• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نجف اشرف اور کوفے میں ڈاکٹر حمیدی دولانی سے ملنا۔۔۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط 3

نجف اشرف اور کوفے میں ڈاکٹر حمیدی دولانی سے ملنا۔۔۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط 3

”بورسپہ Borsippa ایسی جگہ نہیں کہ جسے چھوڑا جائے۔
الفاظ اس کے گلے کے فوارّے سے نکلتے موتیوں کی طرح اچھلتے کودتے میری سماعتوں سے ٹکراتے تھے۔
رضاظہ جھیل Razzazeh Lakeکی مچھلی کھلانی ہے۔“
”چلو ایک کریلا اوپر سے نیم چڑھا۔“میں نے فقرہ دانتوں میں پیس دیا۔
”کوفہ میں کوفہ یونیورسٹی دیکھنے کی چیز ہے۔نیپرNippurکا بھی دیکھنے سے تعلق ہے مگراُسکو دیکھنا خالصتاً آپ کی مرضی پر ہے۔ویسے کبھی میسیوپوٹیمیا کا ممتاز شہر تھا۔یوں اللہ کے پیارے دوست خلیل اللہ کا تعلق بھی اُر سے ہے۔تھوڑا سا اُر میں قیام کرنا ہو تو پندرہ کلومیٹر پر ناصریہ میں ریسٹ ہاؤس بھی ہے۔“
”پر اُس شیر خدا کے شہر کی قدم بوسی کے بغیر۔افلاق نجف اشرف کا تم نے نام نہیں لیا۔“وہ ہنسا اور بولا۔”اسکی ضرورت ہی نہیں۔سب سے اہم تو وہیں جانا ہے۔کوفہ سے دس میل پر تو ہے۔“
ایسی باتیں، جگہوں کی یہ چھوٹی موٹی تفصیلاات سُننا میرا معمول تھا آج کوئی بارہواں روز تھا۔سوچے چلی جاتی تھی کہ تخم ملنگا اور قیترہ گوندجس تواتراور کثرت سے میرے اندر یہاں گیا ہے۔اس کا تو پچاسواں حصّہ بھی  میں  نے  اب تک کی زندگی میں نہیں پیااور اگر یہ کہیں اسی رفتار سے وطن میں میرے اندر جاتا تو یقیناً  ہڈیاں گوڈے تو جڑ گئے ہوتے۔
مگر صد شکر اُس کی ذات کا یہ گرمی کے بیج کو مارنے والی گیڈر سنگھی،جڑی بوٹیوں کی یہ سوغاتیں ہی تو تھیں کہ جنہوں نے عراق کی اِس نارجہنم کو میرے لئے گل و گلزار کر رکھا تھا۔یا دل کی گہرائیوں سے مانگا ہوا دُعا کا کوئی ٹوٹا تھاجو اوپر والے کے دل میں سیدھا جا گُھسا تھا۔کچھ تو تھا کہ جس نے 54,55ڈگری ٹمریچر میں پھرنے کے باوجود ابھی تک مجھے سن سٹروک کے مُنہ میں نہیں پھینکا تھا۔خیر اب تو بغداد ڈرامے کا آخری ایپی سوڈ چل رہا تھا۔تین دن مزید۔
پر اگلی صبح پروگرام کی ساری ترتیب اُلٹ پلٹ ہوگئی کہ جب میں تیار ہو کر باہر آئی جہاں مجھے افلاق کے ساتھ پید ل چل کر ٹیکسی سٹینڈ تک جانا تھا جہاں اُس نے اپنی گاڑی پارک کی ہوئی تھی۔ اُس نے مجھے بتایا تھا کہ بغداد گورنس کونسل کی ممبر ڈاکٹر حمیدی دولانیDulaini کوفہ آئی ہوئی ہیں۔اُن سے آپ کا ملنا بہت ضروری سمجھتا ہوں۔

گاڑی قومی شاہراہ پر تیزی سے دوڑ رہی تھی۔صحرا میرے دائیں بائیں پھیلا ہوا تیز دھوپ میں نہاتا آنکھوں میں چبھا جاتا تھا۔چھوٹی بڑی بستیاں،کھیتوں میں اُگی سبزیاں جنہیں سخت دھوپ سے بچانے کیلئے کور کیا گیا تھا۔
علاقہ ریتلا ضرور تھامگر خشکی اور تری کے امتزاج نے بڑی دلکشی پیدا کررکھی تھی۔
کجھوروں کے باغات،فصلوں کی فراوانی اور پھولوں کی بہتات تھی۔اسلامی فتوحات سے پہلے یہ ایران کا حصّہ تھا اور عجمی دنیا میں حیرہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔اُس جیالے جنگجو حضرت سعد بن ابی وقاص نے اِس مقام کی اہمیت کو ایک مدبرمنتظم کی نظر سے جانچتے اور پرکھتے ہوئے حضرت عمر کی خدمت میں درخواست بھیجی تھی کہ یہاں اگر ایک فوجی چھاؤنی قائم کی جائے تو مفتوحہ علاقوں کو کنٹرول کرنے میں بہت آسانی رہے گی۔منظوری ملی تو شہر بسنا شروع ہوا۔ چونکہ زمین اور آب وہوا سے لیکر حالات سازگار تھے۔اس لئیے دور نزدیکی جگہوں سے نقل مکانی ہوئی۔بہت اونچی جگہ پر عظیم الشان وسیع و عریض مسجد اور اس کے ساتھ حضرت سعد کا گھر بھی تعمیر ہوا۔
حضرت عمر فاروق نے اسے دارُسلام کا نام دیا۔صحابہ کے زمانے میں قبتہ الاسلام کے نام سے بھی مشہور تھا۔
پہلا گورنر مغیرہ بن شعبہ تھا۔حضرت عثمان نے اپنی خلافت میں اُنہیں بدل دیااور ولید بن عقبہ کو تعّینات کیا۔میرٹ کا معیار حضرت عمر کے زمانے تک سختی سے رہا۔حضرت عثمان کے دور میں یہ متاثر ہوا۔انہوں نے اقربا پروری بہت کی۔
گاڑی نے مرکزی شاہراہ کو چھوڑا۔کچھ آگے گئی تو دریائے فرات نظرآیا۔فرات پر آنکھیں پڑتے ہی جیسے میری آنکھیں جھلملانے سی لگیں۔”ہائے فرات“۔ کلیجے سے بڑا لمبا سا ”ہائے“نکلا تھا۔ پل سے کراسنگ ہوئی جس کا نام امام علی تھا۔
گاڑی شہر میں داخل ہوگئی تھی۔اسلامی تہذیب و تمدن کا نمائندہ شہر،اس کی وسعت گیری کا مرکز اور اس کے رنگوں کو اپنے دامن میں سمیٹنے والا شہر کوفہ جسکے لوگ انتہائی بے وفا،مطلب پرست خیال کیے جاتے ہیں۔تاریخ اسلام کے سب سے بڑے المیے کے داغ انہی کوفیوں کے ماتھوں پر چمکتے ہیں۔
تایخ نے بھی ساتھ ہی سر کُجھانا شروع کردیا تھا۔

پل سے گزرنے کے ساتھ ہی جونہی شہر میں داخلہ ہوا۔افلاق نے گاڑی کوفہ کی قلعہ نما مسجدکے سامنے روک دی۔
”زیارت کرآئیے۔میں ذرا ناشتہ کرلوں۔یہ وہی مسجد ہے جہاں شیرخدا نے مدینہ منورہ کے بعد کوفہ کو اپنادارلخلافہ بناتے ہوئے قیام کیا تھا۔“
اندر داخل ہوئی۔عظیم الشان مسجد محرابی برآمدوں کے ساتھ چمکتے گنبد اور چوکور مینار کے ساتھ میرے سامنے تھی۔سامنے وسیع و عریض میدان اور عین درمیان میں ایک کٹہر ہ تھا۔


سویرے سویرے لوگوں کے پُرے تھے۔پاکستانی یا ہندوستانی چہرے بھی دیکھنے کو ملے۔کِسی سے پوچھا۔
”ارے یہی تو وہ جگہ ہے جہاں نوح کی کشتی آکر ٹھہر گئی تھی۔یہ میدان فضیلتوں والا ہے۔اِس میں انبیاء کے سجدوں کی خوشبو ہے۔
تو وہاں سجدہ دیااور خدا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا بھی کہ دیکھ گواہ رہنا پیشانی یہاں ٹکی ہے۔
آگے بڑھی۔مسجد کے اُس حصّے میں آہ وبکا تھی۔ سِسکیاں تھیں۔بین تھے۔ یہاں حضرت علی پر حالت نماز میں عبدالرحمن بن بلحم نے حملہ کیا تھا۔چاندی کی جالیوں میں مقید جس کے گرد عقیدت مند لپٹے ہوئے ہیں۔فریادیں لبوں پر ہیں۔باتیں ہورہیہیں۔آنسو بہہ رہے ہیں۔فاتحہ پڑھی۔ دعا کی۔


”پروردگار وہ ہستی توکّل کی کِس معراج پر تھی کہ تصور محال ہے۔رات بہت دیر تک اکیلے عبادت میں مشغول رہتے تھے۔چاہنے والوں نے محافظ مقرر کیے۔آپ کو پتہ چلا تو محافظوں سے مخاطب ہوئے۔
”یہاں اِس روئے زمین پر ہرچھوٹی بڑی حتیٰ کے نہ نظر آنے والی مخلوق کی قسمت کی نگہبانی اور کنڑول بھی اُس خدا کے ہاتھ میں ہے تو پھر تمہاری ضرورت کیا ہے؟یوں انہیں فارغ کردیا۔
ذراآگے مسلم بن عقیل کا روضہ ہے۔ان کی شہادت بھی یہیں ہوئی۔بہت شاندار جگمگ جگمگ کرتا،نفل پڑھے،برآمدے میں تھوڑی دیر بیٹھی۔باہر آئی۔
کوئی گھنٹہ بھر بعد نکلی۔افلاق منتظر تھا۔گاڑی سڑکوں پر بھاگنے لگی۔شہر اپنے عام سے خدوخال کے ساتھ سامنے آرہا تھا۔
پھر ایک خوبصورت ساپارک آیا۔پاس ہی کوفہ کلب سٹریٹ تھی۔بڑے سے ایک گیٹ والے گھر کے سامنے گاڑی رک گئی۔بیل کرنے پر نوکر کے باہر آنے اورمیرے اندر جانے تک کے سارے معاملات میرے لئیے بہت دلچسپی کے حامل تھے۔گھر کا مہمان خانہ جدید طریقے سے سجا تھا۔بس دیواروں پر قدیمی تاریخی ورثے کی صورت تین بندوقیں اور حنوط شدہ باز کا سر ٹنگے تھے۔
چند لمحوں میں ڈاکٹر حمیدی دولانیDulaini آگئیں۔اونچی لمبی جٹی مٹیار جیسی۔ بہت چاہت سے بغل گیری اور بوس و کنار کے مرحلے طے ہوئے۔صوفے پر بیٹھتے ہوئے میرے حوالے سے چند سوال ہوئے کہ کب آئیں اور کِس کِس سے ملنا ہوا؟
قہوہ،کھجوریں اور بسکٹ فوراً ہی آگئے تھے۔
میں نے اُس لڑکی فاطمہ کے متعلق پوچھا تھا جس کے بارے میں میں نے پاکستان میں بھی پڑھا تھا۔اُس بچی کے علاوہ ایک دوسری عورت فاطمہ نامی بھی تھی جس نے ابو غرب جیل سے ایک خط کِسی گارڈ کی مدد سے باہر پہنچایا تھا۔اس خط نے امریکی سپاہیوں کے پست اور بھیانک کرداروں پر پہلی بار تفصیلاً روشنی ڈالی تھی۔
مگر تاسف بھرے لہجے میں کہتے ہوئے انہوں نے قہوے کا سپ لیااور کہا۔ ایک بغداد کی ابوغرب جیل کیا وہ تو ہرجیل میں جا گھسے تھے۔کاظمیہ میں صدام کے زمانے کی بہت بڑی جیل ہے جسمیں سینکڑوں عورتیں ہیں۔جن میں بہت سوں کے ساتھ بیشمار واقعات ہوئے۔تکریت اور سامرہ کی جیلوں میں بھی یہی کچھ ہوا۔
میرے ایک سوال پر کہ یہ عورتیں کِس کِس جرم میں جیلوں میں تھیں؟

کچھ تو صدام کے زمانے کے سلسلے تھے۔وہ بھی بڑا ظالم تھا۔اپنے خلاف ایک بات سُن لیتا تو خاندان گویا کولہومیں پیس دیا جاتا۔اُن کے شوہر مارے گئے یا قیدی بنا کر جیلوں میں ٹھونسے گئے۔تاہم امریکی حملے کے بعد جو شدت آئی وہ صدام حامیوں کی گرفتاریوں کی تھی۔مردوں کو قتل اور عورتوں کو جیلوں میں ڈال کر انہیں ریپ کرنے اورتشدد کا نشانہ بنانے کی مثالیں بہت زیادہ  ہوئیں۔تکریت کی جیل تو خاص طورپر اِس زیادتی کا زیادہ نشانہ بنی۔
دوسرے القاعدہ کے حامی لوگوں میں سے جہاں اور جس پر خفیف سا شک گذرتا اُسے اٹھا لیاجاتا۔نوجوان لڑکیاں ریپ اور عورتیں جیلوں میں۔
اس ضمن میں عام لوگوں کی تو بات ہی کیاصبا حسن جیسی جرنلسٹ اور ہیومن رائٹس ایکٹو وسٹ کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔
بڑی لرزہ خیز داستانیں تھیں۔رونگٹے کھڑے کرنے والی، مزاحمت کاروں کی بیویوں،بیٹیوں،بہنوں اور ماؤں کِسی کو بخشانہ جاتا۔تشدد کی وہ انتہا ہوتی کہ کئی کیسوں میں مزاحمت کار آکر خود کو اُنکے سامنے پیش کرتے مگر پھر بھی رہائی نہ ہوتی۔
اب میں خود شیعہ ہوں۔مگر عین عید کے روز صدام کو پھانسی دینا کس قدر سفاکانہ عمل تھا۔نسلی فسادات کا ایک لاوہ تھا جو اِس پھانسی کے ساتھ پھوٹا۔وہ لوگ بھی رگڑے گئے جوصدام مخالف تھے۔اب امریکہ اور اس کے اتحادی یہی کچھ چاہتے تھے۔Khadimiya women prisionمیں سنی عورتوں پر بہت تشدد کیا گیا۔پھولوں جیسی خوبصورت لڑکیوں کو کہیں سامرہ،کہیں موصل کے تہہ خانوں میں رکھا گیاجہاں کچھ وقت کے بعد انہیں زندہ جلادیا جاتا۔
عراقی فوج اور عراقی پولیس کے رویوں بارے بات ہوئی کہ وہ کِسی حد تک امریکی فوجیوں کا ساتھ دیتی رہی۔


بہت سے معاملات میں دل نے جو کہا اُس کے مطابق کام ہوئے۔نہ نوکری کی پرواہ کی اور نہ جان کی۔لوگ اپنے لوگوں پر خود چاہے جتنے مرضی گولہ بارود برسائیں وہ الگ مگرکِسی غیر قوم کے ہاتھوں اپنی عورتوں کی تذلیل برداشت کرنا بہت مشکل ہوتا تھا۔بہت سے کیسوں میں جب یہ حمایت سامنے آئی تو امریکیوں نے زیادہ تشدد کیا۔فورٹ سوزا میں تو امریکی سپاہیوں کو قتل بھی کردیا گیا تھا۔
دراصل عراقی زیادہ تر قبائلی نظام کے زیراثر ہے۔عورت اپنے اوپر جبر اور ظلم کو برداشت کرجاتی ہے کہ خاندان کی تذلیل نہ ہو۔اس پر انگلیاں نہ اُٹھیں۔
دُکھ کی بات تو سراسر یہ ہے کہ ان اتحادی افواج پر عراقی حکومت کا کوئی قانون لاگو نہیں۔اسی لئیے انہیں سب کچھ کرنے کی کھلی چُھٹی ہے۔
ہاں کچھ ظلم اور زیادتیاں مسلکی اختلاف پر ہوئی ہیں۔
پاکستان کے حوالے سے بھی بہت باتیں ہوئیں۔میرے مزید قیام کے دنوں بارے جاننے کے بعد انہوں نے بغداد میں ملنے کی تاکید کی۔
کوفہ بُہت پھیلاہوا،بہت شاندار،بہت جاہ وجلال والا شہر نہیں ہے۔جیسے اِسے ہونا چاہیے تھا۔صفائی ستھرائی کی حالت بڑی ماٹھی تھی۔بازار بھی ہمارے شہروں جیسے ہی تھے۔کوفہ یونیورسٹی البتہ باہر سے بہت شاندار نظر آتی تھی۔یقینااندر سے بھی ایسی ہی ہوگی۔1987میں بننے والی اس یونیورسٹی کی بنیادیں تو بہت پرانی ہیں۔کبھی مسجد کوفہ سے ملحق کسی اسلامی سکول کی صورت،کبھی کالج کی صورت۔اب یہ بارہ کالجوں کے ساتھ ایک عظیم الشان ادارے کی صورت کام کررہی ہے۔
افلاق بتا رہا تھا کہ چند ماہ پہلے یونیورسٹی نے کوفے کے بیٹے طیب احمد ابن الحسین المتنابی(915-965)جو عرب کلاسیکل شاعری کا بہت بڑا نام ہے کا ہفتہ منایا تھاجسمیں شرکت کیلئے وہ برطانیہ اور سویڈن کے عراقی لوگوں کو اپنی گاڑیوں میں یہاں لایا تھا۔
اسلام کی بہت ساری نامورشخصیات کوفہ سے ہیں۔
دلبستان فقہ کی بنیاد ایک طرح اِس شہر میں رکھی گئی۔یہ شہر فقہ اور حدیث رسول کا مرکز تھا۔خط کوفی کا آغاز بھی یہیں سے ہوا۔
کیسا عظمتوں والا شہر تھا۔مگر کیسا گہنایا گہنایا لگتاتھا۔
وہ زوال اور مردنی جو عالم اسلام پر چھائی ہے۔اس پر بھی طاری ہے۔سچ ہے جب قوموں کے مقدر چمکتے ہیں تب شہر بھی چمکتے ہیں۔
نجف اشرف کوئی دس میل ہوگا۔کوفہ اور نجف اشرف روالپنڈی اور اسلام آباد کی طرح ہیں۔روایت ہے کہ شہر کی بنیاد ہارون الرشید نے رکھی تھی۔اس کے تعاقب میں بھی ایک واقعہ ہے کہ ہارون الرشید کوفے کے گردونواح میں شکار کیلئے آیا۔ساتھ شکاری کتے اور باز تھے۔ہرن نظر آئے تو پیچھا کیا۔مگر وہ ذرا فاصلے سے ایک ٹیلے پر چڑھ گئے۔کتوں اور بازوں کو ہانکا گیا کہ تعاقب کریں۔مگر ٹیلے پر چڑھنے سے جانوروں کی دونوں اقسام نے رخ پھیر لیا۔چند بار جب ایسا ہوا ہارون الرشید کو تجسّس ہوا کہ آخر ماجرہ کیا ہے؟قریبی آبادی حیرہ کی تھی۔نوکروں کو بھیجا کہ وہاں کے معمرترین افراد کو لایا جائے کہ شاید وہ اس پر کچھ روشنی ڈالیں۔ایک عمر رسیدہ بوڑھا حاضر خدمت ہوا جس نے ساری کہانی کے جواب میں بتا یا کہ یہاں حضرت علی ؓ دفن ہیں۔
اب جگہ کھودی گئی تو قبر کے نشان ظاہر ہوئے۔ساتھ ہی ایک لوح نظر آئی۔جس پر سریانی خط میں لکھا ہوا تھا کہ یہ مدفن حضرت علی ؓ کا ہے۔
وہاں روضہ تعمیر ہوا۔پھر اردگرد حجرے اورکوٹھٹریاں بننے لگیں۔آبادی بڑھتی گئی علاقہ نجف اشرف کے نام سے جانا جانے لگا۔
یہ تفصیل مجھے معلوم تھی۔افلاق نے جب بتائی تو جاننے کے باوجود میں نے سُنی کہ شاید کوئی نئی بات پتہ چلے۔

گاڑی سڑکوں کے چکر کاٹ رہی تھی۔یہ مقدس اور معتبر شہر تھا۔مکہ اور مدینہ کے بعد مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین شہر۔
دنیا کے ہر پرانے شہرکی طرح یہ بھی دو حصوں میں بٹا ہوا ہے قدیم اور جدید۔پرانے حصے میں حضرت علی ؓ کا روضہ مبار ک ہے۔اِسکا عالیشان سنہری گنبد ہرطرف سے نگاہوں کی زد میں تھا۔
یہ سٹی سٹریٹ ہے۔ مقامی زبان میں اسے شارع المدینہ کہتے ہیں۔شہر کو ذرا دیکھ لیں۔میں نے سکول دیکھے،اسپتال اور ہیلتھ کیر سینٹروں کے بورڈ پڑھ کر ان کے بارے جانی۔پلازے تھے۔ بازاردر بازار وں کے سلسلے۔خلعی حکومتی عمارتیں۔زائرین کے قافلے۔
یہ لائبریریوں کا شہر ہے۔اس کے مدرسوں میں دنیا بھر کے طالب علم موجود ہیں۔میں نے گاڑی میں ہی بیٹھے بیٹھے میڈیا سینٹر کی شاندار عمارت دیکھی۔پبلک لائبریری گئی۔علم کا دریا نہیں وہاں سمندر بہہ رہا تھا۔
روضہ مبارک پر میلے کا سا سماں تھا۔ وسیع وعریض میدان پر زائرین کے پرے تھے۔ڈولی ڈنڈوں کے ساتھ آئے ہوئے زائرین برآمدوں میں دھونی رمائے بیٹھے تھے۔
دوکانوں پر چہل پہل کا بازار گرم تھا۔خریداریاں تسبیح،کھجوریں دیگر خوردنوش کی اشیاء مکھیوں کی بہتات،سبز چادریں اور مٹھائیاں۔میں نے اُتر کر چند دوکانوں میں تاکا جھانکی بھی کی۔یہ دیکھنے کیلئے کچھ میڈ ان پاکستان کی بھی کوئی چیزیں وہاں پڑی ہیں۔ایک دوکان میں باسمتی چاولوں کے تھیلے دیکھ کر تھوڑی سی ٹھنڈ پڑگئی۔
روضہ مبار ک کے اردگرد ایک وسیع وعریض عمارت ہے۔دیواروں کی نقش گری آنکھوں کو متوجہ کرتی ہے۔شیشہ ہی شیشہ ہرجانب یوں لشکارے مارتا ہے کہ لگتا ہے آپ کسی آئینہ خانے میں کھڑی ہیں۔
رش کا وہ عالم تھا کہ مجھے لگتا تھا کہ میں تو زیارت سے ہی محروم رہ جاؤں گی مگر بڑا کرم ہوا۔
افلاق کی مدد سے یہ پل صراط طے ہوا۔روضے کے گرد سنہری جالیاں ہیں۔ہاتھ اٹھا کر فاتحہ پڑھی،نفل پڑھے اور اقبال کوگنگناتے ہوئے باہر نکل آئی۔
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
دوپہر کا کھانا افلاق نے مطعم طنجرہ میں کھلایا۔بہت بڑا ریسٹورنٹ تھا۔کھانا لذید تھا۔
وادی السلام میں اُتری نہیں۔گاڑی میں بیٹھے بیٹھے دیکھتی رہی۔قبروں کے لامتناہی سلسلے کہیں دومنزلہ اور کہیں سہ منزلہ۔دنیا کا شاید سب سے بڑا قبرستان تھایہ۔ یہاں ایک بازار بناہوا تھا۔قبروں پر چڑھاوں کیلئے پھول چادریں سبھی دستیاب تھیں۔گاڑی چلتی رہی۔میں دنیا کی بے ثباتی پر فکرمیں ڈوبی ہوئی ہول کھاتی رہی۔
جب گاڑی نیشنل ہائی وے پر چڑھی۔افلاق نے مجھ سے پوچھا۔
”بتائیں اُر چلیں گی۔“
”نہیں افلاق نجف اشرف دیکھ لیا۔وہاں سجدہ دیاتو بس سبھی کچھ حاصل ہوگیا۔باہر دیکھو ذرا۔سورج سوا نیزے پر آیا ہوا ہے۔خدا کی ذات اگر مہربان رہی ہے تو اب اس کا ناجائز فائدہ نہ ہی اٹھاؤں۔جھیل پر ضرور جانا ہے کہ شام وہاں خوبصورت ہوگی۔وہاں سے واپسی۔“
”مگر اُس نے تیزی سے میری بات کاٹ دی۔اُک حیئی در Uk Haidher castleدیکھ لیجیے۔یہ کربلا کے جنوب مغرب میں ہے۔جھیل بھی راستے میں ہے۔
مجھے تامل تھا۔مگر افلاق کا اصرار تھا اُس نے ساتھ ہی یہ بھی کہا۔
اُس قلعہ کی موٹی موٹی دیواروں اور چھتوں میں ٹھنڈک کا رچاؤ ہے۔دوپہر کے دو گھنٹے اطمنیان سے گزارئیے وہاں۔“
میں افلاق کی ممنون تھی کہ وہ تھوڑی سی زبردستی سے مجھے ایک ایسی چیز دکھانے لے گیا۔جس کا یقینا دیکھنے سے تعلق تھا۔لق و دق صحرا میں کھڑے جہاں سورج قیامت کا سا منظر پیش کرتا تھا میں نے دیوہیکل موٹی اونچی کِسی نوکیلی چٹان کی طرح اوپر اٹھتی دیواروں کو دیکھا تھا۔اسے قلعہ کہہ لیں اِسے محل کا نام دے لیں۔یہ آٹھویں صدی کے اسلامی طرز تعمیر کا وہ دلکش شاہکار تھا۔جسے محرابوں اور قوسی چھتوں کی صورت پتھروں اور پلاسٹر کے ساتھ بنایا گیا تھا۔بنانے والے کا نام عباسی خلیفہ الصفی کا بھتیجا عےٰسی بن موسٰی تھا اور جسنے اسے وقت اور زمانے کی دبیز تہوں میں سے نکالا وہ جرٹروڈ بیل تھی۔Ukhaidher کا مطلب چھوٹی سی سرسبز جگہ سے ہے۔
جولائی 2000سے اسے یونیسکو ورلڈ ہیٹر ٹیج کی لسٹ میں شامل کرلیا گیاہے۔
اندر داخل ہوتے ہی جیسے میں کسی نخلستان میں آگئی تھی۔کچھ حصّوں کی Renovationدوبارہ ہوئی ہے۔کچھ ابھی پرانی حالت میں ہیں۔
کمال کی چیز تھی۔مجھے تو بہت سے حصوں پر شاہی قلعے کا گمان ہوتا تھا۔دو منزلہ سہ منزلہ۔اس کی ہر سمت کے درمیان میں مینار ہیں۔
استقبالیہ ہالوں کی کشادگی اور دیواروں پر کی گئی ڈیزائن کاری کیا کمال کی تھی۔
اندر ہی اندر پھیلتی کوٹھڑیاں۔ہوائیں فراٹے بھرتی اندر آتی تھیں۔
ریسٹورنٹ سے ٹھنڈا ٹھار مشروب7 upپیا۔نماز پڑھی۔مسجد میں آرام کیااور شام ڈھلنے پر باہر نکلی۔
جھیل کی سیر نے لطف دیا۔مچھلی کھائی۔اندر پانیوں کے پتھر وں پر چڑھ کر تصاویر بنائیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *