• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • اجتماعی لاشعور ۔ جاہل مولوی اور ملک دشمن لبرل۔۔۔۔وہارا امباکر

اجتماعی لاشعور ۔ جاہل مولوی اور ملک دشمن لبرل۔۔۔۔وہارا امباکر

انسان کو معاشرتی حیوان کہا جاتا ہے۔ فنکاروں یا کھلاڑیوں کی مقبولیت، گپ شپ والے مارننگ شو، تازہ گپ والی ویب سائٹ، پارٹیوں کی فوٹو اور خبریں، غیبت، رشک، حسد، سکینڈل وغیرہ یہ سب مثالیں ہیں کہ ہم دوسروں میں کتنی دلچسپی لیتے ہیں۔ دوسروں کے بارے میں بہت تجسس رکھتے ہیں کہ دوسرا کون ہے، کیا کر رہا ہے۔

اگر گوگل پر ہونے والے مقبول سرچ کی چیزیں دیکھی جائیں (زیٹ گیسٹ پر دیکھا جا سکتا ہے) تو مقبول ترین سرچ کرنے والی چیزوں میں فلموں کے ادکاراوں، گلوکاروں، کھلاڑیوں، سیاسی واقعات وغیرہ نظر آئیں گے۔ ان میں شاید ہی کسی نئی سائنسی دریافت یا سائنسدان موجود ہو۔ (قابلِ اعتراض سرچ کی ٹرمز کو الگ کر کے)۔

کوئی بھی شخص ایک جزیرہ نہیں۔ ایک مکمل طور پر تنہاپسند انسان بھی اپنے پہچان دوسروں کو دیکھ کر کرتا ہے۔ اگر اصل زندگی میں نہیں تو کتابوں، فلموں یا ٹی وی کے ذریعے۔

آپ شاید یہ اعتماد رکھتے ہوں کہ آپ کا روزمرہ کا رویہ اور اپنے دوستوں، اجنبیوں یا رشتہ داروں سے برتاوٗ بڑے سوچے سمجھے طریقے سے ہوتا ہے۔ لیکن سوشل سائیکولوجی کی کئی دہائیوں کی تحقیق اس کے خلاف نتیجہ دیتی ہے۔ اس میں بڑی حد تک ہاتھ دماغ کے ان سرکٹس کا ہے جن سے آپ شعوی طور پر واقف نہیں۔

ولیم جیمز جنہیں امریکہ میں بابائے نفسیات سمجھا جاتا ہے، ان کے مطابق کسی عمل کو دیکھ کر ہمارا اس کو کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس ایڈیوموٹر ایکشن یا کچھ ہوتا دیکھ کر اس کی نقل کرنے اور دہرانے کی وجہ ہمارے سیریبرل کورٹیکس میں ہے۔ وہ نیورونز جس سے ہم دنیا کا ادراک حاصل کرتے ہیں اور وہ نیورونز جن سے ہم عمل کرتے ہیں، ان میں اوور لیپ ہے۔ ایسا کرنے کی یہ وجہ ہے۔ بندروں جب کچھ ہوتا دیکھ کر اس کی نقل کرتے ہیں، اس کی وجہ بھی یہی موٹر نیورون ہیں۔ (شاید آپ نے بندر سے ٹوپی واپس لینے والے سوداگر کی کہانی پڑھی ہو، اس کی کامیابی انہی نیورونز کی وجہ سے ہوئی تھی)۔

جب ہم کسی کو کھاتا دیکھتے ہیں تو دماغ کے وہ حصے آن ہو جاتے ہیں (کمزور سگنل کے ساتھ) جو ہمارے کھانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کسی کو شرمندہ دیکھ کر ہونے والی شرمندگی، تکلیف میں دیکھ کر تکلیف اور کسی کی مسکراہٹ دیکھ کر خود کو اچھا محسوس کرنا اسی وجہ سے ہے۔ جب ہمیں کوئی شخص پسند آ جاتا ہے تو اس کے الفاظ، حرکات اور عادات کو نقل کرنے لگتے ہیں۔ اگر آپ کسی سے سرگوشی میں بات کریں تو امکان ہے کہ وہ جواب دیتے ہوئے بھی اپنی آواز پست رکھے گا۔ اگر کسی دوست کے سامنے میز پر بیٹھے ہیں تو امکان ہے کہ آپ دونوں ایک ہی طرف کی کہنی کا سہارا لے کر جھکے ہوں گے۔ اور جماہی، اسے رہنے دیتے ہیں۔ دوسروں کی عادات کی نقل ہمیں ایک دوسرے سے تعلق بھی مضبوط رکھتی ہے۔ خوشی کے ساتھ خوشی، غم کے ساتھ غم۔

آپ جب دوسروں سے ملتے ہیں تو دوسروں کے بارے میں رائے اپنانے میں بہت سے فیکٹرز ہیں۔ اس کی عمر، جنس، لباس، ظاہری شکل و صورت، وغیرہ سے ہم اس کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں اور یہ رائے ہماری راہنمائی کرتی ہے کہ ہم کیسے اس کے بات کیسے کریں گے۔ یہ سب ہماری شعوری انسپکشن سے بالا بالا ہو چکا ہوتا ہے۔ اس لئے “فرسٹ امپریشن” کی اہمیت سمجھی جاتی ہے۔

کچھ لوگ دوسرے گروپس کے بارے میں بڑی مضبوط رائے رکھتے ہیں، “لبرل ملک دشمن ہیں”، “مولوی سائنس کے خلاف ہیں”، “فلاں علاقے کے لوگ پرتشدد ہیں”، “بوڑھے بورنگ ہیں”، “گورے ۔۔۔۔ ہیں”، “عرب ۔۔۔۔ ہیں”، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے معاملات میں جو لوگ انتہاپسند ہیں وہ تو اپنا انتخاب شاید صاف واضح بھی کر دیں۔ لیکن جو انتہاپسند نہیں، ان کے لئے بھی سٹیریوٹائپ سے بچنا آسان نہیں۔ ہم اپنے کلچر کی پیداوار ہیں۔ ہماری پرورش اور ماحول، ہمارے سنے قصے کہانیاں، کتابیں، ٹی وی، فلمیں، دوست، رشتہ دار، اساتذہ، والدین ہماری دنیا کو دیکھنے کی رائے سازی کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

غیرشعوری تعصبات شعوری تعصبات سے زیادہ اہم ہیں۔ اس لئے کہ ایک تو بہت عام ہیں۔ دوسرا کہ یہ بہت طاقتور ہیں۔ پورے گروہ ان کو شئیر کرتے ہیں۔ ان کی نظر سے دنیا دیکھتے ہیں، فیصلے لیتے ہیں اور آپس میں مل کر ان تعصبات کو مضبوط تر کرتے ہیں۔

اس رویے سے لئے گئے فیصلوں کی ایک مثال دیکھنے کے لئے پرل ہاربر کا واقعہ دیکھا جا سکتا ہے جب جاپانی بحریہ نے امریکہ پر ایک بہت کامیاب حملہ کیا۔ یہ انٹیلی جنس کی بڑی ناکامی تھی۔ صاف وارننگز کے ہوتے ہوئے بھی اس کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا گیا تھا؟ اس کی ایک وجہ اس پر ہونے والی تحقیق کے دوران ایڈمرل کمل کے کہے جملے سے پتہ لگتی ہے جو انہوں نے بے دھیانی میں ادا کر دیا تھا “ہمیں گمان ہی نہ تھا کہ یہ چھوٹے قد کے پیلے بزدل لوگ ہم پر حملہ کر سکتے ہوں گے۔”

قوانین یا عوامی آگاہی سے واضح تعصبات پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن چھپے تعصبات ختم کرنا زیادہ دشوار ہوتا ہے۔ آپ کوئی چیز کیسے بدل سکتے ہیں جب کہ آپ اس سے آگاہ ہی نہیں کہ کچھ ایسا ہے جس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

نوٹ: یہاں پر جاپان کے امریکہ پر حملے کی مثال اس لئے استعمال کرنا پڑی کہ وہ غیرمتنازعہ ہو گی۔ تعصبات کی بنیاد پر کئے گئے فیصلوں، بنائی گئی پالیسیز، ہمارے اعمال، اور اپنی روزمرہ زندگی کی جھلک دیکھنے کے لئے کچھ غور و خوض خود ہی۔ اور ہاں، یہ دوسرے کس قدر متعصب ہوتے ہیں۔

نوٹ نمبر دو: یہ کرسٹوف کوک کی کتاب کے ایک باب کا کیا گیا خلاصہ ہے۔ جاہل مولوی اور ملک دشمن لبرل کی اصطلاح بھی انہی کے مضمون کا حصہ ہیں۔

اس پر ایک آرٹیکل یہاں سے
https://www.psychologytoday.com/…/20…/the-social-unconscious

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *