آخری نینڈرتھال کون تھی؟ وقار عظیم

یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ اس زمین پر انسانوں سے پہلے بہت سی مخلوقات آباد تھیں جن میں سے ایک نام جنات کا بھی تھا۔۔پھر جنات کی جانب سے خون خرابہ اور فسادات کی بنا پر اللہ پاک نے عزازئیل (ابلیس کا پرانا نام) کی سربراہی میں فرشتوں کی ایک فوج نازل کی جس نے جنات کی اس نسل کا زمین سے صفایا کر دیا۔۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس زمین پر انسانوں سے بہت پہلے انسانوں جیسی ہی ایک مخلوق پائی جاتی تھی جسے “نینڈر تھال” کہا جاتا تھا۔مورخین کے مطابق دو سے اڑھائی لاکھ سال قبل یہ مخلوق (موجودہ)یورپ کے سرد ماحول میں پائی جاتی تھی۔۔اور آج سے تیس چالیس ہزار سال پہلے یہ مخلوق تقریبا معدوم ہو گئی۔۔یہ نوع انسانوں سے بہت زیادہ مماثلت رکھتی تھی۔۔ اٹھارہ سو اڑتالیس میں جبرالٹر کی ایک چوکی پر نینڈر تھال کی ایک کھوپڑی ملی تھی جس سے یہ سامنے آیا ہے کہ موجودہ انسان اور ان کے ڈی این میں محض زیرو اعشاریہ ایک دو فیصد کا فرق ہے۔۔۔
آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ آخری نینڈرتھال یا اس جیسی مخلوق کب ملی اور اس نے کیسے زندگی گزاری۔
اٹھارہ سو پچاس میں روسی خطے جارجیا میں جنگل میں شکار کے دوران شکاریوں کے ایک گروپ کو ایک عجیب الخلقت عورت دکھائی دی۔۔جن کے نین نقش بن بانس سے ملتے تھے۔۔اس کی ٹانگیں، بازو اور انگلیوں غیر معمولی حد تک موٹی تھیں۔۔اس کی چھاتی سیاہ بالوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔۔۔اس کا قد چھے فٹ چھے انچ تھا۔۔۔اسے بمشکل قید کر کے قریبی گاوں لایا گیا۔۔جو کہ ایک پہاڑی کے دامن میں واقع تھا۔۔وہاں اسے ایک شخص کے حوالے کیا گیا جسے ایڈجی کہا جاتا تھا۔۔
Image result for ZANA NEANDERTHALیہ بن مانس نما عورت اس قدر غصیلی اور جھگڑالو تھی کہ اسے تین سال تک پنجرے میں قید رکھا گیا۔۔کوئی اس کے پنجرے کے قریب بھی نہیں لگتا تھا اور اسے دور دور کھانا پھینک دیا جاتا تھا۔۔وقت کے ساتھ ساتھ اس کا غصہ کم ہوا۔۔لوگ اس سے گھلنے ملنے لگے تو اسے “زانا” کا نام دیا گیا۔۔اسے پنجرے سے نکال کر لوہے کی تاروں والے ایک میدان میں رکھا گیا۔۔پہلے رسیوں سے باندھ کر رکھا گیا لیکن چند ماہ بعد رسیاں کھول دی گئیں۔۔اور اسے آزادانہ گھومنے کی اجازت دی گئی۔۔لیکن کہا جاتا ہے کہ زیادہ دور نہیں جاتی تھی کیوں کہ اسے کھانے سے بہت محبت تھی اسے علم تھا وہ اسی علاقے میں رہے گی تو کھانا ملتا رہے گا۔۔لکڑیاں اٹھانے سمیت اس نے چھوٹے چھوٹے بہت سے کام سیکھ لیے،،۔نہیں سیکھا تو ایک بھی لفظ بولنا نہیں سیکھا۔۔گاوں کی عورتیں بدستور اس سے خوف کھاتی تھیں کیوں کہ غصے میں زانا کاٹ لیا کرتی تھی۔۔
زانا گھوڑے سے بھی تیز بھاگ لیتی تھی۔۔اسی کلو گندم کا تھیلا ایک ہاتھ سے اٹھا کر پہاڑی چڑھ جایا کرتی تھی۔۔اپنی پسندیدہ غذا انگور کھانے کے لیے اونچے سے اونچے درخت پر سینکڈز میں چڑھ جایا کرتی تھی۔۔اسے قریبی جنگل میں ہمیشہ رات کے وقت جاتے دیکھا گیا۔یہ صرف ایک ہی شخص سے ڈرتی تھی جو کہ اس کا ماسٹر کہلاتا تھا جس کا نام ایڈجی بتایا گیا۔۔اسے گرمی سے چڑ تھی۔۔کوئی بھی کپڑا نہیں پہنتی تھی۔۔سخت سے سخت سردی میں عریاں پھرتی تھی۔۔وائن پینے کا بہت شوق تھا۔۔اکثر وائن پی کر بے سدھ ہو جایا کرتی تھی۔۔
اس کے بہت سے بچے ہوئے جو کہ ان حادثات (ریپ) کا نتیجہ ہیں جو اس کے وائن پی کر بے سدھ ہونے کے بعد پیش آتے تھے۔۔یہ ہمیشہ اکیلی ہی بچے کو جنم دیتی تھی۔۔بچے کو جنم دیتے وقت کسی کو پاس پھٹکنے نہیں دیتی تھی۔۔اسی لیے اس کے بہت سے بچے مر گئے۔۔۔چند بچوں کو تو اس نے جنم دینے کے فورا بعد قریبی دریا کے ٹھنڈے پانی سے نہلا کر صاف کیا اور وہ سردی سے ہی مر گئے۔۔اس کا ایک ہی بچہ زندہ رہا جو کہ اس کے ماسٹر ایڈجی کا بیٹا مانا جاتا تھا۔۔
زانا کا انتقال اٹھارہ سو نوے میں ہوا اور اس کی ڈیڈ باڈی یا کھوپڑی کے بارے کسی کو علم نہیں۔زانا اور ایڈجی کا بیٹا جو کہ زانا کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا “کیویت” زانا سے مختلف تھا یہ کافی حد تک انسانوں سے مشابہت رکھتا تھا۔۔انسانوں کی مانند کھاتا پیتا اور بولتا تھا۔۔لیکن پھر بھی اس میں زانا کی مشابہت پائی جاتی تھی۔۔یہ عام انسانوں سے کہیں زیادہ طاقتور تھا۔۔کیویت کا انتقال انیس سو چون میں ہوا۔۔اس کی کھوپڑی ایک سائنس دان ایم اے کولودیویا کو دی گئی تا کہ وہ اس پر تجربات جاری رکھ سکے۔۔۔ذیل میں زانا ،کی تصویر اٹیچ کی گئی ہے۔۔اب تک کی تاریخ کے مطابق زانا آخری نینڈرتھال تھی،،اس کے بعد سے نینڈر تھال کا وجود مٹ گیا۔۔لیکن آکسفورڈ کے محقیقن کے مطابق زانا نینڈر تھال کی بجائے “یاتی” نامی مخلوق تھی جو کہ افریقی خطے میں پائی جاتی تھی اور یہ انسانوں اور بندروں سے مشابہہ ہوتی تھی۔۔

وقار عظیم
وقار عظیم
میری عمر اکتیس سال ہے، میں ویلا انجینئیر اور مردم بیزار شوقیہ لکھاری ہوں۔۔ویسے انجینیئر جب لکھ ہی دیا تھا تو ویلا لکھنا شاید ضروری نہ تھا۔۔