ہم سب کی آنکھوں سے!

پس اگر میری اور آپ کی آنکھوں سے نکلنے والی شعاعوں کا میل ملاپ ہو جائے تو!

پھر برا بھی آپ کو اچھا لگے گا!

پر فیضی ماں! مجھے تعجب اس پر ہے کہ میری آنکھوں سے نکلنے والی شعاعوں کا آپ کی آنکھوں، ان آنکھوں جن میں ہزاروں کائناتیں موجزن ہیں، ان سے نکلنے والی شعاعوں سے ملاپ کیسے ہو سکتا ہے؟

میری تو آپ سے ایک ملاقات بھی نہ ٹھہری!

پھر آپ بری ہوتے ہوئے بھی مجھے اچھی کیوں لگتی ہیں؟

ہاں ہاں! آپ بری ہیں، بہت بری، پر تھوڑا توقف تو کیجئے، پوری سن تو لیجے!

ایسا میرا نہیں، دوسروں کا کہنا ہے، آپ شاید نہیں جانتیں کہ دوسرے لوگ آپ کے بارے کتنا منفی سوچتے، آپ کو کتنا برا جانتے ہیں؟

اور ہاں یہاں مجھے فضیل بن عیاض یاد آ گے!

کون فضیل بن عیاض؟

ارے وہی، جو ڈاکوؤں کے سردار ہوا کرتے تھے، جو بعد میں ولیوں کے سردار ٹھہرے!

قصہ مختصر! سیاہ اور گھنی زلفیں، سر پہ عمامہ، چہرے پہ لمبی لمبی سفید داڑھی، ماتھے پہ محرابی نشان، ہاتھوں میں تسبیح، بغل میں مصلہ اور لب پہ جاری اللہ اللہ!

گھنے جنگل کے باہر بیٹھے ہر آنے جانے والے پر نظریں جمائے اپنے ذکر و فکر میں مست و الست!

مجھ جیسا کوئی وہاں پہنچا!

بابا دیکھا، تو کہنے لگا، بابا جی بڑے نیک لگتے ہو؟

میں نے سنا ہے، جنگل میں کچھ ڈاکو ہیں، جو آنے والے قافلوں کو لوٹ لیتے ہیں، میں اپنا کچھ مال و اسباب آپ کے پاس امانت چھوڑ جاؤں؟

مال واسباب دے کر جنگل کی طرف گامزن ہوا اور جاتے ہوئے کہنے لگا، بابا جی لوٹتے سمے واپس لے لوں گا!

کرنی خدا کی ایسی ہوئی، پکڑ لیا نا، ڈاکوؤں نے، مال و اسباب نہ پا کر وہ اسے لے کر اپنے سردار کے پاس لوٹے!

اب یہ نوجوان اسی بابے کو ان کا سردار پا کر ذرا بھر بھی بدگمان نہ ہوا، اور عرض گزار ہوا،

بابا جی! اپنے بندوں کو کہہ دیں کہ مجھے چھوڑ دیں، آپ تو ماشاءاللہ بڑے نیک ہیں!

یہ سن کر بابا فضیل گہری سوچ میں ڈوب گئے، اتنے میں قرآن سورہ الحدید کی ایک آیت کی تلاوت کی آواز گونجتی ہے!

اَلَمۡ يَاۡنِ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُهُمۡ لِذِكۡرِ اللّٰهِ

کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر سے ان کے دل دہل جائیں!

بس پھر کیا تھا، اس آیت کا سننا ہی تھا کہ دل چھلنی ہو گیا، توبہ تائب ہوئے اور وہ ڈاکوؤں کے سردار سے ولیوں کے سردار بنے!

دیکھا وہ نوجوان شاید مجھ جیسا ہی تھا!

فیضی ماں! مجھ سے بدگمان نہ ہونا، میں آپ کی محبت کی اسیر ہوں، آپ کی محبت میں جکڑی ہوں، میں نہیں جانتی کہ آپ اچھی ہیں یا بری ہیں، اور یہ کہ آپ پر کیا گزرے گی، جب آپ وہ سنیں گی، جو میں سنتی ہوں!

Advertisements
julia rana solicitors

البتہ میں آپ سے ملتجی ہوں، آپ اللہ کا ذکر خوب کثرت سے کیجئے، اور صبح و شام کیجئے!

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply