انسان سے افضل فقط خدا۔۔۔سانول عباسی

انسان سے افضل جو ذات بابرکت ہے، وہ وحدہ لاشریک، خدائے بزرگ و برتر، رب العالمین ہے، اس کا مقام و مرتبہ، ذات و صفات انسانی پروازِ بیان سے کہیں آگے ہے اس معاملے میں انسان مجبور ہے، وہ ہر اس چیز کا خالق ہے جو اس کے سوا موجود ہے۔ اس ساری تخلیق میں انسان کو اس نے عظیم مقام و مرتبہ عطا کیا ہے، اللہ رب العزت اور انسان کا رشتہ خالق و مخلوق کا ہے ، خالق مخلوق نہیں بن سکتا، اور مخلوق کبھی خالق، خالق اگر مخلوق بنتا ہے اول تو ممکن ہی نہیں، اگر فرض کر لیا جائے تو خالق اپنے آپ کو اپنے مقام سے نیچا کرتا ہے اور مخلوق کا خالق کہلانا اس کے شایان نہیں رہتا، اور مخلوق خالق کے درجے پہ کبھی فائز ہی نہیں ہو سکتی۔

انسانیت انسان کا کائنات میں امتیاضی وصف ہے جب تک وہ اپنی ذات میں نہیں ڈوبتا اس وقت تک اپنا یہ وصف اس پہ آشکار نہیں ہوتا۔ انسانیت اپنی دانست میں کائنات کا انتہائی عظیم وصف ہے جس سے آگے فقط مقامِ ربوبیت رہ جاتا ہے جسکا ابتدائی زینہ ہی کبرو غرور ہے، اور اس سے پیچھے انسانیت کی حد ہے جو اس حد کو پھلانگنا چاہتا ہے اور کبرو غرور کی سیڑھیوں پہ قدم بڑھانے کی کوشش کرتا ہے تو مقامِ ربوبیت و انسانیت کے بیچ ذلت و ملعونیت کی نہ عبور ہونے والی ایک خلیج حائل ہو جاتی ہے انسانیت سے نکل کر مقام ربوبیت کو پانے کی جستجو کرنے والا ملعون ہو جاتا ہے اور آن واحد میں اپنا وہ عظیم وصف جس نے اسے کائنات میں فضیلت بخشی، اس سے گر کر ذلت و رسوائیوں کی تاریک وادیوں میں اپنی پہچان کھو دیتا ہے۔

وحدت الوجود و الشہود وہ مقام ہیں جہاں انسانی بصیرتوں کو مغالطہ لاحق ہوتا ہے اور اپنے وجود کو ذات مطلق کا جزو  سمجھتا ہے۔ اس نفیس پرت کو محسوس کیے  بنا  جو مقامِ رب العالمین و انسان کے درمیان حائل ہے جو خالق و مخلوق کے درمیان حائل ہے اپنی ذات کو حرف آخر مان کر اپنی دانست میں اپنی ہی ذات کو نور مطلق کا جز و کہہ دیتا ہے، جو اسے اپنی لاعلمی کے ادراک میں مانع ہے۔

خالقِ عالم اللہ رب العزت کی طرف سے ایسی کوئی  دلیل نہیں ملتی کہ مخلوق ذات مطلق کا جز و یا کوئی پرتو ہے فقط انسانی شعلہ بیانیاں ہیں۔

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *