• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نا اہل آسان سے سوال بھی حل نہیں کرتا یہ تو اورنج ٹرین اور بی آر ٹی منصوبے ہیں۔۔ غیور شاہ ترمذی

نا اہل آسان سے سوال بھی حل نہیں کرتا یہ تو اورنج ٹرین اور بی آر ٹی منصوبے ہیں۔۔ غیور شاہ ترمذی

SHOPPING

سائنس کی تیز رفتار ترقی سے یہ پیشن گوئی تو بآسانی کی جا سکتی ہے کہ آج سے 15/20 برس بعد سڑکوں پر بغیر ڈرائیور کی گاڑیاں ایک عام سی بات ہوگی- مرشد سید زیدی کہتے ہیں کہ بدلتی دنیا اور نئی ایجادات کا یہی سلسلہ رہا ہے کہ پہلے اس کی اچھائیوں اور برائیوں پر خوب  بحث ہوتی ہے ۔ اس پہ قوانین بنتے ہیں، پھر وہ چیز زندگی میں داخل ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہے ۔ ہمارے ہاں کیونکہ ایجادات سائنس اور ٹیکنالوجی مقامی نہیں ہیں اس لئے ہم پہلے وہ ایجادات اپنے ملک میں لے آتے ہیں اور پھر جہاں جہاں سے چھت ٹپکتی ہے وہاں وہاں برتن رکھتے چلے جاتے ہیں،اور ہر برسات میں یہی فارمولہ دہراتے ہیں ۔

پوری دنیا میں جب الیکٹرونک نشر و اعلام کا انقلاب آیا تو اس کے قوانین وضع کیے گئے۔ لوگوں کی تربیت کی گئی ، حدود متعارف کرائی گئیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آنے والے مسائل کے حل اور ممکنہ جرائم سے نپٹنے کے لئے تیار کیا گیا ۔ ہمارے ہاں ایجادات کو کنٹرول کرنے والے انتظامی ادارے تو بنائے گئے لیکن اس کے فنی ماہرین کی مطلوبہ تعداد پیدا نہیں کی گئی ۔ اداروں کے بھاری بھرکم نام رکھے گئے لیکن ادارے ہوں یا انسان وہ اپنی کارکردگی ، کردار اور کام سے پہچانے جاتے ہیں ۔ ہمارے محلے سے جب چاچا محمد دین بذریعہ ٹرین حج سے واپس آئے تو اور بہت سے حاجی بھی اس ٹرین سے واپس آئے تھے ۔ اسی ٹرین میں کراچی سے مقصود نائی کا بھائی تنویر بھی آیا تھا ۔ وہ وہاں کسی گرم حمام میں نوکر تھا۔ ریلوے اسٹیشن پہ رات کے پچھلے پہر مدھم روشنیوں میں حاجی محمد دین کے بیٹے ظفری نے پھولوں کا ایک ہار اپنے باپ کے گلے میں ڈالا اور دوسرا ان کے پیچھے۔ کھڑے تنویر کے گلے میں ڈال دیا ۔تنویر اس دن سے حاجی تنویر کہلایا نہ کسی نے پوچھا، نہ اس نے بتایا اور ہم اس کے دوست تھے ہم کاہے کو بتاتے۔ وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور وہ بھی بغیر پیسے خرچ کیے ۔

یہی حال ہمارے معاشرے کا ہے۔ کوئی ماہر معاشیات اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہارے پیسے ایک سال میں ڈبل کردوں گا لوگ اپنی گائیں، بھینسیں اور زمینیں بیچ کر اسے پیسے دینے لگتے ہیں ۔ یہ کام حکومت کی ناک کے نیچے ہوتا ہے ۔ کوئی اس سے طریقہ کار نہیں پوچھتا کہ وہ کون سا معاشی فارمولہ ہے جس سے ایسا ممکن ہے ؟۔ کوئی شخص کہتا ہے کہ میں پانی سے گاڑی چلا سکتا ہوں وہ اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتا ہے لوگ ایمان لے آتے ہیں اور تصور میں اپنے نلکے کو پٹرول پمپ سمجھنے لگتے ہیں ۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ بھائی آپ نے کون سی سائنس پڑھ لی ہے جو ہم نے نہیں پڑھی؟۔ ایک سائنسدان کہتا ہے کہ میں کوئلے سے اتنی بجلی بناؤں گا کہ آپ لوگوں سے سنبھالنی مشکل ہو جائے گی ۔ ہم آس لگا بیٹھتے ہیں ۔ ایک آدمی کہتا ہے کہ چنیوٹ والو آپ سونے کی کانوں پہ بیٹھے ہوئے ہو ، بس زمین کا سینہ چاک کرنے کی دیر ہے کہ عرب ممالک ادھار مانگنے آپ کے پاس آیا کریں گے لیکن ہر بار لگتا ہے کہ ظفری رات کی مدھم روشنی میں پھولوں کا ہار غلطی سے مقصود نائی کے بھائی تنویر کے گلے میں ڈال دیتا ہے ۔ پھر نہ حاجی تنویر سے کوئی پوچھتا ہے نہ وہ خود بتاتا ہے ۔

لاہور کی اورنج ٹرین کا منصوبہ ہو یا پشاور کی بی آرٹی۔ دونوں جگہوں پر ظفری نے تنویر کے گلے میں یار ڈال کر اسے تنویر نائی سے حاجی تنویر بنا دیا ہے۔ وزیر اعظم فرما چکے ہیں کہ وہ 10 دسمبر کواورنج ٹرین چلا رہے ہیں۔ شاید نہیں یقیناً انہیں یہ خوشخبری سنانے کے لئے اورنج ٹرین منصوبہ کے انچارج وزیر نےبریفنگ دی ہو گی۔ لا ہور کا رہائشی ہو نے کے ناطے ، انجینئرنگ کا طالب علم ہونے کی روشنی میں عرض ہے کہ “وزیر اعظم صاحب ۔ ایک اور U ٹرن کے لئے تیار رہیے۔ اورنج ٹرین کے انجن، بوگیاں اور ٹریک بھلے سے تیار ہوں مگر پلیٹ فارم، ڈرینج سسٹم، ٹریک سیفٹی وغیرہ کچھ بھی تیار نہیں ہے۔ رائے ونڈ روڈ ٹھوکر نیاز بیگ سے اورنج ٹرین کے آخری سٹاپ فاطمہ مسجد علی ٹاؤن تک برلب سڑک 8فٹ چوڑا، 10 فٹ گہرا کھڈا وزیر اعظم کے بیان کو چیلنج دینے کے لئے کافی ہے۔ کلومیٹرز طویل یہ کھڈا اور نج ٹرین اور ٹریک کی ڈرینج کے لئے بنایا گیا ہے جس میں ابھی تک کنکریٹ ہیڈنگ، آئرن ری انفورسمنٹ سٹرکچر بھی نہیں بچھایا جا سکا تو پائپنگ اور اسے کور کرنے کی باری تو بہت آگے آئے گی۔ اس کی اوپری کنکریٹ ہونے کے بعد اس کی کیورنگ کے لئے مزید 28 دن چاہئے ہوں گے۔ یہی حال پورے روٹ میں کئی کلومیٹر طویل پھیلا ہوا ہے جبکہ اکثر مقامات پر تو کھدائی بھی شروع نہیں ہو سکی۔

اورنج ٹرین
پشاور بی آر ٹی منصوبہ
وسیم اکرم

اورنج ٹرین کے باقاعدہ افتتاح سے پہلے کم از کم دو سے تین مہینے اس کے سیفٹی رن کے لئے چاہیے ہوں گے جس پر ابھی تک آغاز بھی نہیں ہو سکا۔ یہ سیفٹی رن کرے بغیر اگر اورنج ٹرین چلائی گئی تو یہ سینکڑوں، ہزاروں مسافروں، عملے اور راہ گیروں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہو گا۔اورنج ٹرین کا ٹریک 3 طرح کاہے۔ زیر زمین، زمین پر اور زمین کے اوپر ۔ زمین کے اوپر ٹریک پر جوائنٹس میں بھرے ایکسپیشن جوائنٹس، جوائنٹس سیلنٹس کی پرفارمینس چیک بارے بھی کافی شکوک و شبہات پائے گئے ہیں۔ اس میں استعمال کیا گیا میٹریل اور اس کے applicators کی اہلیت بارے راقم کو بذات خود بطور انجینئر کافی شبہات ہیں۔ یاد رہے کہ جب مسافروں سے بھری ٹرین زمیٹ سے اوپری ٹریکس پر بھاگے گی تو اس کے وزن کی دھمک سے ٹریکس جوائنٹس میں  کنٹریکشن اور انٹریکشن مسلسل ہوتی رہے گی۔ اگر ان جوائنٹس میں fressinet سٹینڈرڈ کے ایکسپیشن جوائنٹس نہیں بھرے گئے تو خدشات موجود رہیں گے۔ اسی لئے یہ لازم ہے کہ باقاعدہ افتتاح سے پہلے اورنج ٹرین کادوسے تین مہینوں تک سیفٹی رن ہونا چاہیے۔ اس عرصہ کے دوران پلیٹ فارم کی تزئین وآرائش کے ساتھ ساتھ ٹکٹنگ، واش رومز، سکیورٹی اور سیفٹی سسٹم بنانے اور ایشوز کے حل میں بھی وقت مل جائے گا۔

اورنج ٹرین کی طرح پشاور بی آر ٹی بس منصوبہ بھی اس کے منصوبہ سازوں کے جعلی حاجی ہو نے کی چغلی لگا رہا ہے۔ خبروں کے مطابق بی آر ٹی کے اصلی بلیو پرنٹ یعنی پی سی ون میں تیسری دفعہ تبدیلی کی جارہی ہے۔ اس منصوبہ کے لئے ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے قرضہ لیا گیا ہے اور اگر اس منصوبہ کے پی سی ون میں کوئی تبدیلی کرنی ہوئی تو ایشین بنک۔ والے اس پر معترض ہونے کاحق رکھتےہیں۔ بی آر ٹی منصوبہ بھی اپنی تکمیل کے اندازہ سے دو سال لیٹ ہو چکا ہے اور اگر اس پر کوئی اعتراض نہ بھی لگاتویہ 3 مہینوں سے پہلے مکمل نہیں ہو سکے گا۔ اپنی اصل لاگت سے کہیں زیادہ بڑھ کر پاکستان میں میٹرو بس منصوبوں میں سب سے زیادہ مہنگا اور سب سے زیادہ دیر سے مکمل ہونے کی وجہ سے بی آر ٹی منصوبہ رستا ہوا زخم بن کررہ جائے گا۔ اس کے لئے قرضوں کی ا دائیگی پوری کرنا ابھی سے ناممکن بن چکا ہے۔ اسی لئے تحریک انصاف کے اندر سے افواہیں ہیں کہ بی آر ٹی میں سفر کر نے والے مسا فر پاکستان میں میٹرو بسوں میں سفر کرنے والے تمام روٹس میں سب سے مہنگی ٹکٹ خریداکریں گے۔

SHOPPING

اورنج ٹرین منصوبہ کی نگرانی تحریک انصاف کے عبد العلیم خاں اور بی آر ٹی کی نگرانی وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خاں بذات خود کررہے ییں۔ ان دونوں پراجیکٹس کے معائنہ اور تفصیلی چکر لگانے کے بعد راقم کو پورا یقین ہے کہ کسی محلہ کے چاچا محمد دین کے بیٹے ظفری نے ان کے گلے میں بھی ہار ڈال دئیے ہیں اور یہ”وسیم اکرم پلس” مشہور ہوگئے وگرنہ تو ان میں ایسی کوئی بات نہیں کہ انہیں مرکزی سٹرائیک باؤلر بنایا جائے کیونکہ اپنی کارکردگی کے لحاظ سے انہیں کھلاڑی نہیں بلکہ محلہ کی سطح پر ہونے والے کرکٹ میچوں کا عام سا تماشائی ہی ہونا چاہیے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *