نظام شمسی کے وسیع کنارے۔۔۔۔۔محمد شاہ زیب صدیقی

کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ آج سے سو سال پہلے تک ہم سمجھتے تھے کہ ہماری کائنات میں صرف ایک ہی کہکشاں ہے لیکن پھر ٹیلی سکوپس نے بتایا کہ نہیں! ہماری کائنات سو ارب کہکشاؤں پر مشتمل ہے اور دن بدن ترقی کرتی ٹیکنالوجی کے باعث اب ہمیں اندازہ ہوچکا ہے کہ ہماری کائنات میں دراصل دو سو ارب کہکشائیں موجود ہیں اور ہر کہکشاں میں اربوں کھربوں ستارے موجود ہیں اور ہر ستارے کے گرد کئی سیارے موجود ہیں۔ لہذا کائنات اتنی سادہ نہیں جتنی بظاہر دکھائی دیتی ہے۔

یہ ایک اُلجھے ہوئے نظام میں بندھی ہے اور ہمہ وقت اپنے اندر طرح طرح کے مناظر لئے پھیلتی جارہی ہے.۔ کائنات کی پہیلیوں کو سمجھنے کی خاطر 41 سال پہلے سائنسدانوں نے کچھ خودکش مشنز کو خلاء کی تاریکیوں میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ خودکش اس خاطر کیونکہ یہ one sided غیر انسانی مشنز تھے جن کا مقصد کائناتی سمندر میں غرق ہوکر انسانی باقیات چھوڑنے کی ادنی سی کوشش کرنا تھا۔ خلاء کی تاریکیوں میں بھیجے جانے والے اسپیس کرافٹس میں Pioneer 10، Pioneer 11، نیو ہوائزن، وائیجر ون اور وائیجر ٹو شامل ہیں۔ اب ہمارا رابطہ نیو ہورائزن، وائیجر ون اور وائیجر ٹو سے رہ گیا ہے اور اندازہ ہے کہ اگلے 7 سالوں میں یہ بھی ہم سے ناطہ توڑ دیں گے۔ وائیجر ون اور وائیجر ٹو نے 1977ء میں زمین سے سفر کا آغاز کیا۔ 2013ء میں وائیجر ون نے نظام شمسی کے کناروں کو پار کر کے نظام شمسی سے باہر نکلنے والی پہلی انسانی مشین ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا اور کل (یعنی 5 اکتوبر 2018ء) کو ناسا نے اعلان کیا کہ وائیجر ٹو بھی heliopause (نظام شمسی کے کناروں) سے نکلنے والی ہے جس کے بعد نظام شمسی پار کرنے والی مشینوں کی تعداد دو ہوجائے گی۔۔۔

. اس تاریخی موقع پہ اکثر یہ سوال ذہن کے دریچوں پر دستک دیتا ہے کہ نظام شمسی کے کناروں پر کیا ہے؟ کیا کوئی دیوار نما boundary موجود ہے جس کے بعد حتمی طور پر کہہ دیا جاتا ہے کہ اب نظام شمسی کا علاقہ ختم ہوگیا ہے اور بقیہ کائنات کا علاقہ شروع ہوگیا ہے؟ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے سورج سے ہمہ وقت الیکٹران پروٹان اور دیگر ذرات کا اخراج ہوتا رہتا ہے جسے ہم solar wind کہتے ہیں، سورج سے نکلتے ہوئے ان کی رفتار بہت تیز یعنی 400 کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے، لیکن ایک خاص فاصلے پر پہنچ کر ان کی رفتار گھٹتی جاتی ہے۔ ان کے رفتار کم ہونے کی وجہ interstellar medium ہوتا ہے یہ ہائیڈروجن اور ہیلیم پر مشتمل گیسز ہیں جو ستاروں کے درمیان خلاء میں موجود ہیں۔ سورج سے نکلنے والی solar winds کو interstellar medium روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ نلکے کو کھولیں تو sink میں پانی کی دھار جس جگہ گرے گی وہاں پر انتہائی تیز رفتاری سے پانی پھیلے گا اور لیکن ایک خاص فاصلے پر پہنچ کر پانی کا پریشر کم ہوجائے گا اور وہاں دائرہ نما jump بن جائے گا (اوپر تصویر منسلک ہے) بالکل ایسے ہی solar wind کی رفتار باہر موجود interstellar medium کے باعث آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوجاتی ہے جیسے ہی یہ رفتار آواز کی رفتار سے کم ہوتی ہے تو اس مقام کو termination shock کہا جاتا ہے اسپیس کرافٹس میں موجود آلات solar wind کی رفتار میں کمی کو نوٹ کرلیتے ہیں

یہاں سے ہمارے نظام شمسی کے کناروں کا آغاز ہوتا ہے، وائیجر ون نے 2004ء جبکہ وائیجر ٹو نے 2007ء میں termination shock کو کراس کیا، اس کے بعد helioshealth نامی علاقہ آتا ہے جہاں پر solar winds کی رفتار صفر تک پہنچ جاتی ہے، اس علاقے میں interstellar medium اور solar winds دونوں برابر مقدار میں موجود ہوتے ہیں، اس علاقے میں وائیجر ون 2007ء جبکہ وائیجر ٹو 2008ء میں داخل ہوئی، solar wind کے ساتھ سورج کی مقناطیسی فیلڈز بھی یہاں کم ہونا شروع ہوجاتی ہیں جو اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ آپ نظام شمسی کے بارڈر کو کراس کرکے کائناتی حدود میں داخل ہونے والے ہیں، helioshealth کے بعد نظام شمسی کے کناروں کی آخری سرحد heliopause آتی ہے.. یہاں پہنچ کر interstellar medium بہت زیادہ ہوجاتا ہے اور شمسی ذرات انتہائی کم مقدار میں رہ جاتے ہیں، اس علاقے میں پہنچنے کی بڑی نشانیوں میں اچانک درجہ حرارت میں بدلاؤ آجانا، مقناطیسی میدان کا رُخ بدل جانا اور cosmic rays کا بڑھ جانا ہے۔ وائیجر ون اس علاقے میں 2009ء میں داخل ہوئی تھی جس کے بعد ستمبر 2013ء میں ناسا نے اعلان کیا کہ وائیجر ون نے 25 اگست 2013ء کو heliopause کو بھی کراس کرکے کائناتی حدود میں قدم رکھ لیا ہے۔ Heliopause میں پہنچ کر ہمیں معلوم ہوا کہ درجہ حرارت اور cosmic rays میں فرق تو آتا ہے مگر مقناطیسی میدان کا رخ بدستور شمسی مقناطیسی میدان کی جانب ہی تھا۔

5 اکتوبر 2018ء کو ناسا نے اعلان کیا کہ وائیجر ٹو ویسا ہی ڈیٹا بھیج رہا ہے جیسا وائیجر ون نے 2012ء میں heliopause کو الوداع کہتے ہوئے بھیجا تھا چونکہ دونوں اسپیس کرافٹس کو تقریباً ایک ہی وقت میں مختلف directions میں لانچ کیا گیا تھا مگر انہوں نے نظام شمسی کے کناروں کو مختلف اوقات میں عبور کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ termination shock سے لے کر heliopause تک کے علاقے نظام شمسی کے گرد مختلف فاصلے تک پھیلے ہوئے ہیں، اگر یہ نظام شمسی کے گرد خاص فاصلے تک ہوتے تو وائیجر ون اور وائیجر ٹو ان کو ایک ہی وقت میں کراس کرتے… سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اگلے 300 سال interstellar medium میں گزارنے کے بعد یہ دونوں خلائی گاڑیاں Oort cloud نامی برفیلی پٹی میں داخل ہوجائیں گیں جو ہمارے نظام شمسی کے گرد موجود ہے، جس کے اگلے 30 ہزار سال بعد یہ دونوں خلائی گاڑیاں اس برفیلی پٹی سے نکل آئیں گیں۔ اور 72 ہزار سال بعد یہ گاڑیاں ہمارے پڑوسی ستارے پروکسما سینٹوری تک پہنچیں گیں یاد رہے پروکسما سینٹوری ہم سے صرف “چار” نوری سال دور ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق ہماری کائنات “93 ارب” نوری سال وسیع ہے… کائنات کی یہی وسعتیں اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی رہتی ہیں۔ کائنات ایک ایسی پہیلی ہے جس کو حل کرنے کی سعی میں حضرت انسان نسل در نسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے مگر یہ ہر آن نیا روپ لیے جلوہ گر ہوتی ہے.۔واقعی ہماری کائنات اتنی سادہ نہیں جتنی دکھائی دیتی ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”نظام شمسی کے وسیع کنارے۔۔۔۔۔محمد شاہ زیب صدیقی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *